
اے ملک فرانس ہم تیرے مشکور رہینگے
تجھ سے نہ جدائی کبھی منظور کرینگے
زرخیر زمیں تیری یہ میدان یہ کہسار
لوگوں نے تیرے ہمکو دیا ہے بہت ہی پیار
اے فرانس تو ہے آج میری سانس برابر
دھرتی ہے تیری آج کرونا سے متاثر
تو آج پریشان ہے اور مبتلائے کرب
بن دیکھے ہی لڑنی ہے تیرے ساتھ ہمیں حرب
ہم دوسرے ملکوں سے یہاں آ کے بسے ہیں
روتے ہوئے آئے تھے یہاں آ کے ہنسے ہیں
تیرا ہی نمک کھا کے یہاں عمر بتائی
خوشیوں سے تحفظ سے ہر اک چیز ہے پائی
دے کے یہ جوانی تجھے خوشحال کیا ہے
ہے فخر تو جس کو نہیں پامال کیا ہے
وعدہ ہے یہ تجھ سے نہیں چھوڑیں گے کبھی ہم
مشکل ہو کوئی منہ نہیں موڑیں گے کبھی ہم
من میرا تیرے واسطے دھن تجھ پہ ہے قربان
جو ہو گی ضرورت تو یہ تن تجھ پہ ہے قربان
اے فرانس تجھے رب میرا آباد ہی رکھے
آئے نہ کوئی غم وہ تجھے شاد ہی رکھے
ممتاز تیرے واسطے مانگیں یہ دعائیں
غم کی نہ کبھی آئیں تیرے اور ہوائیں
کلام : ممتاز ملک.پیرس
