
تحریر: حذب اللہ مجاہد
تعلیم کو کسی بھی قوم کیلئے تیسری آنکھ کی حیثیت حاصل ہے تعلیم وہ شے ہے جو قوموں کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کردیتی ہے۔ حضور کی حدیث کا مفہوم ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ ماں کی گود سے لیکر قبر کی لحد تک تعلیم حاصل کرو تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن پا ک کی نزول ہی لفظ اقراء سے شروع ہوئی۔کسی بھی قوم کی ترقی کا دارومدار بھی اسی بات پر ہوتاہے کہ اس قوم کا تعلیمی معیار کیا ہے ؟؟ تعلیم اس وقت قوموں کی ترقی کا ضامن بنتا ہے جب وہ قومیں علم کے حصول کے ساتھ ساتھ عمل کا دامن بھی تھامے رکھیں کیونکہ بغیر عمل کے تعلیم حاصل کرنا ایسے ہے جیسے آپ کو کوئی سونے کا ٹکڑا سڑک سے مل جائے اور آپ اس کو بیچنے کے بجائے اس سے خوشبو کی امید لگا کر اس کو سونگھنا شروع کردیں یا پھر اس سونے کو کھا کر بھوک مٹانے کی امید رکھیں۔
اب ذرا ہم اپنا تعلیمی معیار دیکھتے ہیں کہ ہمارا تعلیمی معیار کیسا ہے تو سب سے پہلے ہمیں اپنے معاشرے میں کسی بھی شخص کے تعلیمی سطح کو ناپنے کے عمل کا جائزہ لینا ہوگا کہ کسی کو بھی کسی کے تعلیم کا معلوم کرنا ہو تو وہ سوال کر بیٹھتا ہے کہ جناب آپ کی قابلیت (qualification)کیا ہے؟؟ اب ذرا س بات پر بھی نظر دوڑائیں کہ یہ کوالفکیشن کیا بلا ہے؟؟؟؟ یہ در اصل اس سند کا نام ہے جو حصول تعلیم کے بعد کسی بھی صاحب علم کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے تو سوال یہ بنتا ہے کہ بھلا اس کی کیا ضرورت اگر کسی نے حقیقی تعلیم حاصل کی ہوگی تو وہ تعلیم اس کے کردار سے ظاہر ہوگی، وہ تعلیم اس کے عمل سے ظاہر ہوگی ہاں اگر اس کے عمل میں اور ایک غیر تعلیم یافتہ شخص کے عمل میں کوئی فرق نہیں ہے تب کیا وہ تعلیم یافتہ کہلانے کا پھر بھی حق رکھتا ہے اگر نہیں تو پھر ڈگری نامی بلا کیا ہے جسے تھام کر وہ حضرت تعلیم یافتہ بنا پھرتا ہے کیا محض لکھنا، پڑھنا، سیکھنا تعلیم ہے؟؟ یا جو پڑھ لیا جائے اس پر عمل کرنے کا نام تعلیم ہے؟؟ اس کو لیکر تحقیق کا نام اصل تعلیم ہے اگر جواب ہاں ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں محض لکھنے، پڑھنے کو تعلیم سمجھا جاتا ہے؟؟ محض اس کاغذ کے ڈگری نامی ٹکڑے سے کسی کے تعلیمی معیار کو ناپا جاتا ہے؟؟
جب ان چیزوں کے اصل محرکات پر بات کی جاتی ہے تو مسئلہ انتہائی گھمبیر نظر آتا ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایک مسلمان محض اس لئے تعلیم حاصل کرے کہ دین اسلام نے اس پر تعلیم کے حصول کو فرض قرار دیا ہے تاکہ وہ دنیاوی و اخروی معاملات میں اپنے برے اور بھلے پہچان کر سکے ، وہ معاشرے کے اندر اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کابخوبی احساس کر سکے اور انہیں احسن طریقے سے سرانجام دے سکیں مگر بد قسمتی سے یہاں معاملات الٹے ہیں یہاں تعلیم حاصل کرنے والا اس وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کرتا کہ وہ اپنے اس دینی فریضے کی تکمیل کریں بلکہ یہاں تعلیم دینے والا بھی تعلیم دینے کو اپنا فرض نہیں سمجھتا اور نہ ہی اسکا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ معاشرے میں آگاہی شعور کی غرض سے لوگوں کو تعلیم دیں بلکہ یہاں ایک منظم مافیا نے تعلیم کو اعلی صفت کا درجہ دیکر باقاعدہ اس کو ایک منافع بخش کاروبار بنا دیا ہے

اس لئے آج اگر کوئی بچہ پہلے دن قلم اٹھا کر حصول تعلیم کی غرض سے اسکول کا رخ کرتا ہے تو محترم اساتذہ کرام اس بچے کو پہلے دن ہی قائل کرنے کی غرض سے کسی تعلیم یافتہ صاحب روزگار کی مثال دیتے ہیں کہ اگر آپ پڑھیں گے تو آپ بھی اسی طرح خوشگوا رزندگی گذاریں گے تو اس بچے کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ وہ صرف اس لئے پڑھ رہے ہیں کہ اس کے پاس پیسے ہوں اور وہ ایک خوشگوار زندگی گذاریں جب اس بچے کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے تب تعلیم کا اصل مقصد یعنی اس دینی فریضے کی تکمیل فوت ہوجاتی ہے اور طلباء کا مکمل توجہ ڈگری کے حصول پر ہوتا ہے جسے وہ سیڑھی بنا کر خزانے تک پہنچنا چاہتے ہیں
اور صاحب بنا چاہتے ہیںپھر اسی کاغذ کے ٹکڑے یعنی ڈگری کو تعلیم سمجھ بیٹھتے ہیں اور اس ڈگری کے حصول کیلئے جائز و نا جائز تمام راستے اختیار کرتے ہیں پھر اس سے معاشرے میں رٹہ اور نقل جیسے رجحانات جنم لیتے ہیں پھر عمل کی قحط ہوتی ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمسایوں کے حقوق رٹہ لگا کر پہلی پوزیشن حاصل کرنے والا طالب علم پہلی پوزیشن کا ایوارڈ لیکر واپسی پر ہمسایوں کے گھروں کے سامنے پٹاخے پھوڑ رہا ہوتا ہے ۔ پھر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر سال ہمارے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے قابل، مہذب، باشعور، سنجیدہ، باکردار اور ذمہ دار شہری پیدا ہونے کے بجائے صرف ڈگری ہولڈر امتحان پاس کرنے والے مشین پیدا ہوجاتے ہیں ۔
پھروہ تعلیم جس کا مقصد لوگوں کے اندر شعور آگاہی پیدا کرنا ہوتا ہے مگر آج کل اسکا مقصد محض پیسہ کمانا اور صاحب بننا ٹہر چکا ہے تو آج ہی ہمیں اس بات کا ادراک کرنا ہوگا ہمیں اپنی اس عظیم غلطی کو سدھارنا ہوگاکہ ہمیں ڈگری کو تعلیم اور تعلیم کو ڈگری سمجھنا چھوڑنا ہوگا اور ہمیں اس بات پر سوچنا ہوگا کہ ہم تعلیم تو حاصل کر رہے ہیں مگر کیوں؟؟؟ اور اس ”کیوں” کے جواب کو تلاش کرکے صحیح راستوں کا تعین کرنا ہوگا تاکہ ہماری تعلیم معاشرے کے اندر حقیقی ترقی کا باعث بنے اور اس تعلیم کے اصل مقاصدو فوائد سے بھی ہم اور ہمارا معاشرہ روشناس ہوں۔

تحریر: حذب اللہ مجاہد
