
تیرے ہاتھوں فریب کھانے لگے
جب بھی دنیا کے غم ستانے لگے
ہم تیری یاد کو جگانے لگے
جِس کو پایا پلک جھپکتے ہوئے
اُس کھونے میں کب زمانے لگے
چین آجائے وحشتِ دل کو
تُو اگر روز آنے جانے لگے
میرے عشق و جنوں کی آتش سے
لوگ اپنے دِیے جلانے لگے
کر کے حیرت زدہ حوادث کو
تیرے ہاتھوں فریب کھانے لگے
زریں منور
