Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کیا ہم آزادی منانے کا حق رکھتے ہیں؟

August 10, 2015August 10, 2015 0 1 min read
Pakistan Independence Day
Pakistan Independence Day
Pakistan Independence Day

تحریر: ابنِ نیاز
یومِ آزادی کی آمد آمد ہے۔ جشنِ آزادی کی تیاریاں ہر بڑے شہر میں عروج پر ہیں تو ایسے میں چھوٹے شہر بھی پیچھے نہیں۔ بڑی بڑی عمارتوں پر چراغاں کیا جارہا ہے۔ بازاروں میں آزادی کے نغمے کانوں میں رس گھول رہے ہیں۔ سکولوں میں بچوں کو سخت گرمی کے موسم میں وطن کی محبت کا درس دیا جا رہا ہے۔ موسم گرما کی تعطیلات میں کے پی کے حکومت کے دل میں وطن کی محبت کا جن جاگ چکا ہے اور یکم اگست سے سکولوں کو گویا زبردستی کھلوا کر بچوں کو بلایا گیا ہے۔

جشنِ آزادی کی تیاریاں شروع کرائی گئی ہیں۔بچوں کو نہ تو اس طرح کی سہولیات میسر کی گئی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو گرمی کی تپش سے بھی بچا سکیں اور اپنی توانائی بھی بحال کر سکیں۔ یہ ہوتی ہے آزادی، ہر چیز سے آزاد۔ بازاروں میں وطنِ عزیز کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح کچھ جھنڈے بڑے ہیں جو سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں لہرائے جاتے ہیں۔ کچھ جھنڈے بلکہ جھنڈیاں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، پرچیوں کی صورت میں دھاگے سے باندھ کر ایک لڑی کی صورت میں پروئی ہوتی ہیں۔اور کچھ جھنڈے چھوٹے برے بیجوں کی صورت میں بھی فروخت ہو رہے ہیں۔ پھر چودہ اگست کی رات گزرتے ہی پندرہ اگست کو ہم شاید کچھ زیادہ ہی آزاد ہو جاتے ہیں۔ جیسے عید کے لیے چاند رات کو شیطان جہنم کی قید سے آزاد ہوتا ہے اور پھر اس رات جو گناہ سرزد ہوتے ہیں وہ پورے رمضان کا کفارہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی کیسے گناہوں سے بچا رہا۔

اسی طرح چودہ اگست کی رات گزرتے ہی اگلے دن پندرہ اگست کو ہماری ساری آزادی سڑکوں پر، گلیوں میں، ندی نالوں میں رلتی ، بہتی نظرآتی ہے۔جتنی جھنڈیاں لڑیوں کی صورت میں ہم نے اپنے گھروں میں، گلیوں ، چوباروں میں سجائی ہوتی ہیں، ان کی اکثریت ہم پائوں تلے روند کر گزر جاتے ہیں، اور یہ پروا نہیں ہوتی ہے کہ یہ ہمارے پاک وطن کا پیارا جھنڈا ہے۔اس کا احترام کریں گے تو دل میں خود بخود وطن کی عزت جاگے گی، وطن کی محبت جاگے گی۔ اس کے خلاف کوئی کام کرنے سے پہلے ہزار بار سوچیں گے۔ لیکن ہماری اس سوچ پر افسوس جو ہم نہیں سوچتے۔ ہم پاکستانی صرف کاغذی آزادی مناتے ہیں۔

ہمیں تقریریں کرنے کا فن بھی خوب آتا ہے اور دوسروں کو گول گول گھمانے کا بھی۔اس ہنر میں بھی ہم طاق ہیں کہ اپنے بھائی کا خون کیسے نچوڑا جائے، کیسے اس کو گلیوں میں رسوا کی جائے۔ ہمیں اس چیز کی آزادی واقعی میسر ہے کہ ہمیںکوئی بھی پوچھنے والا نہیں۔ قانون کے رکھوالے جو خود قانون شکن بن جائیں تو پھر ان کی آزادی کون چھین سکتا ہے۔ لیکن یہ بھی ہے کہ اکثریت ہر گز بری نہیں۔ وہ وطنِ عزیز کی آزادی کو سمجھتے ہیں کہ کس طرح یہ آزادی حاصل کرنے کے لیے دل سے ، دماغ سے جدو جہد کی گئی۔ پھر اس آزادی کی خاطر کتنی قربانیاں دی گئیں۔ ہزاروں مائوں کی گودیں اجڑیں، ہزاروں خواتین کے سرکے تاج بے سر کے رہ گئے۔ لاکھوں بچے یتیم و یسیر ہو گئے۔ ہزاروں افراد لٹے پٹے اپنے گھروں کو چھوڑ کر پاکستان کی جانب ہجرت کر کے آئے اور آج بھی وہ اپنے گھر کو ترس رہے ہیں۔لیکن لے کے رہیں گے آزادی، بن چھین کے رہیں گے آزادی، آج بھی یہ نعرہ ہمارے جسم میں خون بن کر دوڑ رہا ہے۔

Pakistan
Pakistan

ہمیں کس طرح کی آزادی میسر ہے۔ کہیں بموں کے دھماکوں میں سینکڑوں ، ہزاروں افراد جان بحق ہو جاتے ہیں۔ دہشت گرد کسی بھی گنجان آباد علاقے میں گھس کر بندوق پستول ہاتھ میں لیے چاروں طرف فائرنگ کرتے ہوئے آزادی سے فرار ہو جاتے ہیں۔ بچے، بوڑھے، خواتین کوئی بھی اپنی طرف آئی ہوئی اندھی گولی کو روک نہیں پاتا۔ابھی ان کے اہل و عیال کے آنسو خشک بھی نہیں ہوئے ہوتے کہ اللہ کی طرف سے طوفانِ نوح کا ایک حصہ سیلاب کی صورت میں ہمارے دیہاتوں ، شہروں کو ملیا میٹ کرتا ہوا گزر جاتا ہے۔ کہیں ساتھ میں بہت سے ذی روح یعنی جانور اور انسان بھی بہہ جاتے ہیں تو کہیں ان کے گزر بسر کا سامان ان سے بہت دور، سینکڑوںمیل دور کسی اور کے کام آرہا ہوتا ہے۔ اس وقت بھی یہی صورت حال ہے۔ دہشت گردی کے طوفان سے تو اللہ کے فضل و کرم سے ہماری پاک آرمی اور رینجرز کے جوان کافی حد تک نپٹے ہوئے ہیں۔ جو معدودے چند غدار رہ گئے ہیں، وطن دشمن ایجنٹوں کو پناہ دیے ہوئے ہیں، ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب انکے گلے میں بھی پھانسی کا پھندا ہو گا۔ یعقوب میمن کی طرح وہ ہر گز بے گناہ پھانسی پر نہیں لٹکائے جائیں گے، بلکہ ان کو بہت سی مائوں کو ، بہنوں کو، بیٹیوں کو قیامت کے دن جواب دینا ہو گا جب وہ اللہ کی عدالت میں سر جھکائے داغِ ندامت لیے کھڑے ہوں گے۔

اس وقت ان کی ندامت کسی کام نہ آئے گی۔ سیلاب کو بند باندھنے کے لیے ہمیں اللہ پاک کی طرف ہر امتحان کے بعد کافی وقت دیا جاتا ہے کہ اسکی تیاری کر لیں، پھر بھی یہ امتحان ممکن ہے، لیکن ہم اللہ کے اشارے کو ہر گز نہیں سمجھتے۔ بس یہ خیال کر لیتے ہیں کہ اس سال آگیا ہے یہ سیلاب، اب اگلے سالوں میں دس پندرہ سالوں تک نہیں آئے گا۔ نہ تو نیا دڈیم بنتا ہے نہ کوئی بیراج، نہ کوئی اور انتظام کے سیلاب شہروں، دیہاتوں کا رخ نہ کر سکے۔ کیوں کہ ہم آزاد قوم ہیں، اور آزادی سے سوچتے ہیں۔ کچھ زیادہ آزادی نہیں ہو گئی ہماری سوچوں میں؟ آزادی منانے کے لیے ذہنی، جسمانی، روحانی آزادی کے ساتھ ساتھ اخلاقی، سیاسی، معاشی آزادی بھی ضروری ہے۔ لیکن کیا ہم سب اس قسم کی کسی بھی آزادی کا نعرہ لگا سکتے ہیں؟ میرے خیال میں تو ہر گز نہیں۔ہمارے پاس ذہنی آزادی میسر نہیں۔١٩٤٧ء سے پہلے ہم انگریزوں کے غلام تھے، اور ان کے بعد ہم جاگیرداروں، ساہو کاروں اور غداروں کے غلام رہے اور ہیں۔ آزادی کے بعد جتنے عام انتخابات ہوئے، شاید ہی ہم نے کسی بھی حلقے سے کسی ایسے فرد کا انتخاب کیا ہو، جو ثقہ ہو۔ ثقہ فقہ کی اصطلاح ہے۔

اس کا مطلب وہ شخص جو پورے کا پورے اسلام میں داخل ہو۔ یعنی جھوٹ نہ بولتا ہو، کسی کو دھوکا نہ دیتا ہو، امانت میں خیانت نہ کرتاہو، کسی کا حق نہ مارتا ہو۔ اسلام کے ارکان کو پورا پورا ادا کرتا ہو وغیرہ وغیرہ۔ ہم اندھی تقلید کرنے والے ہر گز یہ نہیں سوچتے کہ پارٹی ٹکٹ کے تحت ان کے حلقے سے انتخاب میں کھڑا ہونے والا فرد پارٹی کی پالیسی کے تحت ہی چلے گا۔ اسکی اپنی کوئی مرضی نہیں ہو گی۔ اور پاکستان کے رواج کے مطابق پارٹی منشور انتخابات سے پہلے کچھ اور ہوتا ہے اور انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد پارٹی کے منشور میں ایک سو اسی ڈگر ی کا فرق پڑ جاتا ہے۔منشور میں جتنی ایمانداری کا چرچا ہوتا ہے، اس کے بعد مخالف پارٹیاں پھر شور شرابا کرتی رہتی ہیں کہ کہاں گئے وہ بدعنوان عناصر کو گلیوں میں گھسیٹنے کے نعرے۔ تو ہم ذہنی طور پر ہر بار اس پارٹی کو ہی ووٹ دیتے ہیں کہ شاید اس بار سدھر جائے۔ اگر بفرضِ محال دوسری پارٹی کو بھی ووٹ دے دیں تو بھی یہ علم ضرور ہوتا ہے کہ اس امیدوار کی انتخاب سے پہلے پانچوں گھی می ہی تھیں، اور انتخاب جیتنے کے بعد سر بھی کڑاہی میں ہو جائے گا۔ ہم ہمیشہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ رسول پاک ۖ کی حدیث کے مطابق مؤمن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔

ہم روحانی طور پر بھی آزاد نہیں۔ کہ ہم اللہ کے احکامات اور اسکے نبی پاک ۖ کی سنتوں پر اسکی روح کے مطابق عمل پیرا ہونے سے قاصر ہیں۔ اگرچہ عادتاً ہم نماز بھی پڑھ لیتے ہیں لیکن بے حیائی سے پھر بھی نہیں رکتے ۔ رمضان المبارک کے روزے بھی رکھ لیتے ہیںلیکن ہمسایہ ہمارا پھر بھی بھوکا ہی سوتا ہے۔ حج بھی کر لیتے ہیں لیکن غریبوں، مسکینوں ، یتیموں کے مال پر اسی طرح قبضہ کیا ہوتا ہے۔ہمیں عشقِ مصطفٰی ۖ کا دعویٰ ضرور ہے کہ جہاں کہیں شانِ مصطفٰی ۖ میں معمولی سی بھی گستاخی ہوتی ہیں وہاں ہزاروں عاشقانِ رسول ۖ نکل آتے ہیں اور پھر جو نعرئہ رسالت کے پردے جو وطن کی املاک کا نقصان ہوتا ہے، افراد کے رزق کو پائوں تلے روندا جاتا ہے ، اس سے ہمیں یہ احساس ہمہ وقت رہتا ہے کہ ہم آزاد ہیں۔اگر ان لوگوں کو، یعنی دعویٰ عشق کرنے والوں کو کہا جائے کہ حقوق العباد کے بارے میں بھی اسی نبی کریم ۖ نے کچھ احکامات بھی دیے ہیں جن کے عشق میں آج سرخرو ہونے نکلے ہو، ان کے بارے میں بھی کچھ سوچو تو پھر کہتے ہیں کہ پہلے عشق کو تو نبھا لیں، پھر ان افراد کا بھی سوچ لیں گے۔یا پھر آئیں بائیں شائیں کر کے رہ جاتے ہیں۔اگر ہم روحانی طور آزاد ہونا چاہیں، قرآن کو سمجھ کر پڑھنا چاہیں اور اسکی تعلیمات پر عمل کرنے کا سوچیں، رسول پاک ۖ کے احکامات کو اپنی زندگی کے لیے مشعلِ راہ بنانا چاہیں تو نام نہاد پیر، اور مولوی جنھیں شریعت کی بس الف با کا ہی علم ہے (اس الف با کے پیچھے کس دنیا کے کون کون سے راز عیاں ہیں، نہیں جانتے) ہمیں اس صراطِ مستقیم سے کوسوں دور بھگا لے جاتے ہیں، اور ہم روحانی طور پر غلام کے غلام ہی رہ جاتے ہیں۔

معاشی طور پر ہم آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے غلام ہیں۔ ہمارے گھر کے باتھ روم کے بجٹ سے لے کر ملک کے بڑے بڑے پراجیکٹ کے بجٹ تک یہ دو ادارے امریکہ (درپردہ اسرائیل) کی ہدایات پر بناتے ہیں۔اور پھر وقتاً فوقتاً پورے سال میں ان کی طرف سے ہدایات بھی ملتی ہیں اور دھمکیاں بھی۔ اب تو صرف یہی انتظار ہے کہ کب ان اربابانِ اختیار کی طرف سے ہوا، آگ ، پانی ( جو کہ اللہ کی طرف سے وافر مقدار میں میسر ہے) اور سورج کی روشنی پر ٹیکس لگتا ہے۔ کب ہمارے سونے پر، جاگنے پر، چلنے پر ٹیکس لگتا ہے۔ اگرچہ بالواسطہ طور پر لگ تو چکا ہے۔ تو میرے عزیز ہم وطنو! سوچیے کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد کیا ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم آزادی کا جشن اس طرح منا سکیں جیسا کہ آزاد قوموں کا حق ہے؟

Ibn e Niaz Logo
Ibn e Niaz Logo

تحریر: ابنِ نیاز

Share this:
Tags:
country Freedom Love pakistan right آزادی پاکستان حق محبت منانے وطن
Rashid Mehmood Soomro and Zulfiqar Mirza
Previous Post راشد محمود سومرو اور ذوالفقار مرزا کی ملاقات اور مل کر جدوجھد کرنے کا اعلان
Next Post میر زوہیر علی گلوکاری کے شعبے میں گراں قدر اضافہ ہیں۔ یاور مہدی
Karachi Press Club

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close