Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

غزہ کی صورت اور ہماری ذمہ داریاں

July 31, 2014July 31, 2014 0 1 min read
Arif Kisana
Gaza Attack
Gaza Attack

برطانیہ نے امت مسلمہ کے سینے میں جو دو بڑے گھاؤ لگائے تھے وہ ایسا ناسور بنے ہیں کہ اُن سے بہنے والے خون کی مثال تاریخ عالم میں مل ہی نہیں سکتی۔ کشمیر اور فلسطین دونوں برطانیہ کے پیدا کردہ مسائل ہیں کہ ان کی وجہ سے لاکھوں انسان کا خون بہا ہے اور کروڑوں بے گھر ہوکر ابھی بھی کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

ہندوستان کو تقسیم کرتے وقت انہیں اتنی عجلت تھی کہ مسئلہ کشمیر کو ادھورا چھوڑ کر بھاگ گئے اور ایک ایسا مسئلہ چھوڑ گئے جو لاکھوں انسانوں کو نگل گیا اور اب تک جنوبی ایشیا امن و سلامتی سے محروم ہیجبکہ کشمیری اپنی آزادی کے لیے لہو کے چراغ جلارہے ہیں۔ یہ بھی برطانوی سامراج ہی تھا جس نے پہلی جنگ عظیم کے بعد فلسطین پر قبضہکیا اور پھر اس کے وزیر خارجہ نے2 نومبر 1917کو برطانوی پارلیمنٹ میں اسرائیل کے قیام کا منصوبہ پیش کیا جو اعلان بالفور کے نام سے موسوم ہے جو کہ 1862میں ایک جرمن یہودی کے نظریہ کے مطابق تھا جس نے آزاد یہودی ریاست کا نظریہ پیش کیا۔ اسی کے تحت 1936میں برطانیہ نے فلسطین کے تقسیم اور اسرائیل کے قیام کی تجویز پیش کی۔

جسے اقوام متحدہ سے منظور کرواکے 14مئی 1948کو باقاعدہ اسرائیل کے قیام کا اعلان کردیا۔ عربوں نے اس علان کو تسلیم نہ کیا اور انہوں نے اسرائیل سے 1967 ,1956, 1948اور1973میں جنگیں کیں مگر ان جنگوں میں اسرائیل نے مزید علاقے ہتھیاکر اپنی بالادستی قائم کردی۔ امریکہ چونکہ اسرائیل کا سب بڑا حمایتی ہے بلکہ دوسرے الفاظ میں اسرائیل اور امریکہ دونوں ایک ہی ہیں اس لیے عربوں نے بلاآخر یہ تسلیم کرلیا کہ وہ اسرائیل سے نہیں لڑ سکتے لہذا مصر نے 1978میں اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ معائدہ کے تحت صلح کرلی اور آخر کا تنظیم آزادی فلسطین نے بھی ستمبر 1993اوسلوامن معائدہ کے تحت اسرائیل سے معائدہ کرلیا لیکن وہ معائدہ بھی امن کا غامن نہ بن سکا اور نہ ہی آزاد فلسطینی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکا۔

فلسطینی گذشتہ باسٹھ سالوں سے آزادی کے لیے بے پناہ قربانیاں دے رہے ہیں۔ 8 جولائی سے اسرائیل نے غزہ پر جس قدر ظلم و ستم کیا ہے اس کی تاریخ عالم میں مثال نہیں ملتی ۔اسرائیلی بربریت نے تاریخ عالم انسانی کے ظالم ترین کرداروں کو بھی شرمندہ کردیاہے اور دوسری طرف مردہ عالمی ضمیر اور عالم اسلام نے بھی بے حسی کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

مسلمانوں کے دشمن خوش نصیب ہیں کہ اب انہیں مسلمانوں کو غلام بنانے اور انہیں تباہ کرنے کے لیے افرادی قوت کو استعمال نہیں کرنا پرتا کیونکہ یہ کام مسلمان خود اُن کے اشارے پر انجام دے رہے ہیں۔ اب تو بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ مسلمان حکمرانوں نے اسرائیل کے قیام کی مخالفت نہ کی اور خود فلسطینیوں نے لالچ میں آکر اپنی زمینیں فروخت کرکے یہودیوں کو وہاں آباد کیا۔

غزہ پر حالیہ اسرائیلی جارحیت پر عرب حکمرانوں کی خاموشی معنی خیز ہے اور یہ بھی خبر ہے کہ ایک اہم ترین عرب ملک کی خفیہ ایجنسی کا اسرائیل کی خفیہ ایجنسی سے برابر رابطہ ہے اور انہوں نے اسرائیل کو یقین دلایا ہے کہ وہ اس کی مخالفت نہیں کریں گے۔ صرف ترکی اور قطر کے بارے میں حماس نے کہا ہے کہ وہ اُن کے ساتھ مخلص ہیں اور ایران بھی ان کا معاون ہے۔ عرب ممالک حماس کے ایران کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اسے اسرائیل کے ہاتھوں سبق سیکھا رہے ہیں۔ مسلم ممالک میں اس بار عوامی مظاہرے بھی اس شدت کے ساتھ نہیں ہوئے جو کہ پہلے ہوا کرتے تھے۔ عالم اسلام تو سٹاک ہوم، لند ن، گلاسگواور دوسرے یورپی شہروں میں بڑے مطاہرے ہوئے ہیں۔ وینزویلا اور جنوبی افریقہ نے اسرائیلی سفیروں کو واپس بھیج کر مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے جبکہ سویڈن جو کہ ایک غیر جانبدار ملک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے اس نے اسرائیلیصدر شمون پریز کو ناروے جانے کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا اور پہلے سے دی ہوئی اجازت واپس لے لی اور اسرائیلی صدر کومجبوراََ ڈنمارک کی فضائی حدود سے گذر کر جانا پرا۔

اسلام دشمنوں نے مسلمانوں کے درمیان نیشنل ازم اور تعصبات کے جو بیج بوئے تھے وہ اب تناور درخت بن چکے ہیں اور کسی ایک مسلمان ملک کے اپنے ہمسایہ سے اچھے تعلقات نہیں۔ فرقہ وارانہ اختلافات کو اس قدر چالاکی سے مسلمانوں بڑحایا ہے اب وہ ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگا کر فریق مخالف کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ مسلمانوں میں جہادی گروپوں کی معاونت کرکے اسلام کا چہرہ مسخ کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ ہر ذی شعور شخص جانتا ہے دور حاضر کے فتنہ خروج کی مدد کون کررہا ہے ، القائدہ، طالبان، داعش اور دیگر عناصر کن کی پشت پناہی سے سرگرم ہیں۔ لارنس آف عریبیا اور ہمفرے کی کرداروں کو تسلسل آج بھی جاری ہے اور ان فسادی عناصر سے انبیاء اکرام کی قبریں اور مساجد بیھی محفوظ نہیں جنہیں غیر مسلموں نے بھی نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ مسلمان حکمران اپنی اپنی حکومتیں بچانے کے کسی بھی سطح تک جانے کے لیے تیار ہیں اور جو باقی ہیں انہوں نے شاہ فیصل، ذوالفقار علی بھٹو، صدام اور قذافی کے المناک انجام سے ڈر کر خوف ذدہ ہوکر بیٹھے ہیں۔ اس لیے عالم اسلام سے کوئی توقع کرنا عبث ہے۔

United Nations
United Nations

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت حال سے نکلنے کا حل کیا ہے؟اب کِیا کیا جائے۔اخبارات میں شائع ہونے والے کالم ہوں یاتجزیے، ٹی وی کے ٹاک شو ہوں یا سوشل میڈیا کے تبصرے سب صورت حال کی پس منظر اور واقعات کے گرد گھومتے ہیں لیکن کوئی قابل عمل منصوبہ پیش نہیں کرتا۔ اپنی خواہشات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ مسلم ممالک یہ کریں، اقوام متحدہ وہ کرے، فلاں ایسے کرے۔ ہمارے دانشوروں کو اسسوچ کے حصار اور یوٹوپیا سے باہر نکل کرسوچنا ہوگا۔ عالم اسلام، اقوام متحدہ اور عالمی ضمیر نے اگر کچھ کرنا ہوتا تو وہ کر گذرتے مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اس لیے اب تو فریب نفس سے باہر نکل آنا چاہیے۔ دوسری سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیوں ایک ارب ساٹھ کروڑ مسلمان صرف ایک کروڑ چالیس لاکھ یہودیوں کے سامنے بے بس ہیں۔61 لاکھ یہودیوں کا اسرائیل کیوں اتنا طاقتور ہے کہ ہو جو چاہے کرتا ہے اور کوئی اس کو روکنے والا نہیں۔ دنیا میں بے خانماں اور در بدر پھرنے والی یہودی قوم آج اس قدر طاقتور کیسے بن گئی۔ اسی یورپ میں جب یہودی کسی بستی ہیں آتے تھے تو ان کو وہاں سے نکال دیا جاتاتھا مگر آج یورپ کو وہ کیسے قابو کیے ہوئے ہیں۔ جواب کوئی مشکل یا پیچیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے محنت کی، اپنا دماغ استعمال کیا، علوم وفنون میں مہارت کی ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں ایسے بڑھے کہ 193 نوبل انعامت لے اڑے۔

لاہور سے کم آبادی والے ملک کی تین یونیورسٹیاں دنیا کی پہلی ایک سو بہترین یونیوسٹیوں میں شامل ہیں۔ یہی اسائیل کی طاقت کا راز ہے جس نے اُسے سائنس اور ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنے کا موقع دیا ہے۔ آج اسرئیل کے بائیکاٹ کے نعرے بھی قابل عمل نہیں رہے اور ایسا کہنے والے کمپوٹرکیUSB اور موبائل فون پر Viberاستعمال کررہے ہیں جوکہ اسرائیل کہ ہی ایجاد ہیں۔اُس کی 45 ایجادات ایسی ہیں کہ جو روز مرہ کے معاملات میں ناگزیر ہیں۔ اس صہیونی ریاست نے کیمیا، طبیعات، طبی سائنس، کمپوٹر، توانائی، زراعت، امور حیونات، جینیات، معاشیات، دفاعی امور، خوراک اور دیگر شعبہ جات میں ایسی ایجادات اور ترقی کی ہے کہ اُن کا بائیکاٹ ممکن نہیں رہا ۔ مسلم دنیا اور اسرائیل میں بس یہی فرق ہے۔ اگر فلسطینی بھی اتنے ہی ترقی یافتہ ہوتے تو کیا اسرائیل ایسی جارحیت کی جرات کرتا، کبھی نہیں۔ مسلم دنیا بے عملی، جہالت، سستی اور علم کی روشنی سے دور رہی جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ قرآن حکیم بار بار غور وفکر، تحقیق و جستجو اور کائنات کے علوم جاننے کا حکم دیتا ہے مگر ہم نے اُسے پس پشت ڈال کر دین کو مذہب میں بدلا اور پھر رسمی عبادات کو ہی سب کچھ سمجھ لیا جس کا نتیجہ قانون قدرت کی رو سے ذلت و رسوائی ہمارے سامنے ہے کیونکہ تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات ہمیں جذبات اور تصورات کی دنیا سے نکل کر حقیقت پسندانہ انداز میں اپنا لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ اندھیرے کو کوسنے کی بجائے اپنا چراغ درست کرنا ہوگا۔

Israel
Israel

جرمنی، جاپان اور دوسری ان اقوام سے سبق سیکھنا ہو گا جنہوں نے شکست کے بعد ایک نئے عزم اور ولولہ سے جدوجہد کرکے دنیا میں پھر اپنا مقام حاصل کرلیا۔ امت مسلمہ کو فکر سرسید سے رہنمائی لینا ہوگی گی شکست خوردہ قوم صرف جدید علوم سے ترقی اور عزت حاصل کرسکتی ہے اور یہ اسلام کی تعلیم کا بنیادی نقطہ بھی ہے۔ اقوام عالم یا مسلمان حکمرانوں سے بہتری کی توقع عبث ہے اس لیے عوام کو خود ہی کچھ کرنا ہوگا۔ ہر خاندان اور شخص یہ ذمہ داری محسوس کرے کہ اُسے اپنے حصہ کا کام کرنا ہے اور کرنا یہ ہے کہ اپنے بچوں کو جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔ اسارئیلی وزیراعظم گولڈا مئیر نے اسرائیلی بچوں کو یہی پیغام دیا تھا کہ اگر تم تعلیم میں پیچھے رہ گئے تو یہ عرب تمہیں کچا کھا کھاجائیں گے اور اس نصیحت کو اسرائیلی بچوں نے پلے باندھ لیا جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ ہم اپنے بچوں، اپنے رشتہ داروں، دوست احباب اور حلقہ اثر کے نوجوانوں میں اگر وہ جذبہ محرکہ بیدار کردیں جو اُن میں علم وجستجو کا جنون پیدا کردے تو پھر دو تین نسلوں کے بعد جا کر کہیں حالات اپنے ڈھب پر آسکیں گے۔ خالی نعروں، جلسے جلوسوں، قرارداوں اور جذباتی باتوں سے کچھ نہیں ہوگا لہذا ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے قوام کی تقدیر بدلنے میں اپنا کرادر ادا کرنا ہوگا بقول اقبال ہمیں جذبات اور تصورات کی دنیا سے نکل کر حقیقت پسندانہ انداز میں اپنا لائحہ عمل بنانا ہوگا۔

اندھیرے کو کوسنے کی بجائے اپنا چراغ درست کرنا ہوگا۔جرمنی، جاپان اور دوسری ان اقوام سے سبق سیکھنا ہو گا جنہوں نے شکست کے بعد ایک نئے عزم اور ولولہ سے جدوجہد کرکے دنیا میں پھر اپنا مقام حاصل کرلیا۔ امت مسلمہ کو فکر سرسید سے رہنمائی لینا ہوگی گی شکست خوردہ قوم صرف جدید علوم سے ترقی اور عزت حاصل کرسکتی ہے اور یہ اسلام کی تعلیم کا بنیادی نقطہ بھی ہے۔ اقوام عالم یا مسلمان حکمرانوں سے بہتری کی توقع عبث ہے اس لیے عوام کو خود ہی کچھ کرنا ہوگا۔ ہر خاندان اور شخص یہ ذمہ داری محسوس کرے کہ اُسے اپنے حصہ کا کام کرنا ہے اور کرنا یہ ہے کہ اپنے بچوں کو جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔

اسارئیلی وزیراعظم گولڈا مئیر نے اسرائیلی بچوں کو یہی پیغام دیا تھا کہ اگر تم تعلیم میں پیچھے رہ گئے تو یہ عرب تمہیں کچا کھا کھاجائیں گے اور اس نصیحت کو اسرائیلی بچوں نے پلے باندھ لیا جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ ہم اپنے بچوں، اپنے رشتہ داروں، دوست احباب اور حلقہ اثر کے نوجوانوں میں اگر وہ جذبہ محرکہ بیدار کردیں جو اُن میں علم وجستجو کا جنون پیدا کردے تو پھر دو تین نسلوں کے بعد جا کر کہیں حالات اپنے ڈھب پر آسکیں گے۔ خالی نعروں، جلسے جلوسوں، قرارداوں اور جذباتی باتوں سے کچھ نہیں ہوگا لہذا ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے قوام کی تقدیر بدلنے میں اپنا کرادر ادا کرنا ہوگا بقول اقبال افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مْدر کا ستارہ غزہ کے شہیدوں کو ہم سلام پیش کرتے ہیں ، انہوں نے قربانیوں کی ایک لازوال داستاں رقم کی ہے۔ یہودیوں کی اپنی تاریخ نہیں بھولنی چاہیے اور اُن کے تمام مظالم کا حساب مکافات عمل سے انہیں ضرور ملے گا چاہے اس میں کتنی ہی دہر کیوں نہ ہوجائے لیکن وہ ہوگا ضرور اور فلسطینی شہیدوں کا لہو رنگ لائے گا اور اسی سے اُن کی صبح آزادی طلوع ہو گی کیونکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا۔

Arif Kisana
Arif Kisana

تحریر: عارف محمود کسانہ سویڈن

Share this:
Tags:
appearance gaza issues kashmir palestine responsibilities برطانیہ ذمہ داریاں صورت غزہ فلسطین کشمیر مسائل
Mexico
Previous Post غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف میکسیکو میں مظاہرہ
Next Post بھارت میں لینڈ سلائڈنگ، 100 سے زائد افراد ملبے تلے دب گئے
India

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close