
تحریر : رقیہ غزل
فتح مصر کے موقع پر مسلم سپہ سالار نے حضرت عمر کومال غنیمت کے ساتھ ایک رقعہ بیجھا جس میں درج تھا کہ میرے سپاہی اس قدر دیانتدار ہیں کہ اگر کسی کوکبھی کہیں سے سونے کی ایک اینٹ بھی ملی تو اس نے مال غنیمت میں جمع کروائی ہے اس خط کو پڑھ کر حضرت عمر اشک بار ہوگئے انکے ساتھ حضرت علی بیٹھے ہوئے تھے وہ متعجب ہو کر پوچھنے لگے کہ کیا محاذ جنگ سے کوئی بری خبر آئی ہے ؟حضرت عمر نے فرمایا اے علی! یہ خوشی کے آنسو ہیں، ساری باتیں سن کر حضرت علی نے ایسا تاریخ ساز جملہ کہا جو آج بھی سنہری حروف میں چمک رہا ہے ”یہ سپاہیوں کی دیانت کا کرشمہ نہیں بلکہ آپ کی دیانت کا کرشمہ ہے اے عمر! اگر آپ دیانت دار نہ ہوتے تو سپاہیوں میں یہ وصف کبھی پیدا نہ ہوتا ”۔پانامہ لیکس سے چند ہفتے پہلے میاں صاحب نے نیب کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے باخبر کیا تھا کہ آجکل نیب حکام’ کرپشن اور دیگر الزامات کی تصدیق کئے بغیرمعصوم لوگوں کو ہراساں کر رہے ہیں اور یہ کہ وہ اس معاملہ کو متعدد بار چئیر مین نیب کے نوٹس میں بھی لاچکے ہیں۔
لہذا انھیں بہر صورت نوٹس لینا چاہیئے اور انتباہ کیا کہ بصورت دیگر ،حکومت اس حوالے سے قانونی اقدامات کر ے گی ان کے اس بیان کے آتے ہی ملک میں مختلف قسم کی قیاس آرائیوں نے زور پکڑ لیا یہ کہ احتسابی ادارے اب پنجاب کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں اور اس طرح کی چہ مگوئیاں بھی سننے میں آئیں کہ نیب کی طرف سے عملی پیش رفعت اور کچھ مقدمات بارے بھی ٹھوس شواہد ملے ہیں اس پر نواز حکومت نیب سے خفا نظر آئی کیونکہ ان مقدمات میں وزیراعظم کے بعض دیرینہ ساتھی بھی شامل تھے جس کے نتیجہ میں میاں صاحب اور ان کے حلیفوں کے دئیے گئے سبھی بیانات سے ایسے تاثرات ملے جس سے یہ خبر پورے ملک میں پھیل گئی کہ نیب کے دائرہ کار کو محدود کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اس بارے یہ بھی لکھا گیا کہ نیب کے پر کاٹنے سے بہتر ہے کہ اس ادارے کو ختم کر دیا جائے دانشوران اور مبصرین ابھی اسی مسئلے پر سر جوڑے بیٹھے تھے کہ پانامہ لیکس نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی اور اس پر عوام کے ردعمل کے نتیجہ میں بعض ممالک کے وزرائے اعظم کے استعفوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا لہذا پاکستانی سیاست میں بھی بھونچال آگیا مگر ہمارے ہاں ایک دیرینہ مسئلہ ہے کہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کا رواج نہیں ہے بلکہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والا معاملہ ہے اور ایسا ہی ہوا اس خبر کے بعد یہ کہا گیا کہ یہاں کیاسب گنگا نہائے ہوئے ہیں اور یہ کہ یہاں سبھی ایسے ہیںمزید یہ کہا گیا کہ سب کا احتساب ہونا چاہیئے کیونکہ یہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش ہے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔
اگر سرسری جائزہ لیا جائے تو نیب کے دائرہ کار کو محدود کر دیا گیا ہے کیونکہ کسی بھی ملک میں اخلاقی یا مالی کرپشن کی تحقیقات ایف آئی اے یا نیب، سرکاری ادارے ہی کرتے ہیں مگر پانامہ لیکس میںنیب کا ذکر تو کہیں بھی نہیں ہے ہاں مگر تاحال کمیشن بنانے پر غور و فکر کیا جا رہا ہے جس کے بارے بھی یہ قیاس آرائیاں عروج پر ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان اس کمیشن کا حصہ بننے کو تیارہی نہیںہیں ویسے بھی احتسابی عمل کو جس طرح گذشتہ تمام بر سراقتدار حکومتوں تک لے جانے کا عندیہ دیا جا رہا ہے امید ہے کہ کئی نسلیں گزر جانے کے بعد بھی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی باری نہیں آئے گی ان تمام مسائل میں پیپلز پارٹی کے بیانات قابل غور ہیں کہ ایک طرف بلاول بھٹو نے پانامہ لیکس کو منطقی انجام تک پہنچانے کا اعلان کیا ہے تو دوسری طرف ان کے قائدین کی طرف سے یہ بیانات آرہے ہیں کہ وفاقی حکومت گھبراہٹ کا شکار ہے۔
شفاف تحقیقات کروائیں ہم جمہوریت کے حامی ہیں دھرنوں کے نہیں جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے اور یہ کہ حکومت اپنا عرصہ مکمل کرے گی یعنی پیپلز پارٹی جلسے جلوسوں کے اس سیزن میں شاید ہی شامل ہو ویسے سیاست کا اصول ہے کہ چلو تم ادھر کو ۔۔ہوا ہو جدھر کی، تو تاحا ل پارٹی سربراہان کے مطابق سب دھندلا ہے ویسے بھی رحمن ملک اور محترمہ بے نظیر بھٹو مرحوم کا نام پانامہ لیکس میں شامل ہے جس بارے رحمن ملک کا موقف ہے کہ ہمارے نام پاکستان میں موجود” تڑکا مافیا” نے شامل کروائے ہیں جہاں تک انصاف پسندی اور ترقی کی راہیں بند کرنے کا تعلق ہے تو مجھے بادشاہ عادل نوشیرواں یاد آگیا کہتے ہیںکہ نوشیرواں نے شاہی محل کی تعمیر کا ارادہ کیا تو اس کو چوکور بنانے کے لیے زمین کی ضرورت تھی۔
مگر اس پر ایک غریب بڑھیاکا جھونپڑا بنا ہوا تھا اس جھونپڑے کو ہٹائے بنا محل ٹیڑھا نظر آتا تھا سرکاری ملازموں نے زمین خریدنے کی کوشش کی مگر اس غریب بڑھیانے انکار کر دیا بادشاہ نے سنا تو حکم دیا کہ اگر وہ بخوشی دے تو لے لو ورنہ زبردستی جبر مت کرو لہذا مجبوراً محل ٹیڑھا ہی تعمیر کر دیا گیا جب محل بن چکا تو بڑھیا نے آکر عرض کی کہ جہاں پناہ!اس جھونپڑے کی زمین لئے بغیر سچ مچ شاہی محل ٹیڑھا اچھا نہیں معلوم ہو رہا یہ لیجئے زمین یہ بے قیمت حاضر ہے ۔نوشیرواں نے پوچھا !تم نے پہلے انکار کیوں کیا ۔بڑھیا نے مودبانہ جواب دیا کہ اس لئے کہ پوری دنیا میں آپ کے انصاف کا ڈنکا بج جائے اور بادشاہ نے اسے انعام و کرام دیکر رخصت کر دیا مگر اس کی زمین نہ لی اور محل بدستور ٹیڑھا رہنے دیا ۔یہ تھا انصاف جو رہتی دنیا تک مثال ہے کہ وہ لوگ چلے گئے مگر عدل کی مثال قائم کر گئے۔
ہمارے موجودہ حکمرانوں نے تو سڑکوں اور پلوں کے راستے جیسے سینہ زوری سے صاف کئے ہیں وہ بھی مثال ہے حال ہی میں جوایک رٹ مسیحی برادری کی طرف سے دائر کی گئی ہے اس کے مطابق چرچ کی زمین کو ایکوائر کیا جا رہا ہے مگر قانونی تقاضے پورے نہیںکئے گئے کچھ ایسا ہی حال میٹرو کے لیے ایکوائر کی گئی زمین کے ساتھ کیا گیا ہے کہ جن کے مقدمات ابھی تک زیر التوا ہیں اور قانونی طریقہ کار کو استعمال ہی نہیں کیا گیا ہے اور زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ان منصوبوں کی زد میں لاہور کا تاریخی ورثہ ملیامیٹ ہونے کا خدشہ ہے مگر حکومت اس معاملے میں کسی بھی رائے یا تجویز کو قابل قبول ہی نہیں سمجھتی یہی وجہ ہے کہ ان منصوبوں سے عوام اوران کا تماشا دیکھنے والے اندر اندر سے ناراض ہیں ان تمام حالات میں پانامہ لیکس نے جیسے پی ٹی آئی کی مردہ تحریک میں روح پھونک دی ہے اور یہی وجہ ہے ان کی دیکھا دیکھی تمام سیاسی پارٹیاں میدان میں اترنے کے لیے کمر کس چکی ہیںجسکا مظاہرہ بروز اتوار کیا گیا جو کہ آئندہ آنے والے چند دنوں میں ایک نام نہاد تحریک کی شکل اختیار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
لیکن اس جنگ میں مسلم لیگ (ن) اُن کے رفقا اور تمام موقع پرست ہمنوا ڈٹنے کا عزم کر چکے ہیں میاں صاحب نے اس کرپشن کیس کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر کرپشن ثابت ہوگئی تووہ گھر چلے جائینگے بلکہ ان کی طرف سے بھی مذاحمتی تحریک کا آغاز کر دیا گیا ہے جو کہ خانہ جنگی کی طرف جا سکتی ہے مزحکہ خیز صورتحال تو گذشتہ سیاسی اتوار کی شکل میں سامنے آئی جب پاکستان کے تین بڑے شہروں میں تین بڑے جلسوں کا اہتمام کیا گیا جن میں لاہور میں جماعت اسلامی نے کرپشن کے خلاف دھرنا دیا ،سراج الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں 68 برس سے کرپشن ہورہی ہے یعنی جماعت اسلامی کو اس کرپشن کی تکلیف آج ہوئی ہے جبکہ ان کا شمار ان میں ہوتا ہے جو جناب ندیم قاسمی کے شعر کو سچ کر دکھاتے آرہے ہیں کہ
جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی
دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی
ایسا ہی سیاسی اتوار بازار کراچی میں سجایا گیا جس کی داغ بیل مصطفی کمال ڈال چکے ہیں مصطفی کمال جس کمال سے ایم کیو ایم کے مٹتے تشخص کو سنبھالا اورنئی پہچان دے رہے ہیں اس کے ماسٹر مائینڈ کو بڑا زیرک اور موقع شناس سمجھتی ہوں لہذا ن کا بھی ثانی نہیں ہے اسی تسلسل کا ایک بڑا مجمع اسلام آباد میں بھی لگا جس میں عمران خان نے کرپشن کے خلاف وفاقی حکمرانوں اورسندھ میں تحریک کااعلان کیا اور اس دھرنوں کے تسلسل کو آگے بڑھانے کا اعلان کیا تاکہ میاں صاحب کو استعفی کے لیے مجبور کیا جاسکے گیند ایک بار پھر پی ٹی آئی کی کورٹ میں ہے قدرت نے پھر ایک قیمتی وقت اورنادرموقع دیا ہے دیکھنا یہ ہے کہ خان صاحب خوابیدہ قوم کو بیدار کرکے اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں یاسیاسی اداکاروں کی تدبیروں کا شکار ہوجاتے ہیں۔
انتخابات میں ہار جانے کے بعد نتائج کو تسلیم نہ کرنا ، احتجاجی تحریک کا آغاز کردینا اور برسر اقتدار حکومت کی نظر انداز اور برداشت کردہ کرپشن کے خلاف جلسے ،جلوس اور علم بغاوت بلند کرنا یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اس کی داغ بیل مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ہی ڈالی تھی یہ الگ بات کہ آج ہر کوئی دروغ گوئی سے کام لیتے ہوئے ان ساری باتوں کو جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی سازش قرار دیتے ہیں اور رہی بات درباریوں کی تو وہ ہر دور میں اسی قصیدہ گوئی اور ہاں میں ہاں ملانے کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں جو آج کر رہے ہیں مگر اب مسئلہ یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے سبب ہر کسی کی نیک یا بد اعما لی عوام کے سامنے آچکی ہے اور ثابت ہوچکا ہے کہ ہر کس و ناقص قابل احتساب ہے۔ دوسری طرف حکومت بنیادی سہولیات میں سے کوئی ایک سہولت بھی کماحقہ تاحال عوام کو فراہم نہیں کرسکی۔
بلکہ الٹا جوآسائش حاصل ہے وہ بھی چھین لی گئی ہیں ایسے میں عوام مکمل طور پر ہر پارٹی سے مایوس نظر آتے ہیں اس لیے یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ پی ٹی آئی بھی مایوس عوام میں وہ جوش و ولولہ پید اکرنے میں کامیاب ہوجائے گی جوکہ بحر ظلمات میں ایک بار پھر گھوڑے دوڑا نے کا عندیہ دے رہی ہے کیونکہ سوائے بیوقوف اور کم عقل افراد کے اب اکثریت جان چکی ہے کہ تمام سیاستدان ،افسر شاہی اور کسی بھی اختیار والے لوگ صرف لوٹ مارکیلئے عہدے اور مرتبے لیتے ہیں اور پھر ان کا عزم ہوتا ہے کہ باہر با عیش کوش عالم دوبارہ نیست۔۔
مجھے کہنے دیجئے کہ ساری بحث ایک طرف مگر پاکستان میں دو ہی پارٹیاں بار بار برسر اقتدار آتی رہیں اور وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ہیں اور انہی سے غلطیاں ہوئیں ہیں ،انھوں نے ملکی فلاح و بہبود کے کام نہیں کئے انھوں نے وہ کام کئے جو تشہیر اور ذاتی مفاد کی کسوٹی پر پورا اترتے تھے اس کا ثبوت ان دونوں پارٹیوں کے سربراہوں اور حلیفوں کے بیانات کی شکل میں موجود ہے یعنی ہماری سیاسی پارٹیاں ضمیر سے نہیں گندے ذہن سے کام کرتی آرہی ہیں کیونکہ پچھلے کئی مہینوں سے سیاسی بازی گروں کے ضمیر جاگنے کے واقعات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کے ضمیر سو رہے ہیں مگر اب شاید وقت حساب آگیا ہے۔
آرمی چیف نے جس طرح تیرہ فوجی افسران کو کرپشن کیوجہ سے برطرف کیا ہے وہ قابل تحسین ہے اور مزید یہ کہ وہ اور ان کے کور کمانڈرز اور سٹاف افسران آئندہ چند دنوں تک اپنے اثاثے ظاہر کرنے جا رہے ہیں اسی زمرے میں یہ خبر بھی گرم ہے کہ پہلی مرتبہ صحیح معنوں میں عدلیہ میں بھی احتساب کی تحریک کا آغاز ہونے جارہا ہے کیونکہ ذی وقار چیف جسٹس آف پاکستان پہلے سے ہی حالیہ ہر طرح کی نا انصافیوں سے نالاں تھے اور وہ شفاف اور انصاف پسند معاشرے کی تشکیل پرمسلسل زور دے رہے تھے الغرض دستاروں کے بلوں میں پلنے والے گناہوں کے احتساب کا وقت آگیا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ غم کی رات ڈھل چکی ہے۔
مگر یاد رکھیئے کہ ہمیں منزل تو مل چکی ہے مگر ہماری قوم اس بچے کی طرح ہے جس کے ماں باپ اسے بچپن میں داغ مفارقت دے چکے ہوں اور پھر اس بچے کے باشعور اور عاقل و بالغ ہونے تک چالاک و عیار لوگ یتیم کا مال سمجھ کر ہڑپ کر رہے ہوں۔پانامہ لیکس پر ہونے والی بحثوں ،تبصروں اور تجزیوں نے اظہر من شمس کی مانند عملی لوٹ مار کے حقائق کو حکایت بنا دیا ہے آج ہر وہ کہ جو نیک نام سیاستدان یا اعلیٰ حاضر سروس یا ریٹائرڈ افسر ہے وہ اپنے ماضی یعنی جب اس نے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔
اس وقت کی جائیدادوں اور مالی حثیتوں بارے جائزہ لے اور آج کے حالات کا جائزہ لے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آئے گی کہ ہوشیاری ،عیاری ،چالاکی اور سوچے سمجھے منصوبوں کے مطابق ہر کسی نے کئی کئی ادارے ،فیکٹریاں اور بیرونی ممالک میں شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اس وقت اگر آج حکمران جماعت کے وزرا ،مشیر و دیگر عہدہ داران اور سابق حکمرانوں بارے سچ پر مبنی تفصیلات حاصل کی جائیں تو انشااللہ کوئی پیچھے نہ نکلے گا اس لئے پانامہ لیکس کا یہ سونامی بھی جلد ہی گزر جائے گا اور بات وہی ہوگی کہ جھتے اہینے پھٹ کھادے ۔۔۔۔۔اے پیڑا وی جر جائوو۔
تحریر : رقیہ غزل
