
تحریر: محمد امین طاہر
واجب الاحترام والا کرام جناب جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب آپ کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ دنیا کی بہترین فوج کی کمان آپ کے پاس آچکی ہے۔ جنرل راحیل شریف اپنی مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہو چکے ہیں۔ جنرل راحیل کے اقدامات پاک فوج کی عوام میں مقبولیت کا گراف بہت بلندی پر لے گئے۔ یہ ایک فطری امر بھی ہے اور اس قوم کا خاصا بھی ہے کہ پاکستان میں عوام اپنی مسلح افواج سے “جنون” کی حد تک پیار کرتے ہیں۔ گاؤں ہو یا شہر، پہاڑ ہوں یا ریگستان ،بچے ہوں یا بوڑھے، ہر شہری پاک فوج کو سلام کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے ۔اس قوم کی پاک فوج سے محبت کی یہ انتہا ہے کہ اب تو ہر کسی نے اپنی گاڑی ہو یا ٹریکٹر ٹرالی پر”پاک فوج کو سلام” جیسا جملہ لازمی لکھوا رکھا ہوتا ہے۔
لوگ جنرل محمد ایوب خان کی قد کاٹھ والی تصاویر تو آج بھی بڑے فخر سے ٹرکوں پر لگائے پھر رہے ہیں۔ یہ وہ بے لوث محبت کا اظہار ہے، جو ہر پاکستانی کے دل میں پاک فوج کیلئے ہے۔ پاکستان کے شہری اپنے بچوں کو فوج میں بھرتی کروانے کیلئے بے چین رہتے ہیں اور اس کام کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں۔جنرل راحیل شریف کی تصاویر تو اب لوگوں کے دلوں پر چسپاں ہو چکی ہیں۔ویسے تو سوشل میڈیا پر آپ کی تصاویر بھی لگا کر محبت کا اظہار کیا گیا ہے ،مگر ان کا انداز کچھ اور ہے۔کسی ایک سیاسی جماعت نے سوشل میڈیا پر اپنے قائد کے ساتھ آپ کی تصویر چسپا ں کی ہے ۔اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ آپ کو ان سیاسی شخصیات کا وفادار یا حمایتی ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔جو کہ بہت ہی خطر ناک پیغام ہے۔ اگر آپ نے اس تاثر کو ختم کرنے کی کوشش نہ کی تو یہ آپ کی شخصیت کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

قوم کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عوام کی پاک فوج سے محبت اپنی جگہ، پاک فوج نے بھی کبھی اپنی قوم کو مایوس نہیں کیا۔ جنگ ہو یا کوئی قدرتی آفت، جیسے سیلاب یا زلزلہ، ہمیشہ پاک فوج نے ہی آکر حالات کو کنٹرول کیا ہے اور قوم کو اس مشکل سے نجات دلائی ہے۔ یہ وہ کردار ہے جس کی وجہ سے عوام اپنی فوج سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اس عقیدت پر اتراتے بھی ہیں۔ جنرل راحیل شریف جب آرمی چیف بنے تو قوم نے جشن منایا کہ شہداء کا وارث کمانڈر انچیف بن گیا ہے، انہیں اپنے وطن کی حرمت کا زیادہ احساس ہوگا، جس نے ملک کیلئے قربانی دی ہوئی ہو، وہ اس کی قدر بھی زیادہ کرتا ہے، یہی کچھ جنرل راحیل شریف نے کیا۔ آپریشن ضرب عضب شروع کیا، اسے کامیابی سے ہمکنار کیا، آج پاکستان میں دہشتگردی کا ناسور کافی حد تک کنٹرول ہوچکا ہے۔ آپریشن ضرب عضب میں فوج نے نمایاں کردار ادا کیا۔ نئے آرمی چیف قمر باجوہ نے 2019ء میں ریٹائرڈ ہو جانا ہے۔ جنرل قمر باجوہ کیلئے بہت سے چیلنج موجود ہیں، انہوں نے آپریشن ضرب عضب کو آگے بڑھانا ہے۔
دہشت گرد ابھی بھی موجود ہیں، زیر زمین چھپے دہشت گردوں کو بھی باہر نکال کر انجام تک پہنچانا ہے۔ ان کے سہولت کار محفوظ مورچوں پر موجود ہیں۔ انہیں بھی بے نقاب کرنا ابھی باقی ہے۔پاک چین دوستی کے موجودہ سفر کو جاری رکھنا ہے۔ سی پیک جو کہ آج پاکستان کے دشمنوں کو بہت زیادہ کھٹکتا ہے اس کو محفوظ سے محفوظ تر بنانے کے لیے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو استعمال میں لانا ہے۔ بلوچستان میں جس طرح بھارت اور چند دیگر ہمسائے جس طرح پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں ان کا سد باب کرنا ہے۔ کلبھوشن یادیو کے معاملے کو آگے لے کر جانا ہے۔ جسے کچھ قوتوںنے دبا رکھا ہے۔ پاک فوج پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کا معاملہ بھی آپ کے کندھوں پر ہے ۔ ہر پاکستانی صرف پاکستان سے محبت کرے، ایسا ماحول نہ بننے دیا جائے کہ نوجوان بیرونی قوتوں کے آلہ کار بنیں، اس کیلئے سول حکومت کو بھی اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔ نئے آرمی چیف کو کمان اس وقت ملی ہے، جب ایل او سی پر کشیدگی ہے، کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں، بھارت میں بھی الیکشن 2019ء میں ہونے ہیں اور یہی سال جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کا سال ہے، تو اس حوالے سے جنرل باجوہ کو انڈیا کو بھی لگام دینا ہوگی۔ بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے اپنی حکومت کو خبردار تو کر دیا ہے کہ جنرل باجوہ پروفیشنل آدمی ہے، امید ہے بھارت ہوش کے ناخن لے گا اور ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کر دے گا اور اگر نہیں کرے گا تو جنرل باجوہ خود سدباب کر لیں گے، جس کیلئے ہم پْرامید ہیںکہ وہ تیاری کرچکے ہوں گے۔
ادھر کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں۔ جنرل باجوہ صاحب، آپ کو اس حوالے سے بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، تو شہ رگ سے مودی کی گرپ کو چھڑانا ہوگا۔ جناب جنرل باجوہ صاحب، آپ کو محب وطن اور ملک دشمن طبقوں میں فرق کو بھی دیکھنا ہوگا ۔آپ اس معاملے میں کامیاب ہوگئے تو ملک سے دہشت گردوں اور شدت پسندوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور ہماری سرحدیں بھی محفوظ ہو جائیں گے۔ اس کیساتھ ہی کراچی کا معاملہ بھی ابھی ختم نہیں ہوا، ابھی بھی بہت سے دہشتگرد اور ان کے سہولت کار آزاد پھر رہے ہیں، ان کا محاسبہ بھی ابھی ہونا باقی ہے، فوج نے انتہائی مثبت رول ادا کیا ہے، لیکن مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، ملک کا دفاع آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ آپ کے پیش رو نے یہ مثال قائم کی ہے کہ فوج میں موجود کالی بھیڑوں کیخلاف ایکشن ہوا ہے، عوام اب بھی توقع کرتے ہیں کہ آئندہ بھی یہ “اصلاحاتی عمل” جاری رہے گا۔ نومبر 2019ء میں جب آپ آرمی سے ریٹائرڈ ہوں تو لوگوں کی آنکھوں میں آپ کیلئے آنسو ہونے چاہیں۔ جنرل راحیل شریف کیلئے عوام کا پیار آپ کے سامنے ہے، ہم چاہتے ہیں آپ ان سے بھی زیادہ پیار سمیٹ کر جائیں، لیکن اس کیلئے آپ کو کسی کی پروا کئے بغیر کام کرنا ہوگا۔

محترم جناب قمر جاوید باجوہ صاحب یہ امر بھی یاد رکھیں کہ کرپشن کے خلاف جس طرح پاک فوج نے ایک مثال قائم کی اور فوج میں موجود کرپٹ لوگوں کو قرار واقعی سزا دے کر اس ملک کے سیاسی وارثوں کو ایک ترغیب دی کہ وہ بھی کرپشن کے خلاف جدو دجہد کریں ۔پھر کیا ہوا آپ کو بھی معلوم ہے مجھے بھی معلوم ہے۔ ہر پاکستانی کو یہ معلوم ہے کہ جن کو مقدس گائے کے طعنے دیے جاتے تھے ۔انہوں نے اپنے آپ کو قوم کے سامنے پیش کر کے ایک مثال قائم کی ۔ لیکن جمہوریت شریف کے دعوے داروں نے اپنی کرپشن جاری رکھی یہ چند سو لوگ پوری قوم کی کمائی کھائے جا رہے ہیں، اس کا حساب بھی آپ نے لینا ہے۔
کیونکہ اب تو یہ تاثر پھیل چکا ہے کہ پاکستانی عدالتیں بھی ۔۔۔۔۔ جنرل راحیل شریف کے اس ملک کو کرپشن اور اندرونی مسائل سے بچانے کے مشن کو آپ نے تسلسل نہ بخشا تو پھر آپ کے بارے میں بھی یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ قمر باجوہ بھی۔۔۔۔یہ تو اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ پاکستان کے غریب عوام کو بچاتے ہیں یا ان چند خاندانوں کو جن کا اپنا آئین حکمرانی ہے۔ جنرل صاحب آپ کو یہ بھی علم ہے کہ جہاں جنرل راحیل شریف نے اس ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا دفاع کیا ہے وہاں اس ادارے کی ساکھ بھی بحال رکھی۔

وہی جنرل راحیل شریف جو پاک فوج کا پہریدار تھااور قوم ان کو ایک مسیحا کے طور پر صدیوں یاد رکھے گی آج اسی راحیل شریف کے خلاف ایک منظم مہم شروع کر دی گئی ہے اورجو مقبولیت جنرل راحیل شریف نے اس قوم کے دلوںمیں پائی اب اسے کم کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے تاکہ قوم کے ذہنوں پر پاک فوج کے اس سنہری دور کے اثرات پیوست نہ ہو سکیںاور قوم جمہوریت شریف کے ہی گن گائے ۔ چند اینکر پرسنزکو یہ ہدف دے دیا گیا ہے کہ وہ ایک اصول پرست آرمی چیف کو بے اصول قرار دینے کے لیے خوب پراپیگنڈہ شروع کریں اب جنرل راحیل کے کیرئیر کو داغدار کرنے کے لیے حکومت نے اپنا فرض منصبی ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگر آج آپ نے اپنے ادارے اور اس ادارے کے ہونہار جرنیلوں کا دفاع نہ کیا اور سیاسی آمروں کو لگام نہ دی تو پھر کل آپ کی بار ی ہے۔
تحریر: محمد امین طاہر
