Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جذبوں اور احساسات کا شاعر: خالد عنبر بیزار

January 11, 2021 0 1 min read
Jazbo or Ahsasat ka Shair Khalid Baizar
Jazbo or Ahsasat ka Shair Khalid Baizar
Jazbo or Ahsasat ka Shair Khalid Baizar

تحریر : پروفیسر اظہر محمود تنہا

احاطہ تجھ سے ہے ممکن کہاں مرے غم کا
زمینِ درد کا میں آسمان ٹھہرا ہوں

”زندگی کی یہ کتاب تو ایک بارملتی ہے، اِس کے ہرصفحے پر بھی خوشیاں کون لکھ سکتا ہے۔” متذکرہ شعر اور دیباچہ میں حسرت کے کرب سے معمورپہلی ہی سطر ضلع ا ٹک کے جواں سال مگر نادار، مفلوک الحال اور معذور شاعر خالدبیزار کی ہے۔ اُس کے واحد شعری مجموعہ ”چاندنی سے دِیاجلاتے ہیں” کی شاعری اسی المیے، ناآسودگی اور دردوکرب کی غماز ہے جوخالدبیزار کی پوری زندگی کااحاطہ کیے ہوئے ہے۔ مجموعہ کے دیباچہ میں خالد بیزار اپنے نظریۂ شعر کی بابت خودرقم طراز ہیں:

”شعرمیری فطری اظہار کی اساس ہے۔ میں نے زخموں پر سیاست کرنے والی رسموں سے بغاوت کا یہ فن اپنے اسلاف سے پُرنورعقیدت کے صلے میں حاصل کیا ہے۔ یہی نہیں، میں نے جبرکی آندھی کے مقابل مزاحمت کے چراغوں کوجلادینے کی روایت کوسحرتاب کیا ہے۔ میں نے ہمیشہ گھر بچانے کی تگ ودو تو کی ہے مگراپناکوئی خواب بچانے کی کوشش نہیں کی ہے۔” (مشمولہ دیباچہ، ص ٩،٨)

٢٠١٩ء میں ادارہ جمالیات پبلی کیشنز اٹک کے زیرِ اہتمام پہلی بارچھپنے والا یہ شعری مجموعہ ((چاندنی سے دِیاجلاتے ہیں) ایک ایک حمد، نعت،سلام، تین آزادنظموں اور انتالیس (٣٩) غزلیات پرمشتمل ہے۔ جس کاانتساب ”والدہ کے نام” ہے۔ دیباچہ خودشاعر خالدبیزار نے تحریر کیا ہے۔ مجموعہ کے مرتبین میں شہزادحسین بھٹی کامضمون بہ عنوان ”ہم اِسی شہر کے ستائے ہیں” اور اقبال زرقاش کے ”عرضِ مرتب” کے علاوہ افسانہ نگاروشاعرارشادعلی کا مضمون ”رنگوں کی برسات” بھی شامل ہے۔ جبکہ فلیپ مشہورماہرِ تعلیم اور اٹک کے نمائندہ شاعر مشتاق عاجز، شاعروپروفیسرنصرت بخاری اور شاعرطاہراسیرکی تحسینی آراسے مزین ہے۔

خالدبیزار تلخیِ حالات کاپیداکردہ احساسات اور جذبات کا نہایت حساس شاعر ہے۔ (اگرچہ تخلیق کار سبھی حساس ہوتے ہیں) اس لیے اُس کی ذات اور اشعاردونوں قابلِ توجہ اورجاذبِ فکر ہیں۔ اس نے روایتی اندازِ شعر اور موضوعات کے علاوہ اپنے ذاتی ماحول اور اطراف میں بسنے والے دکھوںمیںڈوبے اور محرومیوں کاشکارانسانوں کے مسائل ومصائب کی سفارت کاری بھی کی ہے۔ میرتقی میر کے شعری مصرعے ”سراُٹھاتے ہی ہوگئے پائمال” کے مصداق خالدبیزار کی زندگی بھی لڑکپن سے جوانی تک مختلف نوعیت کے دکھوں،محرومیوں ،ناکامیوںاورحسرتوں کی کھلی کتاب کی مانند ہے۔”چاندنی سے دِیاجلاتے ہیں” کی مستعارچاندنی دراصل باحسرت آنسوئوں اورالم ناک یادوں کی چاندنی ہے جس سے شاعر نے جِلا بھی پائی ہے اور باقی عمر بھی بسرکرنی ہے۔ یہ کہاجاسکتا ہے کہ خالدبیزار کی شاعری اِس عہد کاالمیہ بھی ہے اورآئینہ بھی کہ جس کے تناظر میں ہم اپنے رویوں اور ان کے نتیجے میںپیداہونے والی کرب ناکی اور بربادی کی متفرق تصاویر صاف طورپر دیکھ سکتے ہیں۔

ادب ایک نفسیاتی عمل ہے اور درحقیقت شخصیت کے اظہار کانام ہے۔اچھی شاعری بے شک کسی مخصوص نظریے پرپوری نہ بھی اترتی ہو، پھر بھی اُس کی عظمت پرکوئی فرق نہیں پڑتا۔ اصلی ادیب ہمیشہ اپنی ذات اور کائنات کے ساتھ سچااورمخلص رہتاہے۔ ادیب سماج کاایک جزوہونے کی بناپر چوںکہ سماج ہی میں پلتابڑھتا ہے، اس لیے اس کی حسیات پربدلتی ہوئی سماجی ومعاشرتی اورمعاشی صورتِ حال کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جو بہ ہرطور اُس کی تخلیقات میں جگہ پاتے ہیں۔ ڈاکٹر شارب ردولوی بہترین ادب کے متعلق یوں اظہارِ خیال کرتے ہیں:

”بہترین ادب کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ وہ اجتماعی خواہشات کی تکمیل کرے۔ ہر شخص کواُس کے ذوق اور معیار کے مطابق ذہنی سکون پہنچائے اوراچھے خیالات اور صحت بخش تصورات پیش کرے۔ یہ بات اُسی وقت ہوسکتی ہے جب ادب اپنے سماجی ماحول، تہذیبی، اخلاقی اورمعاشرتی قدروں سے ہم آہنگ ہو۔” (جدیداُردوتنقید، اصول ونظریات، لکھنو، اُردواکادمی، ١٩٧٧ئ،ص٢٧)

خالدبیزار کی غزل اُس کی پوری شخصیت کی جلوہ گاہ ہے۔ اُس کی اِس شعوری شاعری سے اُس کی نارسا آرزوئوں اور بیزاری کے بھرپورتجزیے کے علاوہ اُس کی شخصیت اورمزاج کی تفہیم بھی ممکن ہے۔ نیزاس سے اُس کے شعری ماحول کی جزئیات اور متعلقات سے آگاہی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ کسی بھی اچھے شاعر کی طرح اُس کاروایتی رنگِ شعر بھی دل کش اور مہک دار ہے۔ کچھ غزلیں اور اشعارالگ الگ اوراپنی جگہ مکمل اکائی ہونے کے باوجود بھی ایک ہی طرح کاموڈ اور کیفیت لیے محسوس ہوتے ہیں تاہم یہ حقیقت ہے کہ خالدبیزار کی غزل اپنی عمومی اور مجموعی فضا کے اعتبار سے روایت کی پابند نظرآتی ہے۔ اس کے محدود موضوعات کے سوتے اُس کی ذاتی محسوسات اوراردگردکے ماحول ہی سے پھوٹے ہیں۔ چندمنفرداشعاردیکھیے:

وہ ایک جنبشِ ابرو پہ مل گیا تھا ہمیں
یوں ایک پل میں ملی ہوگی کائنات کسے؟

ہے تیرے طرزِ تکلم کی معترف دنیا
تری زبان سے نکلے تو بات رقص کرے

میکدے پاتے ہیں ترتیب ادا سے تیری
دوستی چاند سے، صہبا سے، صبا سے تیری

میرا، تیرے شباب سے رشتہ
شب کا جو ماہتاب سے رشتہ

البتہ سماج کی کجیوں اور رویوں کی ناہمواری کے بیان میں غزل کے مزاج اور اسلوب کے برعکس کہیں کہیں خالدبیزار دوٹوک اور واضح انداز میں بات کرتانظرآتاہے جس سے بعض اوقات تکرار اور سپاٹ پن کارنگ ابھرآیا ہے۔ جبکہ تقابل اورتضاد کے وقت معاشرتی اور سماجی رویوں کا بیان چوں کہ اُس کے ذاتی تجربات واحساسات اور اطراف کے مشاہدے سے صورت پذیر ہوا ہے،زیادہ جان دار اور دل کش محسوس ہوتاہے۔ یہ سب اُس کی بپتا ہے، اس لیے اس میں خلوص اور تاثیرزیادہ محسوس ہوتی ہے:

افسوس کوئی ایک بھی پورا نہ ہوسکا
آنکھوں نے کتنے خواب سجائے تھے عید پر

بعداز فنا بھی قبر پہ روتی رہی قضا
میری طرح شباب میں اجڑا کوئی نہیں

میری ناداریوں میں مجھے تم، اجنبی جان کر جارہے ہو
اجنبی ہیں مگر آشنا تھے، اک زمانے سے پہلے ،یہ سوچو

زندگی جب بھی پکارا تُو نے مشکل میں ہمیں
پا برہنہ ہم چلے آئے تری آواز پر

بیزار اِن ستارہ شناسوں کے شہر میں
چہرے کھلی کتاب ہیں، پڑھتا نہیں کوئی

خالدبیزار محنت سے روزی کمانے کاآرزومند اورباعزت شہری کی سی زندگی گزارنے کے خواب رکھتا ہے۔ وہ اس خودغرض اور مفادپرست زردار معاشرے میں مساوات اور یکساں انسانی حقوق کاخواہاں ہے:
قبلے کی طرح اپنا قبیلہ ہو ایک بس
اس کے علاوہ میرا تو سپنا کوئی نہیں

مگر خودپسند اورزرپرست معاشرے اور مقتدرطبقوں کے گھنائونے اورقبیح اقدامات نے سماج کواندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ ایسے میںخالدبیزار جیسے بے بس مگر ہمدرد اور پُرخواب تخلیق کار کے لیے معتبر سماجی مقام اور باعزت شہری بننے کی جملہ راہیں مسدود ہوکررہ گئیں:

کھدر کی پوشاک کی کوئی قدر نہیں
ریشم کے ہر سوٹ کی تیرے شہر میں ہے

اُس نے جس شہر میں بیچا مجھے خالد بیزار
اُس میں قیمت بھی مروت کی کہاں لگتی ہے
ہر ایک شخس کا مجھ سے سلوک تاجر سا
میں جیسے شہر کی کوئی دکان ٹھہرا ہوں

ادب اور ادبی قارئین کے لیے نہ صرف یہ ایک المیہ ہے بلکہ لمحۂ فکریہ بھی ہے کہ آج کی تاریخ میں ایک بے کس، مفلوک الحال اور جواں سال معذورشاعر خالدبیزار جسے اپنے والدین کے بڑھاپے میں اُن کاواحدسہارا اور دست و بازو بنناتھا، اُن کی ضروریات اور آسائشات کی ذمہ داری اُٹھانی تھی مگر اس کے برعکس اُس کی بوڑھی، ناتواں اور لاچار جنت (ماں) اس معذورکوریڑھی میں ڈالے ایک بھکارن کی طرح گلیوں گلیوں رُلتی دکھائی دیتی ہے۔ اسی لیے خالدبیزار اور اس جیسے کئی تخلیق کار مروجہ غیرمنصفانہ سماجی ومعاشی رویوں کی پیداوار اورمعاشرے کی مجرمانہ بے توجہی اوردھتکار کی جیتی جاگتی تصاویر ہیں۔ شہزادحسین بھٹی نے اپنے مضمون ”ہم اِسی شہر کے ستائے ہیں” میںخالدبیزار کواٹک کاساغرصدیقی قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:

”خالدبیزار شعروسخن کااَن تھک راہی آج بیماری، معذوری اور غربت وافلاس کی چکی میں پس کرریزہ ریزہ ہوچکا ہے۔ چالیس سالہ تعلیم یافتہ یہ شاعرزمانے کی ناانصافیوں، بے روزگاری اور مفلوک الحال زندگی گزارتے گزارتے بسترِ مرگ پر پڑا ہوا ہے۔ نیز مقامی داعیانِ ادب اُن کا کافی کلام طباعت کی غرض سے اس کے والدین سے ہتھیاچکے ہیں۔” (مضمون مشمولہ مجموعہ ،ص١٣)

غربت، پس ماندگی اور ناآسودگی کے شکارخالدبیزار کااحساسِ محرومی اُس کی غزل اورنظم دونوں میں جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ اُس نے حالات کی سنگینی اور ناانصافی کی متفرق صورتوں کا جامع تجزیہ کیا ہے۔ زمانے کی بے حسی، فرد کی ناقدری اور سماجی تفاوت کے کئی پہلوئوں کی نقش کشی کی ہے جس سے بہ خوبی اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ غربت، معاشی بدحالی اور بے بسی وتنہائی ایک عام آدمی خصوصاًشاعر کی زندگی پر کیسے کیسے اثرات چھوڑتی ہے اور کیسے کیسے کرب وبلا کاشکاربناتی ہے۔ خالدبیزار کی تلخ زندگی اور شاعری دونوں اس پرعین شاہد ہیں:
بڑھائوں ہاتھ ملانے کو، کاٹ کھاتے ہیں
عجیب شہر میں لوگو! میں آن ٹھہرا ہوں

دیکھ وہی بیزار ہے اونچے منصب پر
عادت جس کو جھوٹ کی تیرے شہر میں ہے

زہر مُہرہ کیا کرے گا ہے سپیرا سوچ میں
آدمی کی ذات کو جب آدمی نے ڈس لیا
آج خالدبیزار کی صورتِ حال اقبال ساجد کے اس شعر جیسی ہے کہ:
ایسے گھر میں رہ رہا ہوں دیکھ لے بے شک کوئی
جس کے دروازے کی قسمت میں نہیں دستک کوئی

کسی ہمدردانہ دستک کے متلاشی ہاتھ اور یارانِ دیرینہ کی دید کوترستی نگاہیں پتھراچکی ہیں۔ مسلسل محرومی اور ناامیدی کے باعث خالدبیزار آج ہوش وحواس بھی قریب قریب کھوبیٹھا ہے۔ ماں کا جھرایا، معصوم چہرہ اور لاغر بدن بیٹے کی زندہ لاش کوکھینچتے کھینچتے نڈھال اور بے سکت ہوچکا ہے۔ شہزادبھٹی کاایسے میں اٹک کے باسیوں(خصوصاً شعرابرادری) سے یہ شکوہ سوفی صد بجا ہے:
”خالدبیزار کاقصورشاید یہ ہے کہ وہ اٹک جیسے ادبی لحاظ سے پس ماندہ علاقے (راقم کی رائے میں اٹک ادبی لحاظ سے پس ماندہ نہ ہے) اوربے حس شہر میںپیداہواہے۔اگروہ داتاکی نگری جیسے کسی بڑے شہر میں پیداہواہوتاتو ادبی تنظیمیں اُس کی مفلوک الحالی سے بے خبر نہ ہوتیں۔”(مشمولہ مجموعہ، ص ١٥)

خالدبیزار کے ہاں اہلِ زمانہ کی بے حسی، ناقدری اور نفرت تک کااظہار کہیں کہیں ضرورملتا ہے مگروہ اس پردے میں درحقیقت اس بات کاآرزومند ہے کہ ایک معاشرے میں رہنے والے تمام انسان اپنی اپنی ذات اورانائوں کے جنگل سے باہر آجائیں۔ شاعرمحبتوں کاپیام براور سفیر ہوتاہے لہٰذا اس بھاری ذمہ داری کے باعث شکوے کااندازتوضرور اختیارکرتا ہے مگرمایوسی اور ناامیدی اُس کے نزدیک کفرکے مترادف ہوتی ہے جہاں خالدبیزاریہ کہتاہے:

دورِ حاضر میں پیار کاقصہ
آنکھ کااک سراب سے رشتہ

وہاں اُس کے ہاں امیدانہ لہجہ بھی موجود ہے۔ اندازِ بیاں عام فہم اور قدرے سلیس ہے۔دراصل شاعر کے پیشِ نظر اہمیت اپنی بات کے ابلاغ کی ہے:

میں روز رکھتا ہوں دہلیز پر چراغ نیا
کہ شام ڈھلتے بھٹک کر ہی کوئی آجائے

شاعری میں موضوع اور فکرکی اہمیت اور دل کشی دراصل اس کی پیش کش کے انداز اور اسلوب سے دوچند ہوتی ہے۔ خالدبیزار کے ہاں اظہار وابلاغ کاروایتی انداز موجود ہے۔ شعری زبان اور لفظیات موضوع سے ہم آہنگ ہے۔ کہیں کہیں انگریزی الفاظ کااستعمال بھی ملتا ہے۔ بیانیہ اور براہِ راست خطابیہ انداز ہے۔ کہیں کہیں بالواسطہ سلیقے سے بھی بات کی گئی ہے۔ تشبیہات واستعارات غیرمبہم اور نسبتاً واضح ہیں۔ لب ولہجہ عموماًدھیماہے تاہم کہیں کہیں بلند آہنگی کی آمیزش بھی ملتی ہے۔ غزلیات کی بحریں کہیں چھوٹی اور کہیں متوسط ہیں۔

خالدبیزار نے ردیفوں سے بھرپورکام لیا ہے جن سے شاعرانہ لَے میں روانی پیدا ہوئی ہے اور ابلاغ آسان ہوگیاہے۔ دونوں سے، صحراکی چاندنی، رقص کرے، خداحافظ، ڈس لیااور عید پر۔ جیسی ردیفیں اُردوکے شعری سرمائے میں جہاں نادراورقیمتی اضافہ ہیں، وہیں ان ردیفوں کی حامل غزلیات کے اشعاربھرپور جذبات اوراحساسات سے مملو ہیں جوقاری کے دل کوجھنجھوڑ دیتے ہیں۔

علمِ بیان اور صنائع کے استعمال سے کلام میںتاثیر اور حسن پیدا ہوتاہے۔خالدنے شعوری طورپراس کابھی اہتمام کیاہے۔ اگرچہ اس سے شاعر کی فکری وسعت اور گہرائی کااندازہ کرنا مشکل ہے نیز ان میں پیچیدگی اور تہ داری کی بجائے سیدھاساداابلاغ ہوا ہے، البتہ خالدبیزار نے اپنے تجربے اورمشاہدے کوکہیںکہیںتصویروں میں بھی پیش کیا ہے۔ ایسے امیجز اور تمثالوں سے ان کی شاعری کاجمالیاتی اسلوب دلچسپ اور دل کش ہوگیا ہے۔ یہ تمثالیں کہیں حرکی ،بصری اور کہیں سمعی ہیں:

تھا کبھی ایک پھول شاخوں پر
نوحہ لکھتی ہے دھول شاخوں پر
لکھتی جائے چمن میں بادِصبا
باغبانوں کی بھول شاخوں پر

بھیگی پلکیں روک رہی تھیں
رختِ سفر جب باندھ لیا تھا
جب صحرا میں آنکھ لگی تھی
پیاس نے ماتھا چوم لیاتھا

ناصرکاظمی کے ”پہلی بارش” کی نظموں کے انداز، اسلوب اور بحوروقوافی کو مدِنظررکھ کر خالدبیزار نے یہ غزل لکھی ہے اورایک شعر میں ناصر کاایک مصرعہ ”میں نے جب لکھنا سیکھاتھا”بھی مستعار لیا ہے۔
اسی طرح چندنئی تراکیب کااختراع بھی خالدبیزار کے مشاہدے کی تیزی پر دلالت کرتا ہے۔ اوہام کی فصیل، چراغِ حسرت، امنگوں کی بانسری، سطرِ حزیں، اور دلہن بنی حسرت بالکل نئے مرکبات ہیں جو شاعر کے فکرونظر سے موافقت رکھتے ہیں۔مزیدبرآں تشبیہاتی واستعاراتی حوالے اور صنائع لفظی ومعنوی کے استعمال سے اسلوبی شان میں دلکشی پیدا ہوگئی ہے۔ چنداشعار دیکھیے:

جیسے ایک شرابی پی کر توڑ دے ساغر مستی سے
ہم بھی ایسے ٹوٹ چکے ہیں جیسے ہم پیمانے تھے

پھول اک شاخ کے تھے آج جدا ہوتے ہیں
خون روتی ہے گلے مل کے صبا دونوں سے

جو بھی رکھتے ہو دِیا بام پہ جل بجھتا ہے
دشمنی ایسی ہے بیزار ہوا سے تیری

وہ رنگِ اعتبار ہے بس کچھ نہ پوچھیے
بجھتی ہوئی یہ شمع ہے، جلتی ہوئی کبھی

تیرگی میرے مقدر کی ادا پہ ہنس پڑی
جب مجھے میرے ہی گھر کی روشنی نے ڈس لیا
مشہورشاعر، مشتاق عاجز مجموعہ کے فلیپ میںرقم طراز ہیں:

”خالدبیزار کے کلام میں اس کی ناہموارزندگی کے تمام پہلوجھلک رہے ہیں۔خالد نے اپنی تمام ترشعری قوت کومجتمع کرکے غزل کواظہار کی راہ دکھائی ہے۔ اس نے خارجی رجحانات کو اپنی داخلی کیفیات سے مملو کرکے جس انداز سے اپنے ہنر کااظہار کیا ہے، وہ یقینا قابلِ تحسین ہے۔”

افسانہ نگاروشاعر ارشادعلی اپنے مضمون”رنگوں کی برسات” میںخالدبیزار کی شاعری کی بابت لکھتے ہیں:
”خالدنے غزل کے لطیف مصرعوں کومشکل پسندی کے بوجھ تلے دبنے نہیں دیا بل کہ پیرایۂ اظہار کوآسان بنانے کی سعی کی ہے اور لمبی بحروں کے ساتھ ساتھ چھوٹی بحروں میں بھی نفسِ مضمون کو نہایت سلیقہ سے باندھا ہے۔”

آج یوں محسوس ہوتاہے کہ بیزار محض خالد کاتخلص تھا جب کہ اٹک کے مقامی تخلیق کار اور ادبی تنظیمات سے وابستگان اپنے ہم پیشہ خالد سے بیزار رہے یا ہوچکے ہیں۔ ایک طویل عرصہ سے خالدبیزار پس ماندگی اور گمنامی کی تیرہ وتار زندگی کے شب وروز تنہاگزاررہا ہے اورناصرکاظمی کے شعری مصرعے کے مصداق ”مدت سے کوئی آیا نہ گیا،سنسان پڑی ہے گھر کی فضا” بے یارومددگار پڑارہتی زندگی کی سانسیں گن رہا ہے۔ وہ خالد بیزار جو کسی زمانہ میں اٹک کی ادبی تنظیموں کی جان تھا۔پروفیسرنصرت بخاری نے مجموعہ کے فلیپ پر اس بات کاتذکرہ توکیا ہے مگر اُس بے حسی اور کوتاہی کاذکرنصرت بخاری نے نہیں کیا جس کے ہم سب بہ حیثیت ادبی برادری مرتکب ہوئے ہیں۔ وگرنہ خالد بیزارآج اس کرب ناکی سے ہرگزدوچار نہ ہوتااور اٹک کے ادبی افق پرخالدبیزارایک ستارے کی طرح دمک رہا ہوتا۔

اٹک کے ساتھ پنڈی ڈویژن کی ادبی تنظیموں کی بھی ذمہ داری ہے کہ خالدبیزار کے کلام اور خود اُس کی جان پرفی الفور توجہ دی جائے۔ اس کے لیے کسی مناسب ماہانہ وظیفے کاانتظام کیاجائے۔ شہزادحسین بھٹی ،اقبال زرقاش اور ان کے احباب مبارکباد اور تحسین کے حقدار ہیں کہ انھوںنے ”دیرآیددرست آید” کے مصداق خالدبیزار کے تخلیقی سرمائے کونہ صرف ایک کتابی صورت میں چھپواکرمحفوظ کردیابل کہ خالدبیزار کے تعارف اور اہمیت کابھی جتن کیا ہے۔

تحریر : پروفیسر اظہر محمود تنہا

Share this:
Tags:
Feelings happiness Khalid Amber Bored life Poetry احساسات خالد عنبر بیزار خوشیاں زندگی شاع
kitab aab e kosar,rwd e kosar,moj e kosarr
Previous Post آب کوثر، رود کوثر، موج کوثر
Next Post کورونا وائرس، عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کو چین میں تفتیش کی اجازت
World Health Organization Experts

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close