Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
February 11, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

خدا کا بندہ بن کے تو دیکھ

September 28, 2015 0 1 min read
Namaz
Namaz
Namaz

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
روز اول سے حضرت انسان اِس کو شش میں لگا ہوا ہے کہ وہ شہرت کے اُس مقام تک پہنچ جائے کہ جس کے سامنے کوئی سر اٹھا کر نہ دیکھ سکے، خود کو قیامت تک زندہ اور امر کرنے کے لیے انسان عجیب و غریب حرکتیں کرتا ہے، سکندراعظم، چنگیز خان، ہلاکو خان اور امیر تیمور لنگ اِسی بیماری کا شکار ہو کر دنیا فتح کر نے نکلے، چنگیز خان، ہلاکو خان اور امیر تیمور نے اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے لاکھوں لوگوں کا قتل عام کیا انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے ‘اپنی دہشت پھیلانے کے لیے شہروں کے شہر صفحہ ہستی سے مٹادیے اِن کے علاوہ بے شمار اور انسان بھی اپنے اپنے وقت پر کرہ ارض پر طلوع ہوئے ‘طاقت و اختیار کے نشے میں ہزاروں لاکھوں انسانوں کا قتل عام کیا، اور پھر مٹی کا ڈھیر بن گئے اور آج اُن کی قبروں کا نشان تک نہیں ہے۔جب یہ متکبر لوگ زندہ تھے تو یہی سمجھتے تھے کہ اُن کے اقتدار اور شہرت کو قیامت تک اندیشہ زوال نہیں ہے، لیکن ماہ سال کی گردش اور صدیوں کے غبار میں آج اُن کا نام تک بھی کوئی نہیں جانتا، انسان یہ سمجھتا ہے کہ ابدی شہرت اُس کے اپنے ہاتھ میں ہے لیکن ہر دور کا متکبر انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اُس کا اور اِس کائنات کو بنانے والا خدا ہے وہ جس کو چاہے قیامت تک کے لیے امر کردیتا ہے اور جس کو چاہے نشان عبرت بنا دیتا ہے ، حضرت انسان طاقت اور اقتدار کے نشے میں یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اُس کا اپنا جسمانی نظام تو اُس کے قبضے میں ہے نہیں تو دوسروں کو وہ کیا اپنے اختیار میں لاسکتا ہے

لیکن یہ بات صاحب اقتدار لوگوںکو کم ہی سمجھ آتی ہے۔اِس لیے ہر دور میں کوئی نہ کوئی آمر یہی سمجھتا ہے کہ اِس دھرتی یا ملک کا نجات دہندہ میں ہی ہوں نہ میرے سے پہلے کوئی انسان اِس دنیا میں آیا اور نہ اُس کے بعدکوئی آئیگا، ایسے تمام لوگ خدا کا یہ فرمان بھول جاتے ہیں کہ ہم دنوں کو انسانوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں، عقل مند انسان تاریخ سے سبق لیتے ہیں او خود کوخدا کی بندگی میں دے دیتے ہیں جو بھی بندہ خدا کا ہو جائے اُسے خدائے بزرگ و برتر ابدی شہرت سے نوازتا ہے، انسان عارضی شہرت اور اقتدار میں سب کچھ بھول جاتا ہے اگر خدا نے کسی کو چند ساعتوں پر اختیار دے بھی دیا ہو تو یہ عارضی ہے کسی دن پانی کے بلبلے کی طرح ختم ہو جائے گا، خوش قسمت ہوئے ہیں وہ لوگ جو تاریخ سے سبق لیتے ہیں اور دنیاوی جھوٹے خداوں کی بجائے اِس کائنات کے مالک کے سامنے سر جھکادیتے ہیں اور پھر اِیسے لوگوں کو ہی دائمی اور ابدی شہرت نصیب ہوتی ہے۔

برصغیرپاک ہند میںاﷲتعالیٰ نے بہت عظیم روحانی بزرگوں کو پیدا کیاجنہوں نے اپنی تعلیمات اور کردار سے لاکھوں لوگوں کی کردار سازی کی، انہی بزرگ ہستیوں میں ایک بزرگ سیدغوث علی شاہ قلندر بھی تھے بہت اعلیٰ پائے کے بزرگ تھے شاعر مشرق علامہ اقبال بھی اُن سے روحانی عقیدت رکھتے تھے، اُن کی کتاب ”تزکرہ غوثیہ” کو اہل تصوف میں تو باکمال مقام حاصل ہے ہی کلاسیکل اردو ادب میں بھی اُس کا نمایاں اور باوقار نام ہے اِس میں تصوف اور صوفیاء کے اسرار و رموز کو اس دلچسپی اور آسانی سے بیان کیا گیا ہے ہر بات دل و دماغ میں اُترتی جاتی ہے، تصوف و روحانیت کی زیادہ تر کتابیں مشکل اور خشک سمجھی جاتی ہیں لیکن ”تزکرہ غوثیہ” کا اصلوب پڑھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے، دوران مطالعہ قاری خود کہ ایک دل نشین اور پراسرار وادی میں گھومتا ہوا پاتا ہے، غوث علی شاہ قلندر نے اپنی اِس لازوال کتاب میں مغلیہ بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے عہد کا ایک واقعہ اِس خوبصورتی اوربلاغت آمیزی کے ساتھ لکھا ہے کہ قاری پڑھ کر عش عش کر اُٹھتا ہے آپ لکھتے ہیں۔

Orangzaib Alamgir
Orangzaib Alamgir

عالمگیر کے عہد میں ایک بہروپیئے کو بہت شہرت حاصل تھی، ہر طرف اُس کی شہرت اور فن کے چرچے تھے ایک روز وہ اورنگزیب کے دربار میں پہنچا اور اپنے فن کے اظہار کی اجازت مانگی چونکہ اورنگزیب مزاجًا دین پسند اور سخت مزاج واقع ہوا تھا اس لیے وہ اِس طرح کی ناٹک بازیوں کو ناپسند کرتا تھا، اُس نے کہا تمھارا بہروپ دراصل بے علم اور کمزور عقیدہ لوگوں کو متاثر اور مائل کرتا ہے ورنہ کوئی صاحب بصیرت اہل علم اور صاف ستھرے عقیدے کا حامل ہو تو وہ اِس طرح کی شعبدہ بازیوں پر نہ تو توجہ دیتا ہے اور نہ ہی اہمیت دیتا ہے اور نہ ان سے متاثر ہوتا ہے، تمہیں اگر اپنے فن پر ناز ہے تو ذرامجھے قائل کر کے دکھائو میں تمھارے چکر میں آنے والا نہیں اور اگر تم اپنے فن میں کامیاب ہو گئے اور مجھے دھوکا دے گئے تو پھر میں تمہیں منہ مانگا انعام دوں گا ورنہ میں نے ایسے کئی بازیگر دیکھے اور بھگتائے ہیں وہ بہروپیا مصلحتًا خاموش ہو گیا اور کہنے لگا بادشاہ سلامت میں کہاں اور حضور کی بصیرت کہاں، حضور میں آپ کو اپنے بہروپ سے کیسے قائل کرسکتا ہوں ‘سرکار عالی میرا یہ دھندہ تو پیٹ کے لیے ہے اور عام لوگوں کے لیے، یہ کہہ کر وہ چل دیا اور عالمگیر اپنی ذہانت پر جھوم اُٹھا ۔بہروپیئے نے شاہی دربار سے جاتے ہی ایک بزرگ اور صوفی کا روپ دھارا اور کہیں بیٹھ گیا پہلے اردگرد کے علاقوںمیں اس کا چرچا ہوا پھر اُس کا شہرہ قصبوں اور شہروں تک پہنچا ہوتے ہوتے اِس کا تذکرہ شاہی دربار تک بھی پہنچ گیا اور دربار میں بھی اُس کا تذکرہ ہونے لگا

اورنگزیب چونکہ خود ایک متقی اور صوفی دوست شخص تھااُس نے اِس بزرگ کی حاضری کا ارادہ ظاہر کیا اور لائو لشکر کے ساتھ اُس بہروپیئے کے پاس پہنچا اور سلام کیا بہروپیئے نے بے رخی سے سلام کا جواب دیا اور سر جھکا کر بیٹھا رہا اِس طرز عمل نے بادشاہ پر اس کی ولایت اور دنیا اور اہل دنیا سے بے نیازی کی دھاک بٹھادی ‘عالمگیر نے چند باتیں کیں مگر بہروپیاہاں ہوں کرتا رہا اُس کی کسی بات میں دل چسپی نہ لی ‘بادشاہ مزید متاثر ہوا آخرکار اٹھنے لگا اور اجازت چاہی جب بادشاہ اٹھ کرجانے لگا تو بہروپیا قہقہہ لگا کر سامنے آگیا اور کہا جہاں پناہ میں وہی بہروپیا ہوں جس کو آپ نے چیلنج دیا تھا کہ میں آپ کو اپنے فن سے قائل کر لوں تو منہ مانگا انعام پائوں گا۔

بادشاہ ہار مان گیا اور کہا تم اپنے فن کے ماہر نکلے ہو تم جیتے میں ہارا اب مانگو کیا مانگتے ہو بادشاہ کا یہ کہنا تھا کہ بہروپیا چیخ مار کر وہاں سے یہ کہتے ہوئے چل دیا یہ تو میں نے اﷲ کا نام اور اہل اﷲ کا حلیہ صرف جھوٹ موٹ سے لیا اور بنایا اور بادشاہ چل کر میرے پاس آگیا اگر میں بہروپ بھرنے کی بجائے حقیقی روپ اِس طرح بنالوں تو خدا جانے مجھے دنیا و آخرت میں کیا اعزاز وانعام ملے، غوث علی شاہ لکھتے ہیں کاش دنیا والوں کو معلوم ہو تا کہ جب بندہ اوپر کے دل سے بھی خدا کو یاد کرتا ہے تو خدا اُسے رسوا نہیں ہونے دیتا اور اگر اصل خدا کا بندہ بن جائے تو پتہ نہیں اﷲ اُسے کیا مقام عطاکرے۔

Prof Abdullah Bhatti
Prof Abdullah Bhatti

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
help@noorekhuda.org
03004352956

Share this:
Tags:
disease God man people Resurrection servant World انسان بیماری خدا خواہش دنیا فتح قیامت لوگ
Army
Previous Post ضمنی انتخابات :الیکشن کمیشن نے فوج اور رینجرز کی تعیناتی کا حکم دیدیا
Next Post لاڑکانہ میں زہریلی گولیاں کھانے سے 3 کمسن بچے جاں بحق
Larkana

Related Posts

Wine Factory

خلاف ورزی کے مرتکب شراب خانے بند کریں: سندھ ہائی کورٹ

October 20, 2016
Women Violence

بھارت، قرض کی رقم واپس مانگنے پرخواتین پر سرعام تشدد

April 17, 2013
Pati Alied Group Pervaiz

فیصل آباد کی خبریں 23/8/2016

August 23, 2016
NBP T20 Inter Group

پانچواں نیشنل بینک پریذیڈنٹ کپ ٹی ٹونٹی انٹر گروپ کرکٹ ٹورنامنٹ

February 29, 2020
Armenia Azerbaijan Ceasefire

آرمینیا اور آذربائیجان میں جنگ بندی معاہدہ ہو گیا

November 17, 2021
Azam Azim Azam

اِنسانی حقوق کا علمبردار امریکا

January 26, 2014
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close