Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

نظام تعلیم اور کاروبار

April 26, 2017 0 1 min read
Education System
Education System
Education System

تحریر: عبدالجبار خان
کسی قوم کی ترقی کے پیچھے تعلیم کا بہت بڑاکردار ہوتا ہے جن قوموں نے تعلیم کو اہمت دی آج وہ ترقی یافتہ قومیں کہلاتی ہیں کسی بھی ملک و ریاست کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو زیوارتعلیم سے آراستہ کر ے اوراس کے لئے بہتر اور منا سب انتظام کر ناریاست کی ذمہ داری میں شامل ہے ٹھیک اسی طر ح پاکستان کے آ ئین کے آرئٹکل 25 A کے تحت لازمی وضروری تعلیم ہر فرد کا بنیادی حق ہے اس بات پر پورا اترنے کے لئے ہماری گو رنمنٹ کوشاں ہے جس کیلئے مختلف منصوبے تشکیل بھی دیے جاتے ہیں اور ان منصوبوں میں اہداف رکھے جاتے ہیں۔

بعض اوقات بنائے گئے منصوبوں سے وہ نتائج حاصل نہیں ہو پا تے جن کی توقع کی جاتی ہے جس کی بنیا دی وجہ معاشی بحران حکومتوں کی تبدیلی اور کر پشن ہے۔حکومت چند بڑے شہر وں میں اہداف حاصل کر نے میں کا میا بی بھی رہتی ہے ایسا ان شہروں میں ہو تا جو ہائی کما ن کے سائے میں آتے ہیں مثلاًاسلام آباد لا ہور کر اچی فیصل آباد روالپنڈی وغیر ہ سر فہر ست ہیں اب ان اہد اف کا گر اف دیکھا جا ئے تو کا فی حد تک با ت درست ثابت ہوتی ہے اب اسلا م آبا د میں شر ح خو اند گی 90فیصد ہے اسی طر ح پنجاب کے چند شہر وںمثلاًلا ہور اور اس کے قر یب بڑے شہروں میں شر ح خو اند گی 70فیصد ہے اسی طر ح بلو چستان کے ضلع کو ہلوں 28فیصد ہے اور پنجاب کے آخری ضلع را جن پورمیں شرح خو اند گی30 فیصد ہے دوسری جانب انتظا میہ کی ناقص حکمت عملی فنڈ ز کی کمی اور کچھ علاقوں پر نظر کر م کانہ ہوناعوام میں شعور کی کمی غربت اور سیاسی مداخلت کر پشن جیسے مسائل سے پسما ند ہ علاقوں میں شر ح خواند گی مایو س کن ہے ان اہداف کو پوراکر نے کے لئے حکومت پر ائیویٹ سیکٹر کو میدان میں لے آئی جس سے امید کی گئی کہ تعلیم کے اہداف بھی پور ے ہونگے سا تھ ہی اس سے وابستہ افر اد کوروز گا ر کے نئے مو اقعے پید ا ہو نگے گورنمنٹ نے پر ائیو یٹ اداروں کواجازت کیادی تو دیکھتے ہی دیکھتے ملک میں پر ائیو یٹ سکو لو ں کا اک سیلا ب آگیا پھر گورنمنٹ نے بھی اس بات پر غور کیا جہاں ایک سکو ل کوبنانے پر لا کھوں خر چ کرنے پڑتے ہیں۔

اس کے لئے استاتذہ بھی بھرتی کرنے ہیںاور ان کی تنخو اہیں جس سے قومی خزانے پر مز ید بوجھ بڑھ جائے گا توپھران ہی پر ائیو یٹ سکولز کے لئے نر م گو شہ رکھا گیاوقت کے ساتھ ساتھ پر ائیو یٹ اداروں نے اپنی جڑیں اور بھی مضبوط کر لیں یہ پرائیویٹ ادارے حکومت کی مجبوری بھی بن گئے ہیں ایک محتاط اندازے کے مطا بق 56فیصد لو گ اپنے بچوں کو پر ا ئیویٹ اداروں میں تعلیم دلوانا پسند کرتے ہیںجبکہ 44فیصد بچے سر کاری سکو لوں میں زیر تعلیم ہیں ہمارے ملک کی اشرافیہ ہو یا عا م آدمی یا پھر سیاست دان یہ سب اپنے بچوںکو پر ائیو یٹ اداروںمیں پڑھانے کو ترجیع دیتے ہیں یہ ادارے والدین اور گورنمنٹ کی مجبوریوں کافائدہ اٹھا تے ہوے اپنی من ما نی بھی کرتے ہیں اب چاہے جیسے بھی ما لی حا لا ت ہوں والدین نے تو اپنے بچوں کوہر حال میں پر ائیو یٹ سکو ل میں ہی پڑھا نا ہے جیب اجا زات دے یا نہ دے بچہ انگر یزی سکو ل میں ہی جا ئے گا وہ انگر یزی سکول میں جائے گا تو بول چال بھی انگر یزی ہوگی یہ بات والدین کے لئے کتنی خوشی کا مقام رکھتی ہے اب یہ ایک فیشن بھی بنتا جا رہا ہے سرکاری سکول خواہ کتناہی اچھا کیوں نہ ہو جب کسی جاننے والے سے بچے کی تعلیم اور سکول متعلق سوال کیا جائے تواگر والدین کا جواب ہو ہمارا بچہ سرکاری سکول میں زیرتعلیم ہے پھر آگئے ناک چھڑہاتے ہو ئے۔ ہیں !؟سرکاری سکول میں خیر تو ہے کیا ہو گیا باقی سب خیر یت مالی پر یشا نی تونہیں ہے کیا؟ اورایسے سوالات کی بوچھاڑہو جا تی پھر والدین نہ چا ہتے ہو ئے بھی معاشرے میں اپنی ناک اونچی رکھنے کی خاطر بچے کوسرکاری سکو ل سے نکا ل کر پر ائیو یٹ میں ڈال دیتے ہیں۔

آج کل ہما رے معاشرے پر انگریزی کا بھوت تو ویسے سوار ہے انگریزی آئے نہ آئے سٹائل انگریزی ہو نا چاہیے دوسری طرف ہم قو می زبان سے دوری اختیار کر چکے ہیں جبکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو دیکھا جا ئے جیسے چا ئینہ ان کا تما م کا تما م سیلبس اپنی قو می زبا ن چا ئنیز میں ہے اس بھوت کا بھر پور فا ئدہ پر ائیو یٹ ادار ے اٹھا رہے ہیں ملک میں کچھ عرصے سے انگر یز ی میڈیم بڑے سکولوں میں فیسوں میں آضافے پر والد ین مسلسل سرپا احتجاج ہیں ان کے احتجاج کے با وجود فیسوں میں آضا فے کا سلسلہ ابھی تک تھما نہیں اب کچھ بھی ہو جائے عدالتی احکا مات ہو ں یا انتظامیہ کے سخت مو قف کے با وجود آضافی فیس تو ہر صورت وصول کر نی ہے اب وا لد ین کے پا س اتنا ٹا ئم بھی نہیں کے اپنی شکا یات کو کورٹ کچیری یا پھر انتظا میہ کے پاس لے جا ئے اب بچے کو بھی پڑھانا ہے اگر سکول انتظا میہ سے با ت کی جا ئے تو ان کا صا ف جواب ہوتا ہے آپ بچے کو گورنمنٹ سکول میں داخل کر وا دیں کیو نکہ معا شرے اور ان پرائیویٹ سکول والوں کی نظر میں گورنمنٹ سکو ل کی کارکر دگی بہتر نہیں ہے وہ سکو ل جس کی عمارت پر حکو مت نے لا کھوں روپے خرچ کرکے تعمیر کر وایا جہاں اس پر ائیو یٹ سکو ل کے پر نسپل اور سٹا ف سے کہیں اعلی درجے کے تعلیم یا فتہ تجر بہ کا ر استا تذہ موجود ہیں پر ائیویٹ ادارے والے گیٹ اور کلا س رومز میں کارٹون کی شکلیں بنواکر سمجھتے ہیں کہ ہم سر کاری سکولوںکے استاتذہ سے زیادہ تجر بہ رکھتے ہیں حا لا نکہ ان میں سے اکثر انہی اداروں اور استاتذہ سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں بس بھیا کاربار کی بات ہے اب گورنمنٹ ان پرائیویٹ سکو لو ں کے اوپر سختی کرتی ہے اور ان کے چھیڑ چھا ڑ کرنے کی کوشش کر تی ہے تو ملک میں موجو د تعلیمی ادارے اور انفراسٹرئچر کو ڈبل کرنا ہو گا جس کی اجا زات قومی خزانہ نہیں دیتا اتنے سارے آخر اجات تعلیم کی مد میں ہو تے ہیں اب سر کاری سکولوں کو بھی پرائیوایٹ کر کے قوم کو ان کے رحم کر م پر چھوڑاجا ئے گا۔

پرائیو یٹ انگلش میڈیم سکو ل پہلے تو والد ین کو اپنے ما حو ل سے متاثر کرتے ہیںاور پھرپر کشش اشتہارات ظا ہری شو شاکی وجہ جس سے والد ین بھی متاثر ہو جاتے ہیں اوربچے کا ایڈ میشن کرانے چلے جاتے ہیں ایڈمیشن کے وقت خو ب سبز با غات کی سیر کرواکر بچے کے اچھے مستقبل کے خوابوں میںوالدین کو کھو جا نے پر مجبو ر کر دیتے ہیں جب والدین مر غے کی طر ح اپنی گردن ان کے ہا تھ میںدے دیتے ہیں تو تکبیر پڑ ھ کر اللہ اکبر چھر ی چلا نا شروع کر دیتے ہیں سکول کی بھاری داخلہ فیس سیکورٹی فیس وین کی فیس کی ادائیگی پر سوچتے ہیں جس سکو ل کی فیس اتنی ہے تو تعلیم کامعیا رتو عروج پر ہو گا اب بچہ داخلہ کر وانے والے والدین کی طر ف سے ادائیگی تو ہو گئی پیسہ تو اس جیب سے اس جیب میں منتقل ہو گیا ہے ۔اب بل بجی مہما ن کیلئے چا ئے بوتل لے آئیں والد دل ہی دل میں سو چتا ہے واہ کیا عزت تکریم کی جا رہی ہے کیا بات ہے اب تو رشتے داروں کے بچے بھی اسی سکول میں داخل کر وانے کا سوچنا شروع کر دیتا ہے ۔خاطرداری کے بعد اچھا سریہ کا رڈ رکھیں بچے کا یو نیفار م اس دو کان سے ملے گا آپ ہمارابول دیجئے گا آپ رعایت مل جا ئے گی ۔اچھا سر یہ اورکارڈ ہے کورس صرف اس دوکان سے ملے گا اور ہاں بچے کے شوز کے لئے آپ کو کارڈ دیتا ہو یہ ہمارا جا ننے والا ہے آپکو ااچھی کو ا لٹی کے سستے جو تے دے گا بس آپ میر ا نا م لے للینا اچھا یہ بتائیں کہ آپ بچے کے لئے وین لگو ایںگے کیا؟ یا بچے کو خود چھو ڑنے کی زحمت فرمائیں گے بچارا باپ بے بسی میں مسکراتے ہوئے سرمیں تو مصروف رہتا ہو میں تو اکثر شہر سے باہررہتا ہو ں اچھا سر آپ کایہ کا م بھی ہم آسان کر دیتے ہیں وین کا بھی انتظا م ہو گیا اب والدکاتما م تر کام سکول انتظامیہ نے آسان بنا دیااب اس احسان مندی میں نیا ز مند ی ہاوی ہوگی اب تو بچہ بھی سکو ل جا نے لگا ہے یہ کیا پڑھائی کم تہو ار زیادہ اب لو جی کلر ڈے فروٹ ڈے مینگو ایپل انگور کیلا ڈے پھر فادر مادر فلور اینمل ڈے شیر ہا تھی گھوڑا سب ڈے منا ئے جا تے ہیں او ر ان کی فیس بھی دینی ہے اور اس حسا ب سے ڈریس بھی تیا ر کر وا نے ہیں ۔ اتنے اخراجات اور فیس کی بر وقت ادا ئیگی بھی کر نی ہے ورنہ 200 سے 500تک جر ما نہ دینا پڑے گا۔

بھیا ٹریفک پولیس والاسارجنٹ چا لان میں جر ما نے کی رقم میں رعایت کر سکتا ہے پر سکول کے جر ما نے کا آ پ سو چ بھی نہیں سکتے اب ہر پر ائیویٹ سکولوں اور اداروں اور سرکاری سکولوں کے کورسزز مختلف ہیں پہلے دور میں جب ہم ٹاٹ والے سکولوں میں زیر تعلیم تھے تو ایک بچہ دوسرے کا پرانا کورس استعمال کر سکتاتھا پر اب تو سرما یہ داروں نے کما ل کر دیا ہے کو رس میں تحریر کم خا لی جگہ زیادہ ہوتی ہیںجو بچے کو پرُ کر نی ہوتی ہیں اس لئے ہر بچے کے لئے نیا کورس خریدنا ضروری ہو گیا ہے پرانے کورس کا تصور ہی ختم ہو گیا ہے ہم اکثر کہتے ہیں قو م ایک بن جا ئے جس کے لئے یکسا ں تعلیم نظا م ہو سب بچوں کو ایک ہی قسم کا سیلبس پڑھا یا جا ئے ۔پرجب ہر سکول کا اپنا اپنانظام اور سیلبس ہو گا تو قو م کیا ایک ہو گی بچوں کو تو شروع ہی سے ایسی ذہنی تربیت دی جاتی ہے جس میں ان سے کہا جاتا ہے آپ کا اور سر کاری سکول کے بچوں کا کیا مقابلہ آپ انگریز ی میڈ یم والے اعلی بچے ہو اور وہ ٹھہرے اردو میڈ یم سرکاری سکول کے بچے اورجب یہ بچے معاشرے کے اہم فر د کے طور پر ابھر کر سا منے آتے ہیں تو ان کی سو چ تقسیم ہو چکی ہوتی ہے ایک اعلی طبقہ تو دوسر ا محر وم محکوم اور احساس محرومی میں مبتلا جو قوم میں تقسیم کا مو جب بنتا ہے ۔اب ان پر ائیو یٹ سسٹم وا لے سکو لوں نے گورنمنٹ سے ہٹ کر اپنے اپنے نظا م اور قا ئدے قا نوں تشکیل دیے ہو ئے ہیں ۔اکثر سکو لوں میں سرکاری سکولوں کے امتحا نی شڈول سے کا فی وقفہ کر کے لئے جاتے ہیں تاکہ بچے کسی اور سکول نہ جا سکیں یا چھوڑ کر نہ جائیں جس کی وجہ سے سالانہ امتحا نات مئی جون اور دیگر مہینوں میں لیتے ہیں اور رزلٹ دینے کے سا تھ بچوں کو مو سم گرما کی چھٹیوں پر روانہ کر دیتے ہیں نئی کلا سز کا آغا ز اگست میں کیاجاتا ہے یہ ایک کاروباری فن ہے جو ان کے پا س ہے اوروالد ین سے زیادہ عر صہ فیس بٹورنے کے لئے ایک کلا س کو دوسال میں پڑھتے ہیں مثلاًپلے ایک سال پریپ ایک سال پریپ ٹو ایک سال اس کے بعد ون اس طرح ٹائم کوبھی ضائع کر نا ہے تو ہفتہ اور اتوار کی چھٹی یہ کیا بھیا ؟جنا ب یور پ اور امر یکہ میں ایسا ہوتا ہے۔

والدین پھر خوش ہو جا تے ہیں ہاں جی سسٹم تو یورپ اور امر یکہ والا ہے پران بھولے والدین کو ن سمجھے کیا آپ یورپ اور امریکہ والا معیار کوبھی مد نظر رکھتے ہیں ؟کچھ سکول 5th اور 8th کا امتحانات بورڈ سے نہیں دلواتے تا کہ کا رگردی سب پرعیاں نہ ہو جا ئے اورزیادترپرائیویٹ سکو ل بھی پا نچویں اور اٹھویں تک جب ان کے بچے پاس ہو کر گورنمنٹ سکولوں کا رخ کر تے میں تو میٹر ک میں مایو س کن زرلٹ آتا ہے تو ایسے بچے گورنمنٹ کے کھاتے میں شما ر ہوتے ہیں کہ فلاں بورڈ کارزلٹ تو 35فیصد آیا ہے پھر عذاب سرکاری سکولوں کے بچارے استاتذہ پر آجا تا ہے ۔مجھے ایک مہنگے پرائیویٹ سکول کے ستا ئے ہو ئے والد نے بتا یا کہ میرا بچہ چارسال سے ایک پر ائیویٹ سکول میں زیر تعلیم ہے وہاں پر ایک کلا س کو دو دو کلا سز بنا کر پڑھایا جاتا ہے چار سال میں بچہ بمشکل میرابچہ ون کلاس میں پہنچاہے اس نے بتایا کہ بچے لکھا ئی پر ذرہ بھی تو جہ نہیں دی جا تی بچہ جب لکھ نہیں سکتا تو ٹیچر کسی اور بچے سے یا خود بچوں کی طرح لکھائی بناکر کا پی پر لکھ دیتی تھی جب کہ لکھنے کے لئے ہوم ورک نہیں دیا جاتا تھاجس کی شکا یت سکو ل کے پر نسپل سے کی تو انہوں نے فرما یا بچوں کی بات نہ ما نا کر یں بچے جھوٹ بولتے ہیں ۔جب زیادہ اصرار کیا تو پرنسپل صاحب کا پار ہ تھا نیدار کی طر ح ہا ئی ہو گیا والد نے بتا یا کہ مجھے ایسے محسوس ہوا کہ میں کسی سکو ل میں نہیں تھا نے میں آگیا ہوں اور سا منے وا لا شخص پر نسپل نہیں تھا نید ار اور میں والد نہیں کو ئی مجر م ہو ں انہوں نے فر ما یاآپ اپنے بچے کو کسی اور سکو ل میں داخل کروا دیں والد نے سو چا اب پھنس گئے ہیں کیا کر یں کسی اور سکول جا ئیں تو یہ پر نسپل ڈانٹ رہا ہے یہ نہ ہودوسرا ڈنڈہ ما رنا شر وع کر دیے اور پھر سے نئے آخر اجات اب تو کچھ نہیں ہو سکتا ہے ۔ کاش اس دن چا ئے نہ پیتے اب وہ خون کی صورت میں نکا لی جا رہی ہے اب کیا کر یں ما ہا نہ تین ہز ار سے زائد آخراجات ہیںتعلیمی کا رکردگی صفر ہے اب ٹیو شن کے علا وہ خود سے اور ٹائم بچے ساتھ لگانا پڑے گا۔

اب اس صورت حا ل کو دیکھا جا ئے تو اس کے بر عکس سرکاری سکولوں میں لکھائی پر خا صی توجہ دی جا تی ہے وہا ں روایتی سلیٹ تختی اور کا پیوںپربا ر بار مشق کروائی جا تی ہے جس سے لکھا ئی بہتر ہوجا تی ہے جب بچے کو لکھنا ہی نہیں آئے گا وہ لا کھ رٹے لگا کر کو ئی مو اد زبانی یاد کر لے پر اس کو پیپر پر کیسے اتارے گا ۔لیکن ایسی مشق مہنگے سکولوں میں نہیں کر وا ئی جا تی ہے۔اب تو حا ل یہ ہے پیپروں میں بچوں کی خوب ہیلپ کی جا تی ہے بلکہ ٹیچرز کو ہد ایت کی جا تی ہے پیپر چاہے خود لکھیں پیپر اچھا ہو نا چاہیے کیو نکہ کچھ والد ین کو بچوں کے پیپر زدیکھنے کا بخارہو تا ہے کہیں اتنی اچھی کا رکر دگی سب پر عیا ںہو گئی تو کیا ہو گاارے بھیا جب 3 سے 5 ہزاربچارے ٹیچرز کو دیا جا ئے گا تو ان کی کارگردگی بھی تو اتنی ہو گی اور خود سکول فی بچے کا دو سے تین ہزار لے خود لا کھوں کما ئیں تو پھر ایسے ہی ہو گا اگر سٹاف کا پو چھا جا ئے تو جی ہما رے پاس ماسٹر سے کو ئی کم ہے ہی نہیں کیا ہم بچے کے داخلے کے وقت ان کی اسناد چیک کرتے ہیں چیک بھی کیسے کریں ہم کون سا انتظامیہ تھوڑی ہیں تو پھر اندھے کنو ئیں میں سب چلے گاجب سرکاری سکولوں میں ہمارے دور میں سالا نہ یا ششما ہی فنکشن ہو تے تھے تو تخلیقی کا م اور تقریری مقا بلے ہو تے تھے جس سے معاشرے کو اچھے مقرر اور شاعر مل جا تے تھے لیکن اب ہو نے والے فنکشن میں مختلف گا نوں پر پروفارمنس کر وائی جا تی ہے جس کی وجہ سے ہم ڈانسر کی پیدا وار میں خود کفیل ہو تے جا رہے ہیںسالانہ رزلٹ ان کے انوکھے ہوتے ہیں تما م سکول کے بچے پوزیشن ہولڈر نمبر فیصد کے رنگ میں رنگے جا تے ہیں والد ین خوش ہو جا تے ہیں پہلے دس فسٹ پھر آدھے سیکنڈ باقی تھرڈ اور رزلٹ ہر والدین کو الگ الگ میٹنگ کر کے دیا جا تا ہے کہ والدین ایک دوسرے سے مل کر حال احوال نہ کریں ہیں آپ کا بچہ بھی فسٹ آیا ہے میرا بھی فسٹ آیا ہے اور فلاح صاحب کا بچہ ہمارے بچوںکاکلاس فیلوہے وہ بھی فسٹ آیا ہے یہ گفتگونہ کرتے رہیں بس خاموشی سے رزلٹ لیں اور چلتے بنیں جبکہ سرکاری اداروں میں پور ی کلاس یا سکول کا رزلٹ ایک سا تھ انونس کیا جا تا جس کے مقا بلے کی فضا پیدا ہوتی ہے۔

علیحدہ علیحدہ رزلٹ دینے کا ان کا انوکھا طریقہ ہے ۔اچھا اب ما ن لیا ان کے پاس سٹاف ساراکاسارا ما سٹرزہے پر ان کے ساتھ والدین سے بھی بد تر سلوک کیا جا تا ہے ملک بھرمیں بے روز گا ری تو ویسے ہی بہت زیادہ ہے ۔پھر ٹیچر یہ نہیں تو کو ئی اور وہ نہیں تو کو ئی اور کم سے کم تنخواہ میں راضی ہو جانے والے مجبور اور معاشی طور پر کمزور افرادمیسرہو جا تے ہیں ۔ پھر ا ن ٹیچرز سے کہا جا تا ہے پہلے ماہ آپکو ٹر یل پر رکھتے ہیں پھر دوسر ے ماہ کنفرم کریں گے پر اس ما ہ کی بھی تنخواہ نہیں دیں گے وہ ہمارے پاس سیکو رٹی کے طور پر جمع رہے گی پھر کہیں جا کر خد ا خد ا کر کے مہینے کی دس پندرہ تاریخ کے بعدتنخواہ دی جاتی ہے اب ان سے کو ئی پو چھے والد ین ایک دن فیس لیٹ کر یں تو جرما نہ خود دودو ماہ کی تنخو ائیں بچارے غریب ٹیچرزکی اپنے نیچے دباکر بیٹھے رہتے ہیں بس اندھر نگری چوپٹ را ج والی با ت ہے ۔ان پر ائیویٹ سکولوں میں اپنی خدما ت دینے والے بچارے ٹیچرز کے سا تھ غیر انسا نی رویہ اختیار کر کے ان کو بھٹہ خشت پر کا م کر نے وا لی باونڈیڈلیبر جیسا سلوک کیا جاتاہے ۔یہاں نہ انسا نی حقوق نظر آتے ہیں اور نہ گورنمنٹ کے لیبر قوانین لا گو ہوتے ہیں ۔اب پر ائیویٹ اداروںمیں جہاں اچھے لو گ بھی ہیں جو صرف تعلیم کو فر غ دینے کے جذ بے سے سرشا رہیں وہا ں پر ان اداروں میں کچھ ایسی ذہنیت کے لوگ بھی ہیں جن کی خبر یں اکثر میڈیا میں آتی رہتی ہیں جن کو سن کر ایک مجرم کا سر شرم سے جھک جاتا ہے کچھ عرصہ قبل خا نیوال سرگودھامیں اپنے ہی سکول کے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیس سامنے آچکے ہیں ۔ جبکہ اسلام آباد کے ایلیٹ کلاس سکول کا لجز میں منشیات کے عادی ہوتے طلباء کی خبریں میڈیا میں گر م ہو رہی ہیں جس کے مطا بق منشیات فروشی میں ان اداروں کا سٹاف ملو ث پا یا گیا ۔ جو ہم سب کے لئے لمحہ فکر یہ اس کے بعد ہمیں اپنے آنگن کے پھولوں کی فکر لا حق ہوجا تی ہے ۔پہلے وا لد ین کوکو ئی کم پر یشا نیاں ہیں ۔ اب با ت یہ ہے کہ نہ تو سا رے پر ائیو یٹ سکول خرا ب ہیں اور نہ ہی سا رے سرکاری ادارے بے کارہیں ۔ہمارے آس پاس بہت سے اچھے پر ائیو یٹ ادارے موجو دہ ہیں جو گورنمنٹ کے ساتھ تعلیم کے شعبے کو سہا را دیے ہو ئے ہیں ۔ جو قابل تحسین ہیں ۔ اب حکومت خواندگی کے اہداف پورے کرنا چا ہتی ہے تو والدین کی بھی پریشانیاں دور کرے اور چند ضروری اقدامات اٹھائے سرکاری سکولوں کی سہولیات میں آضافہ کیا جا ئے ان کے استاتذہ کی محرومیوں کو دور کیا جا ئے سرکاری سکولوں کے استا تذہ کی تعداد میں آضافہ کیا جا ئے ۔ان سے آضا فی ڈیوٹیاں مثلا ًپولیو مختلف سروے الیکشن دیگر ایسے کا م نہ لئے جا ئیں ۔ ان کی تعیناتی کو بھی قریب رکھا جا ئے تا کہ ان کی جیب پرکوئی آضا فی بوجھ نہ بنے ۔ان کی مر اعات میں بھی آضافہ وقت کی ضرورت ہے ساتھ ہی دیگر محکموں جیسے لا ئیوسٹاک زراعت کے ملا زمین کو آسان ادائیگی پر موٹر سائیکل دیے گئے اسی طر ح معزز استا تذہ کرام کو بھی دیے جائیں تا کہ سکول آنے جا نے میں ان کو آسانی ہو ۔جبکہ پر ائیو یٹ سکولوں میں اچھی کا رکر دگی پر ان کی حوصلہ افزائی کی جا ئے۔

سرکاری اداروں کے ساتھ پر ائیویٹ اداروں کا چیک اینڈ بیلنس گورنمنٹ اداروں کی طر ح کیا جا ئے ہر اضلا ع میں ڈی ایم اوز اور ای ڈی اوز ان کی نگرانی کر یں اور شکا یات پر ان کاازلہ کر نے کے اختیا رات ہوں ساتھ صوبا ئی محتسب بھی پر ائیو یٹ سکولوں کی شکا یات پر سما عت کر کے فیصلے سنا نے کے اختیارات اور کاروائی کے لئے شفارشات کا اختیار معز ز محتسب صاحب کے پا س ہو ۔مقا می انتظا میہ فیسوںکے معیار سہو لیات اور ٹیچرز کی تنخو اہوں مر اعات کا بھی جا ئزہ لیںاور چیک اینڈ بیلنس رکھیں ۔ پرائیو یٹ سکولوں کو لیبر قوانین کے دائرہ اختیا رمیں لا یا جا ئے تا کہ پرائیویٹ سکولوںکے ٹیچرزکے معا شی استحصال کو روکا جا سکے ۔ ان اداروں کو اس با ت کا پا بند بنایا جا ئے کہ امتحا نی شیڈول سرکاری سکولوں کے ساتھ ہونا چاہیے مزید پانچویںاور اٹھویں جماعت کے امتحانات ہر صورت میں بورڈ سے دلوانے کے پا بند ہو نگے۔ان اقداما ت کو اٹھا کر ہی ہم تعلیم کے میدان میں بہتری لا کر ہی ترقی کر سکتے ہیں۔

Abdul Jabbar Khan
Abdul Jabbar Khan

تحریر: عبدالجبار خان

Share this:
Tags:
Abdul Jabbar Khan business Development people project ترقی قوم کاروبار منصوبے نظام تعلیم
Press Club
Previous Post لاہور، مثبت سماجی اقدار کے فروغ کے لئے میڈیا کا کردار ناگزیر ہے، سید عرفان بنیاد شاہ
Next Post قومی کتاب میلہ۔۔۔۔شاعرہ فرزانہ ناز کی المناک وفات
Book Fair

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close