Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ہنگامی تعلیمی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ۔۔

April 6, 2015 0 1 min read
Poverty
Poverty
Poverty

تحریر: حامد قاضی
یونیسکو کی تحقیق کے مطابق دنیا میں ہر دس بچوں میں سے ایک بچہ جو سکول نہیں جاتا اس کا تعلق پاکستان سے ہے۔ پاکستان میں تقریباََ 5.5 ملین بچے سکول نہیں جاتے جس کی وجہ غربت، افلاس او ر ہوشربا مہنگائی ہے۔صرف 23 فیصد بچے جن کی عمریں 16 سال تک ہیں، سکول جاتے ہیں ۔10.5ملین بچے ایسے ہیں جن سے جبری مشقت لی جاتی ہے تاکہ گھر کا معاشی نظام چل سکے۔

یونسیف کے مطابق 17فیصد سے زیادہ پاکستانی بچے اپنا اور اپنے خاندان والوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔10.5ملین مکمل ان پڑھ ہیں یہاں تک کہ گلیوں اور فٹ پاتھوں پر رہتے ہیں ۔19ملین بچے انتہائی غربت اور افلاس کی وجہ سے سکول کی شکل نہیں دیکھ پاتے ۔تقریباََ 85فیصد سے زیادہ ایسے پاکستانی بچے جن کی عمریں سکول جانے کی ہوتی ہیں وہ صرف گورنمنٹ سکول تک ہی رسائی رکھ پاتے ہیں۔
سیکھنے اور جاننے کے عمل کو ایجوکیشن(تعلیم) کہتے ہیں ۔اور تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے پڑھ لکھ کر ہی ایک قوم مضبوط بنتی ہے تعلیم کسی قوم کی ترقی میں ایک بھرپور کردار اد اکرتی ہے اور کامیابی کی طرف گامزن کرتی ہے پاکستان ان ممالک میں سرِ فہرست ہے جہاں بہت سارے تعلیمی مسائل درپیش ہیں۔پاکستان کا موجودہ تعلیمی ڈھانچہ کمزوریوں سے بھرا پڑا ہے پاکستان ان ترقی پذیر ممالک میں شامل ہے جہاں اچھی تعلیم کا فقدان ہے اور پاکستانی قوم اچھی تعلیم سے محروم ہے یہاں کا ایجوکیشن سسٹم انٹرنیشنل معیار کا ہے ہی نہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام اور نصاب اتنا کمزور ہے کہ وہ ہماری معاشرتی عکاسی ہی نہیں کرتا۔ اور اس پر دوہرا تعلیمی معیار، جب تک پاکستان میں دوہرا تعلیمی معیار موجودر ہے گا ،ہمارا تعلیمی ڈھانچہ اسی طرح مخدوش حالت میں ہی برقرار رہے گا۔اور صدیو ں تک ہم ذلت اور پستیوں کی دلدل میں دھنسے رہیں گے
دوہرا تعلیمی معیار کیا ہے آئیے اس پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔
پاکستان میں دو قسم کے تعلیمی معیار یا سٹیٹس ہیں ایک پبلک سکول یا گورنمنٹ سکول ہیں جس میں عام لوگ یا عوام یا غریب غربا کے بچے پڑھتے ہیں دوسرا ایلیٹ کلاس یا پرائیویٹ سکول ہیںجس میں امیر لوگ یا عوام الخاص یا امراء کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

School
School

پبلک سکول یاگورنمنٹ سکول یہ سکول گورنمنٹ کی طرف سے قائم کئے گئے انتظامی اور مالی معاملات کے تحت چلائے جاتے ہیں بدقسمتی سے بہت سارے سکول گورنمنٹ کی ناقص پالیسیوں اور عدم توجہی کے باعث مالی بدعنوانیوں اور زبوں حالی کا شکار ہیں ان سکولوںمیں اساتذہ کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، اس کی وجہ پسند نا پسند پر اساتذہ کی بھرتیاں اور تبادلے، پرانی عمارتیں، ناقص سہولیات، معیاری نصاب اور اساتذہ کی عدم دستیابی، فنڈز کی کمی اور اس میں کرپشن ، محکمہ تعلیم سے منسلک اعلیٰ حکام کی عدم توجہی جیسے گھمبیرمسائل ان سرکاری سکولوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ کبھی اپنے ارد گرد موجود کسی سرکاری سکول میں چلے جائیں تو آپ کو محسوس ہو گا کہ آپ کسی بھوت بنگلہ میں آ گئے ہیں یا آپ کوئی آثارِ قدیمہ دیکھ رہے ہیں بوسیدہ عمارتیں،ٹوٹی پھوٹی دیواریں،گھن زدہ کھڑکیاں اور دروازے،گندے پانی اور جوہڑوں سے اٹے میدان،اور تعلیمی سرگرمیوں کا حال یہ ہے کہ سکول میں بچے تو ہیں مگر استاد موجود نہیں استاد کیوں موجود نہیں کیونکہ اس کے پیچھے ہاتھ تگڑا ہے اس کی بھرتی سیاسی ہوئی ہے اس لئے اس کا سکول آنا کوئی ضروری نہیں وہ گھر بیٹھے ہی ہڈ حرامی سے تنخواہ وصول کر رہا ہے۔کیونکہ ہمارے ہاں اقرباء پروری اور سیا سی وابستگی ہی اعلیٰ معیار گردانی جاتی ہے۔ استاد کیا ہوتا ہے ہمارے ہاں اس کی مثال یوں دی جاتی ہے جیسے کہ کوئی شخص بہت زیادہ چالاک اور ہوشیار ہو۔دھوکہ دہی اور فراڈ میں مہارت رکھتا ہو تو ایسے بندے کو کہا جاتا ہے کہ” تُو بڑا استاد ہے بھائی” یا “زیادہ استادیاں نہ کر “وغیرہ وغیرہ حالانکہ استادایک باعزت رتبہ ہے معاشرے میں استاد کا ایک اعلیٰ مقام ہوتا ہے اس نے آنے والی نسلوں کی تربیت و اصلاح کرنی ہوتی ہے لہذا ایسے ہی لوگوں کو جو کہ ہماری اصطلاح میں” استاد” ہوتے ہیں ان کے ہاتھوں میں ہم معاشرے کی اہم ذمہ داری سونپ دیتے ہیںرشوت اور سفارش کے بل بوتے پر ہم ان کو پرکھتے ہیں۔ان کی کیا تعلیم ہونی چاہئے ۔؟اس کی قابلیت اور اہلیت کا معیارکیا ہے۔؟ کیا وہ جو مضامین بچوں کو پڑھا رہا ہے اس میں اس کو دسترس حاصل ہے ۔؟ کیا وہ طلبا کی سوچ اور ان کے ذہنی رجحان کے مطابق ان کی تربیت کرنے کی اہلیت رکھتا ہے ۔؟کیا وہ طلبا کو ایک اچھی اور مثبت سوچ دے سکتا ہے ۔؟ مگر ان باتوں سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ۔ میٹرک اور مڈل پاس کو ہم نے قوم کا مستقبل سنوارنے کا ٹھیکہ دے دیا ہے ۔جب قوم کی تقدیر ایسے نااہل اور جاہل استادوں کے ہاتھوں میں دے دی جائے گی تو انجام بھی تو ہمارے سامنے ہے ناں، علامہ اقبال کو روز محشر یہ قوم کیا منہ دکھائے گی جنھوں نے اس قوم کو مخاطب کرکے یہ کہا تھا کہ۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

ہمارے ہاں سرکاری سکولوں کی کوئی مانیٹرننگ نہیں ہے کوئی جواب دہی نہیں ہے جس کے جی میں جو آئے وہ من مانی کرتا ہے سیاسی اساتذہ کرام اول تو سکول آتے ہی نہیں ہیں اگر آتے ہیں تو کلاس میں بچوں کو پڑھانے کی بجائے آپس میں خوش گپیاں لگا کر گھروں کو چلے جاتے ہیں اور بعض علاقے تو ایسے ہیں کہ وہاں سکول کی عمارت تو موجود ہے اور طالبعلم بھی موجود ہیں مگر استاد نہیں ہے کیونکہ سکول میں طلبا ء کی تعداد تو 400ہے مگر استاد صرف دو ہیں کیونکہ کوئی استاد ایسی جگہ اپنی تعیناتی نہیں کروانا پسند کرتا جہاں بچوں کی تعداد زیادہ ہو اور اس کو کوئی محنت کرنی پڑے اور اکثروبیشتر استاد ہی سکول میں نہیں آتے۔ گھوسٹ سکولوں کے گھوسٹ اساتذہ کرام کی بہت بڑی تعداد ہر ماہ تنخواہیں اور فنڈز باقاعدگی سے گھر بیٹھے وصول کر رہے ہیں بلکہ گھر بیٹھے ہی نہیں “قبروں” میں لیٹے بھی وصول کر رہے ہیں۔استادوں کو اس جہان ِفانی سے کوچ کئے ہوئے ایک عرصہ بیت گیا ہے مگر ان کے نام سے فنڈز اورباقاعدہ تنخواہیںمحکمہ کی ملی بھگت سے وصول ہو رہی ہیں۔

سرکاری سکولوں کی عمارات کھنڈر کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں نہ فرنیچر نہ بجلی نہ پانی ٹوٹی پھوٹی دیواریں،کچے فرش ،کمزور چھتیں،بدبودار کمرے اور گندے پانی سے بھرے میدان ایسی حالت میں کوئی امیر شخص کیسے اپنے بچوں کو سرکاری اداروں میں پڑھائے گا۔ دیہی علاقوں میں تو مقامی وڈیروں اور بااثر زمینداروں نے سرکاری سکولوں میں شادی ہال ،اوتاق،بیٹھک یہاں تک کہ مویشیوں کے لئے باڑے تک بنائے ہوئے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ ہے سٹینڈرڈ ہمارے سرکاری سکولوں کا نصاب جتنے مرضی جدید لے آئو تعلیم جتنی مرضی مفت کر لو تنخواہیں جہا ں تک مرضی بڑھا دوجب تک سکولوں کی حالتِ زار نہیں بدلو گے جب تک سکولوں کی چھان پھٹک نہیں رکھو گے جب تک مقامی محکموں کو فعال نہیں کرو گے جب تک اقرباء پروری اور سیاسی اثرو رسوخ ختم نہیں کرو گے ۔کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ نہیں پھینکو گے تب تک تعلیمی انقلاب نہیں آ سکتا،تب تک ہم پستیوں سے قریب اور بلندیوں سے کوسوں دور ہیں ۔اگرآپ یکساں تعلیمی نظام لانا چاہتے ہیں تو آپ کو پہلے ایسا ماحول فراہم کرنا ہوگا جس میں امیر اور غریب کا بچہ ایک ہی چھت تلے بیٹھ کر تعلیم حاصل کر سکیں۔اور یہ جو دو طبقوں کے درمیان خلیج حائل ہے یہ تبہی مٹ سکتی ہے جب ہم تعلیمی اصلاحات نافذ کریں ۔
ایلیٹ کلاس سکول(پرائیویٹ سکول) سرکاری سکولوں سے عدم توجہی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث ناکام ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ سکول سسٹم پاکستان میں بہت کامیاب اور منافع بخش کاروبار بن چکا ہے آج یہاں تک کہ غریب بھی اپنے بچوں کو ان پرائیویٹ سکولوں میں داخل کروانے کا خواہشمند ہے مگر کیونکہ ان پرائیویٹ سکولوں کی مہنگی فیسوں کی وجہ سے غریب کا بچہ ان سکولوں میں نہیں پڑھ سکتا صرف خواب دیکھ سکتا ہے کیونکہ پرائیویٹ سکولوں کا معیار اور ڈسپلن سرکاری سکولوں سے انتہائی بہتر ہوتا ہے پرائیویٹ سکولوں میں باقاعدہ چیکنگ کا نظام،جواب دہی اور شفافیت بدرجہ اتم موجود ہوتی ہیں ۔سٹاف انتہائی پڑھا لکھا اورمحنتی ہوتا ہے صاف ستھرا ماحول ،خوبصورت پلے گرائونڈز اور ٹرانسپورٹ کا بہترین انتظام ہوتا ہے بچوں کی روحانی تربیت کے ساتھ ان کی اخلاقی اور سماجی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے ان سکولوں میں بھی غریب اور لائق بچوں کے لئے چند سیٹیں مخصوص ہوتی ہیں لائق بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے یہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہمارے کمزور تعلیمی ڈھانچہ کو کافی حد تک سنبھالے ہوئے ہیں مگر اسی وجہ سے ان تعلیمی اداروں نے اپنی اجاراداری قائم کر لی ہے چند ایک اچھی شہرت کے حامل تعلیمی اداروں کو چھوڑ کر باقی تعلیمی ادارے وہ تمام سہولیات بچوں کو مہیا نہیں کر رہے جس کی وہ بھاری بھر کم فیسیں وصول کر رہے ہیں ۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے متعلق حکومتی پالیسی کے مطابق نہ تویہ اس معیار پر پورا اترتے ہیں اور ہزاروں سکول ایسے ہیں جو حکومتی ریکارڈ میں رجسٹرڈ نہیں ہیں۔

یہ سکول، والدین سے فیسوں کے علاوہ امتحانات، تقریبات،بے جا کے جرمانے اور سکیورٹی کے حوالے سے روزانہ،ماہانہ اور سالانہ کی بنیاد پر بھاری رقمیں وصول کرتے ہیں مگر سہولیات کچھ نہیں دیتے۔اور سب سے بڑی زیادتی یہ ہے کہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران فیس لینا کہاں کا انصاف ہے میرے نزدیک یہ فیس نہیں بلکہ بھتہ ہے اس کا سدِباب ہونا اس قوم پر ایک بہت بڑا احسان عظیم ہو گا ۔اربابِ اختیار کو اس پر سخت ایکشن لینا چاہئیے۔ محکمہ تعلیم کے افسران بھاری بھر کم سہولیات لینے کے باوجود ان کی کارگردگی صفر ہے ۔سارا دن آفس میں موجود نہیں ہوتے فیلڈ میں کام کر رہے ہوتے ہیں مگر کہاں کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے کہ کارگردگی پھر بھی صفر۔حالانکہ سکولوں کی ان حالتِ زار کے یہ ہی ذمہ دار ہیں کیونکہ سرکار نے ان کو یہ ذمہ داری سونپی ہے مگر پھر بھی یہ اپنے آپ کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتے کیوں۔؟ پاکستان میں تعلیمی معیار کیسے بڑھایا جا سکتا ہے۔۔؟

گورنمنٹ کو ایجوکیشن سسٹم کی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے انتہائی منظم منصوبہ بندی کرنی چاہئے سب سے پہلے گورنمنٹ کو تعلیمی فنڈز کو بڑھانا چاہئے پاکستان کے تمام صوبوں میں ایک ہی سلیبس ہونا چاہئے تاکہ طالبعلم کو یونیورسٹی لیول کی discriminationکا سامنا نہ کرنا پڑے۔پرائمری اور سکینڈری ایجوکیشن کے معیار کو بہتر کرنا چاہئے گورنمنٹ سکول کا معیار وہی ہونا چاہئے جو کہ اچھے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا ہے ٹیکنیکل ایجوکیشن تمام کلاسوں میں لازمی قراردی جائے۔ یونیسکو کی تحقیق کے مطابق یونائیٹڈ نیشن کے 120رجسٹرڈ ممبران میں سے پاکستان کا نمبر 113واں ہے ۔گورنمنٹ آف پاکستان اس بات کی پابند ہے کہ وہ فری تعلیم اور لازمی تعلیم پاکستانیوں کو مہیا کرے۔ لہذا مفت تعلیم عام کی جائے ۔ نظام تعلیم کی ناکامی کی اور بہت ساری وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ پرائمری سطح پر کم تعلیم یافتہ اساتذہ کی تعیناتی ہے۔لہذا پڑھے لکھے اور قابل لوگوں کو اس شعبے میں لایا جائے ۔ سکولوں میں کم از کم یونیورسٹی لیول کے اساتذہ کرام میرٹ پر بھرتی کئے جائیں ان کو اچھی تنخواہ اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کی جائیں ۔ اساتذہ کے لئے ٹریننگ ورکشاپ کا لازمی انتظام کیا جائے اور اس میں اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنایا جائے ۔سیاسی تقرریوں اوراقربا پروری سے پرہیز کیا جائے صرف اور صرف میرٹ کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔ای ڈی اوز اور ڈی ڈی اوز کو روزانہ کی بنیاد پر سکولوں کا سروے کرنے کا پابند کیا جائے ۔ سکولوں کی دیکھ بھال اور ان کی ضروریات کا خاص خیال رکھا جائے ،اساتذہ کی حاضری سکولوں میں یقینی بنائے جائے، بری شہرت کے حامل افسران کو برخاست کرکے اچھی شہرت کے حامل افسران کو ڈیوٹی پر مامور کیا جانا چاہئے۔جب تک کسی ادارے میں مانیٹرنگ کا نظام قائم نہیںکیا جائے گا تب تک اس ادارے کی کارکردگی سوالیہ نشان رہے گی۔ اگر بہترین اصلاحات کی جائیں تو یہی سکول بہترین بزنس دے سکتے ہیں کیونکہ مہنگا ترین بنیادی ڈھانچہ جیسا کہ زمین،عمارت اور بنیادی سامان پہلے سے ہی موجود ہیں ایک کامیاب اصلاحاتی پروگرام ان سرکاری سکولوں پر بہت اچھا اثر ڈالے گا۔
حکومتِ پاکستان کو چاہئے کہ آگے بڑھ کر پاکستان کے ایجوکیشن سسٹم میں unityلائے ہر امیر اور غریب کے بچے کو ہر پاکستانی کو ایک ہی تعلیمی ماحول ملنا چاہئے فنڈز صرف مستحق اور غریب طالبعلم بچے کو ہی ملنے چاہئیں اگر ہمارا ایجوکیشن سسٹم مظبوط ہو گیا تو تب ہی ہمارا ملک اقتصادی اور معاشرتی طور پر مظبوط ہو گا۔انشاء اللہ

Hamid Qazi
Hamid Qazi

تحریر: حامد قاضی
ممبر کالمسٹ کونسل آف پاکستان
email:hamidqazi47@gmail.com
موبائل: 0323-4362624

Share this:
Tags:
time UNESCO اہم ضرورت بچوں وقت یونیسکو
Aitzaz Ahsan
Previous Post اپوزیشن کا مشرق وسطیٰ فوج بھجوانے کی بھرپور مخالفت کا فیصلہ
Next Post حکومت توانائی بحران کے خاتمے کیلئے کول سے کم از کم کل پیداوار کا 50 فیصد شروع کرے۔رانا اقبال
Rana Iqbal

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close