Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ماحولیاتی آلودگی و احساس محرومی

September 23, 2019September 23, 2019 0 1 min read
Environmental Pollution
Environmental Pollution
Environmental Pollution

تحریر : قادر خان یوسف زئی

کراچی اس وقت رہائش کے اعتبار سے دنیا کے بدترین شہروں میں پانچویں نمبر پرشمار کیا جاتا ہے۔اس سے قبل جرائم کی مناسبت سے کراچی دنیا کے خطرناک شہروں میں چھٹے نمبر پر تھا۔ اب ورلڈ کرائم انڈیکس میں 70ویں نمبر پر ہے۔ کراچی اس وقت احساس محرومی کے بدترین بحران سے گزر رہا ہے۔ مملکت کو 70فیصد ریونیو دینے والے اس شہر کی حالت کا ذمہ دار تقریباََ سب سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ اہل کراچی بھی ہیں۔کراچی میں بھتے کے لئے جس کا ڈنڈا اُس کا جھنڈا کے فارمولے کے تحت چار، پانچ گروپوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔ چندا، بھتہ اور تاوان کے لئے یہ گروہ علاقوں پر قبضے کے لئے جنگ کرتے۔ٹارگٹ کلنگ اور سیاسی چھتری کے استعمال نے اہل کراچی کو برباد کردیا تھا۔ رینجرز نے چار اہداف بنا کر آپریشن کئے اور کراچی سے بڑے جرائم پیشہ عناصر سے لے کر سیاسی کارکنوں تک کے گرد جال خوب کس کا رکھا، جس سے جرائم پیشہ عناصر کو سیاسی چھتری دینے والی سیاسی جماعتوں کی چیخیں نکل پڑیں۔ لیکن کراچی کو سنگین جرائم کی بدترین فہرست سے نکال کر ایک پر امن شہر بنا دیا گیا۔بے امنی کی تمام کوششیں ناکام ہوئی۔

کراچی کو قبضہ کرنے کی اس جنگ کو نیا رنگ ملا، جب ایم کیو ایم مائنس الطاف ہوئی۔ایم کیو ایم کے دو بڑے دھڑوں کے درمیان باہمی چپقلش اور گروہ بندی کی وجہ سے انہیں قومی، صوبائی اور سینیٹ کی نشستوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ایم کیو ایم کے دونوں بڑے دھڑے جو بہادر آباد اور پی آئی بی کے نام سے معروف ہوئے تھے۔ انہیں یکجا ہونے سے روکنے کے لئے خود ایم کیو ایم کے ذمے داران نے اہم کردار ادا کیا۔انتخابات سے قبل دونوں دھڑوں کے درمیان اتحاد کی کوشش کو ایک معروف قانون دان نے باریک قانونی نکتہ بتاکر ناکام بنادیا اور کراچی کے ووٹ تقسیم ہوگئے۔معروف قانون دان بڑے ملائم اور دلنشین طبعیت کا حامل ہیں، خود کو سینیٹر بنانے کے لئے قانون میں مہارت نے وفاق میں بڑے عہدے تک پہنچا دیا۔ گزشتہ دنوں موصوف قانون دان نے آئین سے ایک بار پھر باریک نکتہ نکال کر اپنی ذاتی رائے کی شکل میں میڈیا کے توسط سے گرم ہانڈی میں پھینک دیا۔ جس کے خطرناک اُبال سے وفاق کی علامت سمجھے جانے والی جماعت کے چیئرمین غصے سے آگ بگولہ ہوئے اور بات بڑھتے بڑھتے سندھو دیش، پختونستان تک پہنچ گئی۔

یہ ایک بہت بڑے آئینی حملے کی تیاری لگتی تھی جو بظاہر آئین میں درج ہے لیکن اس سے باہمی نفاق کی جو بنیاد رکھ دی گئی اور کراچی کو سیاسی طور پر ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔وقتی طور پر بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا والا راگ اور سب ٹھیک کی بانسر ی بجا کر طوفان کو روکنے کی کوشش کی گئی لیکن نادان دوست نہ جانے کس ایجنڈے کے تحت پاکستان کی بقا و سلامتی کو داؤ پر لگارہے ہیں اگر تمام سیاسی بیانات کو یکجا کر کے ملاحظہ کیا جائے تو اس کی جو خوفناک شکل سامنے آتی ہے وہ مستقبل کے لئے پریشان کن ہے۔معروف قانون دان، کراچی کمیٹی میں کراچی کا مسئلہ حل کرانے کی اس قسم کی تجویز دے کر جس ایجنڈے پر کام کرنا چاہتے ہیں اس کی تمام ڈوریں لندن میں ملتی نظر آتی ہیں اور صاف نظر آتا ہے کہ سندھ کی تقسیم کے منصوبوں کی تاریں کہاں سے ہلائی جارہی ہیں۔

کراچی میں کچرا جمع کئے جانے سے لے کر کراچی کو کرچی کرچی کرنے کی ذمے دار کوئی ایک جماعت نہیں ہے بلکہ کراچی کی کم و بیش تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مینڈیٹ کے مطابق ذمے دار ہیں۔ ابراہیم حیدری کی ساحلی پٹی پر کراچی سے اٹھایا جانے والا کچرا پھینکا جاتا تھا۔ جس کی وجہ سے جہاں ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوا تو دوسرے جانب اہلیان علاقہ بھی مختلف بیماریوں کا شکار ہونے لگے۔ ایک بااثر سیاسی شخصیت کراچی میں پیدا ہونے والے 12ہزار ٹن کچرے کا نصف سے زاید سمندر کے کنارے میں ڈلواتے اور پھر اس کچر ے کو آگ لگا دی جاتی۔ آہستہ آہستہ اس کچرے نے سمندر کو پیچھے دھکیلنا شروع کیا اور سمندر کی جگہ زمین نے لے لی جو کچرے کی وجہ سے بن گئی تھی۔ ابراہیم حیدری سے ریڑھی گوٹھ تک لینڈ مافیا با اثر سیاسی گھرانوں نے سمندر کی جگہ پر قبضہ کرکے جیٹیاں بنا لیں۔

سرکاری طور پر یہاں ایک ہی جیٹی ہے، جہاں ماہی گیر اپنی کشتیوں کو باندھا کرتے تھے۔ لیکن سمندر پر قبضے کے ساتھ ساتھ غیر قانونی طور پر کئی جیٹیاں بنتی چلی گئیں۔ جہاں ماہی گیر اپنی کشتیاں باندھنے لگے۔ کیونکہ سرکاری جیٹی پر اتنی جگہ نہیں ہوتی کہ تمام ماہی گیر اپنی کشتیوں کو لنگر انداز کرسکیں اس لئے انہوں نے سمندری قبضہ شدہ جگہ پر کشتیاں لنگر انداز کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ بتدریج ان کے معاش پر بھی قابض ہوگیا۔ من پسند ریٹ پر جرائم پیشہ گروپ نے مچھلیاں خریدنا شروع کردیں جس کے سرکاری و مارکیٹ ریٹ میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ لیکن ماہی گیر اس لئے مجبور ہیں کہ اگر جرائم پیشہ گروہ کو مچھلیاں فروخت نہیں کیں تو ان کی کشتیوں کو جیٹیوں میں لنگر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ راقم کی رپورٹس پر سینیٹ کی اسٹنڈنگ کمیٹی برائے ماحولیات نے دو مرتبہ ابراہیم حیدری کا دورہ کیا تھا اور سمندری ماحولیاتی آلودگی پر اپنے سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی کی ہدایت پر دفعہ144بھی نافذ کی گئی تھی۔کچرا ڈالنے پر پابندی عاید کی گئی۔ لیکن سمندری حدود پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف کیا قانونی کاروائی کی گئی۔ اس سے لاعلم ہیں۔ ہزاروں ایکٹر جگہ اب قبضہ مافیا کے چنگل میں ہے۔ سمندر ی ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے سمندری حیات کو بھی بڑا نقصان پہنچا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کا شکار بننے والا روشنیوں کا شہر سنجیدگی و توجہ کا متقاضی ہے۔ وبائی امراض سمیت مہلک بیماریوں اور تبدیل ہوتے موسم کی وجہ سے انسانی حیات کو خطرات لاحق ہیں۔

کراچی کا کچرا بھی ایک سونا ہے جس کا فائدہ یہاں کے بیوپاری و سیاسی اٹھاتے رہے ہیں۔ گذشتہ بلدیاتی دور میں بیشتر ناظمین نے ایک طریقہ کار اختیار کیا تھا۔ جس میں یونین کونسل کے ہر گھر سے روزانہ کی بنیاد پر کالے پلاسٹک تھیلیوں میں کچرا اٹھایا جاتا تھا۔ جس کا معاوضہ بلدیاتی خدمات کے عوض لیا جاتا تھا، لیکن یہ رقم سرکاری اکاؤنٹ کے بجائے زیادہ تر نقد ی کی صورت میں استعمال ہوتی۔ کیونکہ آڈٹ، کوٹیشن اور سرکاری افسرا ن کو کمیشن دینے سے بچانے کے لئے یہ اقدام ضروری سمجھا گیا تھا۔ اس سے کئی یونین کونسلیں صفائی ستھرائی کاماڈل بن گئی۔کراچی بھی وہی ہے، اہل کراچی اور ان کے نمائندے بھی وہی ہیں لیکن کراچی کا کچرا، سیاست کا شکار ہوگیا ہے۔

گزشتہ بلدیاتی دور میں آبادی اور میدان کے قریب گاربیج اسٹیشن بنائے گئے۔ جو بڑھتے بڑھتے اب پہاڑ ہوچکے ہیں۔جب تک چائنا کی کمپنی کو کچرا اٹھانے کا ٹھیکہ نہیں دیا گیا تھا تو تقریباََ ہر علاقے کا سپر وائزر کچرے کو مٹی کا تیل ڈال کر آگ لگا دیتا تھا۔ جن گاڑیوں کی ذمے داری کچرا پوائنٹ پر پہنچانے کی ہوتی تھی، وہ ڈیزل بچانے کے لئے کراچی کو جلادیا کرتے تھے۔ اس طرح لاکھوں روپیہ کرپشن کی نظر ہوتا چلا گیا۔کہا جارہا ہے کہ جس طرح قیام امن کی ذمے داری رینجرز کو دی گئی تھی، کراچی کی صفائی کے لئے اختیارات بھی انہیں دے دیئے جائیں تو امید ہے کہ کچرا نہ اٹھانے والے کسی ربورٹ کی طرح کچرا اٹھائیں گے بھی اور ٹھکانے لگائیں گے بھی۔ لیکن المیہ یہی تو یہ ہے کہ رینجرز کی واپسی کے بجائے کراچی کو نت نئے مسائل میں الجھایا کیوں جارہا ہے۔

رینجرز واٹر بورڈ کا نظام سنبھالے تو کبھی پولیس کا کردار ادا کرے۔ کیا اب جرائم پیشہ عناصر کے کچرے کے ساتھ بلدیاتی گند کو بھی رینجرز ہی ٹھکانے لگائے۔ شاید ہمیں اس سوچ پر شرمندہ ہونے کی ضرورت ہے کہ ہم دفاعی ادارے سے کیا کام لینا چاہتے ہیں۔ اس وقت دفاعی اداروں کو سرحدوں پر مملکت کی حفاظت کی اشد ضرورت ہے، لیکن ایک بڑے حصے کو مغرب شمال سرحدوں پر الجھا دیا گیا ہے تو دوسری جانب ملک کے سب سے بڑے شہر میں کئی عشروں سے رینجرز کو گومگوں مسائل میں پھنسا کر کچرا سیاست کی جا رہی ہے۔وزیر اعظم نے کراچی کے مسائل کے حل کے لئے جو سفارشاتی کمیٹی تشکیل دی ہے، اُن کے سفارشات پر عمل درآمد تو نہ جانے کب ممکن ہوگا، لیکن یقین مانئے کہ اہل کراچی شدید گھٹن اور بدترین احساس محرومی کا شکار ہیں۔ جس کے نتائج پورے ملک پر اثر انداز ہونے کے خدشات ہیں۔

کراچی کے مسائل کا حل سیاسی طور پر نکالنے کے لئے بلدیاتی نظام میں پائے جانے والے سقم کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ بلدیاتی نظام میں بدترین سقم کی وجہ سے عوام کو علم ہی نہیں ہوتا کہ کراچی کے مسائل کا کس کے پاس ہے۔ وفاق کے نمائندے آتے ہیں۔فنڈز خرچ ہوجاتے ہیں لیکن کوئی مستقل حل نہیں نکلتا۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اربوں روپے خرچ کردیئے لیکن مسئلہ جوں کا توں ہے۔ بلدیاتی ادارے کبھی اختیارات کا رونا روتے ہیں تو کبھی فندز کی کمی کا۔ اختیارات کی بات آئے تو چند دنوں میں ہزاروں دوکانیں و چھوٹے کاروبار کو ختم کردیا جاتا ہے۔ جب بحالی کی بات آئے تو ذمے دار صوبائی حکومت کو قرار دے دیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کراچی کی بدترین تصویر کشی کرکے پورے پاکستان کو بد نما کررہے ہیں۔ جس شہر میں سیاحت کے لئے بیرون ملک سے سیاح آتے تھے، پہلے بدامنی کی وجہ سے سرمایہ دار و سیاح کراچی کا رخ نہیں کرتے تھے اب انفرااسٹرکچر اور بدترین بلدیاتی نظام کے ہاتھوں تباہ حال کراچی جانے کا تصور بھی نہیں کرتے۔ ڈھائی کروڑ نفوس کی آبادی والے کثیر القومی شہر کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر قانون میں ترامیم سمیت اقدامات کی ضرورت ہے۔

Qadir Khan Yousafzai
Qadir Khan Yousafzai

تحریر : قادر خان یوسف زئی

Share this:
Tags:
environmental pollution karachi Qadir Khan Yousafzai Rangers target killing احساس ٹارگٹ کلنگ رینجرز کراچی ماحولیاتی آلودگی
Murad Ali Shah
Previous Post جعلی اکاؤنٹس کیس: وزیراعلیٰ سندھ مراد شاہ نے پھر پیشی سے معذرت کر لی
Next Post پاکستان میں ہر تیسرا فرد ذہنی امراض کا شکار، وجہ کیا ہے؟
Depression

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close