Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

محترمہ فاطمہ جناح

July 30, 2016July 30, 2016 1 1 min read
Fatima Jinnah
 Fatima Jinnah and Quaid e Azam
Fatima Jinnah and Quaid e Azam

تحریر: عبداللہ نورانی
مادر ملت ، خاتونِ پاکستان، آنجہانی محترمہ فاطمہ جناح ٣٠ جولائی ١٨٩٣ کے دن اپنے والد جناح پونجا اور والدہ مٹھی بائی کے رہائشی مکان وزیر مینشن کراچی میں پیدا ہوئیں، فاطمہ جناح اپنے بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹی تھیں، ان کے بھائی محمد علی جناح، احمد علی، بندے علی، رحمت علی اور ان کی بہنیں مریم بائی، اور شیریں بائی ہیں۔جناح پونجا گجراتی تاجر تھے، قائد اعظم کو محترمہ فاطمہ جناح سے خصوصی انسیت تھی، اسی لئے ہمیشہ سے انہوں نے فاطمہ جناح کی تعلیم و تربیت پر ذاتی طور پر بھی توجہ دی، ابتدائی تعلیم باندرے کنونٹ سے حاصل کر کے ١٩١٩ میں انہوں نے جامعہ کلکتہ میں داخلہ لیا اور ١٩٢٣ میں ڈینٹل میڈیکل کی تعلیم مکمل کی، تعلیم مکمل کرنے بعد انہوں نے بمبئی میں اپنے ذاتی کلینک کا آغاز کیا۔فروری ١٩٢٩ میں قائد اعظم کی زوجہ (مریم) رتن بائی کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنا کلینک بند کردیا اور ہمیشہ کے لئے اپنے بھائی کے پاس رہائش اختیار کرلی۔

قائد اعظم اکثر اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح کے بار ے میں کہتے تھے کہ میری بہن فاطمہ میرے لئے روشنی کی کرن ہے، میں جب بھی کہیں سے واپس گھر میں داخل ہوتا تومیری ساری بیماری اور پریشانی میری بہن کے سامنے ختم ہوجاتی اور میں تازہ دم ہوجاتا۔
محترمہ فاطمہ جناح قائد اعظم کی رفیق خاص، مشیر، اور پاکستان بنانے میں کی تحریک میں وہ جناح کی طرح سے ہی بانی ہونے کا حق رکھتی تھیں، محترمہ فاطمہ جناح اعلیٰ پائے کی سیاست دان اور زیرک فیصلہ ساز تھیں، محمد علی جناح اکثر اہم مسائل پر نہ صرف ان سے مشورے لیتے بلکہ قائد اعظم کے سیاسی زندگی میں جتنے بھی بیانات اور تقاریر جاری ہوئیں محترمہ فاطمہ جناح انہیں بغور مشاہدہ کرتیں، ان میں سے بعض نقاط پرسنجیدہ بحث کرتیں اور پھر قائد اعظم ان پر نظر ثانی کرتے اور اپنے استعمال میں لاتے۔محترمہ فاطمہ جناح نے پاکستان کے معرض وجود میںا نے کے بعد خود کو سیاست سے دور کردیا اور سماجی بہبود کے کاموں میں خود کو زیادہ مصروف کرلیا، انہوں نے نہ صرف اہم تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھی، بلکہ خواتین کے حقوق کے لئے بھی ادارے قائم کئے، پاکستان کی تاریخ میں ان سے زیادہ اہم خاتون آزادی سے لے کر اب تک کوئی نہیں ثابت ہوسکی، محترمہ فاطمہ جناح نے بہت کم وقت میں اپنے سماجی کاموں کو جال پورے ملک میں پھیلا دیا اور ان کی زندگی کے کسی بھی موقعے پر ان کی شہرت اور قائد اعظم سے وابستگی ڈھکی چھپی نہیں رہی، وہ دنیا کے سب سے بڑے مسلم ملک کے کڑوڑوں دلوں کی دھڑکن تھیں، اور ان کا دروازہ ہمیشہ سب کے لئے کھلا رہتا تھا۔

١٩٦٠ کی ابتداء ان کی زندگی میں ایک نیا رخ لے آئی ، وطن عزیز جنہیں انہوں نے اپنے بھائی محمد علی جناح کے کے ہاتھوں بنتے ہوئے دیکھا تھا ، اس وطن پاک پر خودسر اور لا دین بھیرئیے مسلط ہو چکے تھے، قادیانی ملک کے اہم ترین شعبہ جات پر قابض ہو چکے تھے، اور ملک میں آئین مقدس کو پامال کر کے معطل کردیا گیا تھا، ایسے میں پاکستان پر ایک ڈکٹیٹر اپنے مارشل لاء کو نافذ کرچکا تھا، ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی تھی، میڈیا اور دیگر اہم ترین اداروں کو مارشل لاء کے تسلط میں دے دیا گیا تھا، کوئی بھی مارشل لاء کی پالیسیوں پر اف تک نہیں کہ سکتا تھا، فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کشمیر کے معاملہ پر انڈیا سے نرم روی اختیار کئے ہوئے تھے، سندھ طاس معاہدے پر انڈیا کے آگے ہتھیار ڈال دئے گئے تھے اور آج تک پاکستان کے ساتھ ہونے والی غیر منصفانہ پانی کی تقسیم میں کہیں نہ کہیں جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کے اثرات کارفرما ہیں،محترمہ فاطمہ جناح پھر سے سیاسی منظر عام پر آچکی تھیں، اور انہوں دبائے ہوئے، غمزدہ عوام کو پھر سے سہارا دیا اور جنرل ایوب کے خلاف باقائدہ لائحہ عمل پیش کر کے اپنی سیاسی جدوجہد تیز کردی۔

Fatima Jinnah
Fatima Jinnah

پاکستان کی تاریخ میں امام شاہ احمد نورانی سے پہلے ایک محترمہ فاطمہ جناح ہی تھیں جنہوں نے سب سے آمرانہ اور غاصبانہ طریقہ حکومت کی مخالفت کی اور جنرل ایوب کو عوامی جلسوں میں ڈکٹیٹر کا نام دیا،انہوں نے کہا کہ جنرل ایوب خان نے انڈیا کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرنے دی اور دریائوں کی تقسیم انڈیا کے حوالے کردی، انہوں نے مغربی پاکستان کے ایک کونے کراچی سے مشرقی پاکستان میں چٹاگانگ تک اپنے سیاسی دوروں کا آغاز کیا اور ان کی ٹرین کو فریڈم اسپیشل کا نام دیا گیا، ان کے اولین جلسوں میں ٢٥٠٠٠٠ کے قریب شرکاء جمع ہوتے تھے، اور ان میں ہر دوسرے دن تیزی آتی گئی، محترمہ فاطمہ جناح نے قصبے قصبے، گلی گلی ، شہر شہر میں دورے کئے اور جلسے منعقد کئے گئے، مغربی پاکستان کے دورے میں صرف ڈھاکہ سے چٹاگانگ تک کے سفر میں ٹرین کو بایئس ٢٢ گھنٹے لگ گئے، ٢٩٣ میل کے طویل ترین راستے پر قطار در قطار لوگ مسلسل دن رات کھڑے رہے، ٹرین جس بھی کسی اسٹیشن یا قصبہ پہنچتی تو لوگ زنجیر کھینچ کو ٹرین روک دیتے، محترمہ فاطمہ جناح سے درخواست کی جاتی کہ وہ تقریر کریں اور لوگوں سے ایک گھڑی بھر کے لئے ہی مل لیں، جنرل ایوب خان ان تمام باتوں سے ڈر چکے تھے، وہ محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف پروپگینڈے کے لئے فوج سمیت تمام سیکورٹی ایجنسیز اور تمام اہم اداروں کو استعمال میں لا رہے تھے۔

محترمہ فاطمہ جناح صرف اپنے بھائی محمد علی جناح کے لئے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے روشنی کی کرن ، نور کا ہالہ اور عظم و استقلال کا پیکر تھیں، محترمہ فاطمہ جناح کبھی تھکی نہیں تھی اور نہ وہ کسی کے آگے جھکی تھیں۔١٩٦٥ کے پرآشوب دور میں جب کہ ملک میں ہر طرف افراتفری کا عالم تھا، حالات دن بدن سنگین تر ہوتے جا رہے تھے اور اس وقت کے آمر جنرل ایوب خان کرسی نشینی کے واسطے کسی بھی صورت اقتداد عوام کو منتقل نہیں کرنا چاہتے تھے۔ جنرل ایوب کی طرف سے ملک میں صدارتی الیکشن کی تاریخ دی گئی، جنرل ایوب نے پہلے آئین میں ترمیم کی کہ وہ صدارتی الیکشن کروانے کے بعد جب تک نئے صدر منتخب نہیں ہو جاتے ہیں تب تک خود جنرل ایوب ہی صدر رہینگے، پھر الیکشن کی پالیسی کا اعلان کیا، ایک طرف تمام عوامی جمہوری جماعتوں کے طرف سے متفقہ طور پر جس امیدوار کو منتخب کیا گیا وہ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح تھیں اور دوسری طرف ملک کے بدنام زمانہ جنر ل ایوب خان۔پاکستان کی تاریخ میں شائد اب تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک ہی صدارتی امیدوار کے نام پر ملک کی تمام چھوٹی بڑی جماعتیں متفق ہو جائیں۔

اس وقت محترمہ فاطمہ جناح ملک پاکستان کے دونوں حصوں میں یعنی مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں یکجا مشہور تھیں، وہ ملک کے ہر بچے، جوان، مرد و عورت کے دل کی دھڑکن تھیں، دنیا کے تمام بڑے اخبارات، تمام بڑے تجزیہ نگار، سیاسی مندوبین اور عوامی جوش وخروش ان کی جیت کو یقینی قرار دے چکا تھا، ٧١ سال کی خاتون، محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح نے پھر سے قائد اعظم کی یاد تازہ کردی تھی، ایسا سماء بندھ گیا تھا کہ جیسے مسلم لیگ کا پرانا دور ہو، ایک طرف گاندھی اور دوسری طرف جناح، جمہوریت کی علمبردار جتنے بھی ہیں شائد وہ محترمہ فاطمہ جناح کو ڈر اور خوف کی وجہ سے سامنے نہ لا سکیں مگر قائد اعظم کے سچے جانثار محترمہ فاطمہ جناح کے بھی جانثار تھے۔

General Ayub Khan
General Ayub Khan

اتخابات ٢ جنوری ١٩٦٥ کے دن رکھے گئے، ابتدائی اعلانات اور نتائج کے مطابق محترمہ فاطمہ جناح مشرقی پاکستان میں جنرل ایوب کو مکمل شکست ِ فاش دے چکی تھیں، مغربی پاکستان میں کراچی، اندرونِ سندھ، بالائی پنجاب، اور صوبہ سرحد میں بھی آدھے سے زیادہ شہروں میں محترمہ فاطمہ جناح مکمل طور پر جیت چکی تھیں، مگر دوپہر اور شام کے نتائج میں فوج اور ایجنسیوں کی طرف سے کی جانے والی دھاندلی، غلط نتائج کے اندراج، اور الیکشن آفسس پر قبضے کر کے نتائج بدل دئے گئے، قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو پاکستان کی پاک صاف آرمی نے جنرل ایوب کی کرسی کے لئے ہرا دیا، اخبارات، جرائد، میڈیا، صحافی برادری، اور دیگر شعبہ ذرائع عاملہ کے لوگوں کو یا تو قید کردیاگیا، یا انہیں دھمکایا گیا، اور تمام خبروں کو سینسر کردیا گیا، جنرل ایوب خان نے ملک کے تعلیمی اداروں کو تعلیمی قانون کی تبدیلی کا جھانسا دیا، بعض صحافی طبقے کو صحافت میں ذاتی نوعیت کے فائدے کا جھانسا دیا، کاروباری حضرات کو ترسیل تیز کرنے کا موقعے فراہم کئے، اور محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف اخلاقی، نازیبا اور خاندانی طور پر بدنام کرنے کے لئے اخبارات کا فائدہ اٹھایا، رہی سہی کسر درباری علماء سو ء نے ادا کی۔

ان علماء نے اپنی مسند فتویٰ نویسی کو اللہ کی رضا کے لئے نہیں بلکہ جنرل ایوب کے خوشی کے لئے استعمال کیا، اور اس وقت کے بدترین اور بدبخت علماء سوء نے محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف فتویٰ جاری کیا اور کہا کہ کوئی عورت کسی اسلامی ملک کی حکمران نہیں بن سکتی ہے۔ملک میں نافذ العمل فوجی قانون اور اس کے زیر اثر تمام ہتھکنڈے محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف استعمال کئے گئے،، الیکشن کے دوران بعض مقامات پر محترمہ فاطمہ جناح کو نامزد کرنے والی کل جماعتی اتحاد کے سینکڑوں کارکنوں کو عین الیکشن کے دن گرفتار کیا گیا، اس کے ساتھ مشرقی پاکستان میں ہونے والے مارچ اور جلسوں میں ایوب خان کے ہونہار سپاہیوں نے اسکول اور کالجز کے طلبہ پر گولیاں چلائیں،الیکشن سے ایک ہفتہ پہلے ملک کے دونوں حصوں میں ہفتہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح منایا گیا،ٹائم میگزین کے مطابق جب جرنل ایوب نے کہا کہ میں ملک میں جمہوریت نافذ کرونگا تو اس وقت فاطمہ جناح نے اسے للکار کر کہا کہ کونسی جمہوریت؟ ایک شخص کی جمہوریت یا پھر پچاس افراد کی جمہوریت؟

ملک میں ایک بار پھر ظالم و جابر آمر اب اپنے خود ساختہ بنائے گئے صدارتی آئین کے تحت ملک کا صدر بن چکا تھا، ایک ایسا آمر جس نے محترمہ فاطمہ جناح کو امریکی اور انڈین ایجنٹ قرار دیا، حالانکہ ایوب دور میں کئی بار امریکہ سے بلین ڈالر امدار پاکستانی جرنیلوں کے کشکول میں ڈالی گئی تھی، مگر جرنیلوں کو نمک حلال زرخرید غلام کبھی بھی میڈیا میں محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف جنرل ایوب خان کے کئے گئے ظلم آنے نہیں دیتے ہیں، الیکشن کے بعد ملک کے حالات پہلے سے بھی زیادہ ابتر ہوگئے، ملک میں پھیلی ہوئی بدامنی، افلاس ، بدحالی، عوامی جدجہد پر پابندی، سیاسی جماعتوں اور ان کی سرگرمیوں پر پابندی، حالیہ انتخابات میں ہونے والی دنیا کی سب سے بڑی دھاندلی، عوامی غم و غصہ، ملک کے تمام اداروں اور ذرائع پر صدارتی محل کا قبضہ اور امریکی ایڈ کی بھرمار نے ہماری عزت کہیں بھی نہیں چھوڑی، ایسے میں ہمارے سب سے بڑے دشمن ملک نے جنگ کے لئے ماحول سازگار دیکھتے ہوئے پاکستان پر حملہ کردیا، ہم نے جنگ جیتنے کے باوجود بھی اتنا نقصان اٹھایا کہ ہم سنبھل نہ پائے، ١٩٧١ کے سانحہ نے ہمیں تہہ بالا کردیا، جنرل ایوب نے اپنی صدارت چھوڑنے سے پہلے ہی جنرل یحی سے کہا کہ وہ فوجی طاقت کا استعمال کر کے ملک پر پھر سے نیا مارشل لاء نافذ کردیں، یعنی مارشل لاء پر مارشل لاء نافذ کردیا۔محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی شہادت سے کچھ عرصہ پہلے عید الاضحی کے موقعہ پر قوم کے لئے ایک آخری پیغام دیا۔

USA Aid
USA Aid

‘فوری طور پر جو مقصد آپ کے سامنے ہے، وہ یہ ہے کہ ملک میں موجود مسائل کا مقابلہ کریں، اور ملک ِ پاکستان کو پھر قائد اعظم محمد علی جناح کی واضح ہدایت کے مطابق سے صحیح راستے پر لے آئیں، پاکستان سر زمین کے پرچم تلے آگے بڑھتے جائیں، اور اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں، اپنے مقصد میں یقین محکم رکھیں، اور تنظیم یعنی اصول قائم رکھیں، اپنے مقصد کو کامیابی سے حاصل کریں، ایک روشن اور تابناک مستقبل آپ کے جوش و خروش اور عمل کا منتظر ہے، یہ با ت ہمیشہ یاد رکھیں کہ بزدل موت سے پہلے ہی کئی بار مرجاتے ہیں، بہادر اور جری انسان موت کا ذائقہ صرف ایک بار ہی چکھتا ہے، میدان ِ عمل میں جدجہد کرتے رہنا ہی اصل راستہ ہے، اور حیات ِ جاویداں ہے، اور یہی راستہ خوددار لوگوں کو جچتا ہے، اور بالخصوص مسلم قوم کو۔
٩ جولائی ١٩٦٧ کی رات محترمہ فاطمہ جناح کو ان کے گھر میں شہید کردیا گیا، ان کی شہادت کی خبر کو جنرل ایوب کی ایماء پر دل کے دورے کی وجہ بتایا گیا، محترمہ فاطمہ جناح کی شہادت کے ایام میں بعض لوگوں کے دلوں میں یہ حسرت سمائی کہ اس حادثے کی تفتیش کروائی جائے، اسے قانون ماہرین کے سامنے رکھا جائے، مگر اس وقت کے غیر آئینی صدر آمر جنرل ایوب نے پوری قوت سے اس معاملہ کو دبا دیا، محترمہ فاطمہ جناح کے بھانجے اور شیریں جناح کے صاحبزادے اکبر بھائی پیر جی جو اس وقت شہادت کی وجہ سے پاکستان آئے ہوئے تھے ، جب ٢٠٠٣ میں ایک بار پھر پاکستان آئے تو انہوں نے اس معاملہ کو اٹھایا مگر جنرل ایوب کی آمرانہ اولاد جنرل مشرف نے اس معاملہ کو پھر سے دبا دیا، محترمہ فاطمہ جناح کی شہادت کے بعد حکومت پاکستان جو کرسکی وہ بس ایک مقبرہ کی تعمیر تھی اور پھر محترمہ فاطمہ جناح کو تاریخ کے بند دریچوں میں قید کردیا گیا، اور ظلم یہ کہ ان کے حوالے سے تمام کتابیں اور تاریخی مواد سب کچھ ختم کردیا گیا۔

تحریر ۔۔۔ عبداللہ نورانی

Share this:
Tags:
Fatima Jinnah mother pakistan پاکستان تعلیم خاتون والدہ
Murad Ali Shah
Previous Post ایک سید چلے گئے دوسرے سید آئے ہیں قوم کو نئے سید سے امیدیں وابستہ ہیں
Next Post رینجرز کو اختیارات نہ دیے جانے کے سبب سب سے زیادہ سیکورٹی مسائل طلبہ و اساتذہ کو درپیش ہیں
Rangers

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close