Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری

March 10, 2013 0 1 min read
Islamic Women
Islamic Women
Islamic Women

معاشرے کے لئے عورت کی اہمیت کا اندازہ نپولین بونا پارٹ کے اس قول سے ہوتا ہے: ”تم مجھے اچھی مائیں دو، میں تمہیں اچھی قوم دوں گا”۔ عورت کی گود مدرسے کی ما نند ہے، یہاں انبیا نے بھی پر ورش پائی، صدیقین وشہدا نے بھی، مجاہد جر نیلوں اور غازیوں نے بھی جو تاریخ میں اپنا نام سنہری حرفوں میں ثبت کراگئے ، اسی گود میں پرورش پانے والوں نے چنگیز خان، ہلا کو خان اور ہٹلر بن کر ، تاریخ انسانی میں ظلم کے سیاہ باب رقم کئے۔

وہ خواتین جنہوں نے بعد میں آنے والے تا زہ ادوار میں افغانستان ، کشمیر ، چیچنیا، بو سنیا ، فلسطین اور اراکان میں محمود غزنوی ، صلاح الدین ایوبی، محمد بن قاسم اور ٹیپو سلطا ن جیسے لا کھوں ”دشمن کو بچھاڑ نے والے” پیدا کئے ، دشمن کو اس فکر میں مبتلا کر گئیں کہ اگر مسلم خواتین ایسے ہی شیر دل تیار کر تی رہیں تو دنیا سے ان کے مقاصد کا بوریا بستر گول ہو جا ئے گا چنا نچہ انہوں نے مسلم معاشروں میں جال پھینکنے کا پلان بنا یا اور خواتین کو احیائے اسلام کے راستے سے دور کرنے کے لئے ، انہیں خانہ داری، بچوں کی تعلیم وتربیت اور مجاہد صفت افراد تیار کرنے کے کاموں سے بیزار کرکے آزادیٔ نسواں کا شوشا چھوڑا۔

ایسی تحریکیں وجود میں آئیں جو عورت کے لئے فطرت کے ودیعت کر دہ کا موں کو عورت پر ظلم اور اس کا استحصال قرار دینے لگیں ۔ آزادیٔ نسواںکے نام پر تفریخ ونشاط کی محفلیں سجا نا شروع کیں ، انہیں فیشن پر ستی ،بے پردگی کے بعد عریانی کی راہ پر گامزں کرنا شروع کیا ، چادر اور چاردیواری کو دورِ قدیم کی علا مت قراردے کر اس قید وبند سے باہر آنے کی راہ سجھا ئی جا نے لگی۔

وہ علا متیں جو عورت کی صفت وعصمت کی نگہبان تھیں ، تہذیب ِ جدید میں عورت کی آزادی کے نعروں کے شور میں ان پر خوب فقرے کسے گئے۔ ان کو عورت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ اور دقیانوسیت قرار دے کر عورت کو ان سے نفرت دلا ئی گئی ، پھر مساواتِ مرد وزن کا زہر گھول کر ، معاشی ذمے داریاں بھی ان کے نازک کا ندھوں پر ڈالنے کی کو ششوں کا آغا ز ہوا۔ یہ تہذیبِ ابلیس کا جال تھا، جس نے مسلم عورت کو اپنے چنگل میں جکڑ لیا اور پھر ٹی وی ، فلم اور ڈش ایسے ہتھیار ثابت ہوئے جن کی آمد کے بعد تہذیبِ جدید کے نعرئہ مساوات ِ مر د وزن کو کھل کھیلنے کا موقع ملا۔مسلم عورت کو گھر سے باہر نکال کر شمع محفل بنا نے اور مرد کی برابر ی کی راہ سجھانے میں مغرب کا ہاتھ تھا۔

Muslim Women
Muslim Women

اس کا خیال تھا کہ جب تک مسلم معاشروں کی عورت کو نہ بگاڑا جا ئے اُس وقت تک مسلم دنیا کا اولاً خاندانی اور ثانیاً معاشرتی نظام نہ بگڑ ے گا۔ اور جب تک مسلم دنیا معاشرتی زبوں حالی اور ٹوٹ پھو ٹ کا شکار نہ ہو گی اُس وقت تک” نیوورلڈ آرڈر” کا خواب شر مندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔ چنانچہ ابتدائی اقدام کے طور پر ”خواتین کے حقوق وآزادی” کے در پردہ ”خاتون بگاڑ” تحریکیں شروع کی گئیں اور مسلم خاتون کو بھی مغرب کی خاتون کی طرح استحصال کی راہ پر ڈال دیا گیا۔ اس آوازپر روشن خیال ” بیگمات نے لبیک کہا ۔

عورت سے متعلق قوانین اسلامی پر تنقیدیں کی گئیں ، اپنی مرضی کی تاویلیں ایجاد کی گئیں ، عورت پر عائد اسلامی حدودوقیود (جو حقیقت میں صنف ِ نازک ہو نے کے نا تے ، بعض ذمے داریوں سے اسے عہدہ برا کرتے ہیں ، اور بعض احتیاطوں کا پا بند بنا کر اسے شر ف ومرتبہ عطا کر تے ہیں ) کو عورت پر ظلم قرار دیا گیا ، اور اسلامی لبا دہ جو خود انہوں نے اتار کر دور پھینک دیا تھا دیگر خواتین کو بھی اسے اتار پھینکنے کا مشورہ دے کر مغرب کے اس پرو گرام کو بڑھ چڑھ کر کا میاب بنا یا۔

مغرب کی جس عورت کی پیروی کی راہ پر مسلم عورت کو گامزن کیا جا رہا ہے کیا وہ کا میاب ہے؟ یورپ کی خواتین کی آزادانہ سر گرمیوں سے متاثر ہو کر ، تہذیبِ جدید میں آزادیٔ نسواں اور مساوات ، مردوزن کے نام پر عوت کو گھر چھوڑ کر باہر کی راہ اختیار کرنے کی جو ترغیب دلا ئی جارہی ہے وہ راہ مغرب کی عورت نے اُس وقت اختیار کی تھی جب وہاں صنعتی انقلاب بر پا ہوا۔ اشیا کی قیمتیں بڑھیں تو کم آمدنی والے افراد کے لئے گزارہ کرنا مشکل ہو گیا ۔ اس عالم میں عورت کسبِ معاش میں مردکا ہاتھ بٹانے کے لئے میدان میں نکل کھڑ ی ہوئی ۔ ابتدا میں اُس نے محسوس کیا کہ اسے پہلے کی بہ نسبت معاشرے میں حیثیت ومقام حاصل ہواہے۔

اس نے معاشی کا موں سے مرد کو سہارا دینا شروع کیا ور دوسری طرف معاشرتی سر گرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگی ۔ ابتدا کے یہ خوشگوار نتائج جب انتہا ئی درجے کو پہنچے تو ان کی صورت انتہا ئی مسخ ہو چکی تھی، جب عورت نے گھر بار چھوڑ کر معاش ومعاشرت کو تر جیح دینا شروع کی تو وہ انتہا ئی تلخ حقائق سے دوچار ہوئی ۔ اب فطر ت کے عائد کر دہ کام یعنی بچوں کی پر ورش اور تعلیم وتربیت تو اسے کر نا ہی تھے مگر جب مرد کی برابری اختیار کرکے فطرت کی مشیت کی نفی کی اور معاش جیسا کا م بھی ازخود اپنے کا ندھوں پر اٹھا یا تو اسے معلوم ہونے لگا کہ اسے مرد کی برابری کے دھوکے میں مرد کے مقابلے میں دوہری ذمے داریاں ادا کرنا پڑرہی ہیں۔

Women
Women

چنانچہ اس کے بعد وہ مادرانہ ذمے داریوں سے گریز کی راہ اختیار کر نے لگی جس کا نتیجہ یہ بر آمد ہوا کہ مغربی معاشرہ تتر بتر ہو گیا۔ اب مغربی گھر ویران مگر سڑکیں ، کلب ، ہوٹل اور دفاتربارونق ہو گئے، بچے ماؤں کی ممتا سے محروم ہو کر جب بے بسی کی زندگی گزارتے ہیں تو وہ ”بے حس ” تیار ہو تے ہیں ۔ بیمار بوڑھے والدین ہمدردی کے دو بول کو تر ستے ہیں ، مشرقی معاشروں کی طرح انہیں ”تراشیدہ ہیرا ” سمجھ کر اہم خاندانی معاملات میں ان سے رائے طلب نہیں کی جاتی ، نہ ان کو ”قیمتی گوہر” کی حیثیت دی جاتی ہے ، بلکہ جوانی میں عیش ونشاط سے بھر پورزندگی گزار کرجب وہ بڑھاپے کی جانب گامزن ہو تا ہے تو اسے غیر ضروری قرار دے کر”اولڈایج ہو مز” Old age homes) ( کی طرف دھکیل دیا جا تا ہے۔

خاندانی نظام تلپٹ ہو گیا ہے افرادِ خانہ کے مابین محبت والفت کے جذبات کوئی معنی نہیں رکھتے ۔ گھر کے سکون کو ٹھو کر مار کر جب عورت باہر نکلی تو ہزاروں ہولنا ک نگاہوں کا شکار ہوئی ، بے حیائی عام ہوئی اور پھر ایسی بے حیا تہذیب نے جنم لیا کہ شرافت کا لبادہ تا ر تار ہو گیا ۔ ماد ی ونفسانی خواہشات کی دوڑ سے بھر پور مگر الفت ومحبت سے عاری اس جرائم زدہ معاشرے کے بچوں میں خود کشی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ بچے اپنی تنہائیوں کا غم ”منشیات” سے مٹاتے ہیں یاوالدین ان پر یہ احسان کرتے ہیں کہ انہیں ” چائلڈ کیئر سینٹرز” میں داخل کر کے اپنی خلاصی کرلیں ۔ عورت کسی بھی موقع پر ہمدردی کی مستحق نہیں ہو تی۔

مغربی مرد آج بھی یہی چاہتے ہیں کہ عورت ہر معاملے میں ان کا صادر کیا ہوا حکم تسلیم کرے اور ہرحال میں گھر یلو اور معاشی ذمے داریاں اداکرے۔ مغرب کی معاشرت کا حال یہ ہوا کہ عورت نے مساوات کے فریب میں خود اپنے جسم وجان پر ظلم کا باب کھولا، جی بھر کے اپنا استحصال کر ایا اور فطرت نے صنفِ نازک ہونے کی حیثیت میں جن ذمے داریوں سے اس کو دور رکھا تھا خو د ہی ان کا ہار اپنے کا ندھوں پر اٹھایا ۔ آزادیٔ نسواں اور مرد کی برابری کے نعرے نے مغربی معاشرے کو افراتفری وانتشار سے دو چار کیا ہے اور عورت کو ظلم واستحصال کی منہ بولتی تصویر بنا دیا ہے۔

کیا مغربی عورت اور مغربی معاشرے کی حالتِ زار ایسی ہی قابلِ تقلید ہے کہ مسلم معاشروں کو بھی اسی رخ موڑ دیا جائے؟ اور مسلم عورت جو معاشرتی نظم وضبط ، حیا کے فروغ ، عصمت وعفت کی حفاظت اور خاندانی نظام کے استحکام میں ذمہ دار کر دار ادا کر رہی ہے اسے آزادیٔ نسواں کے نام پر تفریخ ونشاط، فیشن وبے پر دگی ، کسبِ معاش کا راستہ دکھا یا جائے اور ہو ٹلوں ، کلبوں ، مخلوط محفلوں ، تھیٹروں اور ٹی وی کی اسکرین کی رونق بنا کر استحصا ل کی راہ پر ڈال دیا جائے؟ حوا کی بیٹی کو ہر جگہ آزادی وبرابری کے دھوکے میں ظلم واستحصال کا تحفہ ملا ہے ، مگر اس کے باوجود اسے اس راہ پر چلانے کا عمل جاری ہے۔

Women
Women

آزادی وبرابری کے سفر پر حوا کی بیٹی کو گامزن کرنے والوں کو مغرب کے ٹوٹے پھوٹے معاشرے سے ضرور عبرت پکڑنی چاہئے ، وہ معاشرہ جس میں خواتین کی آزادی کی پُر زور حمایتی خواتین ، اپنے خیالات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو گئیں ۔ بی ٹی فریڈ ن جو مغرب میں خواتین کی آزادی کی پر جو ش علم بردار تھیں اپنی کتا ب میں لکھتی ہیں: ” کیا اولا د سے نجا ت حاصل کر کے یا خاندان کے ادارے سے با ہر نکل کر عورت حقیقی معنوں میں امن وسکون حاصل کر سکتی ہے۔

آزادیٔ نسواں ومساواتِ مردوزن کا نعرہ لگا نے والی ایک اور خاتون جر من گریئر کہتی ہیں : ” ہمارے سب اندازے غلط ثابت ہوئے، ہمیں ملا زمت سے زیادہ گھر کی ضرورت ہے”۔ (بحوالہ : جدید تحریک ِ نسواں اور اسلام ، مصنفہ، ثریا بتول علوی) پس اے روشن خیال حضرات وبیبیو! مغرب کی نظروں کو خیرہ کرنے والی چمک دمک کی طرف مت لپکو کہ یہ تو جھو ٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے۔رہے نام میرے رب کا جس نے عورت کو ایک ممتاز مقام عطا کیا لیکن ہم نے دنیا داری میں اس کو بھلا دیا
تحریر : سمیع اللہ ملک

Share this:
Tags:
False Society جھوٹے معاشرے
Previous Post 9 مارچ 2013 پاکستان کی آبی ضرورت اِس امر کی متقاضی ہے
Next Post میڈیا جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کراچی کے حالات خراب کرنے والوں کو بے نقاب کرے

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close