Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جنریشن گیپ

June 6, 2014June 6, 2014 0 1 min read
Mind The Gap The Generation Gap
Hyderabad
Hyderabad

مجھے آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب شام کو عصر کی آذان کے ساتھ ہی نانا جان (مرحوم) کی بارعب آواز سنائی دی کہ سب اٹھ کر عصر کی نماز ادا کرلیں اور اس کے بعد وہ خود مسجد کی طرف روانہ ہو گئے نماز روزہ کے سب پابند تھے مگر اس کے باوجود نماز کے لیئے سب کو یاد کرانا وہ اپنا فرض سمجھتے تھے جیسے ہی وہ عصر کی نماز ادا کر کے آئے سب بچوں کو اکٹھا کیا اور شام کی سیر پر نکل گئے یہ پاکستان میں حیدر آباد شہر کا ایک اندرون محلہ تھا جہاں ہم والدہ کے ہمراہ گرمیوں کی چھٹیاں گزار نے جایا کرتے تھے۔

پنجاب کے برعکس اندرون سندھ اور خاص طور پر حیدرآباد میں اب بھی ہندوؤں کی دکانیں اور گھر موجود تھے اور سب اتفاق سے مل جل کر رہتے تھے نا ناجان ایک دکان پر رکے ،سلام دعا اور مزاج پرسی کے بعد آگے چل پڑے کچھ دیر بعد جونہی مغرب کی آذان ہوئی ناناجان نے ہمیں گھر چھوڑا اور خود مغرب کی نماز پڑھنے مسجد چلے گئے اس بات کو گزرے دس پندرہ سال کا عرصہ بیت چکا ہے مگر ایسا لگتا ہے جیسے کسی اور زمانے کی بات ہو۔

اس وقت ہر گھر میں تہذیب و تمدن نظر آتا، بڑے چھوٹے کا احترام ،شرم و حیا ہر عورت کا زیور ہوتا میرے نانا جان جو انگریزوں کے ساتھ پڑھے اور نوکری کرتے رہے، ماڈرن خیالات کے مالک ضرور تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ تہذیب و تمدن،اصول پسندی اور حسنِ سلوک کی ایک اعلیٰ مثال تھے۔

کچھ سال پہلے کوئی بھی چھوٹا اپنے سے بڑے کی ڈانٹ اور نصیحت کا برا نہیں مناتا تھا بلکہ عزت و احترام سے اپنے سے بڑے کی بات سن کر اس پر عمل کیا جاتا تھا مگر جیسے جیسے وقت کے پہیے نے گردش کی گھروں کے ماحول اور حالات میں تبدیلی آتی گئی کہاں کچھ عرصہ پہلے گھروں کی عورتیں ، بڑوں کے سامنے بولنا تو دور کی بات، بغیر دوپٹہ کے سامنے نہیں آتی تھیں اور آجکل بیٹیاں، بہنیں، بیویاں شرم و حیا کی اس زینت کو کہیں پیچھے چھوڑ چکی ہیں۔

نماز روزہ کی پابندی ،رشتوں کا ادب و آداب ،بڑے چھوٹے کی عزت آجکل بھی ہزاروں گھروں میں موجود ہے مگر کسی چیز کی کمی ہے جو اندر ہی اندر اخلاقیات، پرورش اور گھروں کے ماحول میں فرق ڈال رہی ہے اور بڑوں اور چھوٹوں میں چھوٹی چھوٹی غلط فہمیا ں پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہے نسلوں میں پیدا ہونے والے اس فرق کو جنریشن گیپ کا نام دیا گیا ہے۔

جنریشن گیپ کا تصور ۱۹۶۰ میں مغربی دنیا سے آیا جس کا مطلب دو مختلف دور کی نسلوں کا مختلف سوچ اور افکار کے ساتھ ایک جگہ پر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنا ہے خاص طور پر والدین اور اولاد کے درمیان پائے جانے والے نظریاتی اختلافات جو ان میں تناؤ پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں ،۱۹۴۰ کی دہائی کے بعد جیسے ہی ۱۹۵۰ کی دہائی کا آغاز ہوا نوجوان نسل اور ان کے درمیان نظریاتی اختلافات میں فرق بڑھنے لگاالغرض رہن سہن، سوچ، ثقافت، موسیقی،سیاحت حتی ٰ کہ بنیادی حقوق کے حصول میں بھی فرق آگیا۔

نسلوں کے درمیان پیدا ہونے والے فرق کی بنیادی وجہ تیزی سے ہوتی ہوئی ترقی اور ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا ستعمال ہے اگر پچھلے کچھ عرصہ پر غور کریں تو ایک ایک گھر میں دو دو، تین تین نسلیں اکٹھی رہا کرتی تھیں دادا، دادی، چچا، تایا بمعہ اہل و عیال پیار محبت سے رہتے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس رجحان میں کمی آتی گئی نئی آنے والی نسل کی سوچ بدلنے لگی اور بڑوں سے کہیں آگے نکل گئی۔

نوجوان نسل اب ایسی جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے جس کے استعمال سے ان کے والدین نا آشنا ہیں جیسا کہ لیپ ٹاپٹ ،ٹیبلٹ ،آئی پیڈ، وغیرہ اگر آشنا ہیں تو اس حد تک عبور حاصل نہیں جتنا ان کی اولاد اور نئی نسل کو ہے۔

Mind The Gap The Generation Gap
Mind The Gap The Generation Gap

جنریشن گیپ کی عمدہ مثال ہمیں آفس اور دوسری کام کرنے والی جگہوں پر خوب ملتی ہے جب مختلف عمر کے لوگ مختلف نظریات کے ساتھ ایک جگہ پر نوکری یا کاروبار کرتے ہیں سنِ پیدائش کے اعتبار سے مختلف عمر کے لوگوں کو مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے (حامل،۲۰۰۵) اور اس گروپ بندی کو ’جنریشن ٹائم لائن‘ کہا جاتا ہے۔

ویٹرنز (۱۹۴۵۔۱۹۲۲) پیدائش
بے بی بومرز (۱۹۶۴۔۱۹۴۶)پیدائش
جنریشن ایکس ( ۱۹۸۰۔۱۹۶۵)پیدائش
جنریشن وائے (۲۰۰۰۔۱۹۸۱)پیدائش

ہر گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کی سوچ دوسرے گروپ سے مختلف ہوتی ہے حتیٰ کہ رابطہ رکھنے کا طریقہ بھی جدا ہے مثال کے طور پر ویٹرنز جو پرانے خیالات کے مالک ہیں فون کا استعمال اور فون پر جواب دینے کو فوقیت دیتے ہیں ،اس کے برعکس جنریشن وائے صرف ٹیکسٹ میسج پر جواب دینا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ مختلف گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کی چیدہ چیدہ خصوصیات سے انہیں سمجھنے میں خاطر خواہ مل سکتی ہے ۱۹۲۲سے ۱۹۴۵ میں پیدا ہونے والے افراد کو ’ویٹرنز‘ کہا جاتا ہے یہ افراد جس بھی کمپنی میں کام کریں بلکل ابتدا سے کام کو آگے لے جانا پسند کرتے ہیں اس لوگوں کے نزدیک کسی بھی فرد کا تجربہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے ان لوگوں کی مینجمنٹ بہت مضبوط ہوتی ہے یہ آمنے سامنے یا فون پر بات کرنے کو فوقیت دیتے ہیں۔ ۱۹۴۶سے ۱۹۶۴ میں پیدا ہونے والے افراد کو ’بے بی بومرز ‘ کہا جاتا ہے یہ جس بھی کمپنی میں کام کریں سالانہ رپورٹ کو بہت اہمیت دیتے ہیں یہ افراد دن میں کئی مرتبہ ای میل چیک کرتے ہیں اور ای میل پر جواب دینا پسند کرتے ہیں ۔ ۱۹۶۵ سے ۱۹۸۰ میں پیدا ہونے والے افراد کو ’ جنریشن ایکس‘ کہا جاتا ہے ، یہ افراد اپنی صلاحیتوں کو مختلف جگہوں پر آزماتے ہیں اور جیسے ہی انہیں کوئی بہتر موقع ملتا ہے یہ نوکری بدل لیتے ہیں یہ افراد بھی ای میل پر جواب دینا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ۱۹۸۱ سے ۲۰۰۰ میں پیدا ہونے والے افرا د ’ جنریشن وائے ‘ کہلاتے ہیں اس گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی صلاحیتوں پر بہت ناز ہوتا ہے نوکری میں مستقل مزاجی یہ صرف اس وقت تک دکھاتے ہیں جب تک بور نہیں ہوجاتے یہ کسی سے بھی غیر ضروری ملنے اور فون پر جواب دینے کی بجائے ٹیکسٹ میسج پر جواب دینا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

سوچ کا یہ فرق جب گھر والوں خاص طور پر والدین اور اولاد کے درمیان آجائے تو چھوٹے چھوٹے مسائل کو جنم دیتا ہے اولاد سے بڑھ کر والدین کے لیے کوئی قیمتی سرمایہ نہیں مگر والدین اکثر اولاد کی اچھی پرورش کرتے ،ان کی اچھی صحت ،بہتر زندگی اور کرئیر بناتے ان کی نفسیاتی اور روحانی مسائل کو نظر انداز کر دیتے ہیں یہی لاپرواہی بعد میں بچوں میں منفی اثرات پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے اور یہی منفی اثرات بچوں کی ذات کا حصہ بن جاتے ہیں۔ مائیں آجکل بیٹیوں کی بات اور ان کے مسائل سننے اور سمجھنے کی بجائے ڈانٹ ڈپٹ سے کام لیتی ہیں اسی طرح باپ بیٹے کی بات سننے کی بجائے خفگی کا اظہار کرتے ہیں اور یوں بیٹیاں ماں سے اور بیٹے باپ سے کترانے لگتے ہیں اور نتیجتاً نسلوں میں پیدا ہونے والا فرق بڑھتا چلا جاتا ہے اس لیے والدین کو اپنی مرضی اور سوچ بچوں پر مسلط کرنے کی بجائے ان کو سمجھنا چا ہیے اور محبت اور شفقت سے ان کی پریشانیوں اور روزمرّہ زندگی میں آنے والے مسائل کا حل نکالنا چاہئیے ۔
کچھ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بروئے کار لا کر نسلوں میں پیدا ہونے والے فرق کو کم کیا جاسکتا ہے بچوں کو کبھی اس بات کا احساس نہ دلائیں کہ آپ پرانے زمانے سے ہیں یا آپ کو آجکل کے ماڈرن زمانے سے کوئی دلچسپی نہیں ،جدید ٹیکنالوجی سے دلچسپی کا اظہار کریں اور اسے سیکھنے کی کوشش کریں جب بھی بچہ آپ سے کچھ شیئر کرے تو اسے آجکل کے ماڈرن تقاضوں اور دور کو سامنے رکھتے ہوئے سوچیں اگر بچہ آپ سے موٹر بائیک کی فرمائش کرتا ہے تو یہ نہ سوچیں کہ آج سے۰ ۳سال پہلے جب آپ کی عمر پندرہ سال تھی تو آپ کے پاس تو سائیکل تھی ۔بچوں کی ضرورتوں کو آجکل کے مطابق سوچیں نہ کہ اپنے زمانے کے مطابق ،بچوں سے دوستی اور خوشگوار ماحول قا ئم کرکے جنریشن گیپ کوبہت حد تک کم کیا جاسکتا ہے جتنی زیادہ آپ بچوں سے باتیں شئیر کریں گے ،ان پر اعتماد کریں گے، زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں ان کی مدد کریں گے ،گھر کا ماحول اتنا ہی خوشگوار ہو گا،اولاد فرمانبردار ہو گی اور غلط راستوں پر بھٹکنے سے بچے گی۔

Children
Children

بچوں کی بات سننے اور سمجھنے کے ساتھ ساتھ ان کو اخلاق، تہذیب و تمدن، رہن سہن میں گائیڈ کریں اگر بچہ آپ کو کچھ سمجھاتا ہے تو اسے ڈانٹنے کی بجائے خوشدلی سے اس کی بات کا خیرمقدم کریں چھوٹے چھوٹے اقدام اٹھا کر ہم گھروں اور آفس کے ماحول کو خوشگوار بنا سکتے ہیں اور ایک ایسا ماحول بنا سکتے ہیں جہاں بڑوں اور چھوٹوں کے درمیان عزت و احترام کا رشتہ بھی قائم ہواور نسلوں کے درمیان اس فرق کو شیئرنگ سے کم بھی کیا جاسکے۔
جنریشن گیپ کے منفی اثرات جس میں نوجوان نسل میں بے راہ روی،ڈرگز کا بڑھتا ہوا استعمال،چڑچڑاپن شامل ہیں آجکل کے نوجوان لڑکے ، لڑکیاں اپنے گھروں کا پرسکون ماحول چھوڑکر نامعلوم منزل کی طرف گامزن ہیں پس والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کا بہتر کرئیر بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی روحانی،اخلاقی اور سماجی تربیت بھی کریں اور اشرف المخلوقات کے منسب پرفائز ہونے کا حق ادا کریں۔

تحریر : سیہام انور، الریاض

Share this:
Tags:
honor Hyderabad pakistan respect احترام پاکستان حیدرآباد عزت
Previous Post سیاستدانوں کے بیرون ملک اثاثوں کے حوالے سے کیس کی سماعت
Next Post ترقی و خوشحالی کا خواب
Abrar Siddiqui

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close