Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

قیام پاکستان کیلئے عام آدمی کی قربانی

August 13, 2016 0 1 min read
1947 Immigrants
1947 Immigrants
1947 Immigrants

تحریر : مدثر اسماعیل بھٹی
١٤ اگست ١٩٤٧ء کو پاکستان ایک آزاد اِسلامی ریاست بن کر دنیا کے نقشے پر اُبھرا۔جس کے لیے بے شمار لوگوں نے جدوجہد کی اور قربانیاں دیںلیکن اُن قربانیوں اور جدوجہد کے ذکر میں چند لوگوں کا نام آتا ہے اور جن لوگوں نے اپنا سب کچھ قربان کیا ظلم وستم برداشت کیے اُن عام لوگوں کا برائے نام ہلکا پھلکا سا ذکر کیا جاتا ہے۔پاکستان میں جشنِ آزادی بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے مختلف تقاریب منعقد کی جاتی ہیں آتش بازی کر کے خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے گھروں اور بازاروں جھنڈیوں اور سبز ہلالی پرچم سے سجایا جاتا ہے۔ٹی وی،اخبارات میں آزادی کی اہمیت کو اُجاگر کیا جاتا ہے اور پا کستان بنانے کے لیے کی گئی جدوجہد کا حال بیان کیا جاتا ہے وطن کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

اتنی خوشیاں کیوں نہ منائی جائیں آخر کار اس ملک میں ہم آزاد ہیں جسے ہمارے بزرگان نے قربانیاں دے کر طویل جدوجہد سے حاصل کیا انگریزوں کی غلامی سے نجات ملی اور خالصتاً اسلام کے نام پر ملک پاکستان قائم ہوا ۔لیکن اب مجھے ١٤ اگست کو کوئی خاص خوشی محسوس نہیں ہوتی بلکہ ایک عجیب سی الجھن ہوتی ہے۔چند سال قبل ١٤ اگست کو محلے کے ایک مکان کی دیوڑھی میں چند ضعیف العمر خواتین بیٹھی بات چیت کر رہی تھیں اور ساتھ ساتھ پان بھی چبا رہی تھیں ۔میرا اُدھر سے گذر ہوا تو میں نے سب کو سلام کیا سب نے خوش دِلی سے دعائوں کے ساتھ سلام کا جواب دیا ۔پھر میں نے سب کو آزادی کی مبا رکباد دی تو سب نے خیر مبارک کہا لیکن اُن میں سے ایک خاتون کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

میں نے حیرانی اور پریشانی کے عالم میں بزرگ خاتون سے آنسو ئوں کا سبب پوچھا تو باقی خواتین نے کہا کہ بیٹا کچھ وجہ نہیں ہے تم جائو جہاں جا رہے تھے خدا تمہاری عمر دراز کرے ۔لیکن رونے والی بزرگ خاتون نے مجھے بیٹھنے کو کہا تو میں قریب پڑی لکڑی کی پیڑھی پر بیٹھ گیا اورسوالیہ نظروں سے بزرگ خاتون کی طرف دیکھنے لگا ۔عُمر رسیدہ چہرے،سفید بالوں اور بھیگی آنکھوں والی خاتون چند لمحے میری طرف دیکھتی رہی اور پھر اپنی طوطلی زبان میں مجھ سے کہا کہ بیٹا یہ دن تمہارے لیے خوشی کا دن ہو گا لیکن اِس دن مجھ پر قیامت گزری تھی ۔میری بے چینی اور بڑھ گئی بے چینی کے عالم میں وجہ پوچھی تو فرمانے لگی کہ ہم لوگ ہندوستان میںپانی پت کے علاقے میں رہتے تھے اور بھینسوں کے بیوپار کا کام تھا ہمارے باقی رشتے دار بھی بیو پاری تھے ۔وہاں ہندو بھی مقیم تھے اور ان کے ساتھ میل جول ،رہن سہن بھی اچھا تھا۔

Immigrants
Immigrants

میری شادی کو چند دن ہی ہوئے تھے اور پاکستان اور بھارت بننے کی وجہ سے اکثر مسلمان ہجرت کر کے پاکستان جا رہے تھے اور ہندو،سِکھ بھارت آرہے تھے ایک دن میرے بھائی و دیگر رشتہ دار کلکتہ اور دیگر شہروں سے اُدھار کی رقم اکٹھی کرنے چلے گئے اگلے دن ہی یہ خبر ملی کہ پاکستان میں سکھوں اور ہندئوں کا قتلِ عام ہوا ہے اور لُوٹ مار کی گئی ہے یہ خبر سننے کے بعد ہمیں خوف محسوس ہونے لگا شام کے وقت اطلاع ملی کہ ہندئوں اور سکھوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کر دیے ہیں اُس وقت ہمارے مردوں میں سے صرف میرا خاوند موجود تھا میری ساس نے برادری کی خواتین اور بچوں کو ایک بڑی حویلی میں جمع کیا جس میں گہرا کنواں موجود تھا اور میرا خاوند جو لاٹھی چلانے کا ماہر تھا حویلی کے باہر پہرے پر بیٹھ گیا میری ساس نے سب کو کہا کہ اگر ہندو یا سکھ آ جائیں اور کوئی چارہ نہ رہے تو کنویں میں چھلا نگ لگا دیناتاکہ تمہاری عزت محفوظ رہے۔

ہماری رات بڑی بے چینی اور خوف کے عالم میں گزری۔علی الصبح چیخوں اور نعروں کی آواز نے ہمیں چونکا دیا ہم لوگ حویلی کی چھت پر چلے گئے اور سوراخوں سے باہر دیکھنے لگے کچھ دیر بعد سِکھوں کی ایک ٹولی آئی تو میرے خاوند نے دلیری سے اُن کا مقابلہ کیا اور کئی سکھوں کو زخمی کر دیا ابھی لڑائی جاری تھی کہ ایک اور ٹولی آئی اور اُنہوں نے بھی میرے خاوند پر حملہ کر دیا ۔اِس دوران ہم سب کی دِلوں کی دھڑکنیں تیز ،آنکھوں میں آنسو اور لبوں پر خُدا سے مدد کی دُعائیں تھیں ۔تلواروں،خنجروں اور ڈنڈوں سے مسلح بیسیوں آدمیوں سے ایک لاٹھی سے مسلح شخص کب تک لڑتا ۔تلواروں کے وار کو روکنے کی وجہ سے لاٹھی کٹتی چلی گئی اور آخر وہ واحد ہتھیار بھی نہ رہا سِکھوں نے پے در پے تلواروں کے وار کر کے میرے خاوند کو شدید زخمی کر دیا اور زخمی حالت میں وہ زمین پر گِر گیا۔

اُس کے گرتے ہی ایک سکھ اُس پر بیٹھ گیا اور خنجر سے گردن کو دھڑ سے الگ کر دیا خون کے ایسے پُھوارے نکلے کہ زمین تر ہو گئی اور میرے خاوند کا دھڑ تڑپ تڑپ کر بے جان ہو گیا ۔جس وقت وہ ظالم میرے خاوند کی گردن پر خنجر پھیر رہا تھا اُس وقت میرے خاوند کی نظریں حویلی کی جالیوں کی طرف تھیں مجھے اُس وقت یوں لگا کہ وہ مجھے ہی ڈھونڈ رہی ہیں ۔جیسے جیسے وہ بزرگ خاتون بتاتی جاتی تھی ویسے ویسے اُس کی آنکھوں میں آنسو بڑھتے جا رہے تھے اور لب کپکپا رہے تھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ منظر ابھی بھی اُس کی آنکھوں کے سامنے ہے ۔پھر بزرگ خاتون نے بتایا کہ میرے خاو ند کو خون میں نہلانے کے بعد ظالموں نے حویلی کے دروازے کا رُخ کیا اور اسے توڑنے کی کوشش شروع کر دی حویلی میں موجود عورتوں اور بچوں نے چیخ وپکار شروع کر دی چند لڑکیوں نے کنویں میں چھلانگ لگا دی اور کئی عورتیں دروازے کو زور لگا کر سہارا دے رہی تھیں۔کافی دیر تک جب دروازہ نہ ٹوٹا تو وہ ظالم چلے گئے۔

Dead Bodies
Dead Bodies

تھوڑی دیر بعد میری ساس باہر نکلی اور اپنے بیٹے کے دھڑ کو گھسیٹ کر دیوار کے ساتھ لگایا اُس کے کٹے ہوئے سر کو دھڑ کے اوپر رکھ کر اُس کے گرد اپنا دوپٹہ لپیٹ دیا اور واپس آ گئی کنویں میں چھلانگ لگانے والیوں کو بچانے کی بہت کوشش کی لیکن اُن میں سے بھی کوئی زندہ نہ بچی ۔حویلی میں موجود ہر کسی کی آنکھ میں آنسو،مایوسی اور خوف تھا ۔دوپہر کے وقت میں اور میری چچا زاد بہن چپکے سے دروازہ کھول کر باہر نکلے کہ باہر پڑے شہید کی لاش کو اندر لے آئیں ابھی ہم روتے روتے شہیدکی لاش کو گھسیٹ رہی تھیں کہ اچانک سکھوں کی ایک ٹولی آ گئی ہم حویلی کے اندر بھاگنے کی بجائے خوف سے چیخنے لگیں ہماری چیخیں سُن کر ایک عورت نے فوری حویلی کا دروازہ بند کر دیا۔

اِن الفاظ کے ساتھ ہی اُس بزرگ خاتون کی رونے کی وجہ سے ہچکی بندھ گئی میں نے قریب پڑے جگ سے پانی کا گلاس بھرا اور خاتون کو دیا وہ کپکپاتے ہاتھوں سے پانی اس طرح پی رہی تھی کہ زیادہ تر پانی اس کے دوپٹے اور کپڑوں پر گر رہا تھا ۔تھوڑی دیر بعد وہ دکھیاری بزرگ خاتون کہنے لگی کہ وہ ظالم مجھے اور میری چچازاد بہن کو زبردستی اُٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے اُن میں سے ایک سکھ مجھے ایک ٹوٹے پھوٹے گھر میں لے گیا اور مجھے باندھ کر بہت مارا پیٹا ۔ایک اور سکھ کی مدد سے ظالم نے سُوا گرم کر کے میری زبان پر مارا جسکی تکلیف اس قدر تھی کہ میں دعا کرتی رہی یااللہ مجھے موت دے دے۔

چند دن تک جب میری مدد کو کوئی نہ آیا تو مجھے لگا کہ میرا سارا خاندان مارا جا چکا ہے قریباًچھ ماہ تک میں اُس قید میں طرح طرح کی اذیتیں جھیلتی رہی آخر ایک دن دروازے پر دستک ہوئی تو اُس سکھ نے دروازہ کھولا ۔دروازے پر میرا سُسر اور پولیس تھی میں بھاگ کر سُسرسے چمٹ گئی اور بلک بلک کر رونا شروع کر دیا پھر میں سُسر کے ساتھ پاکستان آ گئی کچھ دن بعد میری شادی میرے دیور سے کر دی گئی ۔میرے سُسر نے سب کو سختی سے روک دیا تھا کہ کوئی مجھ سے ان دنوں کے بارے نہیں پوچھے گا آج تک میں وہ دن اور مہینے نہیں بھولی ۔میری آنکھوں میں بھی آنسو تیرنے لگے پھر بھی میں نے ہمت کر کے پوچھا کہ آپکی چچا زاد بہن کا کیا بنا؟تو کہنے لگیں کہ میرا سُسر جو میرا چچا بھی تھا۔

Pakistan
Pakistan

اس کا ہندوستان میں بہت اثر ورسوخ اور جان پہچان تھی وہ مجھے پاکستان چھوڑ کر واپس چلا گیا تھا اور آخر ڈیڑھ سال بعد میری چچا زاد بہن اور اپنی بیٹی کو ڈھونڈ کر اپنے ساتھ پاکستان لے آیا میری چچا زاد بہن کا وہاں ایک بیٹا بھی تھا وہ کافی عرصہ اپنے بچے کو یاد کر کے روتی تھی پھر اسکی بھی شادی کر دی گئی ۔آج وہ بزرگ خاتون اس دُنیا میں موجود نہیں لیکن جب بھی چودہ اگست کا میرے سامنے ذکر ہوتا ہے تو دِل بُجھ سا جاتا ہے اور میں یہ سوچتا ہوں جس پاکستان کی وجہ سے ہزاروں قربانیاں دی گئیں ۔ہم نے اُس پاکستان کے لیے کیا کیا؟پاکستان پر اقتدار کو اپنا حق سمجھنے والے لُٹیروں،کرپشن کرنے والوںاور ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے والوں کو پاکستان کے قیام کے لیے جانیں دینے والے شہدائ،اذیتیں برداشت کرنے اور اپنے پیاروں کو اپنی آنکھوں سے ذبح ہوتے ہوئے دیکھنے والی خواتین اور اپنا گھر بار چھوڑ کر کسمپرسی کی زندگی گزارنے والے عام لوگ روزِ آخرت گریبان سے پکڑ کر بارگاہِ الٰہی میں دہائی دیں گے۔

ایسا یقینا ہو گا تب خدا کے غضب سے بچنا ناممکن ہو گا۔سب سے بڑھ کر ستم ظریفی یہ ہے کہ اُن شہداء اور مظلوموں کا ذکر کوئی نہیں کرتا سب قائد اعظم،علامہ اقبال اور ایسے نامور لوگوں کی شان میں قصیدے پڑھتے ہیں جو کہ پڑھنے بھی چاہئیں۔ لیکن اُن عام لوگوں کا ذکر بھی ضروری ہے جن کے بغیر کوئی شخص لیڈر نہیں بن سکتا۔لیڈر کے حق میں نعرے مارنے والے بھی عام لوگ ہوتے ہیں اور اس کے حکم پر لبیک کہنے والے بھی عام لوگ ہوتے ہیں۔

ووٹ ڈالنے والے بھی عام آدمی ہوتے ہیں۔الیکشن جتوانے والے بھی عام آدمی ہوتے ہیں لیکن اُن عام آدمیوں کا کہیں نام نہیں ملتا بلکہ اُن کا استحصال کیا جاتا ہے آخر کب تک ایسا چلتا رہے گا عام آدمی کو ہوش کب آئے گی؟مجھے رب کائنات سے امید ہے کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب عام آدمی کی حکمرانی ہو گی۔اللہ پاک مجھے،آپ سب کو،پوری قوم کو اور پاکستان کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔آمین۔۔۔

Mudasar Bhatti
Mudasar Bhatti

تحریر : مدثر اسماعیل بھٹی

Share this:
Tags:
Establishment man maps pakistan sacrifice state World آدمی پاکستان تقاریب دنیا ریاست قربانی قیام نقشے
Youm e Azadi
Previous Post یومِ آزادی، تاریخ اور تقاضے
Next Post ناروے میں پاکستانیوں کی سیاسی اور سماجی سرگرمیاں
Pakistan Independence Day in Norway

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close