Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

فقیر مجاہد منصوری کے نام

April 30, 2015 0 1 min read
Writer
Writer
Writer

تحریر: محمد شہباز سلیم
مولانا ظفر علی خان کا ایک شعر خفیف سے تغیر کے ساتھ قابل صد احترام ‘استاد صحافت’ کالم نگار مجاہد علی منصوری’ جنہوں نے کالم میں خود کو فقیر لکھا ہے اور جو مجاہد کامران کے کردار اور حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں کے حضور پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں
فقیر(فقیہ) مصلحت بیں سے وہ رند بادہ خوار اچھا

اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کہنا چاہتے کہ ملالِ احوال دوستاں ہمارا مقدر ہے’ہمیں ان کی مجبوری کا علم ہے مگر’ سر داد نہ داددست دردست یزید’ بھی تو ایک طرز عمل ہے’مجبوریوں کے سامنے سر نہیں جھکایا جاتا۔

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ

حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے کہا ہے’افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر’اقوام اور اداروں کا عروج و زوال اور ان کی تقدیر ان کے سربراہوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے’پاکستان کا مسئلہ لیڈرشپ ہے۔پنجاب یونیورسٹی جیسے قومی اداروں کی باگ ڈور ایسے کرپٹ’کوتاہ نظر’عاقبت نااندیش اور نااہل افراد کے ہاتھ میں ہے جنہیں صرف اور صرف اپنا پست اور حقیر مفاد عزیز ہے۔پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ کی وہ بڑی تعداد جو تعلیمی اداروں اور پنجاب یونیورسٹی میںجرنیل کریسی کی صحیح طور پہ شدید مخالف تھی جب آج کی صورتحال کا موازنہ کرتی ہے تو وہ جنرل ارشد محمود جن کا تعلق تعلیم و تدریس سے دور کا بھی نہیں تھا کو سراہنے پہ مجبور ہو جاتی ہے کیونکہ وہ مجاہد کامران جیسے نام نہاد ماہر تعلیم جو فراڈ سے پروفیسر بنے کی حقیقت و اہلیت جان چکی ہے۔ موجودہ وی سی کو وی وی بنانے اور دوسری مدت کی توسیع دلانے کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والے تمام دوست اور ساتھی اس کی شنیع حرکات اور قابل مذمت کردار کے سامنے آنے پہ شرمندہ ہیں اور ان سے علیحدہ ہو چکے ہیں۔ان میں مجاہد منصوری صاحب بہت آگے تھے اور کہا کرتے تھے کہ مجاہد کامران کے اس روپ کا انہیںاندازہ نہیں تھا انہوں نے بہت مایوس کیا ہے۔لیڈر شپ کے لیے بنیادی شرائط کیا ہیں اور ان میں سے کتنی مجاہد کامران میں پائی جاتی ہیں؟مجاہد کامران میں کتنی دیانت’صداقت اور راست روی موجود ہے’بصیرت جو ذاتی اغراض سے بلند ہومجاہد کامران میں کتنی ہے؟سب جانتے ہیں۔

مجاہد منصوری صاحب نے اپنا یہ کالم ایک ممتاز اور مشہور قومی چینل کے ایک پروگرام کے جواب میں لکھا ہے اس پروگرام کو انہوں نے ملک کی قدیم ترین اور عظیم قومی درسگاہ پر حملہ قرار دیا ہے۔انہوں نے اپنے کالم کو پنجاب یونیورسٹی کے دفاع میں لکھا ہوا قرار دیتے ہوئے جو کچھ بھی لکھا ہے وہ بجا طور پہ مجاہد کامران کا دفاع ہے نہ کہ پنجاب یونیورسٹی کا۔انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ مجاہد کامران نے یونیورسٹی کے بیچ میں سے سڑک گزارنے کے لیے زمین مفت دی اس کا مقصد مفاد عامہ نہیں بلکہ اس کی آڑ میں اس سڑک کے ارد گردچکر چلا کر نام نہادپچاس ارب کی خرید و فروخت میں گھپلے اور ہاتھ رنگنا ہے۔یونیورسٹی کیمپس کو دو حصوں میں تقسیم کر دینا اور یونیورسٹی میں تعلیم و تعلم کے لیے درکارپرسکون ماحول کو مارکیٹوں’پلازوں’ کمرشل سرگرمیوں اورٹریفک کے شور و ہنگامے سے تباہ کر دینایونیورسٹی پہ حملہ نہیں تو اور کیا ہے؟انہیں اس وقت یونیورسٹی کے دفاع کی کیوں نہیں سوجھی۔مجاہد کامران کے غیرا خلاقی’غیر قانونی اعمال و افعال سے یونیورسٹی کے وقار و اعتبار اور مقام پہ جو قیامت گزری ہے کیا وہ انہیں نہیں پتہ پھر سب کچھ جانتے ہوئے انہوں نے اصلاح احوال کے لیے کیوں کچھ نہیں لکھا۔حقیقت یہ ہے کہ ان کا مذکورہ کالم یونیورسٹی کے دفاع میں نہیں مجاہد کامران کے دفاع میں ہے۔
انہوں نے لکھا ہے کہ ایسے پروگراموں کو حقائق پہ مبنی ہونا چاہیے۔ان کا کالم جو 21اپریل کو شائع ہوامیں انہوں نے جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے اس کی تصویر کا صحیح اور سچا رخ قارئین کے لیے پیش ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں موجودہ خوش کن پیشرفت جنرل ارشد محمود کی تعلیمی منصوبہ بندی اورHECکی پالیسیوں کی ترویج کے لیے کیے گئے اقدامات کا ثمر ہے۔ان اقدامات کے نتجے میں فیکلٹیوں کی تعداد9سے بڑھ کر13ہو گئی۔جنرل ارشد محمود نے 16نئے شعبے قائم کیے’37شعبوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے باقاعدہ پروگرام شروع کیے گئے۔25شعبوں میں ایم اے اور15میں بی اے’ بی ایس سی کے نئے پروگراموں کا آغاز ہوا۔یونیورسٹی میں وسیع پیمانے پہ کمپیوٹرز کا استعمال متعارف کرانے کے علاوہ ایک نئے تعلیمی رجحان اور لکھنے پڑھنے کا ماحول پیدا کیا گیا ۔مختلف شعبہ جات کونہ صرف کمپیوٹرز’سکینرز اورپرنٹرز مہیا کیے گئے بلکہ دفاتر اور تحقیق و تدریس مں ان کے استعمال کو رائج کیا گیا’یونیورسٹی کے تمام اداروں میں کمپیوٹرز لیبز قائم کی گئیں’انٹرنیٹ کی سہولت کے لیے فائبر آپٹک بچھائی گئی جس سے علم کی اک نئی اور وسیع و عریض دنیا طالبعلوں اور اساتذہ پہ آشکار ہوئی’یوں مطالعاتی’تحقیقی اورمقالہ نگاری کانفرنسوں میں شرکت کے نئے در واہوئے۔الیکٹریکل’پلانٹ پتھالوجی’ایم ایم جی’آئی ٹی کالج’آئی بی آئی ٹی’آئی بی بی میں سکالر شپس دینے کی سکیم اور نظام کو جاری کیا گیا۔بورڈ آف ایڈوانسڈ سٹڈیز ایڈ ریسرچ میںپی ایچ ڈی کے مقالوں کے موضوعات اور خاکوں کے دفاع کے لیے طالبعلموں اور نگران اساتذہ کو مدعو کرنے کا طریقہ کار شروع کیا گیا۔کیریئر کونسلنگ کے شعبے کا آغاز ہوا۔سلیکشن بورڈز میں اساتذہ اور آفیسرز کے انتخاب کو شفاف بنانے کے لیے’ ایجوکیشنل کیریئر مارکس’ ماہرین مضمون واراکین سلیکشن بورڈ کے نمبروں کی شرح اور امیدوار کے حاصل کردہ نمبروں کی بنیاد پہ انتخاب کا نظام متعارف کرایا گیا۔ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مربوط ترقی کے لیے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کا شعبہ قائم کیا گیا۔

Punjab University
Punjab University

یونیورسٹی میںپی ایچ ڈی اساتذہ’تحقیقی مقالہ جات اور طلباء کی تعداد میں75فیصد اضافے کا کریڈٹ جنرل ارشد محمود اورHECکو جاتا ہے۔یہ سارے حقائق ریکارڈ پہ ہیں جن کے دستاویزی ثبوت پیش کیے جا سکتے ہیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مجاہد کامران کی تعریف و توصیف میں جناب مجاہد منصوری صاحب حقائق کا خیال رکھیں کہ

اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بندِ قبا دیکھ

انہیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ مجاہد کامران کے دامن پہ کتنے اور کیسے کیسے چھینٹے ہیں۔مجاہد کامران کا دعوی ہے کہ پنجاب یونیورسٹی پہ جمیعت کی استحصالی گرفت’بھتہ خوری’ہاسٹل نمبر ایک میں قائم ٹارچر سیل اور متوازی حکومت ختم کرنا ان کا کارنامہ ہے۔حالانکہ یہ دعوی حلوائی کی دوکان پہ نانا جی کی فاتحہ کے مترادف ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ اس ٹیم کی وجہ سے ممکن ہوا جس نے مسلسل کوشش کرتے ہوئے ‘ہمت واستقلال سے کام لے کر ‘مارپیٹ و جسمانی تشدد’گھروں پہ فائرنگ’قتل و غارت گری’ بیٹیوں کو اٹھا لینے’عصمت دری کی دھمکیوں اورقتل کے مقدمات کی پرواہ نہ کی ۔جبکہ اس ساری فضا ء و ماحول میںمجاہد کامران صاحب بالا بالا اور خفیہ خفیہ جماعت اسلامی کے۔۔۔۔صاحب’سید۔۔۔۔کے ساتھ ڈنرز اور میٹنگز میں سمجھوتوں اور مفاہمتوں کے لیے جوڑ توڑ کی دوہری گیم میں لگے رہتے تھے۔ایک جانب چیف سیکیورٹی آفیسرز’اسٹیٹ آفیسرز اور گارڈز کو برا بھلا اور نااہل کہہ کر اپنے آپ کو مضبوط اور نہ جھکنے والا ہونے کے دعوے کرنا اور دوسری جانب جماعت اور جمعیت کے سرکردہ افراد سے خوشگوار تعلقات اور حمایت و تائید کے لیے خفیہ میٹنگیں اور ملاقاتیں کرنا مجاہد کامران کی دوغلی پالیسی تھی۔اس پالیسی کی وجہ سے چھ ریٹائرڈ ایس ایس پی’ریٹائرڈ کرنل’ میجر اور کیپٹن آئے لیکن مستعفی ہو کر چلے گئے۔کون نہیں جانتا کہ جب پولیس نے تشدد میں ملوث جمعیت کے ناظم ایک پروفیسر کے داماد کی گرفتاری کے لیے پروفیسر کے گھر یونیورسٹی کالونی میں چھاپہ مارا تو اجازت دے کر سارے معاملے سے لاعلمی ظاہر کر دی گئی۔اپنی جان بچانے کے لیے سارا ملبہ ریذیڈنٹ آفیسرپروفیسر بشیر احمد پہ ڈال کر تنظیم اساتذہ اور جمیعت کے دبائو پہ ریذیڈنٹ آفیسر سے استعفی لینے کی کوشش کرنا مجاہد کامران کے اصل کردار کو ظاہر کرتی ہے۔

بلوچ لیڈروں سے ملاقاتوں اور تبادلہ خیال کو مجاہد کامران کا کارنامہ قرار دینا حقائق سے انحراف کی بدترین مثال اور زید کی پگڑی بکر کے سر باندھنے کے مترادف ہے حالانکہ یہ پیشرفت اردو ڈائجسٹ کے مدیر ممتاز صحافی الطاف حسن قریشی اور ان کی تنظیم کا قابل تحسین اقدام تھا۔پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ طالبعلوں کو مفت تعلیم دینے کے خیال اور تجویزپہ غیر رسمی تبادلہ حیال الطاف حسن قریشی کی جانب سے کیا گیا تھا تاکہ عبدالمالک اور ڈاکٹر جہانزیب کی طرح بلوچ طلباء لاہور اور پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کریں اور ان میں محبت و اعتماد کا جذبہ جنم لے سکے۔کیا اس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ

(1) پنجاب یونیورسٹی اس وقت کلی طور پرذاتی سیاسی روابط اور اغراص و مقاصد کے حصول کے نکتہ نظر سے ایڈہاک ازم کے تحت چلائی جا رہی ہے۔آڈٹ کے مسلسل اعتراض اورگورنر پنجاب و چانسلر کی سخت ہدایت کے باوجود گزشتہ آٹھ سال سے رجسٹرار’ایڈیشنل رجسٹرار’خزانہ دار’کنٹرولر امتحانات’چیئرمین ہال کائونسل’ ریذیڈنٹ آفیسر’ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور چیف سیکیورٹی آفیسرز جیسے اہم انتظامی عہدوں پہ عارضی تعیناتیاں کی جا رہی ہیں تاکہ ان عہدوں پہ فائز افراد خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہوئے وائس چانسلر کے رحم و کرم پہ رہیں اور غیر قانونی کاموں کی مخالفت یا مزاحمت نہ کریں۔

(2)پانچ سال سے پرو وائس چانسلر کا تقرر نہیں ہونے د یا گیا۔
(3)شازیہ قریشی18سال میں ایسوسی ایٹ کے عہدے کی اہلیت پیدا نہیں کر سکیں مگر مجاہد کامران کی بیوی بن جانے سے یہ معجزہ رونما ہوا کہ وہ ان کی طاقت اور اختیار کے کرشمے سے تین ماہ میں ہی سب سینیئر اساتذہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایسوسی ایٹ پروفیسر’پروفیسر اور ڈین بن گئیں۔

Education
Education

(4)مجاہد کامران کے کل تین افراد پہ مشتمل موجودہ خاندان کے لیے وی سی ہائوس میں توسیع کی گئی اور اس توسیع و تزئین پہ ایک سال میں ایک کروڑ سے زائد رقم صرف کی گئی حالانکہ پچاس سالوں میں کسی وی سی نے جن مں کئی بڑے بڑے خاندانوں سے بھی تعلق رکھتے تھے اتنے اخراجات نہ کیے۔
( 5)وی سی نے غیر قانونی طور پہ دو رہائش گاہوں پہ قبضہ کیا ہوا ہے جن میں وی سی ہائوس اورگرلز ہاسٹل نمبر8کا وارڈن ہائوس شامل ہیں۔ ان رہائش گاہوں کے بل بھی ادا نہیں کیے جا رہے۔

( 6)یونیورسٹی میں خوف وہراس کا عالم ہے جو بھی کسی غیر قانونی کام کی نشاندہی کرتا ہے اس کے خلاف مقدمات بنائے جاتے اور انکوائریاں کی جاتی ہیں’اساتذہ کو دوسرے اساتذہ سے ملنے پہ دھمکیاں دی جاتیں اور ڈرایا جاتا ہے’ان کی عدم موجودگی میں وائس چانسلر مجاہد کامران مغلظات بکتا ہے۔
(7)سنڈیکیٹ کے فیصلوں پہ عمل نہیں کیا جا رہا’ جن کی ثبوت کے ساتھ طویل فہرست مہیا کی جا سکتی ہے۔

( 8)وی سی نے طارق نامی رشتے دار کوچار سالوں سے ایگزیکٹو کلب میں ٹھہرایا ہوا ہے جس کا بل تقریبا 48لاکھ بنتا ہے۔اس شخص کی سرگرمیاں انتہائی مشکوک ہیں ایجنسیوں کو اس پہ تحقیق کی ضرورت ہے۔
( 9)یونیورسٹی میں بھرتیوں کا غیر قانونی اور جعلی طریقہ اختیار کیا گیا ہے پہلے ایڈہاک تعیناتی کی جاتی ہے پھر آسامی مشتہر کیے بغیر شرائط اور قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مستقل کر دیا جاتا ہے۔
(10)سپیشل آڈٹ’گورنر پنجاب’چانسلر’سنڈیکیٹ اورHEDکی سخت ممانعت کے باوجود اشتہار دیے اور سلیکشن بورڈ منعقد کیے بغیر وی سی گریڈ19کی آسامیوں پہ خود تعیناتیاں کر رہا ہے حالانکہ اس کا اختیار تو وزیر اعلی کو بھی نہیں۔
(11) بیرون ملک اعلی تعلیم کے سکالر شپس دینے میں میرٹ کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں’پالیسی کے خلاف پسندیدہ افراد کو امریکہ برطانیہ اور دیگر ملکوں کے پچاس لاکھ سے زائد کے وظائف دیے جا رہے ہیں۔
( 12)یونیورسٹی کی زمین و جائیداد کی کوئی کمرشلائزیشن پالیسی نہیں ہے۔کمرشلائزیشن کی پالیسی’قوائد اور شرائط مقرر کرنا سنڈیکیٹ کا اختیار ہے لیکن سب کچھ سنڈیکیٹ کو نظرانداز کر کے کیا جا رہا ہے۔
(13) چار عدد گاڑیاں وی سی کے استعمال میں ہیں اور اتنی ہی ان کی بیگم صاحبہ کے استعمال میں بھی جن کے اخراجات یونیورسٹی کے فنڈز سے کیے جا رہے ہیں اور یہ گاڑیاں ملازمین کے بھی استعمال میں بھی ہیں۔

تحریر: محمد شہباز سلیم

Share this:
Tags:
journalism name writer صحافت نام
Badin
Previous Post ذوالفقار مرزا کی حمایت میں بدین شہر میں کارکنوں اور جانثاروں کی شاندار ریلی
Next Post نشاط ضیاء قادری شاہ فیصل کالونی میں انٹر کے امتحانی مراکز کا دورہ
Karachi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close