
کراچی (جیوڈیسک) شہر میں بھتہ خوری کی وارداتوں نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، تاجروں، صنعتکاروں، ٹرانسپورٹروں، ڈاکٹروں، ریسٹورینٹ مالکان اور نجی اسکولوں کے بعد اب بھتہ خوروں نے دینی مدارس کو نشانہ بنایا شروع کر دیا ہے، سائٹ میں مدرسے پر دستی بم کا حملہ بھتہ خوری کا شاخسانہ ہے۔
حملے کے بعد بھتہ خوروں نے بھتے کی رقم دگنا کر دی، تفصیلات کے مطابق بھتہ خوری کی تازہ مثال اتوار کو سائٹ کے علاقے ہارون آباد میں واقع دینی مدرسے جامعہ حفصہ للبنات پر بھتہ نہ دینے پر دستی بم کے حملے کی صورت میں سامنے آئی ہے، دینی مدرسے کی انتظامیہ سے بھتہ طلب کرنے اور نہ دینے کی صورت میں حملہ کرنے کے واقعے پر شہریوں اور مدارس کی انتظامیہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔
دستی بم حملے کے بعد بھتہ خوروں نے دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھتے کی رقم دگنی کردی ہے، اتوار کو ہارون آباد میں واقع جامعہ حفصہ للبنات پر کیے جانے والے دستی بم حملے کا مقدمہ ایکسپلوزیو ایکٹ اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مولانا فضل الحق کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف سائٹ بی تھانے میں درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے، پولیس کے مطابق مدرسے کی انتظامیہ سے 35 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا گیا تھا۔
اور بھتہ نہ دینے پر بھتہ خوروں کی جانب سے مدرسے پر دستی بم سے حملہ کیا گیا جامعہ حفصہ للبنات کے مہتمم مولانا فضل الحق نے بتایا کہ بھتے کیلیے پہلا فون 9 ستمبر 2013 کو دوپہر کے وقت آیا جس کے بعد 17 ستمبر کو پاک کالونی تھانے میں ایف آئی آر درج کرادی گئی تھی۔
