پانیوں میں لگائی جائے آگ
اور پھر نہ بجھائی جائے آگ
قریہ، قریہ ہو پانیوں کا راج
دریا، دریا بہائی جائے آگ
موج در موج نوحہ خوانی ہو
ساحلوں پر جلائی جائے آگ
جلتے شعلوں پہ خون چھڑکا کر
آسماں تک اٹھائی جائے آگ
پیٹ کی آگ سرد کرنے کو
عین ممکن ہے کھائی جائے لوگ
جام و مینا کے روپ میں ساحل
محفلوں میں پِلائی جائے آگ
تحریر : ساحل منیر
