
روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے مشرق وسطی میں تشدد پر مغرب کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ باہر بیٹھے لوگ مشرق وسطی کو اپنی پسند کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں.
زرائع سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ مشرق وسطی میں یہ کیوں ہو رہا ہے جو لوگ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کے بعد امن ہو جائے گا یہ سچ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ باہر سے کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا قطعا مطلب یہ نہیں کہ روس الاسد کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تنازعات کو بغیر پیشگی شرط کے بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
