Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ہمیں کیسی آزادی چاہیے!

May 18, 2019 0 1 min read
China Pakistan Economic Corridor
China Pakistan Economic Corridor
China Pakistan Economic Corridor

تحریر : شیخ خالد زاہد

دنیا کے تمام انسان کسی نا کسی صورت قیدی ہیں۔ ہر معاشرہ اپنے افراد کو طے شدہ حدود سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتا، ہر مذہب اپنے ماننے والوں کو اپنی حدود سے باہر نہیں جانے دیتا۔ ایک معاشرہ دوسرے معاشرے سے آنے والے کو محدودرابطے کی اجازت دیتا ہے ایسے ہی ہر مذہب میں دوسرے مذہب کیلئے محدود جگہ رکھی گئی ہے۔ یعنی انسان حد بندیوں میں ہی رہتا ہے تو قیدی ہی ہوا۔ ان حد بندیوں کی وضاحت کو سمجھنے کیلئے اگر ہم مختلف براعظموں کا یا پھر ملکوں کا جن کی تقسیم علاقائی سطح پر ہوئی ہو،جائزہ لیں تو معلوم ہوجائے گا کہ انسان کس قسم کے قیدی ہیں۔ دوسری طرف انسان اپنی خواہشات اپنی سوچ کا بھی قیدی ہے۔ اخلاقیات کی قید تو مذہب اور معاشرے دونوں سے زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ معاشروں کو منظم کرنے میں بھی حدود کا کردار سب سے اہم ہے اور ان حدود پر کاربند کرانے والے اداروں کا کردار اس سے بھی زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ قیدی کی حیثیت سے زندگی گزارنے والے انسان نما اکثریت کو اس بات کا علم نہیں کہ وہ کس حاکم کا قیدی ہے۔ عام آدمی معاشرے اور مذہب کے خوف میں اتنا الجھا ہوا ہے کہ وہ تعین شدہ حدود کی حد تک پہنچتا ہی نہیں، اسلئے اسے اپنے قیدی ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ ہم سڑک پر لگی لال بتی پر نا رکیں تو ہم پر جرمانہ لگا دیا جاتا ہے اور ہم ایک جرم کے مرتکب ٹہرتے ہیں۔ ہم معاشرتی حدود کو پار کرتے ہیں تو قانون کی گرفت ہمیں پکڑ لیتی ہے اور ہم مذہب کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو مولوی ہمیں سیدھا کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔ جیلوں میں رہنے والے قیدی جیل اور جیلر کے قوانین جنہیں حدود بھی کہا جاسکتا ہے کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے اور اگر کوئی قیدی ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسکی قید کی شدت میں اضافہ کردیا جاتا ہے جیسے کہ کال کوٹھری وغیرہ وغیرہ کی نظر کردیا جاتا ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ انسان کبھی آزاد تھا ہی نہیں۔لیکن معلوم نہیں کیوں ہر طرف سے آزادی کی جدوجہد کی صدائیں گونجتی سنائی دیتی ہیں اور معلوم نہیں کس آزادی کیلئے زندگی جیسی نایاب چیز قربان کردی جاتی ہے۔ آدم ؑ کی آزادی جنت میں بھی نہیں تھی جبھی تو راندھائے درگاہ ہوئے اور زمین پر بھیج دیئے گئے۔کیا انسان زمین پر بطور سزا بھیجا گیا؟

مختصراً تاریخ سے آگے بڑھتے ہیں، ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے کون واقف نہیں یہ وہ کمپنی تھی جس نے برصغیر پر قبضہ کرنا تھا اور یقینا یہ اپنی ایک منظم حکمت عملی کے تحت تجارت کے بہانے برصغیر کے حکمرانوں تک پہنچے جیسا کہ انہیں پہنچنا تھا۔تجارت کی اجازت تو ملنی ہی تھی پھر گوری چمڑی کی بے دریغ دید نی چمک سے کس کا نفس بے قابو نہیں ہوتا۔کیا تجارت ہوئی کہ برصغیر کی حکومت ہی ہاتھوں سے نکل گئی اور جو بادشاہ بنے بیٹھے تھی سب کے سب غلام ہوگئے۔ ایک طویل اقتدار کا جاہ و جلال ایک تابناک دور حکومت کاسورج غروب ہوا اور ایک نیا غلامی کا طوق ہمارے گلے کی زینت بنا۔ ہم تب سے تاج برطانیہ کی غلامی میں غرق ہوگئے۔ ہم میں سے کچھ لوگوں نے اس غلامی کے طوق کو اپنے گلے میں گوروں کا پٹہ سمجھ کر انکے پیچھے دم ہلاتے رہنا سمجھ لیا اور کچھ نے اس غلامی سے ٹکرانے کیلئے کچھ نظریاتی حکمت عملی ترتیب دی اور کچھ لوگوں نے اسلحہ کی زور پر ان سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کردی۔ ہندوؤں نے موقع غنیمت جانا اور اپنی سال ہا سال غلامی کا بدلہ لینے کیلئے انہوں نے انگریزوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور پسِ پردہ انگریزوں سے مل کر ہمیں ہر میدان میں پیچھے کرتے چلے گئے۔ آخر کار تین مختلف قسم کی جدوجہداپنی اپنی جگہ پر کام کرتی رہیں اور ایک طویل صبر آزما کوجہد مسلسل کے نتیجے میں بر صغیر کے ٹکڑے ہوگئے اور مسلمانو ں کی ایک بہت بڑی تعداد اس فیصلے سے ناخوش تھے کیونکہ انکا سمجھنا تھا کہ یہاں سے انگریزوں اور ہندؤں کو جانا چاہئے کیونکہ ہندوستان ہمارے آباؤ اجداد کی سرزمین ہے اور انگریز نے قبضہ بھی ہمارے بادشاہوں کی حکومت پر کیا تھا لیکن وقت بدل چکا سوچ تقسیم ہو چکی تھی۔ انگریز اپنے نظرئیے تقسیم کرو اور حکومت کرو میں کامیاب ہوچکا تھا۔ پاکستان بن گیا۔ جن لوگوں نے انگریزوں کی غلامی کے طوق کو خود اٹھا کر اپنے گلے میں ڈالا تھا انکی وفاداریوں کے بدلے میں انہیں انگریز سرکار نے بھرپور طریقے سے نوازااور جو لوگ نظریاتی تھے انہیں پاکستان کی بقاء اور سالمیت سے زیادہ کچھ نہیں چاہئے تھا اور جولوگ عسکری جدوجہد میں مصروف تھے اور آج تک مصروف ہیں۔ نوازے ہوئے لوگوں نے اپنی اپنی جادائیدیں کیا چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنالیں اور ان میں کچھ بنایا یا نہیں نجی جیلیں ضرور بنائیں اور ہر اس ظلم اور ناانصافی کو ساتھ لائے جو انہوں نے انگریز سرکار کو کرتے دیکھا تھایہاں تک کے وہ کچھ ایسی برائیوں کو بھی ساتھ لئے پھر رہے ہیں جن کا نا تو ہمارا معاشرہ ساتھ دیتا ہے اور مذہب تو شدید مخالفت کرتا ہے۔یہ لوگ نسل در نسل ذہنی غلامی پال رہے ہیں اور اپنے علاقے کے لوگوں کو اپنا غلام بنا کر رکھے ہیں۔ ہم زبان اور لباس کے بھی غلام ہوگئے اور اس غلامی کی سوچ نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

پاکستان کی آزادی آج تک بھارت نے ہضم نہیں کی ہے۔ بھارت نے کشمیر کیساتھ جو کچھ کیا وہ ہمارے کشمیری بھائی آج تک جھیل رہے ہیں، اسکے بعد ۵۶ کی جنگ، پھر ۱۷ میں پاکستان کو دو لخت کرنے کی کامیاب سازش اور پھر گاہے بگاہے پاکستان کی سرحدوں پر رہنے والے نہتے شہریوں پر گولہ باری اور گولیوں کی بوچھاڑ معمول بنا ہوا ہے۔ ابھی فروری میں ہونے والے انتہائی کشیدہ حالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان آج تک بھارت کو ہضم نہیں ہوا ہے۔ بھارت نے اپنی سازشوں میں افغانستان کو بھی شامل کررکھا ہے اور آس پاس کے دیگر ممالک بھی اس کا حصہ بنتے دیکھائی دے رہے ہیں۔ ہم خطے میں اپنا اثرورسوخ قائم کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہوئے ہیں جس کی اہم ترین وجہ چین ہے۔

پاکستان چین کی مثالی دوستی رہی ہے،ان جیسی دوستی کی مثال دنیا میں شائد ہی کہیں نہیں ملتی۔ یہ ایسا تعلق ہے جو کہ امریکہ سمیت بھارت اور اسرائیل کیلئے انتہائی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس تشویش کا اظہار کبھی بھی واضح انداز میں نہیں کیا گیا ہے بلکہ امریکہ کی مختلف واضح ہوتی حکمت عملیوں سے نظر آرہی ہیں۔چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور باہمی اشتراک سے ایسی ایسی چیزیں بناڈالیں ہیں کہ دنیا حیرت ذدہ دیکھائی دیتی ہے۔ دور حاضر میں پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک (چین پاکستان اقتصادی راہداری) نے ساری دنیا میں بھونچال پیدا کیا ہوا ہے دوسری طرف چین پاکستان کی معیشت کو ہر ممکن سہارا دینے کی کوشش کرتا دیکھائی دے رہا ہے بات یہاں بس نہیں ہوجاتی بلکہ پاکستان کیخلا ف جس کسی نے بھی غلط زبان استعمال کی ہے تو چین نے پاکستان سے بھی پہلے اسکا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا ہے۔ چین کو پاکستان کی کیا ضرورت ہے ہمیں ابھی اس بات کا صحیح سے علم نہیں ہے لیکن ہمیں چین کی ضرورت بہت سارے میدانوں میں ہے اور ہم یہ مدد لے رہے ہیں۔ تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں اور وہ یہ کہ چین کہ کچھ علاقوں میں مسلمانوں کیخلاف ہونے والے انتہائی تلخ اور سنگین واقعات باقاعدہ طور پررونما ہونے لگے ہیں جنہیں کسی بھی قسم کے میڈیا پر خاص جگہ نہیں دی جاتی اور ناہی سماجی میڈیا اس بات پر خاص رد عمل دیکھاتا نہیں دیتا۔ تازہ ترین واقعات میں آجکل چینی افراد کی پاکستانی لڑکیوں سے شادی کا معاملہ بھرپور توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ چینی افراد ہماری غربت کا بھرپور فائدہ اٹھانے ہمارے دور دراز کے علاقوں تک پہنچ گئے ہیں جن کی رہنمائی ایک نئی غلام نسل کر رہی ہے جن کو سوائے روپے پیسے کے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ آخر ہمارے یہ چینی دوست ہماری پیٹھ میں چھرا کیوں گھونپ رہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ انکے پس پشت وہ غلامی کا طوق اپنے مفادات کے حصول کیلئے اپنے گلے میں ڈالنے والے لوگ ہوں جنہوں نے یہ کام کروانا شروع کررکھا ہے جو پہلے بھی ایسا کرتے رہے ہیں۔

چین میں اسلام دشمنی کے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں لیکن انہیں کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔ اب یہ لڑکیوں کی غیر قانونی درآمد کا معاملہ جو یقینا کئی وقت سے سماجی میڈیا پر تو دیکھائی دے رہا تھا لیکن اس پر کوئی خاطر خواہ کاروائی ہوتی نہیں دیکھائی دے رہی تھی لیکن اب جبکہ یہ معاملہ انتہائی سگین نوعیت کو پہنچ چکا ہے اور پیسے کی خاطر لوگ اس کام کو قانونی شکل دے کر کروارہے ہیں قانون کے شکنجے میں آچکے ہیں تو پتہ چل رہا ہے کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔

ہمیں اپنے اداروں پر اپنے موجودہ حکمرانوں پر پورا یقین ہے کہ وہ سی پیک (چین پاکستان اقتصادی راہداری) کو کاروباری ہی رکھینگے اور یہ کسی نئی ایسٹ انڈیا کمپنی کا دوسرا حصہ نہیں ہوگا اور ہم جیسی بھی ہے اپنی آزادی کا سودا نہیں ہونے دینگے۔ ہم عادتاً کہیں پھر سے اپنے لئے ان چینیوں کی شکل میں نئے آقا تو نہیں ڈھونڈ لائے ہیں۔ ہم اپنے دوستوں کو دوست ہی رکھینگے، ہم انکے غلام کبھی بھی نہیں بنیں گے۔ موجودہ حکومت کا سب سے بڑا مشن ہے کہ وہ پاکستان کا نام دنیا کے بڑے ناموں میں شامل کرائینگے وہ کبھی بھی اب کسی کو آقا تسلیم نہیں کرینگے۔ہم جیسے بھی ہیں ہم آزاد ہیں اور ہم اپنی آزادی کی جنگ زمانوں سے لڑ تے آرہے ہیں، ہم اب اپنی آزادی پر کوئی سودے بازی نہیں کرینگے۔

Sh. Khalid Zahid
Sh. Khalid Zahid

تحریر : شیخ خالد زاہد

Share this:
Tags:
Freedom government History Importance Society World آزادی اہمیت تاریخ حکومت دنیا معاشرہ
Dollar
Previous Post دشمن کا منصوبہ نمبر 2، معاشی جال
Next Post کیا مسلمان ہی دہشت گرد ہے؟
Terrorist

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close