Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

حوصلہ افزائی کی ترغیب!

October 22, 2020October 22, 2020 0 1 min read
Motivated
Motivated
Motivated

تحریر : شیخ خالد زاہد

کسی نے خوب کہا ہے کہ جب تک بیوقوف زندہ ہیں عقلمند بھوکا نہیں مر سکتا۔ معاملہ کی سنجیدگی، پیچیدگیاں پیدا کر دیتی ہے اور پیچیدگیوں کو سلجھانا کسی فن سے کم نہیں۔ پیشہ ور لوگ اس بات کوبہت اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں۔ ہمارے گھروں میں بھی بڑھتی ہوئی ترقی کی طرح پیچیدگیوں میں بھی دن با دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آسان اور واضح لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بھوک اور افلاس سے پیدا ہونے والی مایوسیوں کا دور دورہ ہے اورتقریباً اکثریت اس بیماری میں مبتلاء ہوتی دیکھائی دے رہی ہے۔ تبدیلی کسی کی محتاج نہیں ہے یہ ہر گزرتے لمحے کیساتھ خود بخودرونما ہوتی چلی جاتی ہے، جیسے پانی کی روانی اپنے راستے خود تلاش کرلیتی ہے یا بنا لیتی ہے بلکل زندگی کی تبدیلیاں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں (لیکن کچھ لوگ قدرت کی جانب سے کی جانے والی تبدیلی کو بھی اپنے گلے میں لٹکائے پھرتے دیکھائی دیتے ہیں جس کی وجہ وہی ہے کہ جب تک بیوقوف زندہ ہے عقلمند بھوکا نہیں مرسکتا)۔طبعی تبدیلی انسان کے کس بل کھولوا دیتی ہے ایک انتہائی صبر آزما مسلسل کرتے رہنے سے کہیں جاکے تبدیلی کے آثار دیکھائی دیتے ہیں جسے ہر آنکھ دیکھنے سے بھی قاصر ہے۔ تبدیلی کے نعرے لگانے والے جیسے تھک کر کہیں خاموش بیٹھے ہیں، جیسے انکی مطلوبہ تبدیلی کیلئے کی جانے والی جدوجہد رائیگاں ہوتی جارہی ہے۔ یوں تو بہت سے نام ایسے موضوعات کی وجہ سے بڑے ہوئے کہ جن پر عام لکھنے یا بولنے والوں کی انگلیاں اور زبان جلا کرتیں ہیں۔ گزشتہ دنوں ڈاکٹر انیل سلمان صاحب کا انگریزی زبان میں ایک مضمون شائع ہوا جس کااردو میں عنوان تھا، ٭ حوصلہ افزائی کی ترغیب دینے والے، نئے دور کہ بنارسی ٹھگ ٭ یقینا یہ ایک چبھتا ہوا موضوع کہا جاسکتا ہے اور چبھن کو محسوس کرنے کیلئے ڈاکٹر صاحب کے مضمون کاانگریزی مطالعہ اس جوڑ یا کڑی (https://www.globalvillagespace.com/motivational-speakers-the-new-form-of-banarasi-thugs/) پر کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر انیل سلمان صاحب ایک قدآور شخصیت ہیں، اپنے پیشے کے ماہر ہیں اورمعاشرے میں رونماء ہونے والے امور پر گہری نظر رکھتے ہوئے اپنے مشاہدات و تجربات کو انگریزی زبان میں عام کرتے ہیں۔ یہاں ڈاکٹر صاحب سے ایک انتہائی مودبانہ گزارش کرتے چلیں کہ برائے مہربانی اردو رسائل و اخبارات کیلئے اپنے مضامین کا ترجمہ بھی فراہم کیا کریں، ایک تو اس سے اردو کے نفاذ میں مدد ملے گی دوسرے یہ کہ معلومات عام آدمی تک حقیقی معنوں میں پہنچ جائے گی، قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک مخصوص طبقہ جانکاری عام آدمی تک پہنچانا ہی نہیں چاہتا (یقینا ڈاکٹر انیل سلمان صاحب کا شمار ان میں نہیں ہوتا ہوگا)، سب کام کی اور اہم باتیں انگریزی میں ہوتی ہیں جو عام آدمی کی سمجھ سے تا حال باہر ہے بلکہ اور باہر ہوتی جا رہی ہے۔یہاں میر تقی میر صاحب کا بھی تذکرہ کرتے چلتے ہیں کہ جن کے بارے میں مشہور ہے وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے اشعار عام لوگوں کی سمجھ میں آئیں۔

عنوان سے واضح ہے کہ ڈاکٹرانیل سلمان صاحب نے ایک پیشے پر تنقیدی قلم درازی کی ہے اور جوکہ ایک ایسے پیشے کی صورت اختیار کر چکا ہے جیسے کہ کوئی ڈھب(فیشن) ہو۔ جیسا کہ درجہ بالا سطور میں رقم کیا گیا ہے کہ جب تک بیوقوف زندہ ہیں عقلمند بھوکا نہیں مرسکتا، حالات کے پیش نظر ایک طبقہ ایسا ہے جو کہ بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہے اور اپنے آپ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ اس ذہنی دباؤ کا سب سے بڑانقصان یہ ہوتا ہے کہ لوگ جہاں مختلف عارضوں میں مبتلاء ہوجاتے ہیں وہیں معاشرے کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو بہت بہترین دنیاوی طرز زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ ماضی میں نفسیاتی ڈاکٹر بطور معالج باقاعدہ ایسے مریضوں کا علاج کیا کرتے تھے یا پھر اس بیماری سے نجات کیلئے عامل بابا کے پاس مجمع لگا رہتا تھا۔ مایوسی کے بہت سارے نام بطور مرض سائنس نے اخذ کر رکھے ہیں۔ ہم سائنسی تحقیق پر بات نہیں کرینگے کیونکہ یہ ایک باقاعدہ موضوع ہے۔ یہاں اس بات پر بھی روشنی ڈالتے چلیں کہ مایوسی جہاں ذہنی امراض کو جنم دیتی ہے وہیں جسمانی امراض بھی بیدار ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ جب انسان کو کو ئی راستہ نہیں دیکھائی دے اور وہ اپنی ہی ذات میں قید ہو کر رہ جائے، اسکی سمجھ اسے یہ کہے کہ اب تم سے کچھ نہیں ہوسکتا اسلئے تمھیں خودکشی کرلینی چاہئے پس یہ ثابت ہوا کہ خودکشی کی سب سے بڑی وجہ مایوسی ہی ہے۔جب آپ کو اپنے خالق پر بھروسہ نہیں رہا تو ویسے ہی کفر ہوگیا اسی لئے تو اسلام نے مایوسی کو کفر قرار دیا ہے اور یہ بات واضح کی ہے کہ اپنے خالق پرکامل ایمان تمہیں کبھی رسواء نہیں ہونے دیگا مایوسی تو بہت دور کی بات ہے۔

انسان بشری تقاضے پورے کرنے میں اندھا دھن مگن ہے اور اس مگن میں اپنی حقیقت کو فراموش کرچکا ہے، جہاں کہیں ٹھوکر کھاتا ہے گرتا ہے، سب جو موجود ہوتا ہے ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے پھر صرف اور صرف مایوسی گھیر لیتی بلکہ جکڑ لیتی ہے اور گھسیٹ کر خودکشی کے اندھے کنویں میں دھکیل دیتی ہے۔ لوگوں کی اکثریت اپنی مخصوص ذہنی کیفیت میں رہنا پسند کرتے ہیں اور اگر یہ لوگ معاشی طور پر مستحکم ہوں تو یہ اس کیفیت میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں رکھتے۔ ہاں البتہ جو لوگ مستحکم معیشت کیلئے مسلسل تگ و دو میں لگے رہتے ہیں وہ حالات و واقعات کے حساب سے اپنی ذہنی کیفیت میں تبدیلی لانے کیلئے تیار رہتے ہیں اور یہ محاورہ ایسے ہی لوگوں کیلئے کہا گیا ہے کہ جیسا دیس ویسا بھیس۔یوں تو ہم خود بھی اس موضوع پر قلم بطور تلوار اٹھانا چاہتے رہے لیکن ناگزیر وجوہات کی بنا پر ممکن نہیں ہوسکا، شکریہ انیل سلمان صاحب کا کہ انکی وجہ سے حوصلہ ملا اور یہی وہ حوصلہ ہے جو جسے بیچنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ زندگی کسی نا کسی مقصد کے حصول کیلئے ملی ہے، جسکے لئے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ مقصد کیا ہے؟ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ انسانوں کی اکثریت بغیر کسی مقصد کے اپنی اپنی زندگیاں رائیگاں کرکے جا چکے ہیں۔ یہ مقصد انسان کو اپنے آپ کو انسان منوانے کا ہے، کچھ بھی منوانے سے قبل یہ ضروری ہوتا ہے کہ پہلے ماننے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کی جائے۔ انسانوں کی اس بھیڑ میں کچھ لوگوں نے انسانوں کو متحرک کرنے کی باقاعدہ کوشش شروع کی، پہلے پہل والوں نے اپنے تجربات کو کتابوں کی شکل میں چھوڑا، دوسرے عملی کارناموں سے انہوں نے تحریک پیدا کرنے کی کوشش کی اور تیسری اور آخری شکل ہمارے درمیان موجود ہے جو ناصرف پچھلے دونوں زندہ کئے ہوئے بلکہ میڈیا کے ہر پلیٹ فارم کو بھرپور استعمال کر رہے ہیں، دیکھا جائے تو سماجی ابلاغ پر ایسے ترغیب دینے والے اور تحریک پیدا کرنے والوں کی بہتات ہے اور شائد سماجی ابلاغ سے متعلق جتنی بھی ویب سائٹ انٹر نیٹ پر موجود ہیں سب انکے ہی دم سے چل رہی ہیں۔

یوں تو انسانوں کو صحیح معنوں میں تحریک انکے روحانی پیشواؤں سے ملتی رہی ہے یعنی مذہبی کا عنصر تحریک اور ترغیب دینے میں سب سے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ قارئین ترغیب، تحریک کو حوصلہ افزائی بھی سمجھ سکتے ہیں۔ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے ہوں بڑے ہی روائتی انداز میں یعنی پہناوا وغیرہ کے ساتھ زندگی کو بہترین طریقے سے گزارنے کیلئے بھرپور حوصلہ افزائی کرتے دیکھائی دیتے ہیں لیکن افسوس یہ طریقہ اپنا تاثر بہت کم لوگوں پر قائم رہتا ہے اور قائل کرپاتا ہے۔ حوصلہ افزائی سے وابسطگی کا تقاضہ ہے کہ آپکو مختلف زبانوں پر عبور حاصل ہو یا کم از کم سمجھ ضرور آتی ہو، آپکے پاس پیشہ ورانہ اسناد بھی ہوں اور آپ بیرون ملک سفر کرتے رہے ہوں۔ آج ہمارے سامنے جو لوگ حوصلہ افزائی کرنے کیلئے موجود ہیں انمیں یہ ساری خصوصیات بلعموم موجود ہیں اور ایک اہم بات کہ مقرر مشرق اور مغرب کے اشتراک پر پورا یقین رکھتا ہو۔ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا جہان میں حوصلہ افزائی پر بات کرنے والے پیشہ ور افراد خوب مہارت سے رقم بنا رہے ہیں جس کی بنیاد پر انیل سلمان صاحب نے انہیں بنارسی ٹھگ کہہ کر پکارا ہے۔ یہاں یہ بات بھی زیر غور ہے کہ کیا کسی فرد کو کوئی بھی ترغیب دے سکتا ہے؟ جہاں تک تعلق ہے پیشہ ور افراد کا جو کسی ادارے سے وابستہ ہوتے ہیں تو ان پر یہ لازم ہوتا ہے کہ وہ حوصلہ افزائی کرنے والوں کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرتے ہوئے اپنی کام کرنے کی جگہ کواور اپنے آپ کو زیادہ کار آمد بنائیں۔ یہاں جو اختلاف پایا گیا وہ کچھ اسطرح ہے کہ ایک حوصلہ افزائی پر گفتگو کرنے والا شخص ایک تو ہر جگہ ایک ہی قسم کی گفتگو کرتا سنائی و دیکھائی دیتا ہے اور یقینا اپنے مخصوص انداز میں، اختلا ف یہاں مکمل نہیں ہوتا بلکہ جتنے بھی اس موضوع سے وابسطہ اشخاص ہوتے ہیں تقریباً ایک ہی طرز پر گامزن ہوتے ہیں۔ جو کام ادارے میں موجود رہنماء طبعیت کے لوگ زیادہ واضح اور آسان طریقے سے کرسکتے ہیں ان کی جگہ خطیر رقم خرچ کرکے (جسکی بدولت انہیں بنارسی ٹھگ کہا گیا ہے) انہیں بلایا جاتا ہے۔ انکی باتوں کا عملی کام سے کہیں دور دور کا واسطہ نہیں ہوتا اور افسوس اس بات کا ہے کہ سننے والے سن ہوکر محظوظ ہونے کا جھوٹا ڈھونگ رچاتے رہتے ہیں۔

گوکہ حوصلہ افزائی کوئی آسان کام نہیں ہے، سامنے والے کے رد عمل کا کوئی پتہ نہیں ہوتا وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میرے جوتے میں پیر ڈال کر حوصلہ افزائی کر کے دیکھاؤ۔ آج ہمارے درمیان کتنے ایسے کامیاب لوگ موجود ہیں کہ جن کی کامیابی کے پیچھے اس طرح حوصلہ افزائی کی ترغیب دینے والے لوگ موجود تھے، لیکن ان لوگوں کے ادوار اسطرح کی مایوسیوں میں لتھڑے ہوئے نہیں ہونگے۔دھوکا دہی، جھوٹ اور بے ایمانی کی ایسی فراوانی نہیں ہوگی جتنی کے آج ہے کیونکہ دورِ جدید میں یہ تمام عوامل کسی بھی شخصیت کی اضافی خصوصیات و قابلیت سمجھی جاتیں ہیں۔ آج ہر کامیاب فرداپنی کامیابی کا ڈنکا بجانا چاہتا ہے جس کی وجہ سے وہ خود ہی حوصلہ افزائی کی ترغیب دینے کھڑا ہوجاتا ہے۔ سماجی ابلاغ کا بھی اس میں بہت بڑا حصہ ہے کیونکہ ہر فرد ہی دوسروں کو اچھا کرنے کی ترغیب دیتا دیکھائی دیتا ہے اسکے برعکس اسکے برتاؤ میں اس اچھائی کا کچھ لینا دینا نہیں دیکھائی دیتا، جسکی مثالیں عام مل جاتی ہیں۔اس بات پر اپنی بحث کو سمیٹتے ہیں کہ ایسے لوگ صحیح معنوں میں حوصلہ افزائی کی ترغیب دینے والے ہیں جو دنیا کے ساتھ ساتھ مذہبی سوجھ بوجھ بھی رکھتے ہوں وہ آپ کو صرف اور صرف دنیا کی رنگینی میں رنگنے کی ترغیب نہیں دیتے ہوں بلکہ مذہب سے بھی جڑے رہنے پر آمادہ کرتے ہوں، جنکی بدولت جہاں اسلام کے صحیح تشخص کی ترجمانی ہوسکے اور سفر آخرت کا بھی کچھ سامان ہوسکے۔ جھوٹ، فریب اور دھوکا دہی کے بغیر حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی، کیا عام انسان کو ویسا دکھنے کیلئے جیسا وہ دکھنا چاہتا ہے کسی سے سند لینی ہوگی۔ حوصلہ افزائی کی ہر سطح پر ضرورت ہوتی ہے اور ہر فرد واحد کو ضرورت ہوتی ہے لیکن ایسی حوصلہ افزائی جو بطور فیشن (ایک ڈھب) معاشرے میں پروان چڑھ چکی ہے عام آدمی کی حوصلہ شکنی کا سبب تو نہیں بن رہی۔ انسانیت کی بقاء ایک دوسرے سے جڑے میں ہے اور جڑے رہنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کو تھپکی دیں یا ایک محبت والی جھپی دیں تاکہ معاشرے کا بگڑتا ہوا توازن برقرار رہ سکے اور لوگ خود کشی کرنے سے پہلے سوچ لیں کہ ایسی زندگی اور ایسے لوگ دوبارہ نہیں مل سکتے۔

Sh. Khalid Zahid
Sh. Khalid Zahid

تحریر : شیخ خالد زاہد

Share this:
Tags:
Encouragement frustration information motivation Society ترغیب حوصلہ افزائی مایوسی معاشرے معلومات
Quaid e Millat SSB Cup Basketball Tournament
Previous Post حیدرآباد ڈویژن نے قائد ملت شہید لیاقت علی خان SSB کپ باسکٹ بال ٹورنامنٹ جیت لیا
Next Post کیا لکھوں
Write

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close