Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

خوف میں ڈوبے شہر

November 19, 2013 0 1 min read
Jawed Siddiqi
Fear
Fear

یہ ایک شہرِ پُر آشوب ہے، خوف کے ماروں کے شہر کا، اگر یہ شہر یا ایسا شہر آپ کا بھی ہے تو آگے بڑھیں اور تسلیم کریں اور اگر نہیں تو اس دن سے ڈریں جب آپ کا شہر بھی کہیں خدا نخواستہ ایسا بن جائے گا۔اس شہرِ پُر آشوب میں خوف ہی خوف کا وجود ہے، کیونکہ شریفوں کا شہر ہے اور ہر شریف النفس انسان اس طرح کے خوف سے ضرور ڈرتا ہے۔ اس خوف کے شہر میں بہت سی ہیبتناک باتیں ہوتی رہتی ہیں، لیکن ان سے سے زیادہ خوفناک آدھی رات کی دستک ہوتی ہے۔

یہ آدھی رات کی دستک شہر میں بسنے والے شریفوں کے دلوں میں خوف جگا دیتی ہے۔ خون خشک اور ذہن معائوف کر دیتی ہے۔ خدا آپ ایسے خوف سے محفوظ رکھے، لیکن اگر خدانخواستہ آپ خوف کے اس شہر میں رہتے ہیں تو آپ ان سب سے بچ نہیں سکتے۔ویسے تو میں ایسے شہر کو کوئی نام نہیں دیتا یا شاید اس کے بہت سے نام ہوں۔ پوری دنیا میں موجود شینکڑوں شہروں میں سے کس کا بھی نام آپ لیں، جہاں ایسی صورتحال ہو اسے آپ خوف کے شہر کا نام دے سکتے ہیں۔ خوف کے اس شہر میں سردیوں کی خاموش راتوں کو شایدشیطان سوئے ہوئے لوگوں کے دل نکال کر لے جاتا ہے اور اس کے بعد ایک اندھی نفرت کی آندھی سڑکوں پر راج کرتی ہے۔ یہ نفرت سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایسے لوگ آتشی اسلحوں سے گولی نکلتی ہے۔ جو انسانی خون چوستی ہے اور انسانی گوشت کو چبا چبا کر ٹھنڈا کر ڈالتی ہے۔ یہ تمام کاروائی ویسے تو دن کے اوقات میں بھی جاری رہتی ہے مگر راتوں کواس کا ستم زیادہ زور پکڑ لیتا ہے۔

پھر یہ کچھ ایسی مکاری کے ساتھ حکومت کرتی ہے کہ جب آپ ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہیں تو آپ کا خون آپ کو خود یقینا پتلا ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔یہ آپ کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف خوف بٹھا دیتی ہے کیونکہ مرنے والا جس بھی گروپ کا ہو دوسرا گروپ اس کے خوف سے رات جاگنے پر مجبور ہوتا ہے۔

خوف کے اس شہر میں اور عفریت ”غربت ” کا ہے ، بے انتہا غربت۔ ایسی زمین پر محبت اور اتفاق رائے مشکل سے ہی پنپتی ہے جہاں غربت کا راج ہو، جسے صدیوں کے استحصال نے بنجر کر چھوڑا ہے۔ غلط فہمیاں اس مٹی میں جنگلی پورے کی طرح اگتی چلی جا رہی ہے۔ اور آہستہ آہستہ بڑھ کر نفرت میں بدل چکی ہے۔ خالص اندھی نفرت۔اسی لئے ایسے شہروں میں جو قتل ہوتے ہیں وہ کوئی باہر والے آکر نہیں کرتے بلکہ یہیں کے رہنے والے ہو سکتے ہیں۔ یا پھر تفرکہ اور تفریق پھیلانے والے باہر کے لوگ ۔ ایسی صورتحال ہو چکی ہے کہ بھائی بھائی کے خلاف لگتا ہے، دوست ‘دوست کے خلاف اور پڑوسی ‘ پڑوسی کے خلاف نظر آتا ہے۔وہ ایسے ایک دوسرے کے خلاف ہو گئے ہیں کہ محسوس یہ ہوتا ہے کہ شاید وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے ہیں۔خوف کے اس شہر میں قاتل کبھی مذہب کا چوغہ پہن لیتا ہے اور کبھی نسلی لباس اور کبھی وردی پہن رکھی ہوتی ہے۔کبھی کبھار تو وہ بغیر کسی پردے کے سامنے آ جاتے ہیں ٹھیک اُسی طرح جیسے خوف ننگا ہوتا ہے۔

خوف کے ایسے شہروں میں ایک عنصر تقسیم کا بھی ہے۔ اس شہر میں کئی نسلی اور مذہبی گروہ موجود ہوتے ہیں لیکن اصل تقسیم ” وہ ” اور ” ہم ” کے بیچ ہوتی ہے۔وہ اور ہم کی پہچان مختلف جگہوں میں مختلف ہوتی ہے۔ ایک محلے میں آپ ” ہم ” میں سے ہونگے جبکہ دوسرے محلے میں جاتے ہی ” ان ”کے ساتھی بن جائیں گے حالانکہ آپ وہی مخلص شخص ہیں۔ ایک عبادت گاہ میں ” ہم ” میں سے ایک ہونگے جبکہ دوسری میں آپ ” ان ” میں سے ایک۔ یہ سب اتنا الجھا ہوا ہے کہ آپ چاہے لاکھ کوشش کریں آپ کئی بار خود کو غلط جگہ پائیں گے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو اس تقسیم کو نہیں مانتے ہونگے۔آج خوف کے اس شہر میں لوگ ایک دوسرے کے علاقوں میں جاتے ہوئے ڈرتے ہیں اور بہت نے تو جانا ہی ترک کر دیا ہے۔ اس نفرت کے ساتھیوں میں غربت اور شہری سہولیات کی کمی بھی شامل ہے۔ خوف کے ان شہروں میں لاکھوں رہتے ہیں مگر یہاں ٹرانسپورٹ کی مناسب سہولت موجود نہیں ہے۔ بسیں کم ہیں اور تکلیف دہ ہیں۔ ٹرینیں اتنی پرانی اور سست ہیں کہ لوگ ان پر سفر کرتے ہوئے ڈرتے ہیں، اور یہ ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکار رہتی ہیں ، انگریزوں کے دور کی بچھائی ہوئی پٹریاں آج تک چلی آ رہی ہیں اور ہم اسی پر قناعت کررہے ہیں۔ سڑکوں کا حال خراب ہے، بعض جگہ اتنا خراب ہے کہ ان کی مرمت ممکن نہیں۔

Dark Streets
Dark Streets

سڑکیں تنگ اور اندھیرے میں ڈوبی ہوئی رہتی ہیں۔ ایسے شہر میں نکاسی آب کا بھی مناسب انتظام نہیں ہوتا، چنانچہ جب بارش آتی ہے چاہے وہ کبھی کبھار آئے یا باقاعدگی کے ساتھ پورا شہر پانی میں ڈوب جاتا ہے اور ہلاکتوں کا پھر سے ہونا معمول ہو جاتا ہے۔ بارش کے بعد گٹر کا ابلنا اور پھر اس کی صفائی کو خاکروب کا نہ پہنچنا بیماریوں کی جڑ ہو جاتی ہیں۔ شہر می معیشت یہاں کے باسیوں کو ملازمت نہیں دے سکتی اور نہ ہی ان لوگوں کو جو دوسرے علاقوں سے یہاں ملازمت کی تلاش میں آتے ہیں۔ چنانچہ یہاں کے گلی کوچوں میں تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ دونوں قسم کے بے روزگاروں کی بھرمار موجود ہے۔ ایسے لوگ اس خوف کے شہر میں چڑچڑے پن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔ وہ ہر اس شخص کے ساتھ مرنے کو تیار رہتے ہیں جو انہیں موقع فراہم کر دے۔ بوڑھے، جوان، مرد و عورت، شریف و مکار، فرشتے و شیطان، یہ سب انہی اندھیری، گنجان مفلس گلی کوچوں میں رہتے ہیں، جو انہیں مفلسی اور بیماریوں کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ ان بیماریوں میں سب سے عام بیماری پیٹ کی ہوتی ہے جس کی وجہ گندا پانی، ملاوٹی خوراک اور غزائیت کی کمی ہے لیکن ان سے بھی زیادہ عام بیماری، غیر یقینیت اور ھدحالی سے پھوٹنے والا غصہ اور رواداری کا نہ ہونا ہوتا ہے۔

ان خوف کے شہروں میں پیدا ہونے والے بچے بڑے ہوکر مایوس بالغ بن جاتے ہیں۔ بالغ ناامیدوار محروم بوڑھوں میں۔ اور بوڑھے رفتہ رفتہ اس شہر کے اطراف میں منٹ منٹ کھودے جانے والے گڑھوں میں غائب ہوتے چلے جاتے ہیں اور پھر قبرستان کی آبادی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ خوف کے ان شہروں میں سب کچھ ہے ۔ نفرت، بغاوت، خواہشات، بے روزگاری اور نہ جانے کیا کیا؟ جیسے جیسے لوگ بڑے ہوتے جاتے ہیں ان کے ساتھ ان کی خواہشات بھی بڑھتی جاتی ہیں، ان خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ایک صحت مند آئوٹ لیٹ کی غیر موجودگی ان کے جسم اور دماغ کو تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر دیکھنے میں جنم سے بوڑھے لگتے ہیں۔ حتیٰ کے یہاں نو عمر بھی ایک جان لیوا سنجیدگی خود پر طاری رکھتے ہیں۔ (خدا خیر کرے)ایسے شہروں میں پرورش پانا آسان کام نہیں ، جب میں جوان تھا تو خود رات کے کسی پہر سڑکوں پر گھوما کرتا تھا لیکن یہ پہلے کی بات ہے، آج شہر پر پاگل پن کا راج ہے جس نے کچھ لوگوں کو حیوان بنا دیا ہے جس کی وجہ سے لوگ گھروں میں رہنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔اُن دنوں ہم آدھی رات کو سڑکوں پر گھوما کرتے تھے اور صبح صحیح سلامت گھر واپس آ جاتے تھے۔

ہمیں گولیاں کی گونج کے بجائے اپنے قدموں کی چاپ سنائی دیتی تھی۔ تب آدھی رات کو دروازوں پر دستک نہیں ہوتی تھی اور نا ہی خون کے پیاسے حیوان سڑکوں پر گھوما کرتے تھے۔تو آپ میں سے وہ لوگ جو غریب مگر پُر امن شہروں میں پلے بڑھے ہوں انہیں اچھی طرح معلوم ہوگا کہ آدھی رات کے بعد اندھیری سنسان سڑکوں پر اپنے قدموں کی بازگشت سننے میں کیسا محسوس ہوتا تھا۔ مجھے وہ گونج ہی اچھی لگتی تھی ، مجھے ان چاپوں کو سننا اچھا لگتا تھا، مجھے اُس وقت سڑکوں پر گھومنا اچھا لگتا تھا مگر شاید آج کے ان حالات میں کسی کو یہ سب اچھا نہیں لگتا ہوگا۔کتے بھوک اور تھکن سے اتنے نڈھال ہوتے تھے کہ ان کی بھونکنے کی کوشش میں نکلنے والی نحیف سی آواز سے کسی کو کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا تھا۔ حتیٰ کے مجھ جیسے کمزور شخص کو بھی نہیں۔رات کے سناٹے میں مجھے دور کسی ٹرین کی آواز یا کسی بس کے چلنے کی آواز سننا اچھا لگتا تھا، یہ آوازیں دن کی شور شرابے میں دب کر رہ جاتی تھیں۔مجھے دور کہیں اپنے بوجھ کے نیچے کراہتے ٹرکوں کے تھکے ماندے انجنوں کی آواز کا سننا بھی اچھا لگتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ رات دیر تلک کام کرنے پر احتجاج کر رہے ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر میں ان گاڑیوں کو محض مشین کہوں تو ان کے مالکان بُرا ضرور منائیں گے کیونکہ ان کے نزدیک یہ بھی جاندار ہوتے ہیں جن کا اپنا روح اور جسم ہے۔ وہ انہیں پلاسٹک کے پھولوں ، رنگین لائٹوں اور رنگین جھنڈیوں کے علاوہ مذہبی علامتوں سے بھی سجاتے ہیں۔ جب میں زنگ آلود پرانی پٹریوں پر رینگتی ہوئی ٹرین کی چھک چھک سنتا تھا تو میں اپنے دماغ کے پردے پر ان تھکے ماندے مسافروں کو دیکھ سکتا تھا جو پرانے گندے کمپارٹمنٹ میں پڑے لگڑی کے تختوں پر سوانے کی کوشش کر رہے ہوتے جن سے ان کی ہڈی پسلی ایک ہو جاتی ہوگی۔

آج نجانے وہ تمام خوشی کی ساعتیں ، پُر رونق بازاریں، پُر باش لوگ، کہاں گھو گئے ہیں۔ آج تو یہ حال ہے کہ ہر کوئی اپنے آپ کو گھر کی چار دیواری میں قید رکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ پتہ نہیں کب، کہاں کیا ہو جائے۔ آج محبتیں ناپید ہو چکی ہیں، بھائی چارگی کا فقدان پایا جاتا ہے، پڑوسی ‘ پڑوسی کا خیال نہیں رکھتا، دوست ‘ دوست کا نہیں ہے، غرض کہ ہر طرف نفرت کا راج ہے۔ اور اسی لئے میں نے ایسے شہروں میں سے کسی کا نام منتخب نہیں کیا، بلکہ جہاں جہاں یہ حالات ہیں وہ لوگ خود ہی سمجھ جائیں گے کہ اس کا ذکر کہاں سے جڑتا ہے۔ خداشہرِ خوف کے تمام باسیوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ (آمین)

Jawed Siddiqi
Jawed Siddiqi

تحریر: محمد جاوید اقبال صدیقی

Share this:
Tags:
hatred Jawed Siddiqi state خوف ڈوبے شہر نفرت
Dr. B.A Khurram
Previous Post بلدیاتی الیکشن کا نیا شیڈول اور خدشات
Next Post تُم رکھ نہ سکے اپنی جفاؤں کا بھرم
Prof Riffat Mazhar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close