
زمین کتنی بڑی ہے کہیں چلے جائو
یہ ہجرتوں کی گھڑی ہے کہیں چلے جائو
تجھے بھروسا ہے جس شخص کی رفاقت پر
اُسے تو اپنی پڑی ہے کہیں چلے جائو
وہ شکل جس سے جدائی محال ہے دل میں
نگینہ بن کے جڑی ہے کہیں چلے جائو
سمجھ لیا ہے جسے تونے ہار پھولوں کا
وہ خارِ غم کی لڑی ہے کہیں چلے جائو
مبادا یہ بھی سہارا سفر کا چھن جائے
جدائی ساتھ کھڑی ہے کہیں چلے جائو
ساحل منیر
