
یکم نومبر 2013 کو امریکہ نے تحریک طالبان پاکستان کے رہنما حکیم اللہ محسود کو ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا۔ اس واقع پر حکومت پاکستان نے شدید احتجاج کیا اور پاکستان کے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس عمل کو خطے کے امن پر ڈراون حملہ قرار دیا اور امریکہ سے پاکستان کے تعلقات پر نظرثانی کا عندیہ بھی دیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس حملے کی مزمت کی اور اس مسلئے پر حکومت کواپنے تعاون کا یقین دلایا۔
حکومت پاکستان کا بظاہر اس ڈروان حملے پر شدیدردعمل کا اظہار کرنا اور پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈارلسسن کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے امریکہ سے اس واقع پر ثدید احتجاج کرنا شاید لوگوں کے لیے باعث حیرت اور خوشی کا باعث ہواکہ أخرکار ہمارے حکمرانوں کو بھی پاکستان اور اس کے عوام کے مفادات کا خیال أہی گیا اور ہمارے حکمران اس امریکی جنگ سے نکلنے کے لیے سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں۔
لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ سیاسی وفوجی قیادت میں موجود غدار امریکی ایجنٹوں کا پاکستان کے قبائلی مسلمانوں سے مزاکرات کا فیصلہ قطعی اپنانا ہوتا تو امن کے لیے مزاکرات کو موقع دینے کا اعلان امریکہ کے افغانستان سے محدود انخلاء کے منصوبے کے اعلان سے قبل کیوں ناکیا گیا۔ درحقیقت امریکہ اس بات کو اچھی طرح سے جانتا ہے کہ 2014 کہ بعد افغانستان کو چلانے کے لیے جو نظام دینا چاہتا ہے جب تک ڈیو ریڈلائن کے دونوں جانب بسنے والے مسلمان پشتون اس کی حمایت نہ کرے،کسی صورت چل نہیں سکتا۔
لہذا امریکی انخلاء کے پردے میں افغانستان میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لیے جہاں افغانستان کے مسلمان پشتونوں کو مزاکرات کے زریعے قائل کرنے کے کی کوشش کر رہا ہے وہیں پاکستان کی سیاسی وفوجی قیادت میں اپنے ا یجنٹوں کو اس کے قبائلی مسلمانوں کو بھی اس امریکی بندوبست پر قائل کرنے کے لیے مزاکرات کی اجازت دی جاے۔
لیکن امریکہ اپنے ایجنٹوں کی غداری کو چھپانے اور ان کے چھوٹے اخلاص کو ثابت کرنے کے لیے بظاہر پاکستان کی مخالفت کر رہا ہے تا کہ مسلمان یہ دھوکہ کھا جائیں کہ امریکہ تو مزاکرات کا مخالف ہے اور اب ہمارے حکمران بھی اس کے احکامات کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں لہذا ہمیں ان مزاکرات کی ہمائیت کرنی چاہیے تا کہ امریکی منصوبے کو ناکام کیا جاے۔ پاکستان اور افغانستان میں کسی صورت امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک خطے میں امریکہ کی مجودگی کا خاتمہ نہ کیا جائے۔
تحریر: عمران بشیر(لاہور)
Email:imranbashir40@hotmail.com
