
لاہور (جیوڈیسک) پاکستانی فلم انڈسٹری کو کئی دہائیوں تک ہنستی مسکراتی دھنیں دینے والے موسیقار وزیرافضل، آج زندگی کے اس موڑ پر ہیں جہاں وہ صرف المیہ گیت ہی گنگنا سکتے ہیں۔
نصف صدی پہلے کی بات ہے، سمن آباد لاہور کے وزیر افضل نے سروں سے کھیلنا شروع کیا، آگے بڑھنے کی لگن خواجہ خورشید انور کی شاگردی میں لے آئی اور پھر سینکڑوں لازوال دھنیں تخلیق ہوتی چلی گئیں۔
شہنشاہ غزل مہدی حسن، ملکہ ترنم نورجہاں، ناہید اختراور پرویز مہدی جیسے پائے کے گلوکاروں کی آوازیں وزیر افضل کی دھنوں سے جڑیں تو سننے والوں پر سحر طاری ہو گیا۔
بھارتی موسیقار نوشاد اپنے کام میں استاد مانے جاتے تھے، لیکن وزیر افضل کی بات ہی الگ تھی، جبھی تو نوشاد ان کی دھنیں کاپی کرتے رہے۔ موسیقار کوعام طور پر دھنیں ترتیب دینے والا سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
موسیقار گلوکار سے بھی بڑے گوئیے ہوتے ہیں اور اپنے دکھوں کو سرتال میں سنا دیتے ہیں۔ شکوہ نہ کر گلہ نہ کر جیسے لازوال گیت کی دھن بنانے والا آج مشکلات سے دوچار ہے۔ بے شک ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں فنکار کو پذیرائی ملتی ہے نہ آسائش۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم انہیں تنگ دست ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔
