Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اقتصادی سماجی اور سیاسی امن

March 12, 2017March 12, 2017 0 1 min read
Economic
Poverty
Poverty

تحریر: حبیب الرحمن چنگوانی
وہ معاشرے اور ممالک جہاں امیروں اور غریبوں کے درمیان اقتصادی بعد پایا جاتا ہے وہاں امیروں اور غریبوں میں تشدد اور پھوٹ پڑنے کے امکان غالب ہیں۔ جب کچھ لوگ جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اور ان کے بچے رات کو بھوکے سوتے ہیں اور ان کے ہمسائے محلوں میں رہتے ہیں تو دولت اور وسائل کی غیر مساوی اور غیر منصفانہ تقسیم ان میں غصے کا موجب بنتی ہے۔ جب لوگ زندگی کی بنیادی ضروریات: خوراک، رہائش، تعلیم، صحت اور ملازمت سے محروم رہیں تو وہ لوگ امید عزتِ نفس اور وقار کھونا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ ایسے ذہنی انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں جو ان کو مایوسیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں لے جاتا ہے اور وہ ایسے غیر منصفانہ نظام کو تباہ کرنے پر تل جاتے ہیں جس نے ان کی ضرورتوں کو پورا نہیں کیا۔ وہ ایسا نظام چاہتے ہیں جو ان کو سماجی اقتصادی اور سیاسی انصاف اور امن دے سکے۔ بہت سے اشتراکی ماہرینِ نفسیات و عمرانیات کا خیال ہے کہ امن کا اقتصادی حالات سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دنیا کو پرامن بنانے کے لیے ہمیں غربت سے لڑنا ہوگا۔

بنگلہ دیش کے ڈاکٹر محمد یونس ان دانشوروں میں سے ہیں جو غربت اور بھوک کے خلاف برسوں سے برسرِ پیکار ہیں اور کامیابی نے ان کے قدم چومے ہیں۔ اسی لیے انہیں 2006 میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔ اپنے خطبہِ امن میں انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹیوں کے علمی ایوانوں میں مختلف اقتصادی نطریوں پو بحث و تمحیص کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ غربت کے خلاف جنگ لیکچر ہالزLECTURE HALLS کی بجائے گلیوں بازاروں اور جھونپڑیوں میں لڑنا ہوگی۔ انہوں نے دیہاتی سطح پر گرامین بینک GRAMEEN BANK بنانے شروع کیے اور عورتوں کے لیے چھوٹے چھوٹے قرضوں کا اجرا کیا۔ جوں جوں بینک ترقی کرتے گئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں عورتوں نے قرضے لے کر اپنا معیارِ زندگی بلند کرنا شروع کیا۔ نوبل انعام حاصل کرنے تک تہتر ہزار دیہاتوں سے ستر لاکھ عورتوں نے قرضے حاصل کر کے بینک سے استفادہ کیا تھا۔ ڈاکٹر یونس کو اس بات پر پورا یقین ہے کہ غربت امن کے لیے خطرہ ہے اور افلاس کے خلاف جہاد پرامن طرزِ زندگی اور پرامن معاشروں اور ملکوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ ڈاکٹر یونس نے بہت سارے بھکاریوں کو بھی کاروبار شروع کرنے میں مدد کی تا کہ وہ باعزت اور پرمقصد زندگی بسر کر سکیں۔

ڈاکٹر یونس کا خیال ہے کہ بین ا لاقوامیت ایک ملی جلی برکت ہے۔ ایک سطح پر یہ دنیا کے مختلف خطوں کے رابطے کا باعث بنتی ہے لیکن دوسری سطح پر یہ بین ا لاقوامی کمپنیوں کو ترقی اور خوشحالی کی طرف گامزن کرتی ہے جس کے نتیجے میں چھوٹی چھوٹی کمپنیوں اور کاروباروں کے لیے پھلنا پھولنا اور پنپنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر یونس بین الاقوامیت کو ایک ایسی بین الا قوامی شاہراہ سے تشبیہ دیتے ہیں جس کی ایک سو لینز one hundred lanes ہوں۔ اس شاہراہ پر بڑے بڑے ٹرک تو چل سکتے ہیں لیکن چھوٹے چھوٹے رکشے مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اقتصادی ترقی کا سماجی ترقی سے چولی دامن کا ساتھ ہونا چاہیے تا کہ جب بڑی کمپنیاں اور کاروبار ترقی کریں تو وہ اپنی دولت اور منافع میں غربا کو شریک کر کے کامیابی سے ہمکنار کرنے میں ان کی مدد کریں۔ ایسا کرنے سے امرا اور غربا کے درمیان فاصلہ کم ہوگا اور وہ ایک متوازن اور پرامن دنیا قائم کر سکین گے۔

ڈاکٹر یونس کا کہنا ہے کہ غربت غریب لوگ پیدا نہیں کرتے۔ یہ امیر لوگوں کی پالیسیوں اور حرص کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جو اکثریت کی بجائے اقلیت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔ پچھلے چند سالوں میں گرامین بینک کا موڈل بہت سارے غریب اور ترقی پذیر ممالک نے اپنایا ہے۔

Economic
Economic

اقتصادی امن کے ساتھ ساتھ ہمیں سماجی امن کی بھی ضرورت ہے۔ پرامن فضا پیدا کرنے کے لیے مختلف نسلی مذہبی اور ثقافتی پس منظر کے لوگوں کو مل جل کر رہنے اور پرامن طریقوں سے اپنے مسائل حل کرنے کا طریقِ کار اپنانا ہوگا۔ ایسی فضا اسی وقت پیدا ہو سکتی ہے جب ملک کے قوانین ایسے ہوں جو انسانی حقوق human rights کو اہمیت اور وقعت دیںلوگوں میں سماجی شعور بیدار ہو چکا ہو اور وہ قبائلی سوچ اور ذہنیت tribal mentality کو ترک کر چکے ہوں۔

بیسویں صدی میں مارٹن لوتھر کنگ جونیرMARTIN LUTHER KING JUNIOR ایک ایسے لیڈر تھے جنہوں نے سماجی امن کی جنگ لڑی اور انہیں 1964 کا امن کا نوبل انعام دیا گیا۔ یہ انعام انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کا انعام تھا۔ اس جدوجہد نے امریکہ میں اس وقت نیا موڑ لیا جب ایک بوڑھی کالی عورت روزا پارکROSA PARK نے ایک بس میں اپنی سیٹ ایک گورے نوجوان کو دینے سے انکار کر دیا۔ اس جدوجہد نے اس وقت زور پکڑا جب سیاہ فام لوگوں نے ہڑتال کی بسوں کا بائیکاٹ کیا اور اپنے کاموں پر پیدل جانا شروع کیا۔ یہ وہ دور تھا جب مارٹن لوتھر کنگ نے اس وقت تک پر جوش تقریریں جاری رکھیں جب تک کہ غیر منصفانہ اور متعصبانہ قانون تبدیل نہیں ہو گیا۔ اپنے خطبہِ امن میں انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ امریکہ میں سیاہ فام لوگ طویل مدت سے اپنی جلد کے رنگ کی وجہ سے مصیبتیں جھیل رہے ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ نا انصافی دور کی جائے تا کہ سیاہ فام لوگ پروقار اور باعزت زندگی گزار سکیں۔ان کا ایمان تھا کہ پسے ہوئے لوگ ہمیشہ کے لیے پستے نہیں رہیں گے۔

کنگ اور ان کے ساتھی اپنے آدرش کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار تھے۔ وہ اپنے نصب العین کے لیے جانیں دینے کے لیے تیار تھے لیکن دوسروں کی جانیں لینے کے لیے نہیں۔ کنگ موہن داس گاندھیGANDHI کے پیروکار تھے اور گاندھی لیو ٹولسٹائیTOLSTOY کے مقلد تھے۔ ٹولسٹائی145 گاندھی اور کنگ کے پیروکاروں نے پرامن طریقوں سے پرامن معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کی۔

پچھلی چند دہائیوں کے دوران متعدد قومیں اور قبائل ایک دوسرے سے دست و گریبان رہے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے بچوں کو نسل در نسل قتل کرتے رہے ہیں۔ بیسویں صدی میں متعدد سیاسی لیڈروں نے اپنے پیروکاروں کی توجہ اس طرف دلوائی کہ وہ جنگیں جاری رکھ سکتے ہیں اور مزید انسانی جانیں ضائع کر سکتے ہیں اور یا اپنے دشمنوں سے صلح کر کے تشدد کا نسل در نسل کا سلسلہ ختم کر سکتے ہیں۔ میں بیسویں صدی میں اس کی دو مثالیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

پہلی مثال اسرائیلی لیڈر یٹزک ربینYITZAK RABIN کی ہے جنہوں نے فلسطینی لیڈر یاسر عرفات سے ہاتھ ملایا اور دونوں نے 1994 میں امن کا نوبل انعام حاصل کیا۔ یہ انعامات مشرقِ وسطیٰ میں دونوں کی امن کی کوششوں کے سلسلے میں دیے گئے تھے۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ دونوں لیڈر امن کے راستے پر چلنے سے پہلے مسلح جدوجہد ARMED STRUGGLE میں شامل تھے۔ یاسر عرفات نے اپنے نوبل لیکچر میں فرمایا کہ امن کے معاہدے کی بنیاد یہ تھی کہ فلسطینیوں کو نہ صرف امن کے بدلے میں زمین ملے گی بلکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی وجہ سے فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق بھی ملیں گے۔ یٹزک ربین نے اپنے خطبہِ امن میں یاسر عرفات اور ان کے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے امن کے راستے کا انتخاب کیا۔

ربین اور عرفات نے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سے پیشتر کہ ربین اور عرفات کا امن کا خواب شرمندہِ تعبیر ہوتا ایک انتہا پسند اور تشدد پسند یہودی نے ربین کو اس لیے قتل کر دیا کہ انہوں نے دشمن سے ہاتھ ملایا تھا۔ ربین کو امن کی خاطر اپنی جان کی قربانی دینی پڑی۔

امن کے معاہدے کی دوسری مثال نیلسن منڈیلاNELSON MANDELA اور ڈی کلارک DE KLERK کا معاہدہ تھا۔ جو ربین اور عرفات کے معاہدے سے زیادہ کامیاب رہا جس کے نتیجے میں جنوبی افریقہ میں جمہوری انتخابات ہوئے اور دونوں کو 1993 کا امن کا نوبل انعام ملا۔ اپنے نوبل لیکچر میں دونوں نے فلسفہِ امن پر روشنی ڈالی۔ منڈیلا نے کہا ہم یہ امید کرتے ہیں کہ جنوبی افریقہ ایک نیا روپ دھارے گا اور جمہوری اقدار اپنائے گا۔ وہ ایک ایسا سیاسی نظام قائم کرے گا جس میں انسانی حقوق کی پاسداری ہوگی۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ دنیا غربت اور جہالت سے پاک اور جنگوں کے خوف سے آزاد ہو۔ ہمیں اس ڈر سے نجات ملے کہ لاکھوں لوگوں کو مجبورا مہاجر بننا پڑے گا۔

ڈی کلارک نے اپنے خطبہِ امن میں کہا کہ انسانوں کی باہمی رضامندی کے بغیر امن ممکن نہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ امن ایک زاویہِ نگاہ ہی نہیں ایک ممطحِ نظر بھی ہے۔ امن سوچ کا ایسا انداز ہے جس میں ملک معاشرے جماعتیں اور افراد کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے اختلافات تشدد کی بجائے افہام و تفہیم سے حل کریں۔ امن ایسا طرزِ زندگی ہے جس میں سماجی اقتصادی اور سیاسی معاملات کے بارے میں پرامن تبادلہِ خیال کیا جا سکتا ہے۔ جوں جوں دنیا کے زیادہ سے زیادہ رہنما اور ان کے پیروکار امن کا شعور پیدا کریں گے وہ تشدد کی بجائے امن کا راستہ اپنائیں گے اور ایک پرامن معاشرہ تعمیر کریں گے۔ اقتصادی سماجی اور سیاسی امن ایک ہی قوسِ قزح کے مختلف رنگ ہیں جسے پرامن لوگ اپنی کوششوں سے تخلیق کر رہے ہیں۔ نوبل انعال یافتہ ایلی ویزلELIE WIESEL کا کہنا ہے کہ امن خدا کی طرف سے انسانوں کو نہیں بلکہ انسانوں کا ایک دوسرے کو محبت بھرا تحفہ ہے۔

Habib u Rehman Changwani
Habib u Rehman Changwani

تحریر: حبیب الرحمن چنگوانی

Share this:
Tags:
Economic life Poverty social Society اقتصادی زندگی سماجی غریبوں معاشرے
Education
Previous Post تعلیم نسواں اور ہماری ذمہ داریاں
Next Post سود کی گنجائش پیدا کرنے والے ملک و ملت کے خیرخواہ نہیں : تحریک اویسیہ پاکستان
Pir Ghulam Rasool Awaisi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close