Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

انتہا پسند معاشرہ، لمحہ فکریہ

June 22, 2016 0 1 min read
Women Violence
Women Violence
Women Violence

تحریر : رقیہ غزل
آج سے چودہ سو سال پہلے عرب معاشرے میں عام رواج تھا کہ بچیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جا تا تھا ویسے تو زمانہ جاہلیت کی مروجہ رسم ہندو معاشرے میں ”ستی ” کی شکل میں اور ہمارے قبائلی علاقہ جات میں کارو کاری کی شکل میں آج بھی موجودہے مگر بدقسمتی تو یہ ہے کہ آج مہذب اسلامی معاشرے کے نادانوں اور جاہلوں نے زندہ لڑکیوں کو جلانے کی رسم اٹھائی ہے اس مکروہ فعل کی وجہ کوئی بھی ہو انسانیت کی یہ تکذیب کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے اور ویسے بھی ایک زندہ انسان کو جلانے کا اختیار کسی کے بھی پاس نہیں ہے بلاشبہ یہ انتہا پسندی مہذب اسلامی معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے عورت تو وہ مقدس ہستی ہے جو جس بھی صورت میں ہو قابل احترام اور انتہائی قابل قدر ہے اور اسے یہ شرف اسلام نے بخشا ہے مگر آج دنیا بھر میں عورت کے حقوق کے لیے جوآواز اٹھائی جا رہی ہے۔

اس ضمن میں مغربی معاشرے عورت کے سب سے بڑے محافظ بن کر سامنے آرہے ہیں اور وہ ہر اس انسان کو عزت کو دیتے ہیں جو یہ کہتا ہے کہ مسلم معاشروں میں خواتین کے ساتھ اہانت آمیز سلوک کیا جاتا ہے جبکہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورت کوعزت و وقار دیکر اسے اس کے بنیادی حقوق فراہم کئے ہیں یہ الگ بات کہ جیسے اسلام کو فرقوں میں بانٹ دیا گیا ہے ویسے ہی عورت کے حقوق کو بھی متنازعہ بنا دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج غیر مسلم معاشرے ہماری تہذیب اور عورتوں سے غیر انسانی سلوک پر ہمارا تمسخر اڑا رہے ہیں کیونکہ وہ لوگ ہماری تہذیب کو اپنا کر اپنی خواتین کو احترام دے چکے ہیں۔

اسلام جس نے عورت کو گراوٹ اور عدم تحفظ سے اٹھا کر اعلان عام کیا کہ جس کو تم صرف ایک جنس یاا ستعمال کی چیز سمجھتے ہو اس کے قدموں تلے جنت ہے وہ حوا کی بیٹی اسی مذہب کے پیروکاروں کے ہاتھوں آج ذلیل و خوار ہے ستم تو یہ ہے کہ پہلے یہ صورتحال جہالت کی بنیاد پر صرف دیہاتوں تک محدود تھی مگر آج مقدس ایوانوں کے فلور زسے لیکر تہذیب و تمدن یافتہ شہروں تک سر عام عورت کا استحصال جاری ہے اگر آپ کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسمبلی میں بیٹھنے والی یا سیاسی میدانوں میں بولنے والی عورت مضبوط ہے تو یہ آپ کی خام خیا لی ہے کیونکہ خواتین پر جملے کسنے کی روش پرانی ہے اور اب اس پر ندامت کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا بلکہ کھلے عام عورت کے کردار کو ”مشکوک ”کر دیا جاتا ہے کیونکہ عورت کا کردار بدلے اوراہانت کے طور پربگڑے معاشرے کی نظر میں سب سے آسان ہدف ہے۔

Women Violence
Women Violence

الغرض عورت کہیں بھی محفوظ نہیں ہے مردوں کی اجارہ داری نے عورت کو قابل رحم مخلوق بنا کر رکھ دیا ہے جس کا کام سورج مکھی کی طرح اس کے آگے پیچھے گھومتے رہناہے اور اگر وہ اس کی مرضی کے خلاف ایک لفظ کہے یا قدم اٹھائے تو ”معمولی تشدد” کا حق مرد کو دے دیا گیا ہے جبکہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ وآلہ وسلم کی ١٢ ازدواج مطہرات تھیں جو کہ سب ان کے حسن سلوک سے امہات المومنین قرار پائیں جبکہ اس مہذب معاشرے نے عورتوں سے غیر منصفانہ اورتحکمانہ سلوک روا کر کے ان کی عزت نفس کو مجروح کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ عورت بھی اپنی حدود کو بھولتی جا رہی ہے مرد و زن کی اسی انتہا پسندی نے لرزہ خیز جرائم اور وارداتوں کو جنم دے دیا ہے پہلے ایبٹ آباد اورراولپنڈی میں بھیانک قتل کی خبریں سامنے آئیں ابھی وہ ذہنوں سے محو نہ ہوئیں تھیں کہ لاہور میں ایک اور قتل کی لرزہ خیز داستان رقم ہوئی ان دونوں اندوہناک واقعات کی نوعیت کوئی بھی ہو مگر زمین پر دوزخ سجانے والوں نے ثابت کر دیا کہ فرعونیت کی آج بھی کوئی حد نہیں ہے صورتحال کی سنگینی کی اندازہ محض لفظوں سے نہیں لگایا جاسکتا۔

ویسے بھی دل ابھی گو مگو کی کیفیت میں ہے کہ ایک سگی ماں اپنی حقیقی بیٹی کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا سکتی ہے ۔۔اس پر اگرایک بھائی نے ایک بہن کو چارپائی سے باندھا تو اس کوبھی عقل تسلیم نہیںکرتی ہے کیونکہ بھائیوں نے بہنوں کو ہمیشہ تحفظ دیا ہے مگر ماں کی سنگدلی بعد از قیاس ہے جبکہ دوسرے واقعہ میں بھی کہیں نہ کہیں جرگہ کے فیصلے کے ساتھ باپ کو بھی شامل کیا جا رہا ہے اس انتہا پسندی کی وجہ کیا ہے؟ آج پھر حوا کی بیٹی کے ساتھ ظلم و ستم کا بازار گرم کیوں ہے؟ آئے روز قتل اور تشدد کے واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں ؟اجتماعی زیادتی اور بچوں کے ساتھ بد فعلی کے واقعات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے ؟غیرت کے نام پر قتل کی حقیقت کیا ہے ؟ہمارا احساس کیوں مر گیا ہے ؟ کہنے کوتو ہم نے ترقی کی ہے اور مہذب دنیا میں ہمارا شمار ہوتا ہے مگر ہم عورت کو ایک جائز سماجی مقام دینے کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ ہماری مردانہ جبلت یہ برداشت نہیں کرتی مگر اسی تنگ نظری نے ہم سے ہمارا تشخص ،روایات ،مذہب ،احساس اور مروت سب کچھ چھین لیاہے اورہمارے پاس بچا ہے تو اخلاق سے عاری انہتا پسند ناکام معاشرہ ۔۔۔

مجھے کہنے دیجئے کہ ایسے میںآپ کسی کو عورت کے استحصال پر فلم بنانے پر گالی نہیں دے سکتے ہیں جبکہ آپ کے ملک میں روزانہ بیسیوں خواتین اپنی عصمت کھو دیتی ہیں یا ان کے چہرے پر تیزاب گرا دیا جاتا ہے اور حیوانیت کا اختتام یہیں پر نہیں ہوتا تیزاب گردی کا شکار نابینا خاتون کو بھی سر عام لوٹ لیا جاتا ہے ایسے میں ہم دنیا میں کیوں بے نقاب نہ ہوں ،ملالہ نے اگر پاکستان چھوڑ ا ہے تو یقینا اگر وہ یہاں رہتی تو اس کو بھیانک سزا ملتی کیونکہ وہ کہیں نہ کہیں آواز بلند کرنے کی مرتکب ہوئی تھی جس کی عورت کو وہاں قطعاً اجازت نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں عورت لٹ جانے کے بعد تھانے کے باہر خود کو بے شک آگ لگا لے مگر اس کی آواز کوئی نہیں سنتا اس میں کوئی دو رائے نہیں۔

Law
Law

ہمارے ملک میں حکومت چادر اور چار دیواری کے تحفظ کی مد میں رٹ قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور آنے والی نسل کو بھی ہم نظریاتی پختگی نہیں دے رہے بلکہ انھیں صرف یہ بتا رہے ہیں کہ اسلام میں ہلکا پھلکا تشدد ”جائز” ہے یہ تشدد کن شرائط پر جائز ہے اسلام سے نابلد ذہنوں کو کون سمجھائے گا اور نہ اس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ” متشدد نسل” پھر تیار ہے اس لیے قوانین کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ سالہا سال گزر گئے قوانین بنتے رہے ،دعوے ہوتے رہے مگر سب کچھ کاغذی کاروائیوں،بیانات اور بلند و بانگ دعووں تک ہی محدود ہو کر رہ گیا اور ہر سال عورتوں کے استحصال میں اضافہ ہی دیکھنے کو آرہا ہے۔

چند دن قبل پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ میری نظر سے گزری ہے جس کے مطابق گذشتہ سال ملک بھر میں غیرت کے نام پر 1100خواتین کو قتل کر دیا گیا ہے جبکہ غیرت کے نام پر قتل ہونے والے مردوں کی تعداد 88ہے مذکورہ رپورٹ کے مطابق 833کو اغوا کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں اور 939 خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے 777 خواتین نے خودکشی و اقدام خود کشی کی کوشش کی ہے اس رپورٹ میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ 47 خواتین سزائے موت پر عارضی پابندی ہٹنے کے بعد سے پھانسی کی منتظر ہیں۔

جبکہ انھیں کوئی قانونی معاونت فراہم نہیں کی گئی ہے اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ جنسی تشدد کے خلاف واقعات میں 2014 کی بہ نسبت 2015 میں اضافہ ہوا ہے ملک بھر میں بچوں میں جنسی تشدد کے 3768 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ان میں 1974لڑکیاں اور 1794لڑکے شامل ہیں اور فکر انگیز پہلو یہ ہے کہ ان کی عمریں گیارہ سال تاپندرہ سال کے درمیان ہیں رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روزانہ ملک بھر میں تقریباً دس بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔واضح رہے کہ یہ رپورٹ ان اعدادوشمار کے مطابق ہے جن کے مقدمات درج کئے گئے ہیں جبکہ اکثر آگاہ ہیں کہ ایسے سنگین جرائم کے مقدمات رپورٹ ہی بہت کم ہوتے ہیں پھر بھی اگر صرف اسے ہی سامنے رکھ لیاجائے تو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ چادر اور چار دیواری کا تحفظ پامال ہو چکا ہے۔

Society
Society

سوال یہ ہے کہ یہ تقدس کیوں پامال ہورہا ہے اس بارے مختلف نظریات ہیں مگر حقیقت تو یہی ہے کہ حیا سوز کلچر کے فروغ ،میڈیا کی مغربی نقالی اورقانون و انصاف کی فراہمی کے نہ ہونے کی وجہ سے عورت عدم تحفظ کا شکار ہو گئی ہے خواتین تحفظ بل تو اب منظور ہوا ہے جبکہ فیملی لاز تو پہلے بھی موجود تھے پھر بھی خواتین داد رسی کی متلاشی رہیں اسی لیے استدعا ہے کہ قوانین بنانے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جو بنے ہوئے ہیں ان پر ہی عملداری کو یقینی بنا لیا جائے تو ان جرائم کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے مگر ہمارے ہاں وزارتیں بہت ہیں مگر وزیر چیدہ چیدہ ہیں چونکہ یہ دھرتی بانجھ ہو چکی ہے اور چند لوگ ہی اس قابل پیدا ہوئے ہیں جو اچھے عہدوں کو سنبھال سکیں۔

اس لیے وہ بیچارے چھ چھ وزارتیں لئے بیٹھے ہیں یہی وجہ ہے کسی ایک بھی شعبے کے نتائج اچھے نہیں ہیں مگر کیا کیا جائے کہ قابلیت کا فقدان ہے ایسے میں گزارے پر سب چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق گذشتہ سال سولہ لاکھ لڑکیاں کم عمری کی شادیوں کی بھینٹ چڑھی ہیں اور رواں سال بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں سات فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کیا یہ اسلامی ریاست ہے ؟ کہاں ہیں قوانین اور کیا ہے حکومت کا کردار اور کیا کر رہی ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں ایسی کیا قیامت ہے کہ سب کچھ ہو رہا ہے۔

پھر بھی جرائم پر قابو پانا ممکن نہیں ہو رہا ہے جبکہ گذشتہ کئی سالوں سے بڑے بڑے دعوے کئے جا رہے ہیں نمائشی بیانات سے کچھ نہیں ہوگا فصیل وقت پر ایسی کہانی لکھ جائیں کہ آنے والی نسلیں مثال دیں ورنہ تو یہ طے ہے کہ جہاں چادر اور چار دیواری کا تحفظ قائم نہ رہے ایسی ریاستوں کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

Riqiya Ghazal
Riqiya Ghazal

تحریر : رقیہ غزل

Share this:
Tags:
extreme humanity Islam moment Recently respect Society unfortunately woman احترام اسلام انتہا پسند انسانیت بدقسمتی عورت لمحہ فکریہ معاشرہ
Iftar Party
Previous Post قصور کی خبریں 22/6/2016
Next Post نہ کر شکایت کبھی رب کائنات کی تخلیق پہ
Animals

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close