Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

فاٹا تاریخ کے آئینے میں اور خیبرپختوخواہ میں انضمام

December 27, 2017 0 1 min read
FATA
FATA
FATA

تحریر : میر افسر امان
فاٹا (فیڈرل ایڈمنسٹرٹیڈ ٹرائیبل ایریا) پاکستان کے شمال مغرب میں پاکستان کے خیبرپختونخواہ صوبے اور افغانستان کے درمیان بفر زون ہے ۔جسے انگریزوں نے انیسوی صدی میں افغانستان کے راستے سرخ انقلاب کو روکنے اور سرحدی قبائل کو کنٹرول کرنے کے لیے بنایا تھا۔ فاٹا میںاُس وقت سے انگریزوں کا بنایا ہوا کالا قانون ایف سی آر(فرنٹیئر کرائم ریگولیشن) لاگو ہے۔فاٹا کا یہ علاقہ سات( ٧) ایجنسیز، خیبر ایجنسی،باجوڑ ایجنسی،مہمند ایجنسی،اورکزئی ایجنسی،کرم ایجنسی، جنوبی اورشمالی وزیرستان ایجنسی اورچھ (٦)سرحدی علاقے( فرنٹیئر ریجن)، پشاور، کوہاٹ،بنوں،لکی مروت،ٹانک،ڈیرہ اسماعیل خان پر مشتمل ہے۔فاٹا کی آبادی تقریباً ایک کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔فاٹا کا علاقہ ٦٠٠ کلومیٹر لمبا اور ١٣٠ کلومیٹر چورا ہے۔ اس علاقے کے قبائل نے پاک فوج اور پونچھ کے ریٹائرڈ کشمیری فوجیوں کے ساتھ مل کر موجودہ آزاد کشمیر کا تین سو میل لمبا اور تیس میل چوڑا علاقہ بھارت سے لڑ کر آزاد کرایا تھا۔کشمیری مجائدین سری نگر تک پہنچنے والے تھے کہ بھارت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اقوام متحدہ گیا۔

کشمیر میں رائے شماری کے وعدے پر جنگ بندی کرائی۔ پھر اپنی جد امجد چانکیہ کوٹلیہ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے رائے شماری کرانے سے صاف مکر گیا۔ فاٹا جس کے پاکستان اورافغانستان دونوں طرف پشتوں قوم آباد ہے ۔جن کی آپس میں رشتہ داریں ہیں۔کہیں گائوں کی آدھی آبادی پاکستان کی طرف اور آدھی آبادی افغانستان کے طرف ہے۔تاریخی طور پر یہ علاقہ بہادر جنگ جوئوں کے لیے مشہور ہے۔آئین اس موقعہ پرفاٹا کے لوگوں کے متعلق کچھ تاریخی دلچسپ حقائق پر بات کریں۔کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں خیبر مرگلہ کلب نے ایک تقریب کا انتظام کیا۔جس میںتین تازہ کتب کی رونمائی کی گئی۔ جس میں کی ایک انگلش میں لکھی گئی کتاب (خیبرپختونخواہ ۔اے پولیٹیکل ہسٹری۔ ١٩٠١ ء سے ١٩٥٥ئ) کے مصنف ڈاکٹر فخرالاسلام ،ڈاریکٹر ،پاکستان اسٹڈیز سینٹر،یونیورسٹی آف پشاور نے اپنے تقریر میں اس علاقے سے متعلق چنددلچسپ باتیں بتائیں۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ میں اس کتاب کے لیے مواد تلاش کرنے برطانیہ، انڈیا آف لائبیری گیا۔ تلاش کے دوران، معلوم کر کے حیرن ہوا کہ وہاں پر موجود، برٹش برصغیر پر لکھی گئی تمام کتب میں دو تہائی کتب خیبرپختونخواہ پر لکھی گئیں۔جس میں فاٹا کایہ اہم علاقہ بھی شامل ہے۔ جبکہ خبیرپختونخواہ کے علاقے کا رقبہ اور آبادی انگریزوں کے برصغیر کے مقبوضہ علاقوں سے رقبے اور آبادی سے بہت کم تھا۔

یعنی خیبرپختونخواہ کے نسبتاً کم علاقے پر زیادہ کتابیں لکھی گئیں۔ جس سے ثابت ہوتا کہ یہ علاقہ انگریزوں کے لیے وبال جان بنا رہا۔ ایک اور بات ڈاکٹر صاحب نے بتائی کہ مغل بادشاہ بابرنے تزک بابری میں لکھتا ہے کہ میں نے اس علاقے سے گزرنے کے لیے انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے تھے۔یعنی قتل و غارت کے بعد اس علاقے سے گزر سکا۔۔۔ اب بھی تقریباً ساری مسلح انتہا پسند تنظیمیں جن پر پاکستان نے پابندی لگائی ہوئی ہے اسی علاقے کی پیداوار ہیں۔ جس میں پاکستان دشمن ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) بھی شامل ہے۔جب افغانستان پر سویٹ یونین نے قبضہ کیا تھا تو اس علاقے کے قبائل نے سویٹ یونین کو افغانستان سے نکانے میں اپنے افغان مسلمان بھائیوں کی جہاد میں مدد کی تھی۔ اُس وقت یہ مجائدین کہلاتے تھے۔سویٹ یونین کے ٹوٹنے کے بعد افغانستان میں طالبان نے اسلامی حکومت بنائی۔ طالبان کی اسلامی حکومت افغانستان کی تاریخ کی پہلی پاکستان دوست حکومت تھی۔ پاکستان کے مغربی سرحد محفوظ ہو گئی تھی۔ افغانستان کی قوم پرست حکومت اور سرحدی گاندھی کے پختونستان کا مسئلہ بھی طالبان نے حل کر دیا تھا۔امریکا نے ٢٠٠١ ء میں اُسامہ کا بہانے بنا کر افغانستان پر قبضہ کر کے طالبان کی اسلامی حکومت ختم کر دی۔ افغان طالبان اور اسلام پسند لوگوں نے امریکا کو اپنے ملک سے نکالنے کے لیے پھر جدو جہد شروع کر دی۔ ایک بار پھر یہ قبائل افغان طالبان کی مدد کے لیے افغانستان میں داخل ہوئے۔

ڈکٹیٹر مشرف نے امریکا کی دھمکی میں آکر ناٹو فوجیوں کو پاکستان کے بحری ،بری اور فضائی راستے استعمال کرنے کی اجازت دی۔ اسلام آباد میں مدرسہ حفصہ میں زیر تعلیم پٹھان بچیوں پر فوج کے ذریعے فارسفورس بم مار کر سیکڑوںکو زندہ جلا دیا۔ اس زیادتی پر پشتوں ناراض ہوئے۔ سابق سفارت کاراکرام ذکی مرحوم کے ایک تھنک ٹینک کی تحقیقات کے مطابق پشتونوں نے اسی وجہ سے حفصہ بریگیڈ بنایا اور پاکستانی فوج کے خلاف لڑائی شروع کر دی۔ ڈکٹیٹر مشرف نے فاٹا پر ڈرون حملوں کی امریکا کو اجازت دی۔ جس پر سیکڑوں قبائلی اور ان کے محصوم بچے اور خواتین شہید ہوئیں۔ اس وجہ سے کود کش بمبار پیدا ہوئے۔باجوڑ میں ایک دینی مدرسہ ڈمہ ڈولا پر امریکا نے میزائل حملہ کر کے اسی(٨٠) طلبہ کو بغیر کسی وجہ کے شہید کر دیا۔جس سے قبائل میں نفرت نے جنم لیا۔ امریکہ کو لاجسٹک سپورٹ دیکر ڈکٹیٹر مشرف نے افغانستان کو تورا بورا بنانے میں امریکا کی مدد کی۔ اس سے طالبان پاکستانی فوج کے خلاف ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ختم کرنے میں امریکا کے ساتھ پاکستان کی فوج بھی شامل ہے ۔لہٰذا وہ بھی ہماری ایسا ہی دشمن ہے جیسے امریکا۔ طالبان نے پاکستان میں اپنے حمائیتوں کے ساتھ مل کر پاکستان میں فوجی انسالیشنز پر حملے کیے۔ اس میں بھارت اور امریکا کے فاٹا میں دہشت گردی کے ٹرینیڈ شدہ دہشت گرد بھی شامل ہو گئے۔ امریکی کنٹریکٹز بلیک واٹر بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئی۔امریکا کے وزیر دفاع کا بیان پریس میں شائع ہوا تھا کہ کہ جس طرح بلیک واٹر نے عراق میں امریکا کی مدد کی تھی ایسے ہی پاکستان میں بھی ہماری مدد کر رہی ہے۔ ڈکٹیٹر مشرف نے بین الاقوامی قانون کی خلاف درزی کرتے ہوئے پاکستان میں افغان کے سفیر ملا ضعیف صاحب کو امریکا کے حوالے کیا۔ جسے امریکا مشہور زمانہ بدنام جیل گروانتا موبے لیے گیا۔ اس نے ایک عرصہ تک ظلم و ستم برداشت کرنے کے بعد رہائی پائی اور ڈکٹیٹر مشرف کی زیادتی کو اپنی لکھی گئی کتاب میں بھی ذکر کیا۔ ڈکٹیٹر مشرف نے ٦٠٠ جہادیوں کو پاکستان میں پکڑ کر امریکا کے حوالے کیا۔اس کا ذکر خود اپنے کتاب( کتاب سب سے پہلے پاکستان) میں کیا۔ ان سب واقعات کی وجہ سے خطے کے عام مسلمان ،افغان طالبان اور پاکستانی طالبان پاکستان کے خلاف ہو گئے۔ امریکا نے ڈکٹیٹر مشرف پر زور ڈال کر پاکستان میں قبائل پر فوجی آپریشن شروع کروائے۔ کئی دفعہ فوج اور ان جنگ جو طالبان کے میں جنگ بندی کے لیے معاہدے ہوئے مگر امریکا نے ان پر عمل درآمند نہیں کرنے دیا۔ قبائل نے بھی واپس پاک فوج سے لڑنا شروع کیا۔ پھر بھارت اور امریکا نے اپنے ٹرینیڈ گئے ہوئے دہشت گرد اور بلیک واٹر پاکستانی طالبان میں داخل کیے۔جنہوں نے پاکستان میں تبائی پھیلا دی۔ فوجیوں کے گلے کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلا۔ اللہ کا شکر ہے، کہ بلا آخر پاک فوج نے آپریش کے ذریعے ان علاقوں پر قابو پا لیا۔ بھارت اور امریکا کے ٹرینیڈ کیے ہوئے دہشت گرد افغانستان بھاگ گئے۔

اب وہاں سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کر رہے ہیں۔ اس سے ان علاقوں پر فوج کی بمباری سے سارے گھر تباہ ہو گئے۔ یہ لوگ در بدر ہوئے۔ اب ان علاقوں میں ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔ نوازشریف نے سپریم کورٹ سے نا اہل ہونے سے پہلے فاٹا کو پاکستان کے شہریوں کے برابر آئینی حقوق دینے کے لیے سینیٹر سرتاج عزیز کی سربرائی میں فاٹا اصلاحات کمیٹی بنائی۔ اس کمیٹی نے محنت کر کے فاٹا کو خیبر پختوخواہ میں شامل کرنے کی سفارشات تیار کی۔ پاکستان کی فوج اور ساری سیاسی پارٹیاں فاٹا کو خیبرپختوخواہ میں شامل کرنے کی حامی ہیں۔ اللہ کرے جلد از جلد حکومت ان اصلاحات کو منظور کے فاٹا کے لوگوں کو پاکستان کے شہریوں کے ساتھ برابر کے حقوق دے۔ اس سے فاٹا میں بے چینی ختم ہو گئی اور پاکستان مضبوط ہو گا۔۔۔ اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے ،تو سترویں صدی میں جب برطانیہ نے ہندوستان میں اپنے پنجے جمانے شروع کئے اوراپنی حکومت مستحکم کر لی تواس کے بعداس نے افغانستان پراقتدار قائم کرنے کی کوشش شروع کی۔ انگریزوں نے سرخ انقلاب کو دریائے آمو تک محدود رکھنے کی غرض سے افغانستان پر 1838 ء میں اپنے جنوبی پنجاب اور بمبئی کے مرکزوں سے حملہ کیا اور اپنے ہمنوا ،شاہ شجاع کو افغانستان کے تخت پر بٹھا دیا۔ اِس قبضے کے بعد افغان قبائل نے انگریزوں پر حملے شروع کیے۔ کابل میں انگریز ایجنٹ سر الیک زنڈر برنیس کو قتل کر کے ٹکرے ٹکرے کر دیا ۔ اسی دوران دوست محمد خاں کا فرزند ، اکبر خاں اپنی جمعیت کے ساتھ حملہ آور افغان قبائل کے ساتھ آ ملا ۔ اس نے انگر یزوں سے کہا کہ شاہ شجاع کود ست بردار کریں۔ انگریز سپاہ ہمارا ملک خالی کریں۔ اس وقت سیاسی اقتدار انگریز سفیر میک ناٹن کے ہاتھ میں تھا۔ اکبر خان نے اسے طلب کیا تواُس نے اکبر خان سے بدتہذیبی سے بات کی۔ اس پر اُسے فوراً گولی سے اُڑا دیا گیا۔ انگریز فوج کی تمام توپیں اور گولہ بارود اکبر خان نے قبضے میں لے لیں۔ باقائدہ فوج پانچ ہزار تھی۔ گیارا ہزار لشکری تھے۔ جو 1842 ء کو پشاور کی طرف روانہ ہوئے۔ ان فوجیوں کو کابل کے تنگ درے میں غلزئی قبائل نے گھیر لیا اور ختم کر دیا۔ کیوں کہ اس قبیلے پر انگریزوں نے بہت ظلم کیا تھا۔ مشہور ہے کہ پورے لشکر میں سے صرف ایک فرنگی ڈاکڑ کو چھوڑا گیا ،کہ واپس جا کر انگریزوں کوحالات بتائے۔ اس کے بعد 1893 ء میں افغانستا ن سے برطانیہ نے بین الاقوامی سرحد کا معاہدہ کیا جو سر مورٹیمرڈیورنڈ اور امیر عبدلرحمان کے درمیان ہوا۔ جواس کے نام ڈیورنڈ لین سے مشہور ہوا۔ مختلف وقتوں میں اس معاہدے کی تجدید ہوتی رہی۔ آخر میں 1930 ء میں بادشاہ نادر شاہ سے ہوئی ۔جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک تاریخی اور متفقہ بین الالقوامی سرحد ہے۔

اسی ڈیورنڈ لین کا قصہ افغانستان کی حکومت نے پاکستان بننے کے بعد سرحدی گاندھی مرحوم غفار خان کی آشیراباد سے پاکستانی حکومت کے ساتھ چھیڑے رکھا۔۔۔ اسی ڈیورنڈ لین کے اِس پار فاٹا کا علاقہ ہے۔جو ہمارا آج کا موضوع ہے۔ اور اُس پار یعنی دوسری طرف افغانستان کا علاقہ ہے ۔ دونوں طرف پٹھان آباد ہیں۔ان ہی علاقوں کے غریب فاقہ مست قبائل اور افغانستان نے دنیا کی تین بڑی طاقتوں،برطانیہ جس کی سلطنت پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔سویٹ یونین جسے دنیا سفید ریچھ کہتی تھی ۔جو جس ملک میں گھستا واپس نہیں جاتا تھااور اب نیو ورلڈ آڈر والے امریکا کو شکست سے دوچار کیا ہوا ہے۔ شاعر اسلام علامہ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال نے کیا خوب کہا ہے:۔
فطرت کے مقاصد کی کرتاے نگہبانی
یا بندہ ِ صحرائی یا مرد کوہستانی۔

اصل میں اس علاقے کوانگریزوں نے برٹش انڈیا کی حفاظت کے پیش نظر افغانستان اور برٹش انڈیا کے درمیان بفر زون بنایا تھا۔ کیو نکہ کہ سویٹ یونین مسلمان ریاستوں پر قبضہ
کرتے کرتے آگے بڑھتا ہوا ،افغانستان کے دریائے آمو تک پہنچ چکا تھا۔ سویٹ یونین اپنے لیڈر بانی ایڈورڈ کے قول پر عمل کرتے ہوئے افغانستان اور پاکستان کے راستے خلیج تک جانا چاہتا تھا۔ اسی لیے اُس نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا۔سویٹ یونین قوم کے بانی ایڈورڈنے کہا تھا کہ دنیا پر وہ قوم غلبہ پائے گی جس کاخلیج پر کنٹرول ہوگا۔ در اصل انگریزوں نے فاٹا کے جنگو قبائل کو کنٹرول کرنے کے لیے١٩٠١ء میں ایف سی آر قانون بنایا تھا جسے عرف عام میں دنیا کا کالا قانون کہتی ہیں۔ جب پاکستان بنا تو فاٹا کے لوگوں کو امید بنی تھی کہ ان کو بھی پاکستان کے آئین کے مطا بق شہری حقوق ملیں گے۔

قائد نے بھی کہا تھا کہ قبائلیوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے گا۔مگر انگریز کا بنایا ہوا کالا قانون اب تک لاگو ہے۔فاٹا کو پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔خان اور ملک فاٹا کے عوام پر مظالم کرتے ہیں۔فاٹا میں رسم رواج کے تحت جرگہ کے تحت فیصلے ہوتے ہیںمگر اس میں بھی انصاف ملنا مشکل ہے۔چھوٹی سے غلطی سے لوگوں کے گھر جلا دیے جاتے ہیں۔ ایف سی آر کی وجہ سے فاٹا کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوتے رہے ہیں۔ فاٹا میں نہ کوئی یونیورسٹی ہے۔ نہ کوئی کالج ہے۔نہ پاکستان کے دوسرے لوگوں کی طرح برابر کے حقوق ہیں۔ نہ پختہ سڑکیں ہیں۔١٩٧٣ء کے آئین میں بھی فاٹا کے لیے کوئی بھی قانون نہیں بنایا گیا۔البتہ ٢٠٠٨ء میںپیپلز پارٹی کے دور میں اُس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اسمبلی میں وعدہ کیا تھا کہ ایف سی آر کالا قانون ختم کر دیا جائے گا۔ پھر سابق صدر زردار ی نے ١٤ اگست ٢٠٠٩ء کو سفارشات کے لیے کمیٹی بنائی تھی۔پیپلز پارٹی نے فاٹا کے عوام کو ووٹ کا حق دیا۔اس سے قبل ملک سسٹم کے تحت انتخابات ہوتے تھے۔ فاٹا کے ملک اور خان حضرات لاکھوں عوام کے نمائندے خود منتخب کرتے تھے۔

اب جب فاٹا کو خیبرپختونخواہ میں ضم کرنے، پاکستان کے آئین کے مطابق حقوق دینے ا ور ایف سی آر کالے قانون کو ختم کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں تو ان ملکوں نے مخالفت کی ہے۔ ووٹ کاحق دینے کا یہ طریقہ کامیاب رہا۔ فاٹا کے نمائندے عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر قومی اسمبلی میں آتے ہیں۔فاٹا کے عوام کا مطالبہ ہے کہ فاٹا کو خبیرپختونخواہ میں شامل کیا جائے۔ فاٹا کے منتخب نمائندے کہتے ہیں ہم سے سو بار پوچھا گیا ہم نے سو بار بتایا کہ ہم خیبرپختوخواہ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ فاٹا کے منتخب ممبروں نے پارلیمنٹ کے سامنے اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کیا دھرنا بھی دیا تھا۔ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں، جس میں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی،جماعت اسلامی،(ق) مسلم لیگ،اسفنڈ یار ولی خان کی پارٹی، شیر پائو کی پارٹی اور خود (ن)لیگ نے بھی فاٹا کو خیبرپختونخواہ میں شامل کرنے کا کہا ہے۔بلکہ نواز شریف نے فاٹا اصلاحات کے لیے اپنے مشیر سرتاج عزیز کی سربرائی میں کمیٹی بنائی تھی۔

جس نے ڈیڑھ سال محنت کر کے فاٹا اصلاحات تیار کیں۔ اس کمیٹی نے فاٹا کے عوام،جرگا،وکلائ، طلبہ،تاجروں،سیاستدانوں یعنی فاٹا کے تمام حلقوں مشورے کیے، تمام حلقوں نے ایف سی آر کا خاتمہ اور فاٹا کی خیبر پختونخواہ میں شمولیت شامل ہے۔ وفاقی وزیر،عبدالقادر بلوچ نے اعلان کیا تھاکہ ١٨ دسمبر کو فاٹا اصلاحات بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائیے گا۔ پھرپارلیمنٹ کے گزشتہ جاری رہنے والی لسٹ میں فاٹا اصلاحات کا بل شامل بھی کیا گیا تھا۔پارلیمنٹ کے ممبران میں یہ کاز لسٹ تقسیم بھی کی گئی۔ جس میں بحث کے بعد اسے قانون کے مطابق پاس ہونا تھا۔اسی دوران ن لیگ حکومت کے اتحادی ،جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان صاحب نے نواز شریف کو فون کیا اور بل پارلیمنٹ میںپیش کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ جس پر حکومت نے یہ کہہ کر کہ مذید مشاورت درکار ہے، بل کو کاز لسٹ سے نکال دیا گیا۔اس پر اپوزیش کے ممبران پارلیمنٹ نے بھر پور احتجاج کیا۔ کاز لسٹ کی کاپیاں پھاڑ ڈالیں۔ اس سے قبل جماعت اسلامی کے امیر، سینیٹر سراج الحق نے ١٠ دسمبر تا ١٢ دسمبرفاٹا انضمام لانگ مارچ کیا۔ فاٹاخیبر سے چلا ہوا، یہ فاٹا انضمام لانگ مارچ اسلام آباد پہنچا، تو ایک جلسے کی صورت اختیار کر گیا۔ پارلیمنٹ کے سامنے اسلام آباد میں لانگ مارچ کے اس جلسے میں خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے حکومت کو ٣١ دسمبر تک وقت دیا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ سے بل پاس کروا کر فاٹا کو خبیر پختونخواہ میں شامل کرے۔ ورنہ پورے پاکستان سے لوگوں کو اسلام آباد جمع کیا جائے گا اور حکومت اس احتجاج کے سامنے ٹہر نہیں سکے گی۔اس موقعہ پر پارلیمنٹ میں لیڈر آف حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ صاحب نے بھی اپنے خطاب میں بل کو کاز لسٹ سے نکالنے پر سخت احتجاج کیا اور جب تک بل دوبارہ پیش نہیں کیا جاتا، پارلیمنٹ کے اجلاس سے واک آوٹ کر نے کا اعلان کیا۔ نجی ٹی کے مشہور اینکر پرسن، فاٹا کے رہائشی اور سینئر صحافی، سیلم صافی صاحب نے بھی حکومت کو خبردار کیا اور کہا کہ فاٹا کے عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اسے خیبرپختونخواہ میں شامل کرے۔ اس جلسے میں جماعت اسلامی خیبرپختونخواہ کے امیر ،فاٹا کے امیر اورولپنڈی اسلام آبادمیں فاٹا سے متعلق تاجر تنظیموں کے نمائندوں نے بھی اپنے خطاب میں فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا۔ پارلیمنٹ میں اپوزیش کے شور کے بعد اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ مجھے حکومت اور اپوزیش کو فاٹا انضمام پر ایک میز پر لانا پڑے گا جبکہ پارلیمنٹ کے جاری اجلاس میں فاٹا اصلاحات بل کو اپوزیشن کی کو ششوں کے باوجود حکومت نے منظوری کے لیے پیش نہیںکیا۔ وزیر اعظم کی سربرائی میں، فضل الرحمان اور آرمی چیف نے فاٹاصلاحات کا حل ڈھونڈنے کے لیے ملاقات کی۔ فضل الرحمان نے مشروط طور پر بل کی حمایت پر آمادگی ظاہر کی۔ دوسری طرف ایک صحافی کے تجزیہ کے مطابق، فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کہتے ہیں کہ فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے۔

کبھی کہتے ہیں کہ جرگے کے ذریعے فاٹا کے عوام کی رائے معلوم کی جائے۔جبکہ سرتاج عزیز صاحب کی کمیٹی نے پورے فاٹا سے رائے لے کر فاٹا اصلاحات بل پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا۔تجزیہ کے مطابق فاٹا میں محمود خان اچکزئی کی کوئی بھی حمایت نہیں ۔ فاٹا کے کسی ایک گھر پر اس کی پارٹی پشونخواہ ملی پارٹی کا جھنڈا نہیں لگایا جاتا۔ نہ یہ صاحب فاٹا کی کسی خمی خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔ تو پھر فاٹا کے وکیل کیسے بنے پھرتے ہیں۔ یہ صاحب تو کہتے ہیں کہ فاٹا سے دریائے سندھ تک کے علاقے کو افغانستان میں شامل ہونا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں فاٹا سے معلوم کرو کہ وہ کس ملک کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں؟ فضل الرحمان کے اپنے مفادات ہیں وہ کچھ لو کچھ دو کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے مان چائیں گے۔ اس دوران فاٹا سے (ن) لیگ کے ممبر قومی اسمبلی شہاب الدین خان صاحب نے اعلان کیا کی جمعہ تک بل پیش نہ کیا گیا تو میں پارلیمٹ کی ممبر شپ سے استعفیٰ دے دوں گا۔حکومت فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کو فاٹا اصلاحات پر راضی نہ کر سکی۔ اپوزیشن کا مسلسل نویں روز بھی احتجاج اور واک آوٹ کیا۔ حکومت نے بلاآخر قومی اسمبلی کے اجلاس کو غیر معینہ مدتک ملتوی کر دیا۔( ن) لیگ حکومت نے اپنے اتحادیوں کو خوش کرنے کے لیے، اپنی ہی بنائی ہوئی ،سرتاج عزیز فاٹا اصلاحات کمیٹی کے بل کو اپوزیش کے سخت احتجاج اور واک آوٹ کے باجود اسمبلی میں پیش نہیں کیا ۔ کہا جا رہا ہے کہ اتفاق رائے پیدا کر کے اس بل کو آئندہ آنے والے اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائے۔ وزیر اعظم نے جمرود میں فاٹا یوتھ فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایف سی آر ظالمانہ قانون ہے۔فاٹا کو بہت جلد قومی دھارے میں شامل کیا جائے گا۔ قبائلیوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی تکمیل ضروری ہے۔فاٹا کی ہر ایجنسی میں یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔

صاحبو! پاکستان کے قبائل پاکستان کے دوست تھے اور دوست ہیں۔ گریٹ گیم کے تحت دشمنوں نے اور کچھ خود ہماری حکمرانوں کی بے بسیرتیوں نے انہیں پاکستان کا دشمن بنا دیا ہے۔ گریٹ گیم کے تحت ،پہلے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت اور امریکا نے مہاجروں میں ایک غدرار وطن الطاف حسین کو استعمال کیا۔ جس نے پاکستان کے معاشی حب کراچی ،جو پاکستان کوستر(٧٠) فی صد ریوینو کما کر دیتا ہے، کو تیس(٣٠) سال تک ڈسٹرب رکھاہے۔ جب پاکستان کی معاشی خراب ہو گئی۔ تو کیری لوگر بل کے تحت امداد کرکے پاکستانی فوج کو پاکستان کے قبائل کے خلاف آپریش پر مجبور کیا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دشمن کبھی بھی ایٹمی اور اسلامی پاکستان کو ہر گز برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔امریکا نے ڈالروں کی بارش کر کے پاکستان کے میڈیا کے کچھ لوگوں کو خریدا۔ عالمی اور پاکستان زرخرید میڈیا کو استعمال کر کے پاکستان کرودنیا بھر میں دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اسلام کو انتہا پسند مذہب کے طور پر مشہور کیا۔اب فوج نے پاکستانی عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے امریکا سے جان چھڑانے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ جس پرسول حکومت نے بھی عمل کرنا شروع کیا ہے۔۔۔فاٹا کی موجودہ پوزیشن انگریز نے اپنے مفادات کے لیے بنائی تھی۔ اسے ہر حالت میں ختم ہونا چاہیے۔ فاٹا کو صوبہ پختونخواہ میں ضم کر کے پاکستان کے آئین کے مطابق حقوق دینا پاکستان کے لیے ضروری ہیں ۔پاکستان کے دشمن امریکا بھارت اور افغانستان نے سرحدوں پر جنگ چھیڑی ہوئی ہے۔ بھارت اور امریکا نے فاٹا میں اپنے حمایتوں کو دہشت گردی کی ٹرینیگ دے کر پاکستان کے خلاف استعمال کیا تھا۔پاک فوج نے آپریش کر کے اس علاقے کو دہشت گردوں سے صاف کیا ہے۔ آپریشن کے دوران فاٹا کے لوگ دربدر ہوئے۔ اس وقت ان کو ریلیف ملنا چاہیے ۔ اس سے ان کی پاکستان کے ساتھ وفاداری بڑے گی۔ فاٹا کے قبائل پاکستان کی دست بازو تھے اور ہیں۔پاکستان کی مسلح افواج اور ساری سیاسی پارٹیاںفاٹا کو خیبرپختونخواہ میں شامل کرنے پر ایک پیج پر ہیں۔صرف افغانستان کی قوم پرست حکومت کے حامی قوم پرست محمود خان اچکزئی اس کے خلاف ہیں۔ مولانا فضل الرحمان بھی کچھ لے دے کر حسب عادت جلد مان جائیں گے۔فاٹاکو پاکستان کے برابر کے حقوق دینے سے پاکستان مستحکم ہو گا۔یہ ہے فاٹا کی تاریخ کے آئینے میں کی کہانی۔ اللہ مثل مدینہ مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مستحکم کرے اور اس کی حفاظت کرے آمین۔

Mir Afsar Aman
Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان

Share this:
Tags:
facts fata government History khyber pakhtunkhwa pakistan پاکستان تاریخ حقائق حکومت فاٹا
Young leadership
Previous Post نوجوان لیڈرشپ
Next Post فلسطینی بھائی کا مسجد اقصیٰ کے دروازے سے ایک تصوراتی خط
Masjid Aqsa

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close