
تیری خاطر اجل کو ٹالے ہیں
یہ جو آنکھوں کے گرد ہالے ہیں
سب تیری یاد کے اجالے ہیں
بزمِ ساقی میں ساغر و مینا
خود فریبی کے کچھ حوالے ہیں
ہم مروت پسند لوگوں نے
آستینوں میں سانپ پالے ہیں
زندگی کی تو آرزو ہی نہیں!
تیری خاطر اجل کو ٹالے ہیں
میرے ملبوس پہ لگے پیوند
میری پہچان کے حوالے ہیں
ہم اسیرانِ بے خودی ساحل
ہوش والوں کے تر نوالے ہیں
ساحل منیر
