Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کاش کہ منشیات فروش

October 3, 2017 0 1 min read
Drug Dealer
Drug Dealer
Drug Dealer

تحریر : حفیظ عثمانی
اس چونکا دینے والی خبر نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا کہ کراچی سینٹرل جیل میں دیگر گھناؤنے جرائم کے ساتھ ساتھ منشیات فروشی کا دھندہ عروج پر ہے ۔اور یہ انکشافات کسی رپورٹر کی طرف سے جاری کسی ٹیبل سٹوری کا حصہ نہیں بلکہ اس مکروہ فعل کا ایک قیدی نے ویڈیو بیان کے ذریعے پردہ چاک کیا ہے جس کے مطابق جیل میں منشیات پولیس لاتی ہے اور قیدیوں سے فروخت کرواتی ہے۔ویڈیو میں بتایاگیا ہے کہ جیل میں منشیات بیچنے والے منشیات فروش نہیں بلکہ مجبور کیے گئے قیدی ہوتے ہیں،ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اغوابرائے تاوان کی وارداتیں بھی قیدیوں سے کرائی جاتی ہیں۔سینٹرل جیل میں بیٹھے ایک قیدی نے ویڈیو بنا کر جیل انتظامیہ کے مبینہ مکروہ دھندے کو بے نقاب کردیاہے۔ قیدیوں سے لوگوں کو اغواکرایا جاتا ہے اور اپنے ہی محکمے کو خوب بدنام کیا جاتا ہے۔قیدی کے ویڈیو بیان کے بعد ان الزامات کی تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ ان الزامات میں کتنی حقیقت ہے اور پولیس میں موجود بڑی کالی بھیڑیں کیا واقعی اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں، اعلیٰ حکام کو ان الزامات کی تہہ تک پہنچنا ہوگا اور اگر ایسا ہے تو پولیس سے ان کالی بھیڑوں کو نکالنا ہوگا۔

نشہ نہ صرف ایک بیماری ہے بلکہ یہ معاشرے میں پھیلی جرائم کی داستانوں کیلئے نکتہ آغاز بھی کہتے ہیں ایک بادشاہ نے سزا سے بچنے کیلئے ایک آدمی کے سا منے چند غلط کام رکھے جنمیں ایک نشہ،قتل اور دیگر جرائم شامل تھے اس شخص نے جان بچانے کی خاطراپنی سوچ بیچار کے بعد نشہ کو چھوٹا گناہ سمجھ کر وہ کرلیا بادشاہ ہنسا اور بولا اب دیکھنا کہ یہ نشہ میں دھت ہوکر قتل،ڈکیتی اور دیگر جرائم بھی خود بخود کرلے گا چونکہ نشئی پر نشہ سوار ہوجاتا ہے اور وہ اُس کو حاصل کرنے کیلئے کسی بھی عمل سے دریغ نہیں کرتا، اپنے گھر کی اشیاء فروخت کرتا ہے اورآخری حد تک جاتا ہے اسی لیئے یہ بہت قابل غور بات ہے اب تو یہ بیماری معاشرے میں اتنی سرایت کرچکی ہے کہ ہر طبقہ اور ہر گریڈ کے لوگوں میں نشئی بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔لیکن پوش سیکٹرز کے لوگ اپنے بچوں عزیزوں کا علاج مہنگے ترین اداروں اور ہسپتالوں سے کروالیتے ہیں اور غریب جو نشئی بن گیا تو سو بن گیا ناں اُس کا علاج فیملی سطح پر ممکن ہوتا ہے اور نہ ہی معاشرہ اس معاملے میں تعاون کیلئے تیار ہوتا ہے نہ ہی ایسے عمل کیلئے این جی اوز کی سطح پر کوئی کام نظر آرہا ہے اور خیر سے حکومت کے کیا کہنے یہ تو صرف وعدوں ،دعوں،تقریروں اور نعروں کے کام سے فارغ ہوگی تو وہ کچھ سوچے گی اوراپنے غموں سے فارغ ہونگے تو عوام کا غم کریں گے۔

قانون تو موجود ہے ،محکمے اور ادارے بھی لیکن عملی طور پر اس حوالے سے کام نہ ہونے کے برابر ہے اور تو اور تواتر سے یہ خبریں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں کہ پولیس ہر مقام پر نہ صرف منشیات فروشوں کی سرپرست اور ہمدرد ہے بلکہ ضبط شدہ نشہ بھی منشیات فروشوں کے ہاتھوں فروخت کرتی ہے ۔کراچی سینٹرل جیل ہو یا اڈیالہ جیل ،لاہور کی جیل ہو یا پشاور کی کسی بھی سطح پر حقیقی معنوں میں تحقیقات ہوں تو اہل دنیا کے ہوش اُڑجائیں کہ ایسے کاروباروں کے پیچھے کتنے خوشنما چہرے یا تو خود موجود ہیں یا پھر اُن کے فرنٹ مین اسی لیے تو تھانوں کی بولیاں لگتی ہیں اور جیلروں کی تعیناتی کیلئے پیٹیوں کی پیٹیاں استعمال کی جاتی ہیں۔

مجھ سمیت آپ کو بھی آتے جاتے بے شمار لوگ سڑکوں ،چوکوں ،چوراہوں ،پلوں کے دائیں بائیں اور اڈوں پر ملیں گے جو لڑکھڑا کر چل رہے ہونگے اور وہ بھیک مانگ کر کچرا اُٹھا کر اپنی اس عادت کو پورا کرتے ہیں۔آج تو سکولوں اور کالجوں میں یہ بیماری ناسور کی طرح پھیل رہی ہے ۔سرکاری تو سرکاری پرائیویٹ اداروں میں تو یہ بیماری فیشن کے طور پر اپنائی جارہی ہے۔کاش کہ کوئی ان بیماریوں کے سد باب کیلئے غورکرے ۔ہم تو اب ایک بے حس معاشرے کی مانند ہیں اپنے آس پاس اور اڑوس پڑوس سے بلکل بے خبر ہیں ۔درد نام کی چیز اور احساس کی کیفیت ناپید ہوگئی ہے ۔حالانکہ ہم انسان ہیں اور انسانیت درد اور فکر کے مجموعے کا نام ہے ۔آج حکمران غافل ہیں لیکن رعایا تو اُن سے بھی زیادہ بے فکری ،سستی اور کاہلی کی چادر تان کر خواب خرگوش میں ہے۔

ہمارے ایک عزیز اس بیماری سے دوچار تھے کچھ بھائیوں نے مل جل کر اُنہیں علاج کیلئے ایک سینٹر میں چھوڑا ۔لیکن وہاں حد سے زیادہ سختی مارپیٹ اور تشدد سے تنگ آکر اُس نے دو منزلوں کے اوپر سے کودگیا، بچ گیا لیکن شدید زخمی ہوا اور بھاگ نکلا ۔تفتیش اور تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ ان سینٹروں میں نہ صرف تذلیل کی جاتی ہے بلکہ ایسا تشددکیا جاتا ہے کہ دشمن بھی ایسا نہ کرے۔ہم تو خوشنما نعروں ،خوبصورت پرنٹنگ کے حامل برشروں کو دیکھ کر قائل ہوئے تھے ۔لیکن ایسا ظلم کہ رونگٹے کھڑے ہوجائیں اور اہل خانہ کو رونے پر مجبور کردیں ۔مجھے تو لگا کہ کہیں یہ سینٹر بھی منشیات فروشوں کے قائم کردہ تو نہیں ہیں جو بظاہر علاج کے نام پر قائم ہیں، بھاری فیسیں مجبور و مظلوم اہل خانہ سے وصول کرتے ہیں اور پھر علاج کی جگہ تشدد کے ذریعے ایسے لوگوں کو اس گندگی میں دھکیلتے ہیں ۔میں تو تب بھی سوچ رہا تھا کہ کوئی ادارہ تو ضرور ایسا ہوگا کہ جو ایسے شتر بے مہار لوگوں کی باز پرس کرسکے کہ اتنی دیر میں لاہور کی ایک خوبصورت نوجوان عکاشہ ارسلان ہاشمی کی موت کی خبر نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ،نشہ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے ایک سینٹر کے بدمعاش اہلکاروں کی ذیتوں کے آگے عکاشہ جان کی بازی ہار گیا ۔ یہ خبر اور کراچی جیل کی خبر دونوں ہی ستمبر 2017 کے دوسرے اور تیسرے عشرے کی ہیں۔

عکاشہ ارسلان کے گھر اُس کی شادی کی تیاریاں جاری تھیں کہ علاج کی غرض سے اُسے ایک سینٹر میں داخل کرایا گیا ۔گھر والوں نے کلینک کی فیس کے علاوہ پچاس ہزار روپے اس کے کھانے پینے کے لیے کلینک والوں کو جمع کروائے اورناز و نعم میں پلے اس نوجوان کی خوراک کے خیال کی تاکید کی کہ اس کے کھانے پینے کا خیال رکھا جائے ۔اہل خانہ کے بقول وہ بالکل صحت مند تھا بس سگریٹ نوشی کو چھوڑنا چاہتا تھا. داخل ہونے کے تیسرے دن اس نے آٹھ بجے کے قریب پیزا مانگا. کلینک کے ایڈمنسٹریٹر نے پیزا منگوانے سے روکا. عکاشہ نے اصرار کیا کہ میرے گھر والے پچاس ہزار روپے میرے کھانے پینے کے لیے جمع کروا کر گئے ہیں. کلینک کا ایڈمنسٹریٹر عکاشہ سے بڑی سختی سے مخاطب ہوا اور اپنے ماتحتوں کو کہا کہ اس کی اچھی طرح دھلائی کرو. انہوں نے عکاشہ کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا. اس نے بھی مزاحمت کی. مار کھانے کے دوران عکاشہ نے کہا مجھے معاف کردو میں آپ لوگوں سے کوئی مطالبہ نہیں کروں گا. ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر نے کہا کہ معافی ایسے نہیں ملے گی.

عکاشہ فرداً فرداً اس وقت لاؤنج میں ہر بندے کے پاس گیا اور معافی مانگی. کلینک کے ایڈمنسٹریٹر نے کہا کہ ہم سب کے پاؤں کو ہاتھ لگاو. عکاشہ نے کہا کہ یہ میں نہیں کرسکتا اب جو آپ لوگ مرضی کرلو. انہوں نے عکاشہ کو رسیوں سے باندھا اور ڈنڈوں، مکوں اور کہنیوں سے مار مار کر اس کی دس پسلیاں توڑ دیں، پھیپھڑوں اور جگر کو زخمی کردیا اور دماغ میں شدید ضربیں مار کر اس کو ماردیا. وہ پانی بھی مانگتا رہا. ظالموں نے اس کو پانی بھی نہیں پلایا. جب اس کی موت واقع ہوگئی تو کلینک والوں نے باقی مریضوں کو چھٹی کروا دی اور گھر والوں کو فون کر کے بتایا کہ عکاشہ کا اچانک سانس خراب ہوا اور وہ فوت ہوگیا. گھر والوں پر تو قیامت ٹوٹ پڑی. لیکن جب وہ وہاں پہنچے تو وہ خون میں لت پت تھا اور سارے جسم پر شدید زخموں اور چوٹوں کے نشان تھے. سب سے زیادہ بڑی چوٹ اس کے سر پر لگی ہوئی تھی اور اس کا آدھا سر کھلا ہوا تھا . بعد میں جب مختلف چینلز پر یہ خبر چلی تو اس کے جاننے والے اسی کلینک کے مریض نے رابطہ کیا جو اس وقت اس سارے ظلم کے واقعہ کو دیکھ رہا تھا اور وہاں کلینک میں پورے واقعہ کی تفصیل بتائی. اب کلینک کا ایڈمنسٹریٹر اور چار دیگر مجرمان تھانہ ٹاون شپ لاہور میں بند ہیں. عکاشہ کے والدین کا سوچ کر رونا آ رہا ہے کہ ان پر کیا گزر رہی ہو گی.

اللہ اس کی مغفرت فرمائے اور اس کے وارثین کو صبر جمیل عطا فرمائے. اربابِ اختیار صرف پروٹوکول کے مزے لینے کے بجائے اس طرح کے واقعات کے ذمہ داران کو سخت سزا دیں تاکہ دوسروں کیلئے عبرت کا نشان بن سکیں اور ایسے اداروں پر قانون نافذ کیا جائے،وقتاً فوقتاً ان اداروں کو مانیٹر کیا جائے ۔کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ پوری قوم نشہ کی عادی بن جائے۔ دوسرا یہ کہ چرس، ہیروئین اور شراب وغیرہ کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے. ان کے ہاتھوں ہماری نوجوان نسل تباہ و برباد ہو رہی ہے. لاکھوں جوانیاں ان کے کالے کرتوتوں کی بھینٹ چڑھ چکی ہیںیہ واقعات ہمارے لیے یہ سبق آموز ہیں ہے کہ ہم اپنی اولاد کی دین متین کے تحت بچپن سے ہی صحیح تربیت کریں، انہیں محبت، توجہ اور وقت دیں تاکہ ہمارے اور معاشرے کے بچے غلط صحبت میں پڑ کر ایسے برے کاموں پر نہ لگیں جن سے ان کی زندگی برباد ہووہ کہتے ہیں کہ اگر وقت پر ایک کام نہ کیا جائے تو بعد میں بہت تاخیر ہوجاتی ہے اور پھر اُس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔کیونکہ ۔لمحوں نے خطاء کی صدیوں نے سزا پائی۔

Hafeezullah Usmani
Hafeezullah Usmani

تحریر : حفیظ عثمانی

Share this:
Tags:
disclosures drugs police Society انکشافات پولیس معاشرے منشیات فروش
General Qamar Bajwa
Previous Post آرمی چیف کا دورہ کابل اور کچھ تاریخی حقائق
Next Post ایک ماہ کے دوران سٹاک مارکیٹ میں 2 کروڑ 83 کروڑ ڈالرز کی بیرونی سرمایا کاری
Pakistan Stock Exchange

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close