Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

الیکشن کمیشن

February 22, 2013 1 1 min read
Tariq Hussain Butt
Mansoor Ijaz
Mansoor Ijaz

ابھی تو کل کی بات ہے کہ ایک امریکی شہری منصور اعجاز نے امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں حسین حقانی پر پاکستان کے خلاف ایک سازش تیار کرنے کا الزام لگایا گیا تھا اور اس سازش میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو بھی ملوث کیا گیا تھا۔

منصور اعجاز کا اصرار تھا کہ جوہری اثاثوں کے بارے میں حسین حقانی نے اپنے خط میں جن امور کا ذکر امریکی حکومت کو لکھے گئے میمو میں کیا ہے وہ صدرِ پاکستان کی اشیرواد کے بغیر ممکن نہیںتھا۔یاد رہے منصور اعجاز امریکی شہری ہیں اور ان کے پاس پاکستانی شہریت نہیں ہے لیکن سپریم کورٹ نے انکی اس دخواست کو جس طرح پذیرائی بخشی اس نے بڑے بڑے قانون دانوں کو ورطہِ حیرت میں گم کر دیا۔ سپریم کورٹ نے اس درخواست پر ایک لارجر بنچ تشکیل دیا اور یکایک مقدمے کی کاروائی شروع کر دی ۔میاں محمد نواز شریف بھی اس مقدمے میں ایک فریق بن گئے تو رہی سہی کسر پوری ہوگئی۔اب پی پی پی کے گلے میں غداری کا طو ق سجانے میں کوئی کسر باقی نہ رہ گئی تھی کیونکہ میڈیابھی منصور اعجاز کی زبان بول رہا تھا لیکن منصور اعجاز نے پاکستان میں اپنی سیکورٹی کے حوالے سے ناقص انتظامات اور اپنی جان کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر سپریم کورٹ میں پیش ہونے سے معذرت کر لی تو مقدمے کے غبارے سے ہوا نکل گئی اور حکومت کے مخالفین کی ساری خواہشات چکنا چور ہو گئیں۔

وہ تو اس پٹیشن سے صدرِ پاکستان کو غداری کا مرتکب ثابت کر کے قصرِ صدارت سے رسوا کن انداز سے باہر پھینکنا چاہتے تھے۔ مخالفین کی سر توڑ کوشش تھی کہ اس پٹیشن کی ہر حالت میں شنوائی ہو لہذا انھوں نے ایک اچھوتا خیال پیش کیا۔انھوں نے تجویز پیش کی کہ چونکہ یہ مقدمہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے لہذا عدالت امریکہ میں جا کر منصور اعجاز کا بیان ریکارڈ کرے۔

سپریم کورٹ نے حکومت مخالفین کی اس رائے سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے لندن میں منصور اعجاز کا بیان ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں حکومت کو نیچا دکھانے کیلئے عدالت نے غیر ملکی سرزمین پر اپنی عدالت لگا لی۔پاکستان کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا جس میں کسی غیر ملکی کی خوشنودی کی خاطر عدالت بیرونِ ملک سجائی گئی تھی۔مقدمے میں کچھ تھا ہی نہیں لہذا وہ ٹائیں ٹائیں فش ہو گیا۔

Supreme Court
Supreme Court

مخالفین کی ہار یقینی تھی کیونکہ سب کچھ بد نیتی پر مبنی تھا لیکن پھر بھی مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا۔حیرانگی کی بات یہ تھی کہ ایک امریکی شہری کی پٹیشن کو اتنی اہمیت دی گئی کہ اس کیلئے عدالت نے اپنی توقیر کی بھی پرواہ نہ کی اور عدالت لندن میں لگا ڈالی تا کہ آصف علی زرداری کو شکار کیا جا سکے لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکی کیونکہ سب کچھ جھوٹ پر مبنی تھا اور یوں مخالفین کی سر توڑ کوشش کے باوجود آصف علی زرداری اس سازش سے بالکل مامون و محفوظ رہے اور مخالفین کو ذلیل و خوار ہونا پڑا۔

اب ایک دوسرا منظر ہمارے سانے آتا ہے۔ ادارہ منہاج القرآن کے چیرمین ڈاکٹر علامہ طاہرا لقادری الیکشن کمیشن کی تشکیل پر سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرتے ہیں لیکن عدالتی کاروائی سے ا یسے محسوس ہوتا ہے جیسے عدلیہ ڈاکٹر علامہ طاہرا لقادری کی تذلیل کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔ کہاں ایک غیر ملکی کی ناز برداریاں اور کہاں ایک پاکستانی شہری کو غیر ملکی کہہ کر اس کی پٹیشن کا ستیا ناس کرنا اور اسے بدنیت قرار دینا۔کیا یہ دووہرا معیار نہیں ہے؟ عدالت کاکام سوالی کی نیت پر شک کرنا نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے تضحیک کا نشانہ بنانا ہوتا ہے بلکہ آئین و قانون کی روح کے مطابق فیصلہ صادر کرنا ہوتا ہے۔سائل کو یہ کہنا کہ دوہری شہریت کی وجہ سے وطن سے آپ کی وفا داری مشکوک ہو گئی ہے ایسے ریمارکس ہیں جو کسی بھی شخص کو طیش دلانے کے لئے کافی ہیں ۔ہر پاکستانی سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن پاکستان سے اپنی وفادای پر شکوک و شبہات کے بادل برداشت نہیں کر سکتا۔

اگر عدالت کے روبرو ڈاکٹر علامہ طاہر القادری جیسی دبنگ شخصیت ہو تو پھر ایسی شخصیت کو اپنے ردِ عمل سے روکنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ اس طرح کے ریمارکس کے بعد ایسی شخصیت کا خاموش رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے پاکستان اور اسلام کیلئے بے پناہ خدمات سر انجام دی ہیں لہذا اس الزام کو برداشت کرنا ان کیلئے ممکن نہیں تھا لہذا انھوں نے چیف جسٹس کو آڑے ہاتھوں لیا اور اپنی صفائی میں عدالت کے روبرو وہ کچھ کہہ دیا جو شائد ججز کو اچھا نہیں لگا اور ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔آئین بنانے والوں کو بھی اس بات کا علم تھا کہ وہ اپنے شہریوں کو دوہری شہریت کی اجازت دے رہی ہے تو دوہری شہریت کے حامل افراد کو دوسرے ملک کا حلف بھی اٹھانا ہو گا۔انھیں اس حلف کی عبارت کا بھی علم ہوتا ہے لیکن وہ پھر بھی اجازت دیتی ہے کیونکہ ریاست محسوس کرتی ہے کہ اس کے شہریوں کے تحفظ کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے۔اب جسے ریاست قانونی شکل عطا کر دے کسی بھی اد ارے کو اسے غیر آئینی کہنے کا حق نہیں ہوتا ۔اس قانون کو پار لیمنٹ نے آئین کا حصہ بنایا ہوا ہے لہذا عدالتوں کو فرض ہے کہ وہ اس قانون کی روح کے مطابق فیصلے صادر کریں۔ذاتی پسند و نا پسند کو قانون کی راہ میں حائل نہیں ہو نا چائیے ۔ ڈاکٹرعلامہ طاہرا لقادری کوئی پہلے فرد نہیں ہیں جھنوں نے دوہری شہریت کے رکھی ہے۔اس سے قبل لاکھوں پاکستانی دوہری شہرت کے حامل ہیں۔اب ان سب کی نیتوں پر بھی شک کیا جائے گا اور انھیں غیر ملکی کہہ کر پکارا جائے گا تو پھر پاکستانیت کی خوشبو کہاں سے آئے گی؟
یہ بات ہر شخص کے علم میں ہے کہ ڈاکٹر علامہ طاہرا لقادری دوہری شہریت کے حا مل ہیں اور عدالت بھی اس سے باخبر تھی۔اب اگر عدالت کو دوہری شہریت کی وجہ سے اس پٹیشن کو سننا ہی نہیں تھا تو پھر وہ اس پر اعتراض لگا کر التوا میں ڈال سکتی تھی تاکہ عدالتی فیصلے کی وجہ سے جو بد مزگی پیدا ہو گئی ہے اس کی نوبت نہ آتی۔اس بات پر تو کوئی شخص یقین کرنے کو تیار نہیں ہے کہ پاکستان سے وفاداری کسی مخصوص گروہ کے ساتھ مخصوص ہے۔

Election
Election

ہر پاکستانی اپنے وطن سے وفادار ہے جس کا ثبوت اس نے اکثر وبیشتر اپنے لہو سے دیا ہے لہذا عدالت کو اس طرح کے ریمارکس سے پرھیز کرنی چائیے جس سے دوسروں کی دل آزاری ہوتی ہو اور دوہری شہریت والے پاکستانی غیر ملکی قرار پاتے ہوں۔ سمندر پار پاکستانی اس فیصلے کے بعد خود کو اچھوت سمجھ رہے ہیں اور انگاروں پر لوٹ رہے ہیں۔ جب سے عدلیہ آزاد ہوئی ہے اس میں جارحیت کا عنصر زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے جسے عوام آزاد عدلیہ کے نام پر برداشت کرتے چلے آرہے ہیں۔عدلیہ کبھی کبھی آئینی حدود سے تجاوز بھی کر جاتی ہے جسے قانونی ماہرین عدالتی ایکٹوازم کا نام دیتے ہیں اور اس۔ عدالتی ایکٹو ازم کا نشانہ وفاقی حکومت بنتی ہے کیونکہ میاں بردران کے ساتھ عدلیہ نرم گوشے کا تاثر دیتی ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل میں آئینی طریقہ کار کو ملحوظِ خا طر نہیں رکھا گیا۔چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابرا ہیم کی کی حد تو تو بات ٹھیک ہے لیکن اس کے چاروں ممبران کی نامزدگی پر سوالیہ نشانات ہیں ۔بہتر ہوتا کہ اس مسئلے کو انتخابات سے پہلے طے کر لیا جاتا تا کہ انتخابات کے بعد کوئی انہونی صورتِ حال پیدا نہ ہو جائے ؟آج کل ٹیلیویژن پر ١٩٨٨ کی اسمبلی کی بحالی کی پٹیشن پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا ذکر بڑے تواتر سے کیا جا رہا ہے ۔کچھ لوگ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیںکہ ١٩٨٨ میں سپریم کورٹ اسمبلی کی تحلیل کو ناجائز سمجھ رہی تھی لیکن پھر بھی اسے بحال نہ کیا کیونکہ قوم انتخابات کے لئے تیار ہو چکی تھی لہذا انتخابات کے راستے کو روکا نہ گیا۔اسی تناظر میں ان افراد کا موقف ہے کہ اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل میں آئینی راستہ نہیں اپنایا گیا لیکن چونکہ اب انتخابات سر پر ہیں لہذا بہتر ہو گا کہ اس آئینی سقم کو بھول کر اسے قبول کر لیا جائے اور انتخابات کی راہ نہ روکی جائے کیونکہ حاجی سیف اللہ کیس میں سپریم کورٹ نے ایسا ہی فیصلہ دیا تھا۔اس طرح کے دلائل دینے والے افراد عوام کو گمراہ کرنے کی کشش کر رہے ہیں۔ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہ حقیقت نہیں ہے بلکہ سچ یہ ہے کہ جنرل ضیاا لحق کی موت کے بعد سپریم کورٹ جنرل ضیا لحق کے اسمبلی توڑنے کے حق کے خلاف فیصلہ دینا چاہتی تھی۔

اس وقت کی اسمبلی کو بحال کرنا چاہتی تھی لیکن جنرل اسلم بیگ اور صدرِ پاکستان غلام اسحاق خان کو اس طرح کا فیصلہ قبول نہیں تھا۔جنرل اسلم بیگ نے اپنے حالیہ ٹی وی انٹر ویو میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ جب ہمیں اس بات کی بھنک پڑ گئی کہ سپریم کورٹ اسمبلی کو بحال کرنا چاہتی ہے تو ہم نے سینیٹ کے چیرمین وسیم سجاد کے ذریعے سپریم کورٹ کو یہ پیغام پہنچایا کہ اگر اسمبلی بحال کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر ہمیں سڑک پار کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔اس بیان کے بعد وہ فیصلہ آیا جس کا ریفرنس آج کل ٹیلیویژن پر بار بار دہرایا جا رہا ہے۔وہ فیصلہ سپریم کورٹ کا نہیں تھا بلکہ وہ فیصلہ فوج کا تھا۔

سپریم کورٹ تو اسمبلی بحال کرنا چاہتی تھی لیکن فوج کو یہ قبول نہیں تھا کہ اسمبلی بحال ہو اس لئے سپریم کورٹ کو یہ فیصلہ سنانا پڑا کہ چونکہ قوم انتخابات کیلئے ذہنی طور پر تیار ہو چکی ہے اس لئے اسمبلی تحلیل کرنے کے غیر آئینی فیصلے کے باوجود ہم اسمبلی کی بحالی کا حکم نہیں دے رہے بلکہ انتخابات کا انعقاد کے فیصلے پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آئینی طور پر کسی غلطی کو محض اس وجہ سے کہ قوم انتخابات کی جانب جا رہی ہے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ فرض کریں کہ انتخابات کے بعد دھاندلی کی وجہ سے نتائج تسلیم نہیں کئے جاتے اور یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل کے وقت آئینی تقاضے پورے نہیں کئے گئے تھے تو پھر ان انتخابات کی آئینی حیثیت کیا رہ جائے گی۔

Tariq Hussain Butt
Tariq Hussain Butt

تحریر : طارق حسین بٹ( چیر مین پاکستان پیپلز ادبی فورم یو اے ای)

Share this:
Tags:
america charge mansoor ijaz pakistan supreme court الزام الیکشن کمیشن امریکہ پاکستان سپریم کورٹ منصور اعجاز
Pir Mahal Department Agriculture Seminar
Previous Post پیر محل: محکمہ زراعت توسیع تحصیل پیر محل میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار کے سلسلہ میں ایک سیمینار منعقد ہوا
Next Post لاہور : قوم کی لوٹی ایک ایک پائی وصول کریں گے: شہباز شریف
Shahbaz Sharif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close