Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جو دل میں بیٹھتے تو

January 21, 2017January 21, 2017 1 1 min read
Poverty
Poverty
Poverty

تحریر : رقیہ غزل
عام طور پر غربت معاشی نا ہمواری کو کہا جاتا ہے معاشی ناہمواری دنیا میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو کہتے ہیں جس کے نتیجہ میں غربت پیدا ہوتی ہے مگر میرے نزدیک غربت ایک ذاتی سوچ اور احساس کا نام ہے کیونکہ یہ دنیا دارالاسباب ہے اور اس کا نظام انسانوں کے ہاتھ میں صرف تدبیر اور کوشش تک محدود ہے جبکہ یہ سارا نظام یوں اللہ تعالیٰ کی مشیت، عطا اور خیر و برکت پر ہے اگرچہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض مخصوص ذمہ داریوں پر مامور ہیں لیکن وہ بھی مخصوص صلاحیتوں کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا کی ہیں یعنی یہ طے ہے کہ اس کائنات کا ایک پتا بھی اللہ کے حکم کے بغیر ہل نہیں سکتا۔

جب اس پر ہمارا ایمان کامل ہے تو ہمیں اس بات کو بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ امارت اور غربت کا تضاد روز ازل سے موجود ہے جو کہ خدائی نظام کا حصہ ہے مگر یہ دعائوں اور مشقت سے مشروط ہے یعنی مقدر ضرور ہے لیکن انسان اپنی محنت ،کاوش ،لگن اور دعا سے اسے بدل سکتا ہے اسی لیے تو کسی نے کہا تھا کہ جب مجھے پتہ چلا کہ مخمل کے گدوں پر سونے والوں کے خواب ننگی زمین پر سونے والوں کے خواب سے مختلف نہیں ہوتے تب سے مجھے خدائی انصاف پر مکمل بھروسہ ہوگیا یعنی عدم مساوات کو انسان نے اپنی سوچ سے پھیلایا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے صدقہ و خیرات اور زکوہ کا نظام اسی لیے قائم کیا ہے کہ غریب کی حالت بہتر ہو سکے اوراس نظام کو رائج کرنے کے لیے اللہ نے حاکم وقت کو پابند کیا ہے اب نواز نے والے نے تو نواز دیا ہے مگر اب ہم انسانوں پر ہے کہ ہم شیطان یا ررحمان میں سے جس کا چاہیں راستہ اختیار کریں اور اسی فیصلے کے مطابق ہمارا حساب ہو گا ذرا اس سے اندازہ لگائیں کہ گھر میں رکھے گئے ایک پالتو کا حساب دینا کتنا مشکل ہے تو بیس بائیس کروڑ کا حساب دینے والے کو سکون کی نیند کیسے آسکتی ہے اسی لئے تو سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا تھا کہ فقیر کی بھوک اس کی جان کھاتی ہے جبکہ سلطان کی بھوک ملک و ملت کھا جاتی ہے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی جو کہ فاتح بیت المقدس ،فلسطین ،شام، اردن ،لبنان اور مصر تھا جب اس کا انتقال ہوا تو کفن کے لیے قرض حاصل کر کے تدفین کا انتظام کیا گیا تھا ،ان کی وفات کے بعد جب ذاتی مال و ملکیت کا حساب کیا گیا تو ایک گھوڑا ،ایک تلوا ر،ایک زرہ ،ایک دینار اور چھتیس درہم کے سوا کچھ نہ تھا ۔آپ شدید خواہش کے باوجود حج نہ کر سکے کیونکہ حج کے لیے رقم نہ تھی اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جن حکمرانوں کو روز محشر خلق خدا کی ذمہ داریوں کے حساب کی فکر تھی انھوں نے پر تعیش زندگیوں پر سادہ زندگیوں کو ترجیح دی اور رہتی دنیا تک اپنے مثالی کردار کے انمٹ نقوش ثبت کئے۔

دنیا ترے قرطاس پہ کیا چھوڑ گئے ہم
اک حسن بیاں حسن ادا چھوڑ گئے ہم
ماحول کی ظلمات میں جس راہ سے گزرے
قندیل محبت کی ضیا ء چھوڑ گئے ہم

قارئین کرام ! اس تمہید کا مقصد غربت کا نوحہ نہیں کہ وہ تو صدیوں سے لکھا جا رہاہے اور نہ ہی اس کا مقصد کسی کو ذمہ دارٹھہرانا ہے کہ یہ بھی ہمیشہ سے ہو رہا ہے کہ کارل مارکس ،لینن اور سقراط سمیت سبھی نے غیر مساوی حقوق کا رونا رویا اور غریبوں کو کہا کہ وہ اپنا حق پہچانیں مگر وڈیرہ شاہی اور افسر شاہی کے سامنے ناتواں جسموں کی ایک نہ چلی پھر بھی درد دل رکھنے والے بر سر پیکار رہے کہ نیلسن منڈیلا نے کہا کہ غربت بھیک سے نہیں انصاف سے ختم ہوتی ہے اور وہ جناب عبدالستار ایدھی ایسے انسان کہ جس کے اثاثوں میں انسانیت کے غم نکلے یوں گویا ہوئے کہ” میں تعلیم حاصل نہ کر سکا مگر میں نے مارکس اور لینن کی کتابیں پڑھی ہیں ،میں نے کربلا والوں کی زندگی کو پڑھا ہے ،میں نے ابو ذر غفاری کی تاریخ پڑھی ہے ،اور میں تمہیں بتاتا ہوں اصل جنگ ظالم اور مظلوم کی ہے ،حاکم اور محکوم کی ہے۔

اس سے ثابت ہوا غربت عالمگیر مسئلہ ہے اسی لیے میں آج خوابوں ،وعدوں اوردعووں سے ہٹ کربات کر رہی ہوں کہ صورتحال اس حد تک گھمبیر ہو چکی ہے کہ آج سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس غربت جیسے ناسور سے بچے بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کہ والدین اپنی معاشی حالت کی بہتری کے مدنظر اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑاتے ہوئے اپنے معصوم پھولوں کو خوش حال لوگوںکے پاس چھوڑ دیتے ہیں اور وہ ان سے زر خرید غلاموں سے بھی بد تر سلوک کرتے ہیں بے شک انسانوں پر تشدد کا معاملہ نیا نہیں ہے یہ وہ واقعات ہیں جو آئے روز ہوتے رہتے ہیں اور تب تک ہوتے رہیں گے جب تک غریب کے حالات نہیں بدلتے۔۔ ! اگر حکمران طبقہ سادگی اختیار کرے تو غریب کے حالات کیوں نہیں بدلیں گے ؟مگر اس عیش و عشرت والی حیات کوچھوڑنے پر کون رضامند ہوگا بالفرض کوئی ہو بھی گیا تو وہی ہوگا جو ملک معراج خالد کے ساتھ ہوا تھا کہ جب مرحوم نگران وزیراعظم بنے تو انھوں نے قوم کو سادگی سکھانے کے لیے اپنے لیے ہر قسم کا پروٹوکول منع کر دیا ایک دن وہ مال روڈ سے گزر رہے تھے کہ دیکھا کہ پولیس نے ہر طرف سے ٹریفک جام کر رکھی تھی۔

Protocol
Protocol

آدھا گھنٹہ انتظار کے بعد انھوں نے گاڑی کے قریب سے گزرتے ہوئے ایک پولیس کانسٹیبل سے پوچھا ”بھائی پچھلے نصف گھنٹے سے ٹریفک کیوں بند ہے ”؟کانسٹیبل نے انھیں پہچانے بغیر کہا ”جناب گورنر پنجاب خواجہ رحیم گزر رہے ہیں ”ملک معراج خالد نے خواجہ رحیم سے موبائیل پر رابطہ کیا اور کہا”آپ کے پروٹوکول میں تو میں بھی پھنسا ہوا ہوں ”خواجہ صاحب نے قہقہ لگایا اور کہا” معذرت مگر اب تو یہ ٹریفک میرے گزرنے کے بعد ہی کھلے گی اور میرے گزرنے میں ابھی ایک گھنٹہ باقی ہے ”۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ خواجہ صاحب کا قافلہ کافی دیر بعد گزرا اور سادگی پسند وزیراعظم کو دو گھنٹے بعد آگے بڑھنا نصیب ہوا ۔اس واقعہ کو سیاسی لطیفے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جبکہ یہ وقوعہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں معاشی اور معاشرتی مساوات کے منہ پر طمانچہ ہے۔

المیہ یہ ہے کہ فرد کی عزت اور حیثیت کو اس کی دولت سے ماپا جا تا ہے یہاں تک کہ فرد کی قابلیت اور معیار میں بھی دولت ہی طاقت شمار ہونے لگی ہے بریں سبب حصول دولت کے لیے اکثریت غلط راہوں کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو چکی ہے اور جن کو مواقع میسر نہیں ہوتے وہ نفرت اور بغاوت کا شکار ہو کر جرائم کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں ۔خود بھی برباد ہوجاتے ہیں اور معاشرے کو بھی نا قابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں اگر یہ کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ غربت معاشرے کو تباہ کر دیتی ہے ،اس کی موجودگی میں کوئی ملک بھی ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ یہ مجرموں اور باغیوں کو جنم دیتی ہے اس سے بدعنوانی اور کرپشن پھیلتی ہے اور زندگی کی اعلیٰ اقدار پامال ہوتی ہیں جب کبھی کوئی ملک اپنے اندرنی حالات سے پیدا ہونیو الے فسادات کا شکار ہوتا ہے تو اس موقع کا فائدہ دشمن ممالک اٹھاتے ہوئے اپنی تخریب کاری شروع کروا دیتے ہیں۔

یہ افراتفری انسانیت کو ہی نہیں بلکہ انسانی احساس کو بھی ختم کر دیتی ہے سوال یہ ہے کہ کیا غربت کاا نسدادممکن ہے ؟ یقینا ہے مگر!اس کے انسداد کے لیے مضبوط معاشی پلاننگ اور مساوی حقوق کی تقسیم ضروری ہے لیکن وہ تب ہوگا جب حکمران طبقہ خلوص نیت سے ایسا چاہے گا یہی حل ہمیشہ لکھا گیا ہے لیکن اس پر عمل درآمد کسی بھی دور حکومت میں نظر نہیں آتا اس لیے اب ضرورت اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنے کی ہے۔لیکن عوامی سطح پر یہ شعور کون بیدارکریگا ؟ کہ اگر معیار زندگی بہتر کرنا ہے تو مردوں کے شانہ بشانہ خواتین کو بھی باہر نکلنا ہوگا چھوٹے سے چھوٹا کام کرنے میں بھی ہتک محسوس نہ کرنی ہوگی جیسے مغربی ممالک میں خواتین پیکنگ وغیرہ کر لیتی ہیں مزید ریستوران، بیکریاں اور سٹوربھی چلاتی ہیں جبکہ بزرگوں کے لیے حکومت کی طرف سے وظائف مقرر ہوتے ہیں ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں سوچا جاتا؟ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ جن کے 8یا10 بچے ہیں وہ ضروریات زندگی پورا کرنے کے لیے اپنے بچوں کو با اثر افراد کے ہاں گروی رکھوا دیتے ہیں چونکہ ان کا بال بال قرض میںاَٹا ہوتا ہے اس لیے بھی وہ ہر قسم کی زیادتی کو سہہ جاتے ہیں کہ ذرائع آمدن کم ہونگے تو معاشی تفکرات یقیناجکڑ لیں گے ایسے میں خاموشی اور برداشت ہی مجبوراً فیصلہ ٹھہرتی ہے مگر بڑوں کی یہ بے حسی اور بے بسی بچے کی شخصیت کو مسخ کر دیتی ہے اسے بعد ازاں اپنے خاندان سمیت معاشرے کا بھی مفید فرد نہیں رنے دیتی بریں سبب بچوں کو اس ظلم سے بچانے کے لیے فی الفور اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کہ ایسے تمام کیسسز جو عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

ان پر سخت ایکشن لیا جائے اور گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں اور کمسن بچوں کی ملازمت کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں مگرایسے والدین کی معاشی حالت بہتر کرنے کے لیے انھیں کاروباری مواقع فراہم کیے جائیںایسی قرضہ سکیمیں شروع کی جائیں جن سے آسان شرائط پر قرضہ مل سکیں اور بعد ازاں بچوں کو ملازمت دینے والوں کو مجرم گردانا جائے اور علاقہ تھانہ اس بارے مکمل آگاہی حاصل کرے کیونکہ آج کل اتنے ادارے موجود ہیں جہاں پر ایسے بچے جو والدین پر بوجھ ہیں اچھی تعلیم و تربیت حاصل کر سکتے ہیں یہ الگ بات کہ ان میں سے بھی اکثر اب گھوسٹ اور مافیا کا شکار ہیں جو انسانی جانوں کے دشمن ہیں اس لیے اس بارے وسیع پیمانے پر خلوص نیت سے منصوبہ بندیوں اور اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ ہمارے ہاتھوں سے ہمارا مستقبل پھسل رہا ہے اور تہی دامنی اور اخروی خسارے کے سوا کچھ نہیں بچے گا ۔۔سوچئیے ۔۔اس سے پہلے کے اب کے پھر دیر ہو جائے کیونکہ شطرنج میں اگر وزیر اور زندگی میں اگر ضمیر مر جائے تو پھر کھیل ختم ہوجاتا ہے ۔اور کاش حکمران یہ ذہن نشین کر لیں کہ :کرسی سے تو ایک دن اترنا تھا ہی انھیں ۔۔۔جو دل میں بیٹھتے تو اترتے نہ کبھی۔

Roqiya Ghazal
Roqiya Ghazal

تحریر : رقیہ غزل

Share this:
Tags:
country distribution Faith financial Protocol responsibility systems ایمان تقسیم ذمہ داریوں معاشی ملک نظام
CNG Station Closed
Previous Post سندھ بھر میں سی این جی اسٹیشن اتوار کو بھی بند ہوں گے
Next Post امریکی محکمہ دفاع کا داعش کے 80 جنگجو ہلاک کرنے کا دعوی
Libya Bombing

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close