Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ملازم

November 13, 2018November 13, 2018 0 1 min read
Mulazam
Mulazam
Mulazam

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بیدیاں روڈ لاہور کے وسیع و عریض سو کنال سے زائد رقبے پر پھیلے ہو ئے لگژری فارم ہا ئوس پر شہر کے دولت مند شخص کے پو تے کے عقیقے کا فنکشن اپنے عروج پر تھا میں ہال میں اِدھر اُدھر گھوم رہا تھا وہ اپنی دولت کی نمائش کا کو ئی بھی مو قع ہا تھ سے نہیں جانے دے رہا تھا ‘ مہمانوں سے وہ مل کم رہا تھا اپنی امارت کے اشتہار زیادہ چلا رہا تھا وہ بار بار ایک فقرہ دہرائے جا رہا تھا ‘ جناب آج کے فنکشن میں تو فیملیز بھی آئی ہو ئی ہیں آپ کو کسی اور فنکشن میں جب بلائیں گے تو آپ لندن اورپیرس کے فنکشن بھی بھو ل جائیں گے ‘ جناب آپکا یہا ں پر ہی یو رپ بنا دیںگے آپ کے لیے جنت زمین پر اتار لیں گے ‘ شباب ‘کباب ‘ مستی ‘ ناچ ‘ گانا ‘ بلا روک ٹو ک وافر مقدار میں مہیا کیا جائے گا وہ لوگوں کو آنے والی خو بصورت عیاشی سے بھر پور تقریبات کی دعوت دے رہا تھا سینکڑوں با وردی لڑکے لڑکیاں غلاموں کی فوج کی شکل میں ہزاروں مہمانوں کی خدمت مستعدی سے کر رہے تھے۔

میں نسل ِ انسانی کی سوچ کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ ہر دور میں دنیا کے ہر خطے میں جب بھی کسی کے پاس بے پناہ دولت آئی تو اُس شخص نے یہی سمجھا کہ یہ نعمت پہلی بار صرف مجھے ہی ملی ہے اور پھر اِس دولت کو اشتہار اور ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے لوگوں کو مرعوب کر نے کی پو ری کو شش کی اور پھر جب ایسے امیروں پر بڑھاپے کا سایہ پڑتا ہے رگوں میں دوڑتا اچھلتا خون ٹھنڈا ہو نے لگتا ہے تو یہ دولت کے بل بو تے پر دنیا جہاں کے ڈاکٹروں ہسپتالوں لیبارٹریوں پر کروڑوں روپے جوانی کو برقرار رکھنے پر لگا لیتے ہیں لیکن وقت دیمک کی طرح انہیں کھا کر جسم مفلوج کر کے جب بیڈ پر پتھر کے مجسمے کی طرح لیٹا دیتا ہے تو پھر ایک نر س خالی کمرہ اور ڈائیلسسز مشین ہی اِن کی ساتھی ہو تی ہے اور پھر اِن کی عیاش اولاد دولت کو اپنی شاہ خرچیوں پر اڑانا شروع کر دیتی ہے اور یہ خالی کمرے میں قید تنہائی کاٹ کر قبر کی بے رحم تاریکی میں اُتر جا تے ہیں ‘ جہاں زہریلے کیڑے اِن کے نرم و نازک جسم کے ریشوں کو اُدھیڑ ڈالتے ہیں پیٹ پھٹ جاتے ہیں لیکن ابھی تو صاحب بہادر دولت طاقت جوانی کے زور پر فرعون بنے نظر آرہے تھے پھر میزبان نے اپنا آخری پتہ پھینکا مائک پر اعلان کیا گیا کے ساتھ والے حصے میں شاندار کھانا آپ کا انتظار کر رہا ہے ‘ شامیانے کی درمیانی دیوار ہٹا دی گئی اب لوگ برق رفتاری سے ساتھ والے حصے میں داخل ہو نے لگے تو وہاں ایک نیا ہی حیرت کدہ بلکہ لذت کدہ لذیذ خوشبودار اشتہار انگیز کھانوں سویٹ ڈشوں کے ساتھ مہمانوں کا انتظار کر رہا تھا ‘ کھا نے کومزید مزیدارلذیز بنانے کے لیے کھانا وہیں پر تیار اور سرو ہو رہا تھا ،رہو باربی کیو ٹکا ٹک کی دلفریب آوازیں آرہی تھیں۔

گر ما گرم روٹیاں نان تیار کئے جا رہے تھے کھانے کو مزیدمزیدار اور مہمانوں کو متاثر کر نے کے لیے ہزاروں تیتر بٹیروںاور ہرنوں کا بھی اہتمام تھا ‘ ہرنوںکے پیٹوں میں خشک میوہ جات ڈال کر مغلیائی پلائو تیار کیا گیا تھا ‘ شیف سارے مہمانوں کو بار بار کہہ رہے تھے کہ یہ ہرن ہیں یہ تیتر بٹیر ہیں ‘ دنیا جہاں کے لذیز کھانے اب ہزاروں لوگوں کے پیٹوں میں جا رہے تھے ساتھ ہی الگ شامیانے میں نو کروں ڈرائیوروں کے لیے سنگل ڈش سروس جاری تھی اِدھر بہشتی لذیذ کھانے اِدھر صرف مرغی چاول اگر کو ئی میزبان سے پو چھے کہ اگر تم اتنے ہی امیر ہوتو اِن کو بھی یہیں کھانا کھانے کی اجازت دو لیکن اُسے تو امیروں کو ہی متاثر کر ناتھا ۔ اِن غلاموں سے اُسے کیا کام تھا نوکروں ڈرائیوروں کی اتنی اوقات کہاں کہ وہ اِن میں شامل ہو سکیں وہ بیچارے حسرت بھری نظروں سے مہمانوں کی جنت دیکھ رہے تھے جہاں پر شہر کے مہذب امیر اعلی طبقے کے لوگ جانوروں کی طرح تیتر بٹیروں ہرنوں کو اُدھیڑ رہے تھے کھانے پر جانوروں کی طرح ٹوٹ پڑے تھے ۔ کھانے کے دوران ہی سویٹ ڈشز بھی سرو کی جا نے لگیں یہاں پر بھی میزبان نے اخیر ہی کر دی دنیا جہاں کی مشرقی مغربی ہندوستانی سویٹ ڈشز کی لمبی قطاریں لگا دی تھیں لوگ جی بھر کر اِن لذیذ میٹھی ڈشوں سے لطف اٹھا رہے تھے۔

میزبان اور اُس کی فوج لوگوں کو اور بھی کھانے کی ترغیب دے رہی تھی ۔ یہ خاص کھانا ہے یہ خاص سویٹ ڈش ہے یہ میں نے فلاں جگہ فلاں شہر سے سفارش کر وا کر منگوائے ہیں یہ مہاراجوں بادشاہوں کے مخصوص کھانے ہیں میزبان کو اپنی امارت اور سمجھ بوجھ کا دورہ پڑا ہوا تھااور وہ اپنے دورے کو مہمانوں پر خوب خوب نکال رہاتھا’ میٹھے کھانے کے بعد اب چائے کافی اور قہوہ جات کا دور شروع ہو ‘ ا امریکن یورپی کافی کے قصیدے گائے جانے لگے میں نے قہوہ پکڑا اُس میں شہد ڈالا جو چینی کی جگہ سرو کیا گیا تھالیموں نچوڑا اور آکر خالی ٹیبل پر بیٹھ گیا اِسی دوران میزبان میری طرف آتا دکھا ئی دیا ‘ پروفیسر صاحب آپ نے واپس نہیں جانا آپ کو میرا ڈرائیور چھوڑ کر آئے گا اور آپ نے بچے کو تو دیکھا نہیں ‘ میری بہو کتنی دیر سے آپ کا پو چھ رہی ہے کہ آپ بچے کو دیکھ بھی لیں اور دعا بھی دے دیں آپ پلیز میرے ساتھ چل کر بچے کو دعا دیں اب میںسٹیج کی طرف جانے لگا مجھے دیکھ کر بچے کی ماں باپ اور دادی بہت خوش ہوئے ‘ بچہ لایا گیا میں نے دعا دی ‘ دم بھی کر دیا اب میں واپسی کے پر تول رہا تھا شدید بو ریت کے بعد اب میں گھر واپس جانا چاہتا تھا تاکہ دن بھر کی ادھوری تسبیحات پو ری کر سکوں ‘ میں نے اپنی اِس خواہش کا اظہار کیا تو میزبان بولا جناب آپ کے لیے فروٹ کی پیٹیاں اور تحائف گاڑی میں رکھ دئیے ہیں میرا ملازم آپ کو جاکر گھر چھوڑ کر آئے گا کسی دن آپ کے لیے یہاں پر قوالی نائیٹ کا بندوبست کر تے ہیں۔

آپ خوب انجوائے کریں گے اب وہ مجھے بھی دانہ ڈال رہا تھا ۔میرے ساتھ ایک ملازم جو شاید ڈرائیور تھا لگا دیا گیا میںاُس کے ساتھ کار پارکنگ کی طرف بڑھنے لگا ‘ گاڑی جا کر دیکھی تو پھل فروٹ کے ٹوکروں پیٹیوں کپڑوں اور بے شما ر چیزوں سے بھری ہو ئی تھی ‘ یہاں پر بھی میزبان اپنی امارت شاہانہ دولت کے اظہار سے باز نہیں آیاتھا وہ ایک طرح سے مجھے خرید رہا تھا کہ تم پیسے تو لیتے نہیں لیکن اِن تحائف کے وزن تلے میں تمہیں دبا دوں گا ‘ مجھے لگا گاڑی بچھو سانپوں سے بھری ہوئی ہے جب بھی کو ئی چھچھورا میرے ساتھ ایسی حرکت کرتا ہے تو میں بھی بپھر جاتا ہوں دوبارہ ملنے سے انکار کر دیتا ہوں گاڑی سٹارٹ ہو ئی ہم گھر کی طرف روانہ ہوئے میں نے ہمیشہ کی طرح ڈرائیور سے گفتگو شروع کی بیٹا تمہاری تنخواہ کتنی ہے تو وہ بولا جناب اٹھارہ ہزار روپے جس میں سے دس ہزار مکان کا کرایہ دے دیتا ہوں باقی آٹھ ہزار میں گھر چلتا ہے میری بیوی لوگوں کے گھروں میں کام کر کے کچھ پیسے اور کما لیتی ہے جس سے بڑی مشکل سے گھر چلتا ہے تو تمہارا مالک تمہار ی مزید مدد نہیں کرتا تو وہ روتا ہوا بولا جناب ہمیں تو فالتو ایک روپیہ نہیں دیتا بلکہ جب سے پوتا ہوا ہے بیگم صاحبہ بہت سارے بڑے نوٹ گاڑی میں رکھ کر گھر سے نکلتی ہے’ سارے راستے گدا گروں کو نوٹ بانٹ کر گھر آجا تی ہے ‘ یتیم خانوں میں لاکھوں روپے ہسپتالوں میں لاکھوں روپے بانٹتے ہیں ہم گھر کے ملازموںکو صرف تنخواہ اگر کبھی ہم مزید ادھار مانگیں تو ہمیں ندیدہ کہا جا تا ہے ہماری خوب بے عزتی کی جا تی ہے۔

بری علت میں نے بہت سارے دولت مندوں میں دیکھی ہے سارے شہر میںسخاوت کے چرچے لوگوں میں سخاوت کی لمبی داستانیں جبکہ گھریلو ملاز م بھو کے مر تے ہیں انہیں دینے میں مو ت آتی ہے جبکہ خدا کا واضح فرمان ہے کہ سخاوت مدد قریب ترین عزیز ترین لوگوں میں زیادہ لگتی ہے ڈرائیور درد ناک سٹوریاں سنا رہا تھا کہ ہمیں کھانا بھی باسی دیا جاتا ہے ‘ ساری سخاوت باہر کی جا تی ہے جبکہ ہم غریب دیکھتے رہتے ہیں میرا اکثر دل کرتا ہے کہ جب روڈ پر بیگم صاحبہ نو ٹوں کی برسات کر تی ہیں تو میں بھی سڑک کنارے بھکاری بن کر کھڑا ہو جائوں لیکن اگر میں کھڑا ہو گیا تو مجھے گالیاں پڑیں گی اِن کو کون بتائے ہم غریب دیکھ دیکھ کر تر ستے ہیں یہ ہما ری مدد کی بجائے دوسروں پر لٹا تے ہیں کاش یہ ہمیں بھکاری سمجھ کر ہی دے دیا کریں ‘ میں حیران تھا کہ جو میزبان سارے شہر کو بلا کر اپنی امارت دکھا رہا تھا اُسے یہ خبر نہیں تھی کہ یہ ملازم بھی اشتہار کی طرح اُس کی کنجوسی کی داستان لوگوں میںسنائیں گے اور خدا بھی ناراض ہو گا میں نے اچانک ڈرائیور سے کہا پہلے تم اپنے گھر چلو مجھے وہاں تم سے کو ئی کام ہے وہ حیران ہوا لیکن اپنے گھر کی طر ف چل پڑا ‘ کچی آبادی میںدو مرلے کے کرائے کے گھر کے سامنے گاڑی رکی تو میں نے کہا گاڑی میں سارا سامان اترا کر اپنے گھر رکھ کر آئو ‘ یہ میری طرف سے تمہیں تحفہ ہے’ پہلے تو اُس نے انکار کیا لیکن میرے اصرار پر سامان گھر اتار دیا اب میں خالی کار میں اپنے گھر کی طر ف جا رہا تھا ‘ میرے اندر خوشی اطمینان سرشاری کے فوارے پھوٹ رہے تھے کہ جب غریب بچے فروٹ کھا ئیں گے تو خالقِ کائنات کتنا خوش ہو گا۔

Prof Muhammad Abdullah Khan Bhatti
Prof Muhammad Abdullah Khan Bhatti

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Share this:
Tags:
employee Function guests Thinking wealth دولت سوچ فنکشن ملازم مہمانوں
Husan e Ikhlaq
Previous Post حسن اخلاق
Next Post لیونل میسی نے اسپینش لیگ کے بہترین فٹبالر کا اعزاز جیت لیا
Lionel Messi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close