
تحریر: وقارانساء
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ایک معاملہ فہم لیڈر پناہ سیاسی بصیرت رکھنے والی دوراندیش شخصیت تھے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد اور خودمختار خطے کے حصول کے لئے انہوں نے انتھک جدوجہد کی ان کی خوبیوں کے انگریز اور ہندو بھی معترف تھے۔
ان کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے لارڈماؤنٹ بیٹن نے کہا راست بازی میں دريکتا اندر باہر سے یکساں انگریزی زبان کا درجہ اول مقرر کمزور جسم و جاں کے ساتھ بارعب شخصیت مسلمان ہند کی اکیلے ناؤ کھینچنے والا اتنا بلند کردار اور قومی لیڈر شائد ہی مسلمانوں میں دوبارہ پیدا ہو۔
ان کے عزم اور پختہ ارادوں سے دوست اور دشمن سب واقف تھے –اسی لئے ایک موقع پر جواہر لال نہرو نے کہا میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ محمد علی جناح کسی قیمت پر خریدے نہیں جا سکتے
قائد اعظم اپنے کام سے محنت اور لگن رکھتے تھے اس کے ساتھ کمال درجے تک حاضر دماغ اور معاملہ فہم بھی تھے۔

اپنی ذہانت سے اس طرح جواب دیتے کہ مخالف کو لاجواب کر دیتے قائد اعظم جب لندن یونيورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے تو ايک انگریز پروفیسر پیٹرز ان سے شدید نفرت کرتا تھا ایک دن پروفیسر لنچ کر رہے تھے تو جناح بھی اپنی ٹرے لے کر اسی ٹیبل پر بیٹھ گئے جو پروفیسر کو اچھا نہ لگا اور انہوں نے آپ سے کہا آپ کو پتا نہيں ہے کہ ایک پرندہ اور ایک سور ساتھ بیٹھ کر نہیں کھا سکتے ! جناح نے پر اطمینان لہجے میں جواب دیا کہ آپ پریشان نہ ہوں میں دوسرے میز پر اڑ جاؤں گا۔
پروفیسر کو ان کے جواب سے بہت غضہ آيا اور اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ ضرور ان کو لا جواب کر کے رہے گا اگلے دن پروفیسر نے جناح سے سوال کیا اگر تمہیں راستے سے دو بیگ ملیں اور ان میں ایک میں دولت اور دوسرے میں دانائی ہو تو تم کیا اٹھاؤ گے ؟ جناح نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا دولت پروفیسر نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا کہ میں تمہاری جگہ ہوتا تو دانائی والا بیگ اٹھاتا جناح نے جواب دیا ہر انسان وہی چیز چاہتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی۔
ان کی حاضر دماغی اور برجستگی بھی کمال کی تھی 1947 کو انتقال اقتدار کے موقع پر جب حکومت برطانیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان میں اقليتوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہوگا۔
ویسے ہی اصول پيش نظر رکھے جائیں گے جن کی مثالیں اکبر اعظم کے دور میں ملتی ہیں تو قائد اعظم نے برجستہ کہا وہ رواداری اور خير سگالی جو شہنشاہ اکبر نے غير مسلموں کے حق میں برتی کوئی نئی بات نہیں يہ تو مسلمانوں کی 13 صدی قبل کی روایت ہے جب پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہوديوں اور عیسائیوں پر فتح حاصل کرنے کے بعد ان کے ساتھ نہ صرف انصاف بلکہ فیاضی کا برتاؤ کرتے تھے –مسلمانوں کی تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے ہم پاکستانی آنحضورۖ کی تعلیمات کی روشنی میں ہی پاکستان چلائیں گے۔
ان کی انتھک شبانہ روز کوششوں سے ملک عزيز کا حصول ممکن ہوا –آج ملک تو ہے لیکن مخلص لوگوں کی کمی ہے-اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کسی با اصول اور محب الوطن لیڈر کی ضرورت ہے – جو ملک سے ناانصافی کا قلع قمع کر سکے جب انصاف ہو گا تو قانون کی پاسداری ہوگی جس کے نتیجے میں امن بحال ہوگا۔
قائداعظم نے اپنے رہنما اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس منقعدہ 11 اگست 1947 میں کہا مساوات اور انصاف ميرے رہنما اصول ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ان پر عمل پيرا ہو کرہم پاکستان کو دنیا کی عظیم قوم بنا سکتے ہیں۔
ان کے بہترین اصولوں کی مثال آج کے دور میں نہیں ملتی آج ہر جماعت لوٹ کھسوٹ کو اپنا فرض اولین سمجھتی ہے اور ملک کی ترقی پر خرچ کیا جانے والا پیسہ اپنا حق سمجھتی ہے اس عظیم قائد کی مثال اب کہاں کہ جن کو پاکستان کی کابینہ کے پہلے اجلاس میں اے ڈی سی گل حسن نے پوچھا سر اجلاس میں چائے پیش کی چائے یا کافی؟
قائد اعظم نے چونک کر سر اٹھایا اور کہا یہ لوگ گھروں سے چائے کافی پی کر نہیں آئے؟ اے ڈی سی گبھرا گیا قائد نے کہا جس وزیر نے چائے کافی پینی ہے وہ گھر سے پی کے آئے یا پھر گھر واپس جا کر پئیے قوم کا پیسہ قوم کے لئے ہے وزیروں کے لئے نہیں! کوئی ہے ھمارے قائد جیسا؟؟
تحریر: وقار انساء
