
اخوان المسلمون فوجی تسلط کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ انقلاب کو ٹینکوں کے ذریعے نہیں دبایا جاسکتا اور بین الااقوامی سے اپیل کی ہے کہ مصر کو شام جیسی صورتحال سے بچایا جائے۔
اخوان المسلمون کے سایسی بازوفریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ فوجی تسلط کے خلاف بغاوت میں ان کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی انقلاب کو ٹینکوں کے ذریعے نہیں دبایا جاسکتا ہے۔ اخوان المسلمون کی جانب سے قائرہ میں ریپبلیکن گارڈ ہیڈ کواٹرز کے باہر دیئے گئے دھرنے پر فوجیوں کی فائرنگ سے بیالیس افراد جاں بحق ہوگئے۔
اس واقعے کے بعد اخوان المسلمون نے بغاوت کی کال دی ہے اور بین الاقوامی برداری سے اپیل کی ہے کہ وہ مصر میں مزید خونریزی سے بچنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے ورنہ مصربھی دوسرا شام بن سکتا ہے۔ گزشتہ روز بھی مصری فوج نے نصر کے شہر میں صد محمد مرسی کے حمایتیوں پر پریذیڈنشل گارڈز کلب کے باہر اس وقت فائرنگ کی تھی جب وہ فجر کی نماز ادا کر رہے تھے۔ سابق صدر کو پریذیڈنشل گارڈز کلب میں نظر بند کیا گیا ہے۔ اس واقعے میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔
