Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی امریکی دبائو برداشت کر پائیں گے

August 25, 2018 0 1 min read
Shah Mehmood Qureshi
Shah Mehmood Qureshi
Shah Mehmood Qureshi

تحریر : قادر خان یوسف زئی

پاکستان کے نئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی پہلی پریس بریفنگ میں خارجہ پالیسی کا ازسر نو جائزہ لینے اور سفارتی مشنز کی بلاجواز اکھاڑ پچھاڑ نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی حکمراں جماعت میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ سے پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں آنے والے شاہ محمود قریشی پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھی وزیر خارجہ رہ چکے ہیں اور انہیں پاکستان کو درپیش خارجی معاملات پر مشکلات کا ادارک ہے۔ پاکستان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ اس وقت امریکی انتظامیہ بنی ہوئی ہے او ر نئی حکومت کو بھی امریکی انتظامیہ نے اپنے پیغام میں سابقہ رویوں کو ہی دوہرایا ہے۔

امریکی اعلیٰ عہدے دار نے امریکی پالیسی کے عنوان سے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ دہشت گرد گروپ پاکستان کی سر زمین میں موجود ہیں ۔ امریکا نے زور دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرے یا افغانستان دھکیلے۔ اپنی گفتگو میں امریکی محکمہ خارجہ کی اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے اور امریکی حکومت ”پاکستان کی سرحدوں کے دونوں جانب امن کی اہمیت سے متعلق وزیرِ اعظم عمران خان کے بیان کا خیرمقدم کرتی ہے۔”افغانستان اور خطے میں سکیورٹی کی صورتِ حال سے متعلق ایک سوال پر ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ افغانستان کی صورتِ حال میں بہتری کے لیے پاکستان کا کردار بہت بنیادی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان پر زور دیتا آیا ہے کہ وہ یا تو (افغان)طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سخت اقدامات کرے یا پھر انہیں اپنی سرزمین سے بے دخل کرکے واپس افغانستان جانے پر مجبور کرے۔ امریکی عہدے دار نے ایک مرتبہ پر خطے میں بھارت کے کردار کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ پاکستانی حکام ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران سرحدی علاقوں میں پاکستانی فوج کی کارروائیوں کے بعد ایسے تمام مبینہ ٹھکانے ختم کیے جاچکے ہیں۔لیکن امریکا پاکستان کے موقف پر اپنی ضد اور ڈومور کو ترجیح دیتے ہوئے پاکستان پر دبائو بڑھانے کی ہر سطح پر کوشش کررہا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو ستمبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں گو کہ ابھی تک حتمی تاریخ کا سرکاری سطح پر اعلان نہیں کیا گیا تاہم مغربی ابلاغ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کا متوقع دورہ5ستمبر کو متوقع ہے۔ پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کے مطابق دورے کی تفصیلات طے کی جا رہی ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے لئے امریکا کی جانب سے جارحانہ بیانات اور اہم عہدے دار کی متوقع آمد نہایت اہمیت کی حامل تصور کی جا رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ نومنتخب وزیر اعظم ماضی کے حکمرانوں کی طرح امریکا کے ڈومور کا جواب کس انداز میں دیتے ہیں۔ تاہم اپنی دو تقاریر میں عمران خان نے امریکا کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو برابری کی سطح پر قائم رکھنے کا عندیہ دیا تھا ۔ لیکن گذشتہ حکومتوں کے بھی اس قسم بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ نئی حکومت کے لئے امریکی انتظامیہ کا رویہ کس قدر معاوندانہ ہوتا ہے اس کا اندازہ تو امریکی عہدے داروں کے بیانات سے ہورہا ہے کہ امریکا پاکستان کو درپیش معاشی دشواریوں کی آڑ میں دبائو بڑھا کر ماضی کی طرح مطالبات کو منوانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ نئی حکومت سے اس بات کی توقع تو نہیں کی جاسکتی کہ وہ امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو خراب کرنے کے لئے سرد و سخت عمل کا مظاہرہ کرے گی کیونکہ پاکستانی معیشت بہرحال اس وقت امریکی مالیاتی اداروں کے چنگل میں ہیں اور کسی بھی معاشی کمزور حکومت کے لئے اس وقت سخت اقدامات لینا نہایت دشوار گذار فیصلہ ہوگا۔

وزیر اعظم پاکستان نے پُرخار وادی میں قدم رکھ دیا ہے اور اب ان کے وزیر خارجہ کا امتحان ہے کہ وہ امریکا کو کس طرح مطمئن کرپاتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود نہیں ہیں۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور عسکری قیادت تو کئی بار امریکا کو باور کراچکے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا قلع قمع کیا جاچکا ہے لیکن افغانستان میں پاکستان کی بقا و سلامتی کے دشمن بہرحال موجود ہیں۔ جن کے خلاف امریکا اور افغانستان کی دوہری حکومت قابل ذکر کوئی کردار ادا نہیں کررہی۔ عام انتخابات میں افغانستان کی سرزمین میں موجود دہشت گرد تنظیموں نے پاکستانیوں کا بڑا جانی نقصان کیا تھا ۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان کے خلاف امریکا اور افغانستان کی ہرزہ سرائی میں کمی واقع نہیں ہو رہی۔ کابل میں حالیہ دھماکوں کا الزام کابل حکومت نے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر عائد کرتے ہوئے اعتماد کی فضا کو نقصان پہنچایا ہے۔ کابل حکومت افغان طالبان کی بڑھتی قوت سے سخت خوف زدہ ہوچکی ہے ۔

افغان طالبان جب چاہتے ہیں کسی بھی شہر میں بڑا حملہ کرکے افغان سیکورٹی فورسز کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔اور حملے کے بعد اپنی قوت کا مظاہرہ کرکے واپس اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں بھی چلے جاتے ہیں۔ یہ عمل کابل حکومت اور امریکی انتظامیہ کے لئے دنیا بھر میں سبکی کا باعث بنا ہوا ہے ۔ افغانستان کا دارالحکومت کا صدراتی محل بھی اب مزاحمت کاروں کے حملوں سے محفوظ نہیں رہا ہے۔ افغانستان کی 99ویں یوم آزادی کی تقریبات اور صدارتی محل میں صدر اشرف غنی کی تقریر کے دوران مسلح راکٹ حملوں سے دنیا بھر یہ پیغام ایک مرتبہ پھر گیا کہ کابل دوہری حکومت کی عمل داری مکمل طور پر کمزور ہوچکی ہے۔ امریکی انتظامیہ بھی افغانستان کی موجودہ صورتحال سے سخت نالاں ہوچکی ہے اور مغربی ذرائع ابلاغ سے موصولہ خبروں کے مطابق ایک بار پھر یہ اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ افغانستان کی جنگ سے امریکی فوجیوں کی جگہ پرائیوٹ سیکورٹی ادارے کو ٹھیکہ دے دیا جائے۔ کرائے کے یہ فوج عراق میں بلیک واٹر کے نام سے استعمال ہوچکے ہیں لیکن انسانی حقوق کی سخت خلاف ورزیوں کی وجہ سے بلیک واٹر کو سفاک و بدترین قاتلوں کی دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا۔

مغربی ذرائع ابلاغ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایرک پرنس نے بلیک واٹر کمپنی بیچ کر ایک نئی سیکیورٹی کمپنی قائم کر لی۔اور اب وہ اس کے لیے افغانستان کا کنٹریکٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ارب پتی امریکی کاروباری شخصیت ایرک پرنس نے افغانستان میں امریکہ کی جنگ پرائیویٹ کمپنی کو دینے کی تجویز پیش کی ہے جس پر اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ دلچسپی لے رہی ہے جب کہ کئی عہدے دار اس تجویز کو گمراہ کن قرار دے رہے ہیں۔ ایرک پرنس افغانستان کی جنگ ٹھیکے پر حاصل کرنے کے لئے باقاعدہ میڈیا مہم چلا رہا ہے ۔ ایرک پرنس افغانستان کی جنگ میں 45ارب ڈالر سالانہ امریکی اخراجات کی جگہ 10ارب ڈالر اور 90 پرائیوٹ طیاروں کے ساتھ کام کرنے کی تجویز امریکا کو دے رہا ہے ۔ ایرک پرنس گزشتہ ایک برس سے اپنے منصوبے پر امریکی انتظامیہ کو قائل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کی ناکامی اور بھاری اخراجات کی لاحاصل جنگ سے باہر نکلنے کے لئے ایرک پرنس کی تجویز پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔

نئی افغان حکمت عملی کا ایک سال مکمل ہونے اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکامی کی وجہ سے ایرک پرنس کو امید ہے کہ اس بار ان کا منصوبہ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا۔این بی سی نیوز نے پچھلے ہفتے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ پرنس کی نئی ویڈیو سے متاثر دکھائی دیتے ہیں اور نیوی سیل کے سابق عہدے دار کے منصوبے میں دلچسپی لے رہے ہیں کیونکہ انہیں افغانستان میں امریکی حکمت عملی ناکام ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اگر پرنس افغان جنگ کا ٹھیکہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہزاروں امریکی فوجی اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں گے اور ان کی جگہ نسبتاً کم تعداد میں پرائیویٹ سیکیورٹی اہل کار لے لیں گے جنہیں 90 طیاروں پر مشتمل ایک پرائیویٹ ایئر فورس کی مدد حاصل ہو گی۔پرنس کا کہنا ہے کہ ان کی پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی امریکہ کی افغانستان حکمت عملی کو آگے بڑھائے گی اور پرنس کے بقول ان کی کمپنی افغانستان میں امریکہ کے ایک وائسرائے کے طور پر کام کرے گی۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی امریکا کے ساتھ تعلقات کی سرد مہری کو کس طرح کم کرسکتے ہیں اس کا باقاعدہ لائحہ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ نئی حکومت کی جانب سے مستقبل کی پالیسیوں کے حوالے بڑے دعوے تو سامنے آرہے ہیں لیکن زمینی حقائق کے مطابق لائحہ عمل کا ایسا کوئی منصوبہ بہرحال نہیں آسکا ہے جس کے بعد یہ رائے قائم کی جاسکے کہ پاک ۔ امریکا تعلقات میں تنائو کم ہوسکتا ہے۔ نومنتخب وزیر اعظم کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آچکا ہے کہ وہ تین مہینے دوران کسی بیرون ملک دورے پر بھی نہیں جائیں گے۔ گو کہ وزیر اعظم کا حلف اٹھانے سے قبل عمران خان کو بھارت ، افغانستان ، ایران او ر پھر چین سمیت دیگر ممالک سے دورے کی دعوت مل چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے آئندہ ماہ اجلاس میں بھی پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ہی کریں گے ۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نومنتخب وزیر اعظم سے بنی گالہ میں ملاقات کرچکی تھی جس میں انہوں نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے حوالے سے بریفنگ بھی دی تھی۔ تاہم اس وقت پاکستان جن مسائل کا شکار ہے اس سے باہر نکلنے کے لئے پاکستان کی نئی حکومت کو ابتدا ہی میں بڑے سفارتی چیلنج کا سامنا کرنا پڑگیا ہے۔

افغانستان میں تیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال اور کابل دوہری حکومت کی عسکری کمزوریوں اور پاکستان پر الزام تراشیوں کی روش پاکستان کی نئی حکومت کے لئے ایک بڑے چیلنج کا درجہ رکھتی ہے۔ شاہ محمود قریشی نو آموز وزیر خارجہ نہیں ہیں ۔ پاک ۔ امریکا تعلقات کے علاوہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کے مد و جزر کو اچھی طرح جانتے ہیں اور انہیں اُن مشکلات کا بھی ادارک ہے کہ اُن کے لئے ان مشکلات کو انفرادی حیثیت میں دور کرنا ممکن نہیں ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت اور ان پالیسیوں کو لیکر چلنا سول حکومت کے لئے بھی ایک امتحان ہے کہ خارجہ پالیسی کے معاملات میں ماضی میں جو مشکلات درپیش رہی ہیں ا ب سول ، ملٹری تعلقات احسن انداز میں آگے بڑھ سکیں ۔ عموماََ یہی ہوتا رہا ہے کہ امریکی عہدے دار سول حکومت سے علیحدہ اور عسکری قیادت سے جداگانہ ملاقاتیں کرکے یہ تاثر دیتی رہی ہے کہ پاکستان کی سول و ملٹری قیادت ایک صفحے پر نہیں ہیں۔ سابق حکومت میں ایک مرتبہ ایسا عمل ضرور ہوا جب سول و ملٹری قیادت نے ایک ساتھ بیٹھ کر امریکی اہم عہدے دار سے ملاقات کی اور پاکستانی موقف پر دونوں سول ملٹری قیادت نے یکجا ہوکر ایک مثبت پیغام دیا ۔ چونکہ عمران خان تبدیلی کا نعرہ لیکر آئے ہیں اور امریکا کے ساتھ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ان کے لئے یہ امتحان بھی ہے کہ کیا امریکی انتظامیہ کے کسی عہدے دار کا سرخ کارپیٹ پر استقبال ان کا ہم منصب ہی کرے گا ۔ اور کیا امریکا کے کسی عہدے دار کے ساتھ پاکستانی ہم منصب ہی ملاقات و مذاکرات کرے گا۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان اپنے سیاسی جلسوں میں کئی بار ایسی مناظر چلا چکے ہیں کہ امریکا ، ماضی میں پاکستانی صدر کا کس طرح استقبال کیا کرتے تھے بقول عمران خان اب پاکستان کی یہ حالت ہوگئی ہے کہ منتخب وزیر اعظم کے ” کپڑے” تک اتار لئے جاتے ہیں۔ سفارتی معیار و اقدارکے مطابق ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ کسی بھی ملک کا ہم منصب اپنے ہم منصب سے ہی ملاقات و گفت و شنید کرے۔ اگر امریکی وزیر خارجہ مائیک پاکستان آتے ہیں تو کیا پاکستانی قوم اس بات کی توقع نومنتخب وزیر اعظم سے کرسکتی ہے کہ امریکی وزیر خارجہ اپنے منصب پاکستانی وزیر خارجہ سے ہی ملاقات و مذاکرات کریں ۔ سول و ملٹری قیادتوں سے جداگانہ ملاقاتوں کی روش کا خاتمہ ہو اور برابری کی سطح پر پاک۔ امریکا تعلقات کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی جائے۔ بظاہر یہ ایک مشکل عمل ہے لیکن یہ ناممکن نہیں ہے کیونکہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت اور اصولی موقف کی وجہ سے امریکی انتظامیہ کے اہم عہدے دار کے ساتھ برابری کی سطح پر گفت و شنید کرچکا ہے۔

امریکا ، پاکستان پر جتنا دبائو بڑھانا چاہتا تھا وہ بڑھا چکا ، امریکا کو پاکستان کی جتنی امداد کم کرنا تھی وہ اُس نے کم کردی ، بھارت کی چاپلوسی کے تمام ریکارڈ امریکا توڑ چکا ہے۔ افغانستان کے دشنام طرازیوں کی پشت پناہی میں کسی قسم کی کسر نہیں چھوڑتا ۔ تو پھر اس کے بعد امریکا کا پاکستان پر دبائو بڑھانے کے لئے کیا کردار رہ جاتا ہے۔ مذہبی عدم برداشت کی واچ لسٹ میں پاکستان کو شامل کراچکا ہے ۔ پاکستان پر دبائو بڑھانے کے لئے ایف ٹی ایف کی گرے لسٹ میں نام دوبارہ داخل کرچکا ہے ۔ بلیک لسٹ میں پاکستان کا نام ڈلوانے کی ہر سعی کرچکا ہے۔ سی پیک منصوبے پر امریکی عزائم ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔ دیا میر میں پانی کی قلت کو دور کرنے کے لئے ڈیم بنانے کی اشد ضرورت ہے ، لیکن مالیاتی اداروں کو امریکا ڈکیٹیشن دے چکا ہے کہ دیا میر اور بھاشا ڈیم پر پاکستان کی مالی امداد نہ کی جائے ، یہاں تک کہ ابھی پاکستان نے اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لئے آئی ایم ایف میں بیل آئوٹ پروگرام کی کوئی درخواست بھی نہیں دی تھی کہ مالیاتی ادارے کو امریکا نے براہ راست ڈکٹیشن دے کر پاکستان کو بیل آئوٹ فنڈ دینے سے منع کردیا ۔ امریکا نے پاکستان کے فوجیوں کی تربیتی پروگرا م کو بھی ختم کردیا اور حالیہ بجٹ میںمختص فنڈز میں بھی انتہائی کمی کردی ۔

پاکستان کو اپنی مربوط اور دور رس خارجہ پالیسی بنانے کے لئے جہاں عسکری قیادت کی تجاویز کی ضرورت ہوگی وہاں پارلیمنٹ کو بھی اعتماد میں لیکر ایک ایسی پالیسی منظور کرانے ہوگی جس کے بعدکسی بھی عالمی قوت کے دبائو کو برداشت کرنے اور اسے جواب دینے کے لئے وزارت خارجہ کو پریشانی کا سامنا نہیں ہوگا ۔پاکستان وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ کہنا دلچسپ ہے کہ یہ تو وہی جگہ ہے گذرے تھے ہم جہاں سے ۔ لیکن اب حالات و واقعات و عالمی سیاسی منظر نامہ مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ اس بات کا ادارک بھی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ہوگا کہ لفاظی سے پاکستان کے مسائل کو ختم یا کم نہیں کیا جاسکتا ۔اس کے لئے پارلیمان کو اعتماد میں لے کر جرات اور خود اعتماد ی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ کیونکہ اس وقت پاکستان جس نازک دور سے گذر رہا ہے اس کی درستگی کے لئے کافی وقت ، قوت و وسائل درکار ہونگے۔

افغانستان میں کابل دوہری حکومت ایک مرتبہ پھر افغان طالبان کو مشروط مذاکرات کی پیش کش کرچکی ہے جس کا پاکستان نے بھی خیر مقدم کیا ہے ۔ کابل حکومت نے عید الفطر کی طرح افغان طالبان سے تین مہینے کی جنگ بندی کی بھی اپیل کی ہے جیسے افغان طالبان مسترد کرچکا ہے کیونکہ عید الفطر میں سیز فائر سے غلط فائدہ اٹھا کر افغان طالبا ن کے اجتماع کو جانی نقصان اور غلط پروپیگنڈا کیا گیا تھا ۔ اس وقت افغان طالبان کی مسلح مزاحمت پوری قوت کے ساتھ کابل حکومت اور امریکی اتحادیوں کے لئے درد سر بنی ہوئی ہے۔ پاکستان میں اس وقت نئی حکومت آئی ہے۔ اس لئے امریکا و کابل حکومت کے ساتھ افغان طالبان کو مذاکرات کے میز پر لانے کے لئے حقیقی معنوں میں وقت درکار ہوگا ۔ چین ، ایران اور روس کے ساتھ پاکستان کی سہ فریقی کانفرنسوں کے بعد افغان طالبان کا امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے اصولی موقف کو بھی دیکھنا پاکستان کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم عمران خان بھی جنگ کے بجائے مذاکرات کے حامی ہیں ۔ لیکن اس کے لئے دشوار راستوں کو ہموار کرنے کے لئے امریکا اور نیٹو اتحادیوں کو اپنے موقف میں بھی لچک پیدا کرنا ہوگی ۔ خاص طور پر افغان طالبان اور سعودی حکومت کے درمیان تعلقات میں جو دوریاں پیدا ہوئی ہیں ۔ اس نے افغانستان کے مسئلے کو مزید گھمبیر بنادیا ہے۔متحدہ عرب امارات اور سعودی حکومت ماضی کے بجائے اس بار امریکی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں جس پر افغان طالبان کے امیرنے عید الاضحی میں دیئے گئے پیغام میں اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کو اپنا پرانا موقف اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ جس طرح سعودی حکمرانوں نے روس کی جنگ میں افغان طالبان کی اس لئے مدد کی تھی کیونکہ سوویت یونین جارح تھا ، اسی طرح امریکا بھی ایک ایک جارح مملکت ہے جس نے افغانستان میں بزور طاقت قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے جو 17برسوں میں بھی کامیاب نہیں ہوسکے ۔

زمینی حقائق پاکستان کے لئے بڑے دشوار گذار ہیں ۔ کیونکہ ایک جانب پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو مملکت میں پناہ دی ہوئی ہے ۔ جیسے کابل حکومت واپس لینے میں لیل وحجت کررہی ہے تو دوسری جانب پاکستان سوویت یونین کی جنگ کے مضمرات سے باہر نہیں نکل سکا اور افغان، سوویت یونین جنگ کے مسلح گروپوں نے پاکستان میں محفوظ پناہ گائیں بنا لی تھی اگر پاکستان افغان طالبان کے خلاف امریکی و سعودی پالیسی پر مصر رہتا ہے اور اس جنگ کا حصہ بنتا ہے جس کا مطالبہ امریکا کررہا ہے تو ایسی جنگ کا متحمل پاکستان نہیں ہوسکتا ۔ پاکستان کے نومنتخب وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی مملکت خارجہ پالیسی کب بناتے ہیں ۔ اور اس خارجہ پالیسی پر عمل پیرا بھہ رہ پاتے ہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا ۔ تاہم نئی حکومت سازی کے اس موقع پر امریکی منفی بیانات اور ڈومور کے مطالبے غیر مناسب ہیں۔

Qadir Khan Yousafzai
Qadir Khan Yousafzai

تحریر : قادر خان یوسف زئی

Share this:
Tags:
endurance External Affairs Minister pakistan Qadir Khan Yousafzai shah mehmood qureshi برداشت پاکستان شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ
America - Turkey
Previous Post امریکا و ترکی تنائو، کون بنے گا مستقبل کا سپر پائور؟
Next Post عمران خان کے بارا رتن اور ایک لعل
Imran Khan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close