
انقرہ (جیوڈیسک) ترکی کی حکمران جماعت اے کے پارٹی کے نائب چیئرمین مہمت علی شاہین نے وزیرِاعظم ایردوان کو اگست میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے پارٹی کا امیدوار نامزد کرنے کا اعلان کیا۔
انقرہ میں ہونے والے اس اجلاس میں حکمران جماعت کی قیادت، حکومتی وزرا اور ملک بھر سے ہزاروں عہدیدار شریک تھے جنہوں نے وزیرِاعظم کی نامزدگی کے اعلان کا نعروں اور تالیوں سے پرجوش خیر مقدم کیا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حالیہ عرصے میں بدعنوانی اور مخالفین کے خلاف آمرانہ ہتھکنڈے استعمال کرنے کے الزامات کا نشانہ بننے کے باوجود ترک وزیر اعظم عوام میں مقبول ہیں اور قوی امکان ہے۔
کہ وہ اگست میں ہونے والا صدارتی انتخاب جیت جائیں گے۔ ایردوان حکومت نے گزشتہ مہینوں کے دوران صدر کے عہدے کے اختیارات میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور ملک کی تاریخ میں پہلی بار صدر کا انتخاب پارلیمان کے ارکان کے بجائے براہِ راست عوام کے ووٹوں سے عمل میں آئے گا۔
خیال رہے کہ ترک آئین کے تحت کوئی بھی شخص دو بار سے زائد وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے ترکی پر حکمران ایردوان اور ان کی اسلام پسند جماعت نے ملکی سیاست کا نقشہ بدل دیا ہے۔
انہوں نے جہاں ترکی کی سیکولر عدلیہ، سول سروس اور انتہائی طاقت ور فوج کو لگام ڈال کر منتخب حکومت کے تابع کرنے کے لیے جارحانہ اقدامات کیے ہیں وہیں ترکی کو دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ترکی میں آئندہ سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اے کے پارٹی کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوگئی تو عین ممکن ہے کہ حکمران جماعت آئین میں ترمیم کرکے ملک میں صدارتی نظامِ حکومت متعارف کرادے۔
