
آخرکار 22 اگست کو ہونے والے الیکشن بھی اختتام پذیر ہوئے کچھ امیدوار ہار گئے اور کچھ نے میدان مار لیا ظاہر ہے ہار جیت تو ہوتی ہے ان الیکشن میں کچھ خاص دلچسپی نظر نہ آئی کیونکہ حکومت تو ویسے بھی چل رہی ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کوکیا ملا؟ آج تک جو بھی حکومت آئی اس نے عوام کو کیا ریلیف دیا اگر عوام اپنے مسائل کا خود جائزہ لے اور شاید اپنے ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرے۔
مگر ہماری عوام چڑھتے سورج کی پجاری ہے اپنا نفع نقصان نہیں دیکھتی کبھی بھی کسی نے عوام کے بارے میں اچھا نہیں سوچا امیدواروں کو پتہ ہوتا ہے کہ جیت ہماری ہو گی عوام کاسب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے جس ملک میں آٹا 40 روپے کلو ٹماٹر 160 روپے کلو اور پیاز 70 روپے کلو ہوں اور پھر بھی کوئی عوام کے بارے میں کسی مسئلہ پر بات نہ کرے اور عوام کا قصور ہے۔

جو اپنے ووٹوں سے کرپٹ نظام کو لاتے ہیں بجلی اتنی مہنگی کردی گئی ہے کہ لوڈ شیدنگ ہونے کے باوجود بل اتنے آجاتے ہیں جو غریب آدمی نہیں دے سکتا حکومت کس لئے بنائی جاتی ہے صرف بادشاہت کیلئے نہیں عوام کی خدمت کیلئے نہ کہ بڑے بڑے محلوں میں رہنے کے لئے مجھے انتہائی دکھ ہوتا ہے کہ جب گھروں کے سامنے سے گٹروں کا پانی گزر رہا ہوتا ہے بچے، بزرگ، خواتین اسی پانی میں سے گزر کر جاتے ہیں کبھی بھی کسی موجودہ لیڈر نے جاکر جائزہ نہیں لیا کہ عوام کس طرح زندگی گزار رہی ہے۔
میں صدقے جائو اس غیور عوام پر جو اپنے گھروں میں گٹرکے پانی کو نظر انداز کر کے اپنے لیڈرسے پیار کرتی ہے اور اس کو ایک گلی سے اسمبلی تک پہنچا دیتی ہے عوام کو ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو عوام کا درد رکھتا ہو عوام کے مسائل حل کرے مہنگائی پر کنٹرول ہوبے روزگاری کا مسئلہ حل کیاجائے چور بازاری، رشوت پر قابو پایا جائے تاکہ عوام اپنے بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچا سکے۔
خصوصاً الیکشن کے دنوں میں عوام اپنے امیدواروں کے الیکشن آفس میں جاکر بیٹھتی ہے پھر انکے جلسے جلوس کے ساتھ بھی جاتی ہے لیکن الیکشن ختم ہونے کے بعد عوام کے لیڈر نظر نہیں آتے اس لئے کہ وہ اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں اور عوام کی رسائی بہت مشکل ہو جاتی ہے جس دن عوام سے ہمدردی کرنے والا نظام بن گیا اس دن عوام کی تقدیر بدل جائے گی ورنہ الیکشن آتے رہیں گے عوام ووٹ ڈالتی رہے گی اور ذلیل ہوتی رہے گی اللہ پاک ہم سب پر اپنا کرم فرمائے۔

تحریر : ملک ساجد اعوان
