
کروڑ لعل عیسن : خون تو بہتے ہیں لیکن آنسوں نہیں گرتے۔ غیر ملکی قوتیں اپنے ذاتی مفاد کیلئے ہمیں فرقہ پرستی میں مشغول رکھے ہوئے ہیں۔ آج ہم سب کو ایک ہونے کی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انجمن تاجران کے سابق صدر طارق پہاڑ نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عصبیت کے کئی پہلو ہیں۔ ذات برادری ، تنظیم فرقے سب عصبیت کی مختلف شکلیں ہیں۔ غیر ملکی قوتیں اپنے ذاتی مفاد اور فائدہ حاصل کرنے کیلئے ہمیں تنظیم پرستی اور گروہ بندی اور مختلف فرقوں میں بانٹے ہوئے ہے جس کا ناصرف ہمیں بلکہ اس ملک پاکستان کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
پاکستان میں انسانیت کے قتل عام کے پیچھے اور صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے غیر ملکی عناصر کا ہاتھ ہے۔ جس کو ہم صرف اور صرف ایک قوم ہو کر ہی ناکام بنا سکتے ہیں۔ تنظیم پرستی، گروہ بندی اور فرقہ پرستی بد مست ہاتھی کے جنون کی طرح ہے جس کا کنٹرول انسان کے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے۔ جب انسان اس میں مبتلا ہوتا ہے تو انسانی ذہن صرف اس کیلئے سوچتا ہے۔
اس عصبیت کیلئے کچھ کر گزرنا چاہتا ہے جس سے معاشرے اور قوم کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نتیجتاً معاشرہ تقسیم در تقسیم ہوتے ہوتے ایک دوسرے کا دشمن اور پھر جانی دشمن بن جاتا ہے۔ پھر خون تو بہتا ہے لیکن آنسوں نہیں گرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تمام فرقہ واریت کو ختم کر کے اتحاد بین المسلمین کی مثال قائم کرنی ہو گی اور دشمن عناصر کی ان پالیسیوں کو ناکام کرنا ہو گا۔ اس میں ہم سب کی اور اس ملک کی بھلائی ہے۔
