Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

توانائی بحران، نجات دہندہ منصوبہ

October 17, 2016 0 1 min read
Energy Crisis
Energy
Energy

تحریر : عمران خان
توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دنیا بھر کے ممالک اپنے ہر قسم کے وسائل کو بروئے کار لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک ایک طرف جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لا رہے ہیں تو دوسری طرف کمزور اور پسماندہ ممالک پر جبری قبضہ کر کے ان کے قدرتی وسائل کی لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ جیسا کہ عراق پر امریکی قبضہ کے بعد اس کے تیل کے کنوئوں سے وسیع پیمانے پر اسرائیل اور برطانیہ کو نوازا جا رہا ہے۔ عراقی تیل کے کنوئوں کے تمام ٹھیکہ جات برطانوی کمپنیوں کو دیئے گئے ہیں۔جبکہ ترقی پذیر ممالک یا تو اپنے معدنی ذخائر پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں یا دیگر ممالک سے معاہدات کے ذریعے تیل، گیس حاصل کر رہے ہیں۔

پاکستان بھی ان ترقی پذیر ممالک کی صف میں کھڑا ہے جو اپنی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریا ت کو پورا کرنے کے لیے دوسرے ممالک پہ انحصار کرنے پر مجبور ہے۔حالانکہ پاکستان کو اللہ رب العزت نے ہر طرح کے بیش بہا وسائل سے نوازا ہے لیکن حکومتوں نے کبھی بھی ان وسائل سے مستفید ہونے کے لیے منصوبہ بندی نہیں کی بلکہ ہمیشہ ہی یہ وسائل بیرونی کمپنیوں کے تصرف میں دیکر فی الوقتی فوائد حاصل کرنے کا آسان راستہ اختیا ر کیا ۔ایسی غیر دانشمندانہ پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں موجود تیل ، سونا، تانبا اور کوئلہ کے قیمتی ذخائر سے تاحال فائدہ نہیں اٹھایا جاسکااور نہ ہی توانائی کے بحران کا مسئلہ حل ہوا۔ بیرونی کمپنیوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار اور غیرملکی ڈکٹیشن کی وجہ سے وطن عزیز کے مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھتے چلے گئے اور آج حالت یہ ہے کہ پاکستان کے جن علاقوں میں بجلی نہیں پہنچی وھاں موبائل کے نیٹ ورک کام کرتے ہیں ،پینے کا صاف پانی تو میسر نہیں لیکن کوک اور پیپسی وھاں بھی ملتی ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی بہتات ہے لیکن گیس و پٹرول کی شدید قلت ہے۔ ہرگھر میں الیکڑانکس مصنوعات کثیر تعداد میں موجود ہیں لیکن ان کے استعمال کے لیے بجلی میسر نہیں ۔ توانائی کے شدیدبحران کو مدنظر رکھتے ہوئے تجزیہ نگار اور بیوروکریسی 2012سے خطرناک نتائج کی پیشگوئیاں کر رہے ہیں۔دوسری طرف جب بھی کسی عوام دوست حکومت نے توانائی کے مسائل پر قابو پانے کے لیے منصوبہ بندی کی تو ان پر عملدرآمد روکنے کے لیے بڑی طاقتوں نے اپنی ایڑی چوٹی کا زور صرف کر دیا۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ اکثر منصوبہ جات کی ابتدائی تجاویزپاکستانی تھنک ٹینکس کے بجائے طالب علموںیا متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے پیش کی گئیں۔ پن بجلی پیدا کرنے کامنصوبہ ، کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کی تجویز انجنیئرنگ کے طالب علموں نے پیش کیں ۔گیس پائپ لائن کی تجویز بھی ایک نوجوان سول انجنیئر ملک آفتاب خان نے پیش کی ۔ملک آفتاب خان کی تجویزکی روشنی میں پاکستان اور ایران کی حکومتوں کے درمیان “پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ”تیا ر پایا۔اپنی اہمیت و افادیت کے اعتبار سے یہ منصوبہ اتنا اہم ہے کہ اسے امن پائپ لائن پراجیکٹ کا نام دیا گیا ۔ عوامی فلاح اور توانائی کی کمی پوری کرنے میں سنگ میل کی حیثیت رکھنے والا یہ منصوبہ نصف سے زائد مکمل ہوچکا ہے۔ پاکستان کو اس وقت چار ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے یہ منصوبہ اس کمی کو بطریق احسن پوری کرسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی دور حکومت میں پاکستان کے دبائو پر ایران نے اپنے حصے کی تعمیر ریکارڈ مدت میں مکمل کی، موجودہ حکومت بھی عوامی اور جمہوری حکومت ہے، جو کہ عوامی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے ریکارڈ مدت میں اپنے حصے کی لائن تعمیر کرسکتی ہے۔ اس پائپ لائن کی تعمیر سے حکمران جماعت ان الزامات کو بھی رد کرسکتی ہے کہ حکمران جماعت پر مسلکی رنگ غالب ہے ، یا کسی عرب ملک کے زیر دبائو ہے، یا امریکی ڈکٹیشن پر کاربند ہے، یا پاکستان سے زیادہ بھارتی تحفظات کو پیش نظر رکھتی ہے۔ پائپ لائن کی تعمیر و دیگر حوالوں سے بلوچستان اور سندھ کے پسماندہ عوام کے لیے اس منصوبہ میں روزگار کے وسیع مواقع بھی موجود ہیں۔

Pakistan Gas Pipeline
Pakistan Gas Pipeline

پاکستان میں موجود گیس پائپ لائن مین ہوگی اور اس کے بعد اگر کوئی بھی ملک (چین، افغانستان، انڈیا) اس پائپ لائن سے گیس حاصل کرتا ہے تو ٹرانزٹ قوانین کی مد میںپاکستان کووسیع پیمانے آمدن ہوگی ۔ چین کی شمولیت کے بعد پاکستان کو ٹرانزٹ کی مد میں اتنی رقم حاصل ہوگی کہ پاکستان کو حاصل ہونیوالی گیس تقریباً مفت ہوگی۔علاوہ ازیں ایران کی جانب سے بجلی فراہم کرنے کی آفر بھی موجود ہے، ایران پہلے سے ہی بلوچستان کے کئی علاقوں کو بجلی کی مفت سپلائی جاری رکھے ہوئے ہے، اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں ایران نے نئے پاور پلانٹس اسی مقصد سے ہی لگائے ہیں کہ ان سے حاصل ہونے والی بجلی پاکستان کو فراہم کی جائے، اس حوالے سے متعدد بار پیش کش بھی کرچکا ہے۔ حکومت پاکستان بلوچستان کے ان دورافتادہ علاقوں کی محرومیوں کو بھی پیش نظر رکھے۔ اگر موجودہ حکومت اس پیش کش سے فوری فائدہ اٹھا کر بلوچستان کے ان دور افتادہ علاقوں تک بجلی فراہم کرتی ہے تونہ صرف ان کا احساس محرومی کم کرنے میں مدد ملے گی، بلکہ اس احساس محرومی کے نتیجے میں جنم لینے والی شدت پسندی کا خاتمہ بھی ممکن ہوگا۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اپنی حیثیت ،اہمیت اور افادیت کے اعتبار سے اتنا جامع ہے کہ سٹریجک سٹڈیز کے اداروں نے اس منصوبہ کو ایشین ٹائیگر بننے کی جانب پہلا قدم قرار دیا ہے۔

ایران پائپ لائن کے ذریعے ترکی اور آرمینیا کوبڑی کامیابی سے گیس فراہم کر رہا ہے۔ وطن عزیز کے نام نہاد دوست جو چاہتے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ کاسہ لیسی کا شکار رہے ، وہ سب سے زیادہ کوشش کررہے ہیں کہ یہ منصوبہ کسی بھی طور پایہ تکمیل تک نہ پہنچے۔ڈالر و ریال کی محبت میں گرفتار بعض خودغرض اور ناعاقبت اندیش ،مخصوص ذہنیت کے مالک عناصر بھی حیلے بہانوں سے منصوبے کے خاتمے کیلئے سرگرم ہیں،جوکہ پاکستان اور پاک عوام کے خیر خواہ نہیں ہیں۔پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پر بات چیت کا آغاز نوے کی دھائی میں ہوا لیکن اس وقت امریکہ نے اس منصوبہ کے خلاف اتنا زور صرف نہیں کیا ۔ تقریباً 17سال گزرنے کے بعد جب پاکستان میں توانائی کا بحران شدید ہوگیا اورپاکستان کے لیے یہ منصوبہ ناگزیر ہوگیا تو ایسے وقت میں امریکہ و دیگر دور کے دوست نما دشمنوں نے اپنا ردعمل شدید کردیا ہے ۔بنیادی طور پر اس پالیسی کی بھی دو وجوہات ہیں اول یہ کہ نام نہاد خیرخواہ یہ چاہتے تھے کہ پاکستان کا اس منصوبے پر زیادہ سے زیادہ توانائی اور وقت صرف ہو اور جب اس منصوبے کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کے آثار واضح ہوں تو پاکستان کو اس منصوبے سے باز رکھا جائے۔ اسی دبائو کے زیراثر ہی جب پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ساٹھ فیصد مکمل ہوچکا ہے تو ”تاپی” ”کاسا” جیسے منصوبوں سے عوام کو تسلیوں کا لولی پوپ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کیا حکومت اور ماہرین پر یہ حقیقت عیاں نہیں ہے کہ افغان سرزمین خلفشار و انتشار کا شکار ہے اور امن و استحکام سے کوسوں دور ہے۔ امریکہ و بھارت، اسرائیل سمیت دیگر پاکستان دشمنوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے، جس ملک کی فضا میں پاکستان کا ہیلی کاپٹر محفوظ نہیں وہاں سے آنے والی پائپ لائن یا ہائی وولٹیج تاریں کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں۔ باالفاظ دیگر جیسے آج پاکستان کے دریائوں کا پانی بھارتی تصرف میں ہے، اسی طرح مستقبل میں توانائی ذخائر کا راستہ بھی ناقابل اعتبار قوتوں کے تصرف میں ہوگا۔آئے روز افغان حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف الزامات عائد کئے جاتے ہیں،حالانکہ افغانستان میں اشرف غنی کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان میں شادیانے بجائے گئے تھے کہ پاکستان دوست حکومت برسراقتدار آئی ہے، مگر اسی دوست حکومت کے دور میں نہ صرف طورخم بارڈر پر میجرعلی چنگیزی جیسے نڈر افسروں کو جام شہادت نوش کرنا پڑا ، بلکہ پاکستان میں سرگرم دہشتگردوں کو پہلے سے زیادہ محفوظ اسرائیلی و بھارتی شیلٹر میسر آئے۔

Energy Crisis
Energy Crisis

سوال یہ ہے کہ حالات کے اتار چڑھائو میں توانائی کا یہ روٹ طالبان،داعش،بھارت نواز دہشتگردوں، اسرائیلی پراکسی،امریکی عناصراور خود پاکستان مخالف افغان عناصر سے کس حد تک محفوظ ہوگا۔ لہذا ترکمانستان افغانستان پاکستان انڈیا گیس پائپ لائن منصوبے اور کرغزستان، پاکستان، قازقستان،افغانستان بجلی منصوبے سکیورٹی خدشات کا شکار رہیں گے۔ خدانخواستہ کسی ایمرجنسی ،خاص طور پر جب حالت جنگ میں ہوں تو دشمنوں کیلئے پاکستان کی توانائی کی سپلائی لائن کاٹنا آسان ترین ہوگا۔ چنانچہ ان امور کے پیش نظر موجودہ حکومت کو پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرکے عوام اور پاکستان دوستی کا ثبوت دینا چاہیئے۔ کوئی بھی جب حالت جنگ میں ہو تو تیل و دیگر توانائی ذرائع کی بلا تعطل فراہمی اس کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے، جوکہ صرف ایران کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔

پاک ایران گیس منصوبہ پر گزشتہ 17سال سے کام جاری ہے اور تمام تر معاملات طے پا چکے ہیں جبکہ ترکمانستان سے ہونیوالے معاہدہ کو ابھی عملی شکل میں لانے کے لیے بھی وسیع عرصہ درکار ہوگا ۔ ترکمانستان سے آنیوالی گیس پائپ لائن سے 42فیصد پاکستان ، 42فیصد انڈیا اور 16فیصد افغانستان کو حاصل ہوگی ۔ ترکمانستان گیس فیلڈ میں گیس کے ذخائر بھی کم ہیں جبکہ ایران کے سائو تھ پارس گیس فیلڈ میں گیس کے ذخائر بہت زیادہ ہیںجن میں آئندہ 100سال میں بھی گیس کی کمی کا کوئی اندیشہ نہیں۔ عوام اور صنعت کاروں میںبھی غم وغصہ کی شدید لہر پائی جارہی ہے کہ بنیادی اہمیت کے حامل اہم ترین منصوبے کو مکمل کئے بغیر ناقابل عمل منصوبوں کی تسلیاں کیوں جاری ہیں۔ایران کے ساتھ گیس و بجلی کے ان کامیاب معاہدات کے بعد پاک ایران ترکی ٹرین سروس پر بات چیت بھی جاری ہونے لگی ہے، جو کہ خطے میںعوامی روابط اور دوستی میںسنگ میل ثابت ہوگی۔حکومت کو چاہیے کہ اللہ اور پاکستانی عوام کی مرضی و منشاء پر اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچائے ۔اگر توانائی کے معاہدے عوامی ضروریا ت کے تحت کئے جا رہے ہیں تو ان معاہدات میں عوامی ترجیحات کو فوقیت دینی چاہیے۔

Imran Khan
Imran Khan

تحریر : عمران خان
E-mail:.imranviews@gmail.com

Share this:
Tags:
countries energy imran khan pakistan planning Resources پاکستان توانائی بحران ممالک منصوبہ وسائل
ISIS
Previous Post مسلکی خانہ جنگی کی سازش کا نیا روپ
Next Post پیرمحل کی خبریں 17/10/2016
Pir Mahal

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close