
اس نے جب سے یہ شام الم اتاری ہے
خانہ دل میں ہر شب عزا داری ہے
آج کی رات جدا ہوئے تھے ہم دونوں
آج کی رات ہم دونوں پہ بھاری ہے
یہ پاگل پن کا روگ یوں ہی نہیں ملتا
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
اسے ٹوٹ کر چاہا مگر کبھو نا کہا
وہ جنون تھا یہ میری خود داری ہے
ہماری فتح میں اس کی شکست تھی جمال
یہ بازی ہم نے یوں ہی نہں ہاری ہے
انور جمال فاروقی
