
تحریر : محمد یعقوب غازی
دنیا میں ہر طرح کے لوگ ملیں گے لیکن ایسے لوگ بہت کم ملیں گے جنکو سمجھنا خاصہ مشکل ہو ایک کمزور مؤمن کو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو کہ اس پر رب کا ہاتھ ہے یا شیطان کا۔ میں کافی دنوں سے ایک ایسے شخص کے حوالےسے کنفیوز ہوں اور میرے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہا ہے کہ اسکے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟ جس کام کو ہاتھ ڈالا انجام کو پہچایا میں نےبہت سوچاغورکیا کہ اسکی کامیابی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہوسکتا ہے جب کافی سوچ وبچارکیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ اسکے پیچھےنہ کسی بڑی برادری اور نہ ہی کسی بڑی تنظیم یا پارٹی کا ہاتھ ہے۔
ہو نہ ہو اسکے پیچھے غائبی ہاتھ ہے جسے کم ازکم میں دیکھنے سے قاصر ہیں۔اسکو جب دیکھا یا تو اکیلے دیکھا یا مٹھی بھر لوگوں کے ساتھ یہاں تک کے کسی خلاف احتجاج رکارڈ کرانا ہو بلا مبالغہ مٹھی بھرموم بتی مافیا کے ساتھ اور کثیر تعداد پر بھاری دیکھا اور بعض دفعہ تو جمِ غفیر کو اسکے سامنے زیر ہوتے دیکھااور ایسے میں مجھ جیسے کمزور انسان کا شک میں پڑنا کوئی بڑی بات نہیں۔
نمونے کے طور پر لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز صاحب کے خلاف لال مسجد کے بالکل سامنے موم بتی مافیا کو لے آیا نعرے بازی کی الٹا مقدمہ بھی مولانا کے خلاف درج ہوا اور کیس چلتا رہا اور کچھ دن پہلےاس کیس سے بری ہوئے اوراسکو بھی اپنی فتح قرار دیکر اپنے آپ کو طفلِ تسلی دے دی دیکھو! ہم باعزت بری ہوگئے کریڈٹ تواس شخصیت کو جاتا ہے جس نے رپٹ لکھوائی اور زبانِ حال سے یہ کہتے ہوئے چلتا بنا کہ میرے پیچھے غائبی ہاتھ ہے۔
بھینسا مافیا کے حق میں ہر میدان میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا ہر فورم پر انکے حقوق کی بات کی اور آج بھی وہ ڈٹا ہوا ہے اس حوالے سے مکمل کامیابی تو نہیں لیکن جزوی طور پر کامیاب ضرور ہواکہ عامر لیاقت کے پروگرام ایسے نہیں چلے گا پر پابندی لگی اورعامر لیاقت کے خلاف مقدمہ درج ہوا، یہ کہتے ہوئےعامر صاحب !ایسے نہیں چلے گااور (عامر لیاقت سے بہت ساری چیزوں میں اختلاف کے باوجود) اس معاملے میں عامر لیاقت نے پوری قوم کی ترجمانی کی اور بد قسمتی سے پوری قوم عامر لیاقت کے پروگرام کو نہ بچا سکی اس معاملے میں پوری قوم مجھے بے بس نظر آئی۔
اگر کسی دن عامر لیاقت کا پروگرام بحال ہوبھی جاتا ہے تواس بحالی کو حق کی فتح قرار دیگی۔ اوریہ غائبی ہاتھ اسی طرح اسکے ساتھ رہا تو ضرور بھینسا مافیا برآمد کرانے میں کامیاب ہوگا اور یہ شخصیت غائبی ہاتھ کے سامنے سرخرو ہوگی وہ شخصیت جسے اس مضمون کو پڑھنے والا ہر قاری تقریبا سمجھ چکا ہے وہ ہے جبران ناصر اور میں جاتے جاتے جبران ناصر سے کہونگا بجا کے رکھو کہ سوئی ہوئی قوم کو سونےکی سزا ملنی چاہئے اوراگر قوم گہری نیند سے بیدار ہوئی تب تک سلمان رشدی کی طرح وہ غائبی ہاتھ آپکو اپنے باہوں میں لے چکی ہوگی۔
تحریر : محمد یعقوب غازی
