Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

خواب سے تعبیر تک

September 1, 2021 0 1 min read
Dreams
Dreams
Dreams

تحریر : روبینہ شاہین

بی ایس آنرز کے فارم جمع کروانے کی آج آخری تاریخ تھی۔ بے شمار رش لگا ہوا تھا۔ دھکم پیل میں عابدہ نے بڑی مشکل سے جگہ بنائی اور کھڑکی کی طرف فارم بڑھا دیا۔ ایک اور ہاتھ زور لگاتے ہوئے عابدہ کے بازو کو دھکا دینے لگا۔ ”برائے مہربانی! سر پہلے میرا فارم جمع کریں، میں کافی دیر سے انتظار میں ہوں۔“ ایک شوخ و چنچل آواز عابدہ کے کانوں کے پاس چیختی ہوئی ٹکرانے لگی۔ ”یہ آپ کیا کر رہی ہیں؟ ذرا دیکھ کر، میرا بازو دب رہا ہے۔“ عابدہ نے بھی تقریباً چیختے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک نہایت دبلی پتلی سی لڑکی جینز کی پینٹ پہنے پنک ٹاپ کے ساتھ گلے میں اسکارف ڈالے بالوں کو بے نیازی سے ہاتھوں کے ساتھ سیٹ کرتے ہوئے چیخ رہی تھی۔ ”ایسا کریں آپ ہی میرا فارم جمع کروا دیں۔“ عابدہ نے ایک نظر اس پر ڈالی اور اس کا فارم پکڑ کر اپنے فارم کے ساتھ ہی جمع کروانے لگی۔ تھوڑی دیر میں وہ فارغ ہو کر لائن سے باہر آ گئی اور رسید اس لڑکی کی طرف بڑھا۔ ”آپ کا بہت شکریہ! آپ نے میرے ساتھ تعاون کیا۔ میرا نام ستارہ ہے اور آپ کا؟“ وہ بے تکلفی سے بولے جا رہی تھی۔ ”جی میرا نام عابدہ ہے اور بی ایس آنرز میں ایڈمیشن لینے آئی ہوں۔“ عابدہ نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا ”آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔“ ستارہ نے شوخ و چنچل آواز میں جواب دیا۔ دراصل آج مجھے ایک کزن کی منگنی پر جانا تھا، بازار سے شاپنگ بھی کرنی تھی اور اتنی لمبی لائن یہاں تو میرے دو گھنٹے اور لگ جاتے۔ آپ نے ہیلپ کی شکریا۔ آپ سے آئندہ بھی ملاقات ہوتی رہے گی۔ اللہ حافظ!“

ستارہ انداز دلرباعی کے ساتھ اللہ حافظ کہہ کر چلی گئی۔ عابدہ کے ذہن میں یہ ملاقات ایک بہت گہرا اثر ڈال گئی۔ یونیورسٹی کی کلاسز اسٹارٹ ہوئیں۔ اکنامکس کی کلاس میں ستارہ عابدہ کی کلاس فیلو بن گئی۔ کچھ ہی دنوں میں دوستی پکی ہونے لگی۔ ستارہ ایک امیر گھر کی آزاد خیال لڑکی تھی۔ ماں باپ نے لاڈ پیار میں بہت آزادی دی ہوئی تھی۔ گاڑی خود چلاتی تھی۔ مرضی کے کپڑے پہنتی تھی۔ مرضی سے آتی جاتی تھی اور اس بات پر بھی پُر اعتماد تھی کہ والدین ستارہ پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں۔ خود کو بہت پُر اعتماد اور ہوشیار سمجھنے والی ستارہ ہواؤں میں اڑتی رہتی تھی۔ اس کے خواب آزاد زندگی، ماڈلنگ کرنا، ساری دنیا کی سیر کرنا، اس کو زندگی میں کسی کی روک ٹوک نہیں چاہیے تھی۔
جبکہ عابدہ ایک معزز اور مڈل کلاس گھر سے تعلق رکھتی تھی۔ ماں باپ سادہ اور عزت دار لوگ تھے۔ عابدہ کی اعلیٰ نمبرنگ کی وجہ سے انہوں نے عابدہ کو یونیورسٹی جانے کی اجازت دی تھی اور بہت سے وعدوں کے ساتھ کہ وہ وہاں پر کوئی ایسا ویسا دوست نہیں بنائے گی جس سے اس کی والدین اور بہن بھائیوں پر اثرات مرتب ہوں۔ عابدہ عبایا پہتی تھی اور ایک نہایت ذہین اور لائق طلبہ تھی۔ ایف ایس سی میں ہائی فرسٹ کلاس نمبروں میں ٹاپ کیا تھا۔ مختلف مزاج اور مختلف کلاس کے باوجود عابدہ اور ستارہ میں اچھی دوستی قائم ہونے لگی۔ ستارہ عابدہ سے نوٹس میں مدد لیتی اور عابدہ ستارہ کی شخصیت اور باتوں سے محظوظ ہوتی رہتی۔ ستارہ ایک بے باک لڑکی تھی۔ ”دیکھو ستارہ‘ کوشش کیا کرو کہ ایرے غیرے لوگوں سے دوستی نہ کیا کرو۔ پتہ ہے کہ یونیورسٹی میں چرچے ہونے لگ جاتے ہیں۔

عابدہ نے ستارہ کی بڑھتی ہوئی بے باکیاں دیکھتے اور سنتے ہوئے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ ”اوہ عابدہ جی! یہ بیک ورڈ باتیں چھوڑ دو۔ آج کی دنیا 60، 70 کی دنیا میں ہے اور اس دور کی سننے کی کوشش بھی فضول ہے۔ آج کی دنیا فاسٹ ہے۔ میری پیاری دوست! پر لگاؤ اور اڑتے جاؤ میڈیا کا دور ہے۔ راتوں رات ترقیاں۔“ ستارہ نے خوابوں کے پر لگا کر جست مارنے کے انداز میں عابدہ کو بتانے لگی۔ میرے خواب بہت بلند ہیں۔ اڑتے جاؤ۔ اڑتے جاؤ۔ ابھی مجھے بہت آگے جانا ہے۔ بہت آگے میڈیا میں نام پیدا کرنا ہے۔ ماڈلنگ کرنی ہے۔ یہ چادر اور چار دیواری میرے بس کی باتیں نہیں ہیں۔ ستارہ دور ہواؤں میں کہیں گھور رہی تھی، مسکرا رہی تھی۔ جیسے ہواؤں اور فضاؤں میں اسے اپنا روشن مستقبل دکھائی دے رہا تھا۔ ستارہ کبھی انکل اور آنٹی کے متعلق بھی سوچا ہے۔ ان پر کیا گزرے گی۔ عابدہ نے دوبارہ بڑی بہن کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔

”عابدہ‘ یہ آزادی اماں اور بابا دونوں کی طرف سے دی گئی ہے۔ آگے میری زندگی ہے جیسے چاہوں گزاروں۔ وہ لوگ تو اپنے دور کے مزے لے چکے ہیں۔ ویسے تم ان کی فکر نہ کرو۔ انہیں میں خود ہی دیکھ لوں گی۔“ ستارہ نے عابدہ کو مطمئن کرنے کے انداز میں سمجھایا۔ ستارہ کا چکر یونیورسٹی کے ایک امیر لیکن آوارہ لڑکے سے چل رہا تھا۔ عابدہ کو فکر تھی کہ کہیں وہ کوئی غلط ہاتھوں میں نہ پھنس جائے لیکن اس وقت ستارہ کچھ سمجھنے کے موڈ میں نہیں تھی۔ آزادی کا بخار اس کے ہر روئیں میں دوڑ رہا تھا۔ شاید یونیورسٹی کو لیا ہی ان نظروں سے جاتا ہے۔ خیر ایک سال گزر گیا۔ ستارہ کا زوہیب سے بریک اپ ہو گیا۔ شاید وجہ کوئی سنگین ہو گئی ہو۔ ستارہ بہت ڈسٹرب ہوئی۔ ایک ہفتہ چھٹی پر رہی۔ اس کے بعد دوبارہ یونیورسٹی جوائن کر لی۔ ”کیا بات ہے، آج بڑی خوش نظر آ رہی ہو۔“ عابدہ نے ایک مدت بعد ستارہ کو مسکراتے ہوتے دیکھا تو حیرانی سے پوچھا۔ ”اوہ! کچھ نہیں ایسے ہی۔ بس سوچ لیا ہے۔ زندگی میں کبھی کسی کے متعلق نہیں سوچنا بس اڑتے جانا ہے۔“

آج پھر وہی رنگینی ستارہ کے چہرے پر عیاں تھی۔ عابدہ سمجھ گئی کہ ستارہ کی چال پھر الٹی ہو گئی ہے۔ وہ پھر کسی چکر میں ہے۔ وقت پر لگا کر اڑتا گیا۔ یونیورسٹی کے چار سال چار کیلنڈروں پر بھی گزر گئے۔ ”عابدہ ایک بات تو بتاؤ۔ ستارہ نے کتابوں جہکی ہوئی عابدہ کو بڑے غور سے دیکھا اور مخاطب کرتے ہوئے کہا: ” ہاں ہاں پوچھو‘ کیا پوچھنا چاہتی ہو۔ عابدہ نے نظریں اٹھا کر سارہ کو مخاطب کیا۔ اتنی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد کیا کرو گی۔ ”آگے زندگی کا کیا پلان ہے۔“ ستارہ نے سوالیہ نظروں سے عابدہ کو دیکھا۔ ”کچھ نہیں۔ ”ستارہ میں نے کیا کرنا ہے۔ وہی جو امی ابا کہیں گے۔ شاید کہ میری شادی کا پلان کر رہے ہیں۔ پھر گھر بسائیں گے اور پھر آگے جو اللہ کو منظور۔“ عابدہ نے ایک تابع دار بچی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کہا: ”یہ کیا بات ہوئی۔ بھلا کوئی جاب، کوئی مرضی کی شادی، کوئی باہر کا پلان۔“

ستارہ کے اپنے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ”نہیں ستارہ نہ میں ایسی کلاس سے تعلق رکھتی ہوں اور نہ ہی میرے خیالات ایسے ہیں اور ویسے بھی میرے والدین کو مجھ پر بہت بھروسہ ہے اور میں ان کے بھروسے کو قائم رکھنا چاہتی ہوں۔ یہ تمہاری زندگی ہے تم انجوائے کرو۔“ عابدہ نے مسکراتے ہوئے ستارہ کو جواب دیا۔ ”اونہہ بیک ورڈ لڑکی زندگی تو ہوتی ہی انجوائے کے لیے ہے۔ یونیورسٹی کے بعد عابدہ بیگم کو پتہ چلے گا کہ ستارہ کا ستارہ کہاں کہاں چمکا۔ مسکراتے ہوئے ستارہ نے اسکارف ٹھیک کیا اور گیٹ کی طرف چلی گئی۔

یونیورسٹی چھوڑنے کے ایک سال بعد عابدہ کی شادی خالہ زاد شہریار سے ہو گئی جو ایک بہت اچھے ڈاکٹر بھی تھے۔ عابدہ اسلام آباد چلی گئی۔ ستارہ ایک آزاد زندگی گزارنے لگی۔ مختلف تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے وہ ایک اعلیٰ درجے کی مادل بن گئی۔ ایک مہنگی ماڈل ستارہ واقعی ایک ستارہ بن کر چمکنے لگی۔ کبھی کبھی عابدہ سے فون پر رابطہ ہو جاتا۔ کبھی میسجز پر بات ہو جاتی۔ ستارہ کے والدین بہت آزاد خیال تو نہیں تھے لیکن ستارہ کو ان کے خیالات کی پروا بھی کہاں تھی۔ ستارہ کے والد ہاشم صاحب نے بیٹی کو سمجھانے کی بہت کوشش کی، لیکن شاید وہ سمجھانے کی اس حد سے باہر نکل چکی تھی۔ وہ اب کسی کی بات سننے کی روا دار بھی نہیں تھی۔ آزادی کا مطلب شاید بچے اسی طرح استعمال کرتے ہیں۔ ہر سوچ کی آزادی، ہر فعل کی آزادی، ہر کام کی آزادی، ہر وقت کی آزادی کہ زندگی بے راہ روی پر نکل جاتی ہے اور واپسی کے تمام دروازے بند کر دیتی ہے۔

دو سال اسی طرح گزر گئے۔ ستارہ اپنے راستوں کی عادی ہو گئی اور گزرے راستوں کو بھول گئی۔ ایک دن میڈیا پر خبر چلی کہ ستارہ کا قتل ہو گیا ہے۔ وہ دن سب کے لیے قیامت کا دن تھا۔ عابدہ نے فوراً لاہور کی طرف رخت سفر باندھا جو بھی تھا وہ اس کی 4 سال بہت اچھی دوست رہ چکی تھی۔ جیسے ہی وہ ستارہ کے گھر پہنچی ایک کہرام مچا ہوا تھا۔ جوان بیٹی کی لاش دیکھ کر ہاشم صاحب کو ہارٹ اٹیک آ گیا۔ والدہ پر غشی کے دورے پڑنے لگے۔ ستارہ ان کی اکلوتی اولاد تھی۔ لاڈ پیار نے شاید آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی جو اولاد کی بے راہ روی بھی نظر نہیں آئی۔ آزادی کے نام پر جو سلسلہ چلا، وہ ایک خاندان کی تباہی کی شکل میں سامنے آیا۔ عابدہ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ اس کی آنکھوں کے سامنے وہ ہنستی مسکراتی ستارہ گھومے جا رہی تھی۔ کاش وہ اس کو سمجھا سکتی کہ ستارہ یہ آزادی کا نہیں بلکہ بربادی کا راستہ ہے۔ اس میں تباہی کے علاوہ کچھ بھی نہیں لیکن قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے، جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کے رہتا ہے۔

تحریر : روبینہ شاہین

Share this:
Tags:
dreams Future History interpretations World تاریخ تعبیر خواب دنیا مستقبل
Exercise
Previous Post مسلسل بیٹھے رہنے کا ازالہ کرنا ہے تو 40 منٹ کی ورزش کیجئے
Next Post پاکستان کی سرحدیں
General Qamar Javed Bajwa

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close