
تمثیل زندگی تو ایک گجر کی بات ہے
انکشاف ذات عمر خضر کی بات ہے
تیرے بغیر ہم نے گزاری ہے کس طرح
بھری بزم میں کیا کہیں یہ گھر کی بات ہے
درگاہ عشق پر بھی نہیں جھکنے دیا اسے
پندار کی نہیں یہ دستار سر کی بات ہے
آنکھوں سے خواب نکلے آسا چناب کل
ڈوبا رہا کچا گھڑا یہ چشم تر کی بات ہے
کس نے وفا نبھائی تھی کون تھا بے وفا
اب سچ کیا کہیں یہ اگر مگر کی بات ہے
بادل کسی کو بارش کہیں سیلاب دے گئے
یہ اپنی اپنی دعاوں کے اثر کی بات ہے
انور جمال اس کشوری کا کیا تذکرہ یہاں
جلتے ہوے مکاں کے دیوارودر کی بات ہے
تحریر:انور جمال فاروقی
