Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

غالب کے ایک اہم ممدوح الیہ کی بازیافت

February 14, 2021February 14, 2021 1 1 min read
Asadullah Khan Ghalib
Asadullah Khan Ghalib
Asadullah Khan Ghalib

تحریر : پروفیسر صغیر افراہیم

غالب کی شخصیت کو آفاقیت عطا کرنے میں اُن کی شاعری اور مکاتیبِ اسلوب کے تہہ بہ تہہ مطالب کی کارفرمائیاں شامل ہیں۔ غالب شناس ان دانش ورانہ نِکات کو مزید وسعت دے رہے ہیں، اور ایک ایک نُطق کوسوسو ناز سے سجارہے ہیں۔ ٢٠١٢ء میں جمیل الدین عالی، پرتوروہیلہ کی کتاب ”بارے غالب کا کچھ بیاں ہوجائے” کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:

”غالب شناسی اور مطالعۂ غالب ایک ایسی کائنات ہے کہ ایڈنگٹن اور اسٹیفن ہاکنگ کی ”کائنات” کی طرح برابر وسعت پذیر ہورہی ہے۔ ہر مرحلے پر خیال آتا ہے کہ شاید یہ کام یا یہ تحقیق غالب پر حرفِ آخر کی حیثیت رکھتی ہو لیکن پھر کوئی غالب شناس خم ٹھونک کر میدان میں آجاتا ہے کہ ”یہ وقت ہے شگفتنِ گل ہائے ناز کا” اور غالب شناسی کاایک آدھ در اِس طرح وا کردیتا ہے کہ اس میں نئی کرنوں کی درآمد کے ساتھ ساتھ غالب کے خدوخال بھی نئے زاویوں سے نمایاں ہونے لگتے ہیں”۔

غالب کی شخصیت، فکروفن کے ہزارہا گوشوں میں ایک گوشہ سفرِ کلکتہ بھی اِس لیے اہم قرار دیا گیا ہے کہ یہ ہمارے ادبی، سماجی اور ثقافتی فروغ میں معاون ثابت ہوا ہے۔ جب جب اِس مَسافت کے تعلق سے میں باندہ کے ذکر پر غور کرتا تو نہ جانے کیوں ذہن میں کئی سوالات اُبھرنے لگتے۔ مثلاً باندہ سے مرزا کا کیا رشتہ اور رابطہ تھا؟ وہ منزل سے مختلف راستے (off the way) پر کیوں گئے؟ سفر سے پہلے اور سفر کے بعد باندہ والوں سے اُن کا کیا تعلق رہا؟ وہاں چھ ماہ کے قیام میں اُن کی کیا مشغولیات رہیں؟ محفلیں کس وسیلے سے سجتیں، شب وروز کیسے گُزرتے؟ مقامی ادیبوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟ وہاں کی پروان چڑھ رہی گنگا جمنی تہذیب میںکیا نکھار آیا؟ دورانِ قیام مہیا ہونے والے پُرسکون ماحول میں غالب نے فارسی اور اردو نثرونظم میں کیا خلق کیا؟ کیا وہ تمام تخلیقات محفوظ ہیں؟ اگر نہیں تو اُس کے اسباب کیا ہیں؟ کتنی نگارشات گم شدہ ہیں اور ان کی تلاش وجستجو کی کیا رفتار ہے؟ یہ وہ چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں جنھوں نے تحیّر وتجسّس کو مہمیز کیا کہ دورانِ سفر کانپور اور لکھنؤ میں قیام کی تفصیل موجود ہے۔ الٰہ آباد جس کے لیے غالب کہہ کر چلے تھے کہ ایک ماہ قیام کروں گا مگر رہے صرف ایک دن۔ اسی طرح بنارس میں دو ایک دن ٹھہرنا تھا، ایک ماہ مقیم رہے۔ اِن شہروں کی روداد اور تاثرات بالتفصیل دستیاب ہیں مگر جہاں چھ ماہ قیام کیا، وہاں کے شب وروز کی تفصیل سے ہم محروم کیوں ہیں؟ یہی وہ بنیادی سوالات ہیں جنھوں نے اِس جانب توجہ دلائی اور تفتیش وتحقیق پر اُکسایا۔

تاریخ شاہد ہے کہ ہوش سنبھالتے ہی غالب کو احساس ہوا کہ ورثے میں جو معاشی اور مادّی سہولتیں مہیّا ہونی تھیں اُن پر غاصبانہ قبضہ ہوا ہے۔ لہٰذا وہ اپنے جائز حق کے لیے تگ ودو کرتے ہیں ورنہ وہ بھی دیگر عزیزوں کی طرح غمِ روزگار کے مشکل مرحلوں کے مادّی اسباب تلاش کرتے۔ ساہو کاروں نے بھی تمام عمر اُنھیں اِسی بھروسہ پر قرض دیا کہ اُن کا حق سرکار سے اُنھیں ملنے والا ہے۔ شش وپنج کی اس کیفیت کے ساتھ ساتھ گھریلو مصائب نے ذہنی تناؤ میں مزید اضافہ کیا مگر وہ تمام عمر صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے رہے۔ اُن میں بھی ابنِ آدم کی طرح انسانی کمزوریاں تھیں لیکن غیر معمولی دانش وری، بذلہ سنجی، خداداد صلاحیت ، قوتِ مدافعت اور فنکارانہ مہارت نے انسانی کمزوریوں کو پسِ پشت ڈال دیا۔

غالب بے حد حسّاس ، نازک مزاج، خوددار اور اناپسند انسان تھے۔ اُن کی عظمت کا اعتراف حاکمانِ وقت نے بھی کیا ہے۔ اب اگر کسی کو ان کے یہاں دُنیاداری یا مصلحت پسندی نظر آتی ہے تو یقینا اُس کے پسِ پُشت کوئی بڑی مجبوری رہی ہوگی، ورنہ اپنے مخصوص رکھ رکھاؤ کو برقرار رکھنے والے اِس اعتدال پسند شخص نے خود داری اور انا کو کبھی بھی نظر انداز نہیںکیا چاہے وہ دربارِ اودھ میں حاضری کی بات ہو ، نواب باندہ کا معاملاتِ مقدمہ سے بے توجہی یا پھر دلّی کالج کی پروفیسری کا معاملہ۔ جن ناقدین نے نفسیاتی نقطۂ نظر سے مطالعہ کیا ہے وہ بھی اِس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ معیار ومقام کو برقرار رکھنے والا یہ شخص مطلبی، احسان فراموش، کینہ پرور یا حاسد نہیں تھا۔

غالب کی وفات کے سو سال بعد تک یہی ذکر ہوتا رہا کہ وہ عین جوانی میں ”جُوں توں”، ”گِرتے پڑتے”باندہ پہنچ گئے۔ مگر اِس پر توجہ نہیں دی گئی کہ موصوف لکھنؤ سے باندہ کیسے، کس طرح پہنچے؟ میرے نزدیک اِس خطّہ (لکھنؤ سے باندہ) کی بڑی اہمیت ہے کہ اِس یادگار سفرِ کلکتہ کی وجہ سے غالب کے جو نئے دوست بنے اُن میں دیوان محمدعلی اور مولوی سراج الدین احمد کا تعلق اِسی خطّے سے تھا۔ غالب نے دونوںحضرات کو فارسی میں سب سے زیادہ خطوط لکھے ہیں (محمدعلی کو ٣٧ اور سراج الدین احمد کو لکھے گئے ٥٢خط دستیاب ہیں)۔ یہ خطوط رسمی نہیں، محبت اور یگانگت کے سرچشمے ہیں۔ تو پھر اس اہم نکتہ پر مدلّل گفتگو کیوں نہیں ہوئی؟ اِس پہلو کے ساتھ ساتھ میں نے زمینی حقائق کی روشنی میں، وہ تاریخی اور جغرافیائی شواہد بھی تلاش کیے ہیں جو مکمل سفر کو سمجھنے میں مزید معاون ہوں گے۔

١٩٦٩ء میں عالمی سطح پر منعقد ہونے والی غالب تقریبات کے بعد سید اکبر علی ترمذی کی تلاش وجستجو کی بدولت رفتہ رفتہ جو تحریریں خصوصاً فارسی خطوط سامنے آئے ہیں اُن سے باندہ سے کلکتہ تک کی تفصیلی روداد معلوم ہوتی ہے مگر جس فردِ واحد کے توسط سے یہ منظر نامہ اُبھرا، اُس کی شخصیت اور غالب جیسے اناپرست فنکار کی اُن سے بے پناہ اُنسیت پر بھرپور توجہ نہیں دی گئی ہے۔ مشکل گھڑی میں کام آنے والی اِس مقناطیسی شخصیت کا نام ہے دیوان محمد علی جنھیں غالب نے نہایت تعظیم وتکریم اور عجزوانکسار کے ساتھ مولوی محمد علی خاں (صدر امین باندہ) کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ دونوں کی پہلے سے کوئی شناسائی نہیں تھی لیکن کج کُلاہ شاعر اُن کے آبائی وطن سے ہوتے ہوئے آرہا تھا۔ شاید مٹی کی مہک کی یہ کشش اپنی جانب راغب کرتی ہے۔

غالب پہلی ہی ملاقات میں محمد علی کے کیوں گرویدہ ہوگئے؟ اور محمدعلی نے کیوں مشفقانہ اورمربیانہ رویّہ اختیار کیا؟ بلکہ کلکتہ میں بھی اپنے عزیزوں اور اُن کے دوستوں مثلاً سراج علی خاں، مولوی سید ولایت حسن، نواب سید اکبر علی خاں طباطبائی ،نور الدین علی وغیرہ کو غالب کی ممکن مدد کے لیے خطوط لکھے اور برابر خبرگیری کرتے رہے۔ غالب کی بھی دوستی اوروضع داری دیکھیے کہ احسانات کا شکریہ ادا کرنے کے لیے واپسی پر باندہ میں اُن کے دولت کدہ پر قیام کرتے ہیں۔

پنشن کی بحالی کے یقین اور ناکامی کے عارضی احساس کی کسک کے مابین شہر باندہ کا منظر نامہ، نا اُمیدی میں اُمید کی کرنوں کو روشن کرتا ہے۔ اِس میں نہ صرف پیش آئند سفر کے اخراجات کی فکر، بیماری کی اذیت، شفا کے ساتھ مالی مدد کی مسرت ہے بلکہ مشفق، مربی اور قدرداں علم دوست ملنے کی خوشی کا شدید احساس بھی ہے۔ رابطوں کی کڑیوں کو ہی نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے والے واقعات اور حسین لمحات کی بازیافت سے کیوں اجتناب برتا گیا؟ اِس نفاست، نزاکت ، عقیدت، محبت اور میل ومروت کو باقاعدہ احاطۂ تحریر میں لینے کے بجائے فوقیت لکھنؤ، الٰہ آباد اور بنارس کو ملی، باندہ اور حلقۂ باندہ کو نہیں۔ کیوں اِس اہم انسانی شرافت، اور مشرقی اقدار کے جذباتی رشتے سے چشم پوشی اختیار کی گئی، حیرت واستعجاب کا لمحہ ہے۔ غالب کی زندگی میں اُن کے طویل ترین سفر کا یہ وہ پڑاؤ ہے جہاں موصوف باقاعدہ علاج کراتے ہیں، تازہ دم ہوکر رختِ سفر باندھتے ہیں۔ غور کیجیے باندہ میں نہ صرف بقیہ سفر کا پورا بندوبست ہوتا ہے بلکہ کلکتہ کے دورانِ قیام مطلوبہ چیزیں بھی مہیا کرائی جاتی ہیں اور پھر دہلی تک پہنچنے کا اہتمام بھی۔ اور ان سب کا مرکز ومحور ہے دیوان محمدعلی۔

اہمیت، افادیت اور معنویت کا جو خاکہ مرتب ہوتا ہے اُس میں جدید تحقیقی تناظر میں باندہ سے کلکتہ اور پھر واپسی پر دہلی تک بخیروعافیت پہنچنے کی روداد مکتوباتِ غالب بنام دیوان محمدعلی سے مربوط ہوجاتی ہے۔ جس کا Credit سید اکبر علی ترمذی کی کتاب Persian Letters of Ghalib کو پہنچتا ہے۔ دریافت کو مزید استحکام بخشنے میں لطیف الزماں اور پرتوروہیلہ نے اپنے نام درج کرائے ہیں۔ ان قابلِ تعریف شخصیات کی گراں قدر خدمات کے تعلق سے جمیل جالبی نے ”کلیاتِ مکتوباتِ فارسی غالب” میں لکھا ہے:

”ادب عالیہ کا وہ انمول خزانہ جو ڈیڑھ سو سال سے مقفل پڑا تھا، یکدم کُھل گیا ہے”۔
بلکہ اکیسویں صدی میں اس خصوصی نکتہ پر کام کرنے کے لیے دروا ہوتے ہیں۔

خاکسار نے سب سے پہلے غالب کے باندہ تک پہنچنے کی مکمل تفصیل کو اِس کتاب میں شامل کرکے مکمل رودادِ سفر کی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔ دوئم یہ کہ وہ محترم شخصیت جو نواب باندہ اور غالب دونوں کو عزیز تھی، اُن کی شخصیت اور نسل در نسل غالب سے اُنسیت کی روداد رقم کی ہے اور حقائق وشواہد سے یہ واضح کرنے کا جتن کیا ہے کہ دیوان محمدعلی کے نام محض تین ساڑھے تین سال میں لکھے گئے تین درجن سے زائد خطوط نہ صرف تاریخی حیثیت کے ہیں بلکہ اُس دور کے شعری منظر نامے کے بھی رہینِ منت ہیں۔

دورِ حاضر کے محققین اور ناقدین نے Persian Letters of Ghalibکی اشاعت کا خیر مقدم کیا لیکن مذکورہ مسودہ کی حصولیابی کے پس منظر کو تہہ بہ تہہ کھنگالنے کا جتن نہیں کیا۔ مکتوب الیہ اور مکتوب نگار کے مابین عیاں ہونے والے قریبی ربط کے اعتراف کے باوجود یہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی کہ محمدعلی صاحب کون تھے؟ اُن کا ادبی سرمایہ کہاں اور کس حال میں ہے؟ اُس ادب شناس مُحبِ نے باندہ میں موجود غالب کے عزیزوں سے بڑھ کر غالب کی مدد کیوں کی؟ اور کیوں اپنے دوستوں اور عزیزوں سے بھی اس بابت متواتر درخواست کرتا رہا؟ گنجینۂ معنی کے طلسم کو تلاش کرنے میں مسیحا صفت شخص سے گُریز کیوں برتا گیا؟ اِس کا کوئی تشفی بخش جواب وجواز نہیں تھا جسے تلاش کرنا ضروری تھا۔

میں نے مذکورہ عنوان کے تحت اپنی اِس کتاب میں جو اسباب وعلل تلاش کیے ہیں وہ اِن دلائل پر مبنی ہیں کہ غالب کی زندگی میں شائع ہونے والے خطوط میں اُن کی مرضی کے مطابق وہ آٹھ خط جو دیوان محمدعلی کے نام تھے اور جن کے مطالعہ سے مکتوب الیہ اور قیامِ باندہ پر کوئی خاص روشنی نہیں پڑتی تھی قارئین کے پیش نظر تھے۔ اِن میں باندہ اور وہاں کے عزیزوں کا ذکر اس وجہ سے بھی ضمنی ہوا کہ وہ ١٨٥٧ء میں معتوب ہوئے، راہِ فرار اختیار کی۔ دوسرا سبب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ دیوان محمد علی کی حیات اور ان کے ادبی کارناموں پر اس لیے توجہ کم دی گئی کہ ١٨٣١ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اس لیے بآسانی مواد فراہم نہیں تھا اور”جوںتوں، گِرتے پڑتے” ہمارے اکثر محققین اور ناقدین کام کے قائل نہیں البتہ دوچار سر پھرے نظر آہی جاتے ہیں جن کی کاوش کے نتیجہ میں ایسے مخطوطات اور مسودات منظر عام پر آئے جنھوں نے غوروفکر کے نئے دروا کیے ہیں۔اور اب نئے سرے سے اِس جانب کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

Ghalib
Ghalib

غالب کے سفرِ کلکتہ کے آغاز سے اِس وقت (دسمبر ٢٠٢٠ئ) تک کے کینوس کو سامنے رکھیں تو اِس طویل وقفے کے شواہد کے دو حصّے ہوسکتے ہیں۔ پہلا ”پنج آہنگ” سے ١٩٦٩ء تک، دوسرا سید اکبر علی ترمذی کی دریافت ”نامہ ہائے فارسی غالب” سے آج تک۔ حصہ اول کے تحت ایک صدی سے زائد عرصہ تک یہی بحث ہوتی رہی کہ وہ مصیبتوں کے دور میں، سمتِ مخالف علاج وامداد کے لیے اپنے عزیزوں کے پاس باندہ گئے۔ شواہد موجود ہیں کہ وہ ایک ڈیڑھ ماہ میں تقریباً ٹھیک ہوگئے اور جلد ہی مطلوبہ رقم بھی مل گئی تو پھر مزید تین چار ماہ وہاں قیام کیوں کیا؟ حصہ دوم باندہ میں ملے نئے دوست محمدعلی پر مبنی ہے۔ ادب شناس اور علم نواز دیوان محمدعلی علاج وامداد کا وسیلہ بنتے ہیں۔ قُربت جلد ہی دوستی میں تبدیل ہوجاتی ہے مگر بُزرگ اور خُوردکی یہ دوستی ضرورتاً یا مصلحتاً وجود میں نہیں آئی تھی بلکہ ذہنی اور فکری ہم آہنگی نے جلد ہی بے تکلّفانہ مراحل طے کرلیے تھے۔ محمدعلی، غالب کی انا اور خود پسندی کو ملحوظ رکھتے تھے اور غالب اُن کی دانش ورانہ فکراور فارسی پر عبور کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے نیز اُن کے بے لوث مشفقانہ مشوروں پر عمل کرتے تھے جن کے غماز ٣٧دستیاب خطوط ہیں۔ غالب کی عظمت، اُن کی دانشورانہ فکروشعور اور فنّی گرفت کی رہینِ منت ہے جس میں تاثیر کے ساتھ جدّت اور نُدرت ہے۔ اندازِ جُداگانہ اُن کے فارسی اور اردو خطوط میں جلوہ گر ہے۔ ایسے ان گنت خطوط ہیں جن میں انھوں نے اپنے دل کی بات کہی ہے لیکن دیوان محمد علی کے نام لکھے گئے فارسی خطوط جو پچھلی چند دہائیوں میں ترمذی، لطیف الزماں اورپرتوروہیلہ کی بدولت اردو قاری تک بھی پہنچے ہیں، ان میں دلی کیفیات وجذبات کے ساتھ معاملہ فہمی اور اپنے مصائب ومسائل سے نکلنے کی حکمتِ عملی کے متعدداشارے ہیں۔ تیس بتیس برس کی عمر میں غالب کے نوکِ قلم سے صفحۂ قرطاس پر اُبھرنے والے یہ قیمتی اشارے آج ان گنت کہانیوں کے تانے بانے بُننے میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔نیز اُن کے غیر معروف مگر اہم ممدوح الیہ کی مثالی شخصیت سے متعارف کرا رہے ہیں۔

تحریر : پروفیسر صغیر افراہیم
سابق صدر شعبۂ اردو
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
s.afraheim@yahoo.in

Share this:
Tags:
feeling Ghalib knowledge personality universe writing احساس شخصیت علم غالب کائنات لکھتے
Coronavirus
Previous Post کورونا وائرس سے مزید 31 افراد جاں بحق
Next Post پنجاب میں شدید دھند کے باعث موٹر وے ایم 2 اور ایم 3 بند
Fog

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close