
قاہرہ (جیوڈیسک) اس سے پہلے اپریل میں اس مقدمے میں ایک جج نے اخوان المسلمین کے رہنما محمد بدیع سمیت 683 افراد کو سزائے موت دی تھی۔
یہ سزائیں معزول صدر مرسی کے بعد ملک میں بحرانی صورت حال پیدا ہونے اور کشیدگی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے مقدمے میں سنائی گئی۔ یہ فیصلہ ہفتے کو قاہرہ کے علاقے منایا کی عدالت کے جج سعید یوسف صابری نے سنایا ہے۔
اس جج کی شہرت سخت ظالمانہ ہے اور انھیں قصائی بھی کہا جاتا ہے۔ مصر میں حقوق انسانی کی تنظیم کے چیئرمین ہاشم قاسم نے کہا کہ اب حکام کے لیے وقت ہے کہ غیر معمولی سزائیں دینے پر اس جج کے خلاف کارروائی کریں۔ اسی مہینے کے دوران ایک عدالت نے ملک کے مقبول ترین جمہوریت پسند کارکن علا عبدالفتاح کو 15 برس قید کی سزا سنائی ہے۔
