
تیرے قدموں کی دھول ہو جائیں
کاش ہم بھی قبول ہو جائیں
دِل تیرا لے کے پھِر نہ لوٹائیں
اِس قدر بے اصول ہو جائیں
یوں تیری قربتیں میسّر ہوں
سارے شِکوے فضول ہو جائیں
تِیری یادوں کے دِیپ جلتے ہی
احتراماً ملول ہو جائیں
اِس مرادوں کے شہر میں کچھ تو
حسرتیں ہی نزول ہو جائیں
خارزارِ حیات میں ساحل
اس کے جوڑے کا پھول ہو جائیں
ساحل منیر
