Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
June 10, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

فیس بک۔ بگاڑ کا سب سے بڑا ذریعہ

September 26, 2016 0 1 min read
Facebook
Facebook
Facebook

تحریر: عبدالوارث ساجد
اور وہ فیل ہوگئی
میٹرک کا رزلٹ آیاتو گھر میں کہرام مچ گیا۔ فاطمہ چار مضامین میں فیل ہوگئی تھی یہ سنتے ہی اس کی ماں نے اسے جی بھر کر پیٹا۔ شام ہوئی ‘ فاطمہ کا باپ گھر آیا تو باپ سے بھی جھڑک پڑی۔ ماں کا کہنا تھا اس کے فیل ہونے کی وجہ صرف اور صرف ”فیس بک”ہے کیونکہ فاطمہ گھنٹوں کے حساب سے انٹرنیٹ پر سماجی رابطے کی بڑی ویب سائٹ ”فیس بک” استعمال کرتی تھی۔ وہ فیس بک پر اپنی تصاویر لگاتی۔ دوستوں کے ساتھ اظہار خیال کرتی اور جو کوئی بھی پسند آتا’ بنا جانے پہچانے اس سے دوستی کرلیتی۔ یہ اس کی روز کی سرگرمی تھی’ دن کو بھی اور رات کو بھی۔ وہ فیس بک پر ہی مگن رہتی’ اسے کھانے پینے اور پڑھنے کی کوئی فکر نہ تھی۔ اس کی امی گھر کے کام میں ہاتھ بٹانے کے لئے کہتی تو وہ پڑھائی کا بہانہ کرکے انہیں ٹال دیتی۔ اس کی امی اپنی جگہ خوش تھی کہ اس کی بیٹی بڑی دلجمعی کے ساتھ پڑھائی کر رہی ہے ۔ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھی کہ فاطمہ بڑی محنت کرکے انٹرنیٹ سے تعلیم میں مدد لے رہی ہے’ اسے کیا خبر تھی کہ بیٹی محض وقت گزاری کے لئے فیس بک پر بیشتر نوجوان لڑکے لڑکیوں کی طرح کھوئی رہتی ہے۔ رزلٹ آیا تو اس کی آنکھیں کھل گئیں لیکن تب تک پانی سر سے گزر چکا تھا’ اسے اب پتہ چلا تھا کہ اس کی بیٹی ہر وقت ”فیس بک” پر اپنا اسٹیٹس اَپ لوڈ کرتی رہتی ہے یا اپنے دوستوں کی تصویروں پر تبصرہ کرتی رہتی ہے۔ پڑھائی کو نہ توجہ دیتی اور نہ وقت جب سارا دن”فیس بک” پر برباد کرے گی تو امتحان میں پاس خاک ہوگی۔

منگنی ٹوٹ گئی
حیا کا تعلق کراچی کے مذہبی گھرانے سے ہے۔ بڑی تلاش بسیار کے بعد اس کی منگنی کراچی کے ایک نوجوان سے ہوگئی۔ لڑکا ایک ایسی فرم میں کام کرتا تھا جہاں عورتیں بھی کام کرتی ہیں۔ منگنی کے ایک ماہ بعد ہی حیا نے فیس بک پر اپنے منگیتر کا اکاؤنٹ چیک کیا تو اس کی بہت سی تصاویر لڑکیوں کے ساتھ شیئر تھیں’ اس کے فرینڈز میں لڑکیاں بھی شامل تھیں، لڑکی والوں نے یہ سب دیکھ کر لڑکے والوں سے شکوہ کیا تو انھوں نے کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا چنانچہ لڑکی والوں نے اگلے روز ہی منگنی توڑ دی۔

بہن کے منہ پر تھپڑ
لاہور کی رخسانہ تبسم وہ دن کبھی نہیں بھول سکتی جب اس کے بھائی نے سب گھر والوں کے سامنے اسے تھپڑ مارا۔ وہ شام کو جس اکیڈمی میں پڑھنے جاتی تھی’ اس اکیڈمی کا فیس بک پر بھی اکاؤنٹ تھا۔ ایک روز اس نے وزٹ کیا تو کئی سٹوڈنٹ اکیڈمی کے فرینڈز کی لسٹ میں تھے۔ رخسانہ بھی ان میں شامل ہوگئی۔ وہیں اس کی بات چیت رضوان سے بڑھنا شروع ہوگئی۔ رضوان سے دوستی کے بعد انھوں نے ایک دوسرے سے تصاویر بھی شیئر کیں۔ آخر ایک روز اس کے پاؤںتلے سے زمین نکل گئی جب اس نے دیکھا کہ رضوان نے اس کی تصویر کوا یڈٹ کر کے اسے عریاں کر دیا تھا تاکہ رخسانہ کو بلیک میل کر سکے۔ اسی بات پر ان کی لڑائی ہوئی تو وہ تصاویر رضوان نے اَپ لوڈ کر دیں۔ یہ تصویر اس کے بھائی نے بھی دیکھ لی۔ اور پھر رخسانہ کو سب گھر والوں کے سامنے نہ صرف مار کھانا پڑی بلکہ بے عزتی الگ سے ہوئی۔

Friendship
Friendship

فیس بک پر دوستی کا نتیجہ
گوجرانوالہ کی خصوصی عدالت میں اس روز بہت رش تھا’ جو سنتا توبہ توبہ کرتا’ وہاں ایک ایسی لڑکی کو پیش کیا گیاتھا جس پر الزام تھا کہ وہ فیس بک پر لڑکوں سے دوستی کر کے انہیں ڈیٹ پر بلاتی ہے اور پھر اغوا کر کے پیسے بٹورتی ہے۔ خصوصی عدالت نے فیس بک پر امیرزادوں سے دوستی اور ڈیٹ پر بلوا کر لاکھوں روپے تاوان کے لیے اغوا کرنے والی گجرات یونیورسٹی کی اس طالبہ سمیت پانچ ملزموں کو 4روزہ جسمانی ریمانڈ پر بھیج دیا۔ پولیس نے ملزمہ شیزہ سے تاوان کی رقم میں سے ایک لاکھ روپے برآمدبھی کیے۔

فیس بک پر روز بروز پیش آنے والے واقعات کی یہ چند جھلکیاں ہیں۔ اس ایک ویب سائٹ کی وجہ سے جتنا معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ لڑکیوں کی لڑکوں سے دوستیاں اور اس کے بعد لڑکیوں کا گھروں سے فرار ہونا’ موبائل فون کے بعد اب فیس بک سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے … خاص طور پر نوجوان اور نوجوانوں میں بھی طلباء کا طبقہ گمراہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ رشتوں میں تقدس ختم ہو رہا ہے اور اغوا و ڈکیتی کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

دوستی کی آڑ میں
گزشتہ دنوں فیس بک پر ہی لڑکے کے اغوا کی ایک افسوس ناک خبر سامنے آئی۔ نیو ٹاؤن کراچی کا 13سالہ مصطفی فیس بک استعمال کرتا تھا۔ وہیں اس کی دوستی کراچی کے ہی ایک لڑکے ارسلان سے ہوگئی اور دونوں دوستوں کی فیس بک پر خوب گپ شپ ہوتی تھی۔ جب اس کے دوست کو پتہ چلا کہ لڑکا امیر ہے تو اس نے مصطفی کو اغوا کرنے کا پروگرام بنایا اور طے شدہ منصوبہ کے تحت ایک روز اسے ملنے کا کہا۔ مصطفی نئے دوست سے ملنے ڈیفنس گیا جہاں ارسلان کے بھائی تیمور نے اسے اغوا کر لیا اور رہائی کے لیے اس کے گھر والوں سے پانچ کروڑ روپے تاوان طلب کیا۔بات پولیس تک پہنچی تو انھوں نے ملزمان کا سراغ لگا نا شروع کیا اور آخر نشاندہی پر جب چوکی کے قریب کارروائی کر کے مغوی مصطفی کو بازیاب کرالیا، مقابلے کے دوران 4اغوا کار مارے گئے ایک اغوا کار بھی زخمی ہوا اور فائرنگ کے تبادلے میں 2پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ مصطفی کی واپسی کے بعد اس کی والدہ نے اپیل کی ہے کہ والدین اپنے بچوں کے سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ کے استعمال پر پابندی لگا دیں۔

Robber
Robber

فیس بک پر ڈاکو بھی سرگرم
ایسا ہی ایک واقعہ گوجرانولہ میں بھی پیش آیا جہاں فیس بک پر ایک منظم گروہ لڑکیوں کے ذریعے بہت سے نوجوانوں کو لوٹ چکا تھا ۔ ایک دن خبر آئی کہ گوجرانوالہ کی لڑکی کے ذریعے ٹیلی فون اور فیس بک پر دوستی کر کے لڑکوں کو اغوا کر کے تاوان وصول کرنے والا گروہ پکڑا گیا ہے اور ان کے قبضے سے 9لاکھ روپے، متعدد سمیں اور کاریں برآمد کر لیں گئیں،حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ملزمان میں ایس ایچ او کا بیٹا، کانسٹیبل اوروکیل شامل ہیں۔ یہ سب کچھ یوں ہوا کہ ایک روز تتلے عالی کے رہائشی محسن وقار نے تھانہ صدر گوجرانوالہ میں درخواست دی کہ اس کے بھائی احسن وقار کو 22اگست سے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ ملزموں نے اس کی رہائی کے لیے 17لاکھ تاوان وصول کیا، تاوان لینے کے بعد اس کے بھائی کو تھانہ صدر کے علاقہ میں ہی چھوڑ دیاگیا، مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے موبائل کال ٹریس کرتے ہوئے ایک خاتون اور اس کے خاوند عدیل اکبر سمیت 5ملزمان کو گرفتار کر لیا۔اس کے بعد سی سی پی او گرجوانوالہ راجہ رفعت مختار نے بتایا کہ گرفتار ملزمان نے انکشاف کیا کہ عدیل اکبر اپنی بیوی شیزا کی ٹیلی فون اور فیس بک کے ذریعے لڑکوں سے دوستی کرواتا تھا اور لڑکی سے ملنے کے بہانے لڑکوں کو بلا کر انہیں اغوا کر لیتا تھا۔ ملزمان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انھوں نے کامونکی کے 2لڑکوں احمد رضا اور عامر سہیل کو بھی اس طرح اغوا کیا اور 10لاکھ تاوان وصول کیا تھا۔گرفتار ہونے والے لوگ کوئی ان پڑھ جاہل ڈاکو نہ تھے بلکہ ملزمان کے سرغنہ عدیل اکبر نے قانون کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے جب کہ اس کی بیوی شیزا آئی کام کی طالبہ ہے، ان کے ایک ساتھی عمر عرف رومی کا والد آصف ندیم ایس ایچ اوہے، ان کا چوتھا ساتھی محمد عامر کانسٹیبل ہے۔ ملزمہ شیزا نے بتایا کہ میں صرف فون پر ایک بار بات کرتی تھی، دیگر کام میر اشوہر اور اس کے ساتھی کرتے تھے، تاوان کی رقم وصول کرنے کے بعد اپنے شوہر کے ہمراہ سوات اور کاغان گھومنے گئی۔

والدین کی ذمہ داری
جب ایسی ویب سائٹ پر گھناؤنے جرائم پیشہ افراد کے ٹھکانے بن جائیں تو لامحالہ والدین کو اپنی آنکھیں کھول لینی چاہئیں اور جس قدر یہ گندے لوگ سرگرم ہیں اس کے پیش نظر اپنے بچوں کو تحفظ کے لیے ان پر نظر رکھنی چاہیے کہ ان کی اولاد کیا پڑھ رہی ہے’ کیا دیکھ رہی ہے۔والدین کو پڑھنے کے لئے بچوں کو انٹرنیٹ استعمال کرنے کی اجازت کے ساتھ ساتھ بچوں کی باقاعدہ نگرانی بھی رکھنی چاہئے بلکہ کمپیوٹر’ لیپ ٹاپ ایسی جگہ پر ہوں جہاں آتے جاتے نگاہ رکھی جا سکے۔ ایسے میں حکومتی اداروں کو بھی سخت انٹرنیٹ پالیسی تشکیل دینی چاہئے۔ نامناسب صفحات پر پابندی لگائی جائے اور اگرکوئی ایسا صفحہ ہو جہاں غلط معلومات فراہم ہوں’ اس کے خلاف فوری کارروائی ہو۔ اب تو شاید ہی پاکستان کا کوئی گھر ہو جس کا کوئی فرد فیس بک ٹوئیٹر جیسی سوشل ویب سائٹ استعمال نہ کرتا ہو۔ طلباء میں تو فیس بک کے جراثیم حد سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ وہ آنے والے خطرے سے بے خطر فیس بک استعمال کرتے ہیں اور اپنے حالات و واقعات، خاندان بھر کی سرگرمیاں ‘خوشی غمی کی تمام خبریں، دن رات کے احوال سب کچھ دوستوں کے ساتھ شیئر ہوتا ہے۔ نوجوان لڑکیاں بھی کچھ کم پیچھے نہیں۔ وہ اپنی دوستوں کے ساتھ فیملی تصاویر تک شیئر کرتی ہیں جس کا بعد میں بہت ہی بھیانک نقصان سامنے آتا ہے۔ فیس بک کے لوگوں میں بڑھتے رحجان ہی کے پیش نظر اس ویب سائٹ پر گھناؤنے کام کرنے والے لوگوں نے ڈیرے جما لیے ہیں۔ ان کی تعداد دیکھیں تو آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ جاتی ہیں۔

لوگوں کے جعلی اکائونٹ
فیس بک کے مطابق اس ویب سائٹ پر اس وقت آٹھ کروڑ تیس لاکھ سے زائد غیر قانونی اکاؤنٹس یا جعلی صارفین ہیں۔ فیس بک کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت فیس بک کے صارفین کی تعداد پچانوے کروڑ پچاس لاکھ ہے اور ان میں سے آٹھ اعشاریہ سات فیصد نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔ دوہرے اکاؤنٹس یا دوہری شناخت رکھنے والے صارفین کل تعدا کا چار اعشاریہ آٹھ فیصد ہیں۔ اس کے علاوہ کاروبار یا پالتو جانوروں کے لیے ذاتی پروفائلز یا معلومات کا غیر درجہ بندی تناسب دو اعشاریہ چار فیصد ہے جب کہ ایک اعشاریہ پانچ فیصد صارفین کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ فیس بک کی جانب سے یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اس پر دیے جانے والے اشتہارات کے مؤثر ثابت ہونے کے حوالے سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ فیس بک کے مطابق دوہرے اکاؤنٹس وہ ہیں جس میں صارف اپنے بنیادی اکاؤنٹ کے علاوہ دوسرے اکاؤنٹ کو استعمال کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ناپسندیدہ اکاؤنٹس وہ ہیں جس میں صارف جعلی نام استعمال کرتا ہے اور ایسا کرنے کا ارادہ کمپنی کے سپیمنگ جیسے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ فیس بک کے کاوباری ماڈل کا انحصار اشتہارات کے ایک مخصوص انداز پر ہے اور اس میں صارفین کی جانب سے مصنوعات یا اشتہارات کو پسند کرنے کے طریق کار کی چھان بین کو مزید سخت کیا جارہا ہے۔ فیس بک کے مطابق آمدنی کا ایک معقول حصہ اشتہارات سے حاصل کیا جاتا ہے اور اشتہارات سے محروم ہونا یا فیس بک پر اشتہار دینے والوں کی تعداد میں کمی سے ہمارے کاروبارپر انتہائی بُرا اثر پڑسکتا ہے۔

فیس بک پر لائیکس حاصل کرنے کے لیے اشتہارات دینے پر کمپنیاں خطیر رقم ضائع کر رہی ہیں جن کا شاید ان کی مصنوعات سے دُور تک کا تعلق نہیں ہے۔ اس حوالے سے کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ جعلی کمپنی کو پسند کرنے والے صارفین کی ایک بڑی تعداد کا تعلق مشرق وسطیٰ اور ایشیا سے تھا۔ اس میںکئی صارفین نقلی تھے جیسا کہ احمد رونالڈو جو بظاہر مصر میں مقیم تھے۔اور ایک ہسپانوی فٹبال کلب رئیل میڈرڈ کے ملازم تھے۔ اسی طرح گزشتہ ہفتے ایک ڈیجیٹل ڈسٹری بیوشن لمیٹڈ پریس نے اپنے طور پر ایک سافٹ وئیر کے ذریعے کی گئی تحقیق میں فیس بک پر الزام لگایا تھا کہ اس کے اشتہارات کو پسند یا کلک کرنے والوں کی 80فیصد تعداد جعلی تھی۔ دوسری جانب یہ شکایات بھی بڑھ رہی ہیں کہ مرد خواتین تصاویر اور نام استعمال کر کے جعلی اکاؤنٹ بنا رہے ہیں۔ جب کہ فیس بک انتظامیہ اس اقدام کو روکنے کا کوئی مؤثر اقدام کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

Womens
Womens

خواتین کے لئے لمحہ فکریہ
حیرت انگیز اور افسو ناک بات یہ ہے کہ دھوکے دہی کے اس بازار میں جانے کے لیے پھر بھی نوجوان نسل دھڑا دھڑ آگے آرہی ہے۔ نہ اسے روکنے والے والدین ہیں نہ ان کا خیر خواہ کوئی اور طبقہ ۔حالانکہ پاکستان میں سوشل میڈیا خصوصاًفیس بک استعمال کرنے والے سینکڑوں صارفین روزانہ بلیک میلنگ اور ہیکنگ کا شکار ہو رہے ہیں۔ بلیک میلنگ کا شکار ہونے والے صارفین میں 95فیصد خواتین ہیں۔ پاکستان بھر میں خصوصاً شہر کراچی میں فیس بک کے ذریعے خواتین کو بلیک میل کرنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے ایک ماہر شاہد عباسی نے بتایا کہ فیس بک اکاؤنٹ میں خواتین کی اپ ڈیٹ کی ہوئی تصاویر کو بعض لوگ ایڈٹ کر کے ایسی تصاویر میں بدل دیتے ہیں جو کسی کو دکھانے کے قابل نہیں ہوتیں۔ اس طرح کے افراد خواتین کو یہ کہہ کر بلیک میل کرتے ہیں کہ اگر خواتین نے ان کا کہا نہ مانا تو ان کی ایڈٹ کی گئی تصاویر کو فیس بک سمیت سوشل میڈیا پر مشتہر کر دیا جائے گا۔ یہ تصاویر ان کے گھر بھی بھیج دی جائیں گی جس کی وجہ سے خواتین خصوصاً کالج اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والی طالبات اس طرح کے ملزمان کے ہاتھوں بلیک میلنگ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ بلیک میلر افراد زیادہ تر فیک (جعلی) اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہیں جس سے ان کا پکڑا جانا مشکل ہوتا ہے۔ ایف آئی اے سائبرکرائم سرکل نے حال ہی میں عزیز آباد کراچی میں کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم حفیظ کو گرفتار کیا ہے جس نے فیک (جعلی) اکاؤنٹ کے ذریعے ایک لڑکی کی برہنہ تصاویر بنا کر فیس بک اور لڑکی کے قریبی عزیزوں کے اکاؤنٹس پر شیئر کی تھیں۔

زمانہ قیامت کی چال چل رہا ہے
زمانہ جس تیزی سے ترقی کے ادوار طے کر رہا ہے’ روز بروز نت نئی ایجادات منظر عام پر آرہی ہیں۔ فیس بکس’ ٹوئٹر جیسی سائٹس جہاں لوگوں کے درمیان باہمی رابطے کو فروغ دیتی ہیں’ وہیں ان کے باعث منفی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ نوجوان ان سوشل ویب سائٹس کے عادی ہوچکے ہیں اور ہر عمرو سن کے افراد انہیں استعمال کر رہے ہیں۔ کم عمر بچے’ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں’ گھریلو خواتین ‘ مرد غرض تمام ہی عمروں کے لوگوں میں ان کا استعمال دن بدن بڑھ رہا ہے۔ بغیر کسی مقصد کے ان کااستعمال وقت کا ضیاع اور نقصان کا باعث ہے۔
فیس بک دنیا بھر کی طرح پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا سماجی رابطہ ہے۔ والدین کی کثیر تعداد کے مطابق یہ ویب سائیٹ کم عمر بچوں اور نوجوان نسل کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ فیس بک کے منفی اثرات پر روشنی ڈالیں تو سب سے پہلے تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ ہے’ نوجوان گھنٹوں فیس بک پر بیٹھے وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں ‘ مختلف کمپیوٹر گیمز اور پسندیدہ صفحات ”Like” کرتے ہیں۔ کبھی دوستوں اور عموماً اجنبیوں سے بات چیت میں وقت گزارتے ہیں۔ فیس بک کی یہ لت تیزی سے پاکستان میں پھیل کر ایک بڑے مسئلے کو پیدا کر رہی ہے جو پاکستانی والدین کے لئے سنگین پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔
فیس بک پر بچے مختلف صفحات پر جاکر غیر ضروری کمنٹس کرتے ‘ اپنی عمر سے بڑے بڑے موضوعات زیر بحث لاتے ہیں۔ فیس بک کے استعمال کا باقاعدہ طریقہ معلوم نہ ہونے پر بہت سے لڑکے لڑکیاں ہیکرزکے جال میں پھنس رہے ہیں۔ نوجوان لڑکوں لڑکیوں کی بڑی تعداد کو اکائونٹ محفوظ بنانے’ پرائیویسی سیٹ کرنے کا درست طریقہ معلوم نہیں ہوتا۔ نوجوان لڑکیاں بغیر پرائیویسی سیٹ کئے تصاویر شیئر کر رہے ہوتے ہیں جن کا ہیکرز باآسانی غلط استعمال کرتے ہیں۔

”فیس بک” دین سے دوری کا سبب بھی
رات دن گھنٹوں کے حساب سے بلامقصد انٹرنیٹ کا استعمال جسمانی حرکت کے نہ ہونے سے بھوک کو بڑھاتا ہے جو جسم کی کمزوری کا سبب بنتا ہے۔ سب سے بڑا نقصان پڑھائی کامتاثر ہونا’ مکمل وقت نصاب کو نہ دے پانااور ذہنی یک سوئی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ صرف جلد بازی میں اپنا ہوم ورک محض خانہ پری کے لئے کیا جاتا ہے۔ ایک بڑا نقصان نوجوانوں کی دین سے دوری بھی ہے۔ جو وقت نماز وقرآن کا وقت ہے’ وہ فیس بک کے غیر معیاری صفحات پر کمنٹس کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ اس دوران نوجوانوں پر جنون کی سی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ بارہا اپنا کائونٹ چیک کرتے ہیں نوجوان محض فیس بک پروفائل کی بنیاد پر ایک دوسرے کو جانتے ہیں جو اکثرجھوٹ پر مبنی ہوتی ہے۔ فیس بک پر اخلاقی ضابطے کے نہ ہونے سے بچے وقت سے پہلے ذہنی و جسمانی بلوغت کو پہنچ رہے ہیں۔ مغربی روایات جن میں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کا رجحان ہے’ پاکستانی معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔

آج کے جدید دور میں کسی بھی طرح رابطے کے ان ذرائع سے انکار ممکن نہیں۔ ایجادات تو ہوتی ہیں انسان کی آسانی اور ترقی کے لئے۔ یہ انسان کی اپنی ذات پر منحصر ہے’ وہ کب ‘کیسے اور کس طرح اسے اپنے لئے کارآمد بناتا ہے۔ ہم فیس بک کو یک سر خراب یا منفی بھی نہیں کہہ سکتے لیکن ہمیں اس کے استعمال کا باقاعدہ طریقہ کار طے کرنا ہوگا جس کی ذمے داری گورنمنٹ ‘والدین اور خود نوجوانوں پر عائد ہوتی ہے۔

Abdul Waris Sajid
Abdul Waris Sajid

تحریر: عبدالوارث ساجد

Share this:
Tags:
facebook source بگاڑ ذریعہ فیس بُک
Humanity
Previous Post انسان کو نوید دو کہ انسان مر گیا
Next Post حسن خیال ۔۔ تیرا خیال ۔۔
Tera Khayal

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close