
لاہور : اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ زبیر حفیظ نے کہا ہے کہ تعلیم کی طرف حکومت کی عدم توجہی تعلیمی مسائل کون جنم دے رہی ہے ، بجٹ میں ایک بار پھر تعلیمی کے شعبے کو نظر انداز کرکے نوجوانوں کو مایوس کیا گیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سید مودودی اکیڈمی کے زیر اہتمام لاہور میں ”بجٹ اور اس کے تعلیم پر اثرات” کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ ترقی کے بلند و بالا دعوے کئے جارہے ہیں ، تعلیم میں ترقی کے بناء ملکی خوشحالی ناممکن ہے ۔ بنیادی اور اعلیٰ تعلیم کو بجٹ میں نظر انداز کرنا قوم کے ساتھ ایک گھنائونا مذاق ہے۔بجٹ میں جہاں عام آدمی کو مسائل سے دوچار کیا گیا ہے وہاں تعلیم کے شعبے کو بھی اندھیروں میں ڈالا جا رہائے۔ قوم کی امیدیں صرف نوجوانوں اور تعلیم سے وابستہ ہیں بجٹ میں اس شعبے کو نظر انداز کرکے ان امیدوں پر پانی پھیرا گیا ہے۔
ناظم اعلیٰ نے مزیدکہا کہ تعلیم کے لے 47ارب روپے مختص کرنا ہاتھی کے منہ میں زیرہ دینے کے مترادف ہے،ملک میں تعلیمی اداروں کی حالت زارحکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئیے اسکالر شپس کا اہتمام کیا جائے تاکہ ذہین اور قابل طلبہ و طالبات تحقیق کے میدان میں آگے بڑھ کر اپنا کرادار ادا کریں اور پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکالیں۔
